Zulf e Giran | Complete Urdu Story in Urdu 2021

Zulf e Giran | Complete Urdu Story in Urdu 2021

Table of Contents

سلیمان کا دل تو چاہا رہا تھا کہ دَبے پاؤں آگے بڑھے اور اپنے بوڑھے چچا کا گلا دبا دے ۔لیکن یہ خیال احمقا نہ تھا۔متعدد افراد نے اسے چچا کے فلیٹ میں داخل ہوتے ہوئے صاف طور پر دیکھا تھا۔
اس نے چاپلوسی سے اپنی بات جاری رکھی۔چچا اب میں پہلے کی نسبت بہت سدھر گیا ہوں۔مسئلہ یہ ہے کہ میں کئی لوگوں کا مقروض ہوں۔اور چند دن کے اندر،اندرمجھے لازمی طور پر اُن کا قرض چکانا ہے۔ورنہ سلیمان نے چچا کو قائل کرنا چاہا۔
برخوردار مجھے دھوکا دینا آسان نہیں ۔میں تمہارے چال چلن اور شب و ،روز کے سب مشاغل پر نگاہ رکھے ہوئے ہوں۔تمہارے باپ نے عقل مندی کی کہ وہ مرتے وقت اپنی جائداد کا نگرا ن بنا گئے۔انہوں نے مجھے سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے متعدد بار خدشہ ظاہر کیا تھا۔کہ سلیمان ذمہ دار نہیں ،دونوں ہاتھوں سے روپیہ لُٹا رہا ہے۔جب کہ یہ پینتیں برس کی عمر میں پہنچ کر اپنے آپ کو ذمہ دار اور محنتی ثابت نہ کرے۔جائداد میں سے اُسے صرف ایک معتول رقم ہی اخرات کیلئے ملنی چاہیے۔میں اپنے بھائی کی وصیت پر آخری دم ےتک سختی سے کار بند رہنا چاہتا ہوں۔تمہارے باپ کی وفات اخراجات کی رقم دس ہزار ،روپیہ ماہانہ تھی۔جو اب تمہاری شاہ خرچیوں کی بنا پر بیس ہزار تک جا چکی ہے۔لیکن تم نے کسی طور بھی اپنے آپ کو ذمہ دار اور ،جائداد کا اہل ثابت نہیں کیا۔
ذمہ داری کی ایک اہم شکل ازدواجی زندگی ہے۔تمہیں پینتیس برس کی عمر میں اس بندھن میں بندھ جا نا چاہئے۔یہ قرضے کا بوجھ جوئے کی بدولت تم پر سوار ہے۔ہوش کے ناخن لینا تم نے سیکھاہی نہیں ۔میں تمہیں ہرگز بیس ،ہزار سے زیادہ کا چیک نہیں دے سکتا۔چچا نے ناصحانہ لہجے میں لیکچر جھاڑا۔
سلیمان اند ر ہی اندر بُری طرح اُٹھا،لیکن بظاہر پر سکون بیٹھا کڑوی ،کیسلی نصیحتیں برداشت کرتے ہوئے دوبارہ مخاطب ہوا۔پلیز چچا میرا ہاتھ ،بڑا تنگ ہے اور صورت حال نازک ۔۔۔میری زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔سلیمان نے منت سماجت کرتے ہوئے کہا۔
اس قسم کی نہانہ بازیاں تم آئے دن کرتے ہی رہتے ہو۔آخر تم کب اپنی حرکتوں سے باز آؤ گے۔صرف میری موت ہی تمہارا ۔راستہ،ہموار کر سکتی ہے۔لیکن فی الحال میرا مرنے کا کوئی پروگرام نہیں ۔میں اپنا ہر طرح سے خیال رکھتا ہوں۔میں اس عمر میں بھی ملازمت کر رہا ہوں۔تم بھی اپنے وقت کو مثنت استعمال میں لاؤ۔اور ،کوئی جاب وغیرہ کرلو۔
چچا لوگ کیا کہیں گے۔وہ جذباتی لہجے میں بولا،ایک رئیس آدمی کا بیٹا دھکے کھات پھر رہا ہے۔گدھوں کی طرح کلرکی کر رہا ہے۔سلیمان پھٹ پڑا۔چچا غصے سے سرخ ، ہو کر بلند لہجے میں بولے ،نواب زادے ،تم یا تو،کوئی کام کاج کرویا،اپنے اخراجات کم کر دو۔اور رہا،قرض کا مسئلہ تو اس کیلئے تم اپنی کچھ قیمتی اشیاء فروخت کر سکتے ہو۔
سلیمان کا خون کھول اُٹھا۔اُس کے کثیر ورثے پر ایک سانپ کو مسلط کر چکا تھا۔جو پھنکارنے کے سوا کچھ نہیں جانتا تھا۔آخر یہ دولت جو کل اُس کے ہاتھ آنے والی ہے ،آج دے دینے میں کیا حرج ہے؟
چچا کی نصیحتیں اور تجویزیں اُسے سخت ناگوار گزر،رہی تھیں۔انہوں نے آج کھل کر اُس کی تذلیل کی تھی۔اُس کی رگوں میں چنگاریاں سی دوڑنے لگیں۔اور دل غیظ و غضب سے بھر گیا۔اُسے یو ں محسوس ہوا جیسے اُسے کسی آتش فشاں کے دہانے پر جھکا دیا گیا ہو۔
میں تمہارے فائدے اور سہانے مستقبل کیلئے ہی نگران ہوں۔چچا سلیم اختر نے بھتیجے کی کیفیت بھانپ کر اپنا ہاتھ اُس کے کندھے پر رکھتے ہوئے محبت سے کہا،مگر یہ جملہ بھی زہر یلا تیز بن کر اُس کے دل میں اُتر گیا۔وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔لفٹ کی طرف بڑھے ہوئے سوچنے لگا کہ اب چچا اور ،میں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔اب مجھے اپنا حق حاصل کر لینا چاہیے۔اب میں چچا کی نصیحتیں اور،ڈانٹ پھٹکار مزید برداشت نہیں کر سکتا۔اب میں ہر قیمت پر اپنی دولت حاصل کروں گا۔اب بساط اُلت کر رہے گی۔میں جو ذلت اور،تنگدسی کی زندگی گزار ،رہا ہوں،کیوں نہ اپنی دولت سے عیش کروں۔اُف میں چچا کا بندوبست کس طرح کروں۔ان پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہے۔شک و شبہ فوراُ مجھ پر ہی کیا جائے گا۔میں اپنا راستہ کس طرح سیدھ کروں۔مجھے کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔کچھ ایسا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
مختلف خیالات طوفانی بگولے کی مانند اُس کے ذہن میں گردش کر رہے تھے۔وہ طیش کے عالم میں مٹھیاں دبا ، رہا تھا۔قتل کے امکانات اُس کے ذہن میں وارد ہوتے رہے،لیکن ایک ایک کر کے سب کو مسترہ کرتا چلا گیا۔کیونکہ ہر وقت گواہوں کے حصار میں بند رہتے تھے۔ان کا فلیٹ دو بڑے کمروں برآمدے ،بالکونی،کچن ،اور ،واش روم پر مشتمل تھا۔اُوپر اور نیچے آنے جانے کیلئے لفٹ چوبیس گھنٹے متحرک رہتی تھی۔اور لفٹ میں ہر وقت مستعد رہتا تھا۔صبع چچا کسی ٹیکسی یا رکشا کو اپنے لیے منتخب کرتے ،ان کا سفر مال روڑ پر واقع بینک پر جا کر ختم ہوتا،ریٹاٹرمنٹ کے بعد چچا کو پرائیویٹ ،ملازمت مل گئی تھی۔بینک کے صدر ،دروازے پر مسلع گارڈز موجود رہتے تھے۔بینک کے سامنے کوئی ایسا مقام نہیں تھا جہاں چھپ کر چچا کو نشانہ بنایا جائے۔کسی اُجرتی قاتل کی خدمات حاصل کی صورت میں ایڈاونس ،اور بقیہ ادائیگی کہا ں سے کرتا۔
چچا بے اولاد تھے۔اپنی پہلی بیوی کی وفات کے بعد سے تنہا رہتے تھے۔انہیں صنف نازک سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ورنہ کسی عورت کو ہی چارے کے طور پراستعمال کیا جاتا اور بار بن سکتی تھی،
وہ سوچتے سوچتے بری طرح چکرا گیااور،سیدھا گھر جا کر لیٹ گیااور،رات بھر کروٹیں بدلتا رہا۔صبع ہی صبع چاندنی اُس کے گھر نازل ہوگئی۔چاندنی اس کی محبت تھی۔وہ اس وقت انتہائی خوبصورت اور حسین دکھائی دے رہی تھی۔لمبا قد ،سڈول جسم ،سرخ و سفید ،رنگت ،دلکش نشیب و فراز ،نیلی جھیل کی مانند گہری آنکھیں اور لمبے گھنے سیاہ بال۔ہو ا میں اس طرح اُڑ ،رہے تھے جیسے چودھویں کے چاند کو سیاہ بادلوں نے گھیر لیا ہو۔ہونٹوں پر گلابی لپ اسٹک قیامت ڈھارہی تھی۔وہ سفید پتلوں اور، زردجیکٹ میں ملبوی تھی۔

رسمی گفتگو کے بعد دونوں اصل موضوع کی طرف آگئے۔سناؤ کچھ کام بنایا نہیں۔چاندنی نے متفکر لہجے میں کہا۔وہ کہتے کہتے اچانک کسی گہریی سوچ میں ڈوب گئی۔سلیمان ،کمبخت چچا تو کسی آسیب یا بدُوح کی طرح جان کو آگئے ہیں۔کسی صورت بھی پینتیس برس سے قبل دولت میرے حوالے کرنےکیلئے تیار نہیں۔
تو اُسے کسے طرح راستے سے کھسکادو۔چاندنی نے دھیمے لہجے میں کہا کہ کہیں دیواریں نہ سن لیں،کوئی صورت نہیں،،،،سلیمان نے چاندنی کو درپیش رکاوٹوں سے آگاہ کیا۔یہ تو بڑی مایوس کن اور پریشان کن صورت حال ہے۔چاندنی نے اُٹھ کر کمرے میں ٹہلنا شروع کر دیا۔سلیمان کو وہ موسم بہار کی نو شگفتہ کلی ایک دم مرجھائی ہوئی دکھائی دینے لگی۔اسی وقت موبائل فون کی بیل بجنے لگی ۔غنڈے بار بار سلیمان سے اُس رقم کا مطالبہ کرنے لگے جو وہ جوئے میں لگا کے ہار گیا تھا۔دوستوں سے اُس نے جوئے کے علاوہ بھی قرض لے رکھا تھا،اس کا رنگ زرد پڑگیا۔چہرے پر شکنیں اور پیشانی کی رگیں اُبھر آئیں۔وہ عالم اضطراب میں مٹھی کو کھولنے اور بند کرنے لگے۔
چاندنی رُک کر اُس کی ہیجانی کیفیت کو بغور دیکھنے لگی۔اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو میں کہیں کی نہ رہوں گی۔چاندنی نے قریب آکے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔اُسے راستے سے ہٹانا ہی پڑے گا۔سلیمان نے مشتعل لہجے میں کہا۔اُس کے چہرے میں سرخی سی چھا گئی تھی۔اُس کے سر پر قرضداروں کا بوجھ تھا،جو مزید مہلت دینے کیلئے بالکل تیار نہیں تھے۔اُس کی کار ورکشاپ میں مرمت ہو چکی تھی۔جو ایک حادثے میں تباہ ہوتے ہوئے بمشکل بچی تھی۔لیکن اب اُس کا لمبا چوڑا،بل وہ کہاں سے ادا کرتا،کار کے فوری فروخت کا بھی امکان نہیں تھا۔اب اُس کے پاس ایک ہی راستہ تھا ۔ اس نے گھر سے نکل کے شام اپنے علاقے کا ایک چکر لگایا تو اُسے پچھلی گلی میں ایک فیملی کار میں سوار ہو کر جاتی ہوئی دکھائی دی۔گلی سنسان تھی۔اور ماحول نیم تاریک ۔۔اُس گھر کے سامنے والی لائٹ خراب تھی۔سلیمان کچھ سوچ کر گھر لوٹ آیا۔اور ،رات گہری ہونے کا انتظار کرنے لگا۔رات کے پچھلے پہر وہ گھر سے باہر نکلا۔اُس نے کوٹ کے کالر کھڑے کیے ،سر پر فلیٹ ہیٹ وہ پہن چکا تھا۔آنکھوں پر بڑے بڑے شیشوں والی عینک بھی لگی ہوئی تھی۔وہ حلیے سے ہرگز پہچانا نہیں جارہا تھا۔ہونٹوں کے اوپر اُس نے مصنوعی مونچھیں بھی چیکا رکھی تھیں۔اُس کے مطلوبہ مکان کے ساتھ ایک بڑا خالی پلاٹ تھا۔جہاں خودرو ،جھاڑیاں اور چھوٹے چھوٹے درخت اُگے ہوئے تھے۔ایک بڑا درخت دیوار کے ساتھ تھا۔آگے بڑھے ہوئے اُس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔مساموں سے پسینہ پھوٹنے لگا۔جی کڑا کر کے اُس نے اِدھر اُدھر دیکھ ۔خود کو سنبھالا اور جوتے اُتار کر جیبوں میں ٹھونسے اور درخت پر چڑھنے لگا۔پھیلی ہوئی موٹی شاخوں کے ذریعے وہ مکان کی اُونچی خاردار تاروں تک پہنچ گیا۔اب اُس نے باریک دستانے پہن لیے اور کٹر سے تاروں کو کاٹ دیا۔اور خلا سے گردن گزار کر اندر نگاہ ڈالی۔دوسری طرف ایک پرانی الماری دیوار کے ساتھ ٹکی ہوئی تھی۔لہذا وہ درخت سے دیوار پر آکر با آسانی مکان کے اندر کود گیا۔وہ یہ کام پہلی مرتبہ کر رہاتھا۔
دل ایک بار پھر سے دھڑکنے لگا۔لیکن اس کے علاوہ ،اُس کےپاس کوئی دوسرا حل نہیں تھا۔اُس نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا۔غنڈو کے تشدد کی دہشت نے اُسے اس کام پر آمادہ کیا تھا۔پنسل ٹارچ ،اسکرو،ڈرئیور ،اور چابیوں کا گچھا اُس کا معاون تھا۔آگے بڑھتے بڑھتے وہ بیڈروم میں داخل ہوکر چار لاکھ کی واردات کرنے میں کامیاب ہوگیا،گھر کے لوگ شاید کہیں گئے تھے۔ہتھوڑی کی ضرب سے تجوری کا دروازہ ہل گیا۔تو اُس نے تیز پائر کٹر سے قبضے کاٹ کر نقدی زیوز نکال لیے۔
اگلی صبع سلیمان نے قرض داروں کا قرض مقررہ ،وقت سے پہلے ہی چکا دیا۔اور خود ،ڈرائنگ روم میں آکر بے چینی سے ٹہلنے لگا۔اُس کا اصل مشن ابھی ادھورا تھا۔وہ ماضی کی سڑک پر دوڑتا چلا گیا۔اور آغاز شباب کے زمانے کی دیکھی ہوئی جاسوسی فلمیں اور لڑکپن میں پڑھنے ہوئے جاسوسی و سنسنی خیز ناولوں کے واقعات یاد کرنے لگا۔اچانک ایک فلم کے مرڈر سیکونس نے اُس کے ذہن میں چکاچوند پیدا کر دی ،اور قتل کی ایک اسکیم اُس کے ذہن میں روشن ہوئی چلی گئی۔اب اُسے مناسب موقع کا انتظار تھا کہ کسی طرح چچا تنہائی میں اُس کے قابو میں آ جائے اور ،وہ اپنی سکیم کو عملی جامہ پہنائے۔
اسی وقت فون کی گھنٹی بجنے لگی ۔سلیمان نے سوچتے ہوئے بے دلی سے ریسیور اٹھایا۔دوسری طرف کی گفتگو سن کر اسے کامیابی اپنے قریب محسوس ہونے لگی۔اُس کے چچا کو ،زبردست اٹیک ہو ا تھا لیکن بروقت ٹریٹمنٹ سے وہ موت کے منہ میں جانے سے بچ گئے تھے۔اُسے فورا جیل روڑ اسپتال میں بلایا گیا تھا۔وہ جلدی سے گھر سے نکلا۔ٹیکسی میں بیٹھا اور ،کارڈیالوجی اسپتال جا پہنچا۔جب وہ بستر کے قریب پہنچا تو چچا مسکرا کر ،اُس کی طرف یوں دیکھ رہے تھے کہ دیکھ لو۔میں ابھی زندہ ہوں۔ابھی دولت تمہیں نہیں مل سکتی۔سلیمان دل ہی دل میں سلگ اٹھا۔لیکن ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ آویزاں کر لی۔
ڈاکٹر نے ڈسچارج کرتے وقت کام کی زیادتی سے چچا کی متاثرہ حالت کو دیکھتے ہوئے کسی پہاڑی اور صحت افزا مقام پر جا کر کچھ روز گزارنے کا مشورہ دیا۔دل کی کیفیت اب نارمل تھی مگر اعصابی دباؤ کی وجہ سے مزاج میں چڑچڑاپن ہو گیا تھا،چچا سلیم اختر شاید خود بھی کام کرتے کرتے اُکتا گئے تھے لہذا ماحول کی تبدیلی ،آب و ہوا ،اور طبیعت کا اضمحلال دور کرنے کیلئے ایبٹ آباد میں اپنے ایک دوست کے خالی بنگلے میں ایک نوکر کی وقتی خدمات کے ساتھ جا ٹھہرے تھے۔یہ موقع سلیمان کیلئے نادر تھا،سلیمان اُس بنگلےکے محل وقوع سے واقف تھا۔اس بنگلے کی اندرونی اور بیرونی تصاویر چچا کے دوست نے ایک بار دکھائی تھی۔

سلیمان نے پروگرام کے مطابق ایبٹ آباد میں ایک درمیانے درجے کے ہوٹل میں رہائش اختیار کر لی،اور ٹیلے پر واقع سبزے اور پھولوں سے گھرے ہوئے خوبصورت بنگلے کا عقبی راستہ بھی دیکھ لیا۔اُس نے بدلے پوئے حلیے تبدیل شدہ نام اور جعلی شناختی کارڈ کی مدد سے سیروتفریع کیلئے ایک لمبی کار کرائے پر حاصل کر لی
سلیمان بڑی ہوشیاری سے لمبی کار چلا کر بنگلے کی عقی سڑک پر کھڑی کر چھکا تھا۔اب وہ ،اِدھراُدھر دیکھ کر دبے پاؤں بنگلے کی عقی دیورا کی طرف بڑھا اور احتیاط ے اندر کود کر عقی گیٹ کھول دیا۔پھر وہ چچا کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔چچا پر فضا مقامات کے نظارے کے بعد فریش ہو کر میٹھی نیند سو رہے تھے۔ضرورت کی ہر شے اُس کے پاس موجود تھی۔بے ہوشی مسلط کرنے والی ایک دوا ،اُس نے ایک بدنام میڈیکل اسٹور سے خریدی تھی۔چچا بستر پر لحاف اوڑھے بے خبر سو رہے تھے۔کھڑکی کے راستے چاند کی زرہ چاندنی اندر ،داخل ہو کر پراسرار بنا رہی تھی۔سلیمان نے شیشی کی نوزل سے اسپرے کی دھار چچا کے چہرے پر پھینکی ۔دوسرے ہی لمحے چچا گہری نیند میں چلے گئے۔چند لمحوں بعد ہی اُس نے دبلے پتلے چچا کو اپنے ورزشی جسم کے کندھے پر منتقل کیا اور لحاف بستر پر پھیلا کر دبے پاؤں عقبی گیٹ کی طرف بڑھنے لگا۔باہر چند گز کے فاصلے پر اندھیرے میں ڈوہی ہوئی گار بمشکل دکھائی دے رہی تھی۔یہ جگہ دن کے وقت بھی بالکل سنسان دکھائی دیتی تھی۔آبادی یہاں دُور،دُور تھی اور ،آدم زاد کا کو ئی گزر نہ تھا۔ڈرئیونگ سیٹ والا دروازہ کھول کر سلیمان نے چچا کو سیٹ پر ٹکادیا۔اب اس نے سامان میں سے ایک چھوٹی سی فولادی زنجیر منتخب کی جس کے دونوں سروں پر گول کلپ لگے ہوئے تھے،جو چابی سے کھلنے اور بند ہونے والے تھے۔سلیمان نے زنجیر کے ایک سرے کا کلپ ڈرئیونگ سیٹ کے دروازے کے اندر کی جانب لگے ہینڈل میں پھنسا کر جکڑا دیا۔اور دوسرا چچا کے بائیں بازو میں کہنی کے قریب ڈال کر چابی سے لاک کردیا۔
اُس کے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ در آئی۔فتع مند ی کے احساس سے اُس کا چہرہ سرخ تھا۔اب سلیمان نے کلپ کی چابی لمبی کار کے ڈیش بورڈ کے دوسرے کونے میں رکھ دی اور چچا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر پھیلا کر دیکھا۔چابی چچا کی دسترس سے دور تھی۔اُس نے مطمئن ہو کر کار کا ،اگلا،دروازہ باہر نکل کے لاک کیااور گاڑی کی پچھلی نشست پر آکر عقبی ڈیش بورڈ پر اب سے بیس منٹ بعد یعنی ڈھائی بجے شب کا وقت سیٹ کر کے ٹائم بم کو ٹیپ کی مدد سے چپکادیا۔بم کا ٹائم پیس والا حصہ کار میں صاف دکھائی دے رہا تھا۔ٹائم بم کی ٹک ٹک کار میں گونجنے گی۔اب سلیمان چچا کے ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگا۔
ٹھیک دس منٹ بھی اُس کے چچا کو ہوش آگیا۔کارمیں تیز لائٹ جل رہی تھی۔چچا سلیم اختر خود کو کار میں بیٹھا اور بازو کو،زنجیر میں جکڑا دیکھ کر دھک سے رہ گئے۔اُن کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔اور ،دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔اُس نے چاروں طرف نگاہ ،دوڑا کر ماحول کا جائزہ لیا۔لیکن بنگلے کے ویران عقبی حصے میں کوئی انسان رات کے پچھلے پہر دکھائی نہ دیا۔اُنہوں نے چیخنا چاہا لیکن آواز حلق سے نہ نکل سکی۔اُن کا گلابھی کافی خراب تھا۔آواز کافی دھیمی نکل رہی تھی۔سلیمان بھی اس طرف سے بے فکر تھا۔
اُنہوں نے ڈرائیونگ سیٹ والا،دروازکھولنے کی کوشش کی لیکن ،دروازہ باہر سے لاک کر دیا گیا تھا۔پھر انہوں نے اُلٹے ہاتھ سے شیشہ نیچے اُتارا ،اور خوف سے گہرے گہرے سانس لینے لگا۔حلق پھاڑ پھاڑ کر چلانے کی کوشش کی مگر آواز بہت معمول نکلی ۔ایک تو گلا بہت خراب تھا۔دوسرا خوف رگ وپے میں سرایت کر چکا تھا۔
ٹائم بم کو دیکھ کر تو چچا نے فورا ہی نگاہیں پھیر لی تھیں۔ڈھائی بجے کا وقت سیٹ تھا۔ٹائم پیس کے سرخ ہندسوں کی تبدیلی سے وہ موت کے دبے پاؤں قریب آتا ہو ا دیکھ رہے تھے۔ٹائم بم کی ٹک ٹک اُن کے اعصاب پر ہتھوڑے کی مانند برسنے لگی۔اورخون کنپٹی میں ٹھوکریں مارنے لگا۔وہ خوف اور سردی سے منجمد سا ہو کر رہ گئے۔حالت اضطراب اب میں اُنہوں نے بار ،بار لپک کر ڈیش بورڈ کے سرے پر رکھی چابی اُٹھانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔اُن کی انگلیان کانپنے لگیں۔اور پسینے کے قطرے جسم کو بھگونے لگے،اعصاب تن گئے۔اور پیشانی کی رگیں اُبھر آئیں۔دوران خون بری طرح خوف کی آمیزش سے متاثر ہو رہا تھا۔اس وقت کار کی ٹیپ نے ایک خوفناک جملہ اُگلنا شروع کر دیا۔آواز بھاری اور طنزیہ تھی۔پیارے چچا تمہاری زندگی بہت لمبی ہوگئی تھی اور لمبی زندگی ایک وبال ہوتی ہے۔اپنے لیے اور دوسرں کیلئے بھی۔اب تمہیں اپنی زندگی سے نجات دی جا رہی ہے۔ٹھیک ڈھائی بجنے پر کار بم دھماکے سے ۔آگے جملہ ادھورا چھوڑ دیا گیا تھا۔دراصل سلیمان نے اپنی گفتگو خودکار میں ٹیپ میں بھر کر ریورس کر دی تھی،جو خود ،بجودچل پڑی تھی۔
کمینے تمہارا خون اس قدر گندا ہو سکتا ہے،میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا،میرے بھائی کی آخری نشانی اتنی غلیظ اور گھٹیا ۔۔چچا ہذیانی آواز میں چللانے لگے۔ان کا جسم خوف اور دہشت سے کا نپ رہا تھا۔وہ حالت اضطرار میں بار،بار کلائی ،چابی اور ٹائم بم کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔

دور ایک ٹیلے کی آڑ میں سلیمان دور بین ہاتھوں میں لیے موت کے ہوش ربا کھیل سے لطف اندوز ،ہو رہا تھا۔اُس کی دُوربین اندھرے کو کا ٹ دینے والی تھی۔وقت گزرتا گیا۔سلیمان کے چچا کی دل کی دھڑکن بڑھی چلی گئی۔دماغ پر بوجھ اور ،اعصاب پر تناؤ بھی شدید ہونے لگا۔ٹائم بم کی ٹک ٹک کسی ہتھوڑے کی مانند گونج رہ تھی چچا کی آنکھیں خوف سے پھیلی ہوئی تھیں۔اُنہوں نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھا ۔منٹ کی سوئی کلائی کی گھڑی پر دو،بج کر تیسویں منٹ کا آخری چکر پورا کر رہی تھی۔چچا کے جسم میں تشنج سا پیدا ہوا۔آنکھیں خوف سے سرخ ہو کر ابل آئیں۔بدن خوف سے کانپا ،ایک بار ،زنجیر جھنجھنا اُٹھی ۔وہ سیٹ سے اوپر اُچھلا پر نیچے گرا ۔دوسرے ہی لمحے ایک ہچکی کے ساتھ اُس کی گردن ڈھلک گئی۔آنکھیں بے نور ہو گئیں۔اور جسم سرد پڑنے لگا۔اُس کے خاکی پنجرے سے روح پھڑپھڑا کر پرواز کر چکی تھی۔ڈھائی بجے کوئی دھماکہ نہ ہوا تھا۔
سلیمان تیزی سے قریب آیا۔چچا کے دل کی دھڑکن معلوم کی جو ساکن تھی۔اب اُس نے فاتحانہ انداز سے کار کا پچھلا ،دروازہ کھولا اور عقبی ڈیش بورڈ پر ٹیپ کی مدد سے چپکائے ہوئے بم کو اُتار لیا جو ،در حقیقت ایک چھوٹے سے بکس میں پوشیدہ ایک برقی گھنٹی تھی۔جو ٹائم بم سے مشابہ آواز خارج کرتی تھی۔اور ٹائم پیس کی چھوٹی سے سرخ ہندسوں والی اسکرین بکس کے اوپر نصب تھی۔یہ ایک ذہین اور جرائم پیشہ انجینئر سے تیار کروائی گئی تھی جو ایک بار سلیمان سے مل چکا تھا،سلیمان ایک کامیاب قتل کر چکا تھا۔اُس کے چچا کی موت حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے واقع ہو چکی تھی۔اُسے کسی ہتھیار سے گلا دبانے سے ،زہر سے،پانی میں ڈبو کر یا پہاڑی سے دھکا دے کر نہیں ہلاک کیا گیا تھا۔سلیمان نے مردہ چچا کو زنجیر کھول کر اُٹھایا اور کندھے پر ڈال کر واپس بنگلے کی طرف چلنے لگا۔
احتیاطا ،وہ سوتے ہوئے ملازم کے منہ پر کلورو،فارم سے بھیگا ہوا ،رومال پھیر آیا تھا۔وہ خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھا۔چچا کو اُس نے اُسی پوزیشن میں بستر پر لٹا کر اوپر سے لحاف اوڑھا دیا۔اور خود کمرے پر الوداعی نظر ڈالتا ہوا باہر ،نکل آیا۔باہر آکے اُس نے ہاتھوں سے باریک دستانے اُتار کر جیب میں ڈال لیے۔اُس کا دل خوشی سے پاگل ہوا جا رہا تھا۔اُس کی دولت اب جلدی اُس کے قدموں میں آنے والی تھی۔تقریبا چار کروڑ کی جائداد تھی۔وہ مسرت سے جھوم اُٹھا۔ایک خوبصورت زندگی اُس کے استقبال کیلئے بانہیں پھیلانے منتظر تھی۔چچا کی موت کو کوئی قتل ثابت نہیں کر سکتا تھا۔
صبع ملازم بیدار ہو کر صاحب کی گھنٹی کا انتظار کر رہا تھا۔لیکن جب صاحب کی بیل نہ بجائی تو ملازم فکر مند ہوا۔اور،ہچکچاتا ہوا سلیم صاحب کے کمرے میں داخل ہوا۔صاحب صبع کے گیارہ نجے تک لحاف اوڑھے سو رہے تھے،ملازم چند لمحے بستر کے قریب کھڑا ہوچتا رہا کہ جگائے یا لوٹ جائے ۔پھر ہمت کر کے اُس نے لحاف کا سرا تھوڑا سا سر کایا اور صاحب کے چہرے پر نگا ہ ڈالی۔صاحب ساکت وصامت تھے۔اور بے نور ،آنکھیں چھت کو گور رہی تھیں۔اُس کی سانس کی آمد و ،رفت رُک چکی تھی۔منہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا۔
پھیلی ہو ئی آنکھوں میں شاید حیرت اور خوف منجمد کر دیا گیا تھا۔ملازم دھک سے رہ گیا۔اُس کا یک بیٹا ،ایبٹ آباد تھانے میں پویس انسپکڑ تھا۔اُس نے فون پر بیٹے کو صاحب کے متعلق اطلاع دے دی جو فورا کام چھوڑا کر موقع پر پہنچا اور ،مردہ جسم کا جائزہ لینے کے بعد کمرے سے اُنگلیوں کے نشانات اُٹھانے ،لیکن کوئی نشان نہ ملا۔ڈاکٹر کو بلایا گیا۔تفصیلی معائنے کے بعد ڈاکٹر نے رپورٹ لکھ دی کہ مسٹر سلیم اختر زبردست ہارٹ اٹیک سے انتقال کر چکے ہیں۔قتل کا کوئی امکان نہیں۔
انسپکٹر جلال نے سلیم اختر سے اُس کے دوستوں اور بھتیجے سلیمان کو نمبر دیکھ کر رنگ کیا،سلیمان ایبٹ آباد میں ہی بدلے ہوئے روپ میں موجود تھا۔اُس نے موبائل پر کہا کہ وہ لاہور سے ایبٹ آباد پہنچ رہا ہے ۔لاہور میں اُس کی موجودگی کی شہادت دینے کیلئے چاندنی موجود تھی۔
چچا کے دوستوں اور لاہور کے پنجاب کارڈیالوجی اسپتال کے اسپیشلسٹ کوو اچانک اور زبردست ہارٹ اٹیک پر بڑی حیرت ہوئی۔ایبٹ آباد جانے سے قبل سلیم اختر کا دل نارمل حالت میں صحت مندی سے کام کر رہا تھا۔اعصابی دباؤ کی وجہ سے سیروتفریع کا مشورہ دیا گیا تھا۔خیالی گھوڑے اور پولیس تفتیش بھی موت کو غیر قدرتی یا غیرطبعی ثابت نہ کر سکی ۔سلیمان خوش تھا۔اور دل ہی دل میں اُن سب کے حیرت و استعجاب اور قیاس آرائیوں پر قہقہے لگا رہا تھا۔کہ وہ قتل کر کے صاف بچ گیا۔ایک بڑے رائٹر کا کرائم سیکونس اُسے کامیابی سے ہم کنار کر چکا تھا۔اُس کے باپ کی چھوڑی ہوئی دولت وجائداد اُسے منتقل کر دی گئی تھی۔کیونکہ چچا کی موت کی صورت میں کسی اور نگران کا وصیت کے کا غذات میں ذکر موجود نہ تھا۔
اب سلیمان ماڈل ٹاؤن میں چار کنال کی کھوٹھی میں مالک کی حیثیت سے رہ ،رہا تھا جو سنگ مرمر اور،سنگ سرخ سےآراستہ ایک خوبصورت اور حسین عمارت تھی۔شاداب باغیچے کے وسط میں نصب بڑے فوارے کا پانی فضا میں اچھل اچھل کر سلیمان کو خوش آمدید کہہ رہا تھا۔سوئمنگ پول ،شطرنج گاہ،گھوڑوں کا چھوٹا سا فارم ،باغ کے پھولوں سے لدے ہوئے رنگین تختے ۔اوپری منزل کی کھڑکیوں اور برآمدوں سے صاف دکھائی دیتے تھے۔سلیمان خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا ۔وہ اور چاندنی ہاتھوں میں ہاتھ دیئے ساری عمارت میں چوکڑیاں بھرتے پھر رہے تھے۔انہوں نے فورا شادی کر لی تھی۔اُن کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔

سارا سارا دن گھونے پھرنے اور عیش کوشی کے علاوہ انہیں کوئی دوسرا کام نہیں تھا۔سلیمان کا خیال تھا کہ ایک ماہ خوب عیش وعشرت میں گزارا ،جائے پھر سرمائے کے استعمال کے بارے میں سوچا جائے ۔وہ روزانہ نیا لباس پہنتے اور ناشتہ کرتے اور لمبی سیر کیلئے نکل کھڑے ہوتے۔مہنگے ریسٹورنٹ انہیں خوش آمدید کہہ رہے تھے۔آج دونوں پلازہ سینما میں نئی فلم کا دوسر ا شو دیکھ کر پھرتے پھراتے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔

آسمان پر بکھرے ہوئے سیاہ بادل جمع ہو کر پھیلتے جارہے تھے اور ٹھنڈی ہوا شائیں شائیں کا شور مچاتی ہوئی دانت بجا رہی تھی۔سردی بہت بڑھ گئی تھی اور پھر موسلادھار بارش گرج چمک کے ساتھ شروع ہوگئی۔سلیمان نے پورٹیکو میں گاڑی کھڑی کی تو بادل بڑے زور سے گرجا جیسے آسمان پر کسی کی جان نکل رہی ہو۔کسی نے موت کی آخری سکی بھری ہو،چاندنی اور سلیمان چونک کر ایک دوسرے سے چمٹ گئے۔اس وقت اولے بھی کھٹ کھٹ برسنے لگے۔

گرج کے ساتھ آسمانی بجلی کی چمک فلیش لائٹ کی مانذ لہرانے لگی۔ہوا کے چھکڑ دیوانے ہو کر شور مچانے لگے۔کسی جگہ ایک کتا بڑی بھیانک آواز میں رہ رہا تھا۔انہیں کپکپی سے آگئی۔رونگے کھڑے ہو گئے۔

آج کی رات کتنی بھیانک اور سرد ہے۔سلیمان بڑبڑایا۔اور دونوں جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔اوپری بیڈروم انہیں شب بسری کیلئے زیادہ پسند آیا تھا۔یہ سلیمان کے ڈیڈی کا خاص کمرا تھا،کمرے میں داخل ہو کے سلیمان کھڑکیاں بند کرنے لگا۔پھر بیرونی دروازہ بھی لاک کیا۔سلیپنگ سوٹ پہن کر روشنی میں بستر پر لیٹ گئے۔بجلی گرج چمک کے ساتھ روشن دانوں پر لہرانے لگی ۔پردے گرانے کی انہوں نے ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔سلیمان بچپن سے ہی طوفانی راتوں سے بڑا خائف تھا۔اس کے لاشعور مین طوفابی رات کا خوف بسا ہوا تھا کیونکہ ایسی ہی ایک رات میں اس کی نانی کے مکان کی ایک چھت گرگئی تھی اور۔دوسرے کمرے انتہائی دہشت کے عالم میں ماں سے چمٹ گیا تھا۔چھت کے گرنے سے اس گھر کا ایک فرد کم ہو گیا تھا۔کروٹیں بدلتے ہوئے اسے نیند نے آہی لیا۔کھانا کچھ زیادہ ہی مزیدار تھا۔لذیذ کھانا پیٹ بھر کر کھانے سے انسان کو فورا نیند آنے لگتی ہے۔لیکن چاندنی نے چونکہ بلیک کافی پی رکھی تھی،اس لیے وہ مسلسل جاگ رہی تھی۔اس کی نیلی آنکھیں نیم تاریکی میں کچھ زیادہ ہی چمک رہی تھیں۔وہ آہستہ آہستہ بستر سے اُٹھی اور سلیمان پر نگاہ ڈال کر کمرے کی مغربی بڑی کھڑکی کی طرف گئی۔اور اس کی چٹخنی گرا دی۔اس آرائشی کھڑکی میں لوہے کی سلاخیں نہیں تھیں۔اس نے کلاک اور گھڑی دونوں پر وقت دیکھا۔رات کے دو بجنے والے تھے۔اس کی آنکھوں کی چمک کچھ اور بڑھ گئی،وہ لحاف میں آکر ٹکٹکی باندھے کھڑکی کے پٹ دیکھنے لگی۔

اچانک بجلی بڑے زور سے چمکی جیسے آسمان کا سینہ پھٹ گیا ہو۔روشنی کا تیز جھماکا بھیانک گرج کے ساتھ کھڑکیوں اور روشن دانوں پر چمکا تو کمرا تیز نور سے دمک اٹھا۔اسی لمحے بارش کے قطروں میں بھیگا ہو ا۔ایک طویل قامت سیاہ پوش شخص جس کے شانے کافی چوڑے اور جسم مضبوط تھا خاموشی سے بڑی کھڑکی کےہوا ست ہلتے پٹ کھول کر اندر داخل ہوا۔اس نے چہرے سے نقاب اتار دیا۔

چاندنی بستر سے اتر کر بے اختیار اس کی طرف بڑھی دونوں ایک دوسرے کے قریب ہو کر سر گوشیاںکرنے لگا۔چند لمحوں بعد بقاب پوش اور ڈبل بیڈ کے قریب دیوار پر تجوری کا جائزہ لینے لگا۔چاندنی نے تجوری کی چابی بیڈ کی خفیہ دراز سے نکال کر نقاب پوش کو لا کر تھما دی۔سیاہ پوش نے چابی کو چوما اور آگے بڑھ کر چاندنی کا بوسہ بھی لے لیا۔اس کی وجاہت یونانی دیوتاؤں جیسی تھی۔تجوری کھول کر نقاب پوش نقدی اور ۔زیورات سیاہ چرمی تھیلے میں منتقل کرنے لگا ۔چاندنی واپس بیڈ پر جا کر لحاف میں سوئے سلیمان کو پروگرام کے مطابق جھنجھوڑ کر جگانے لگی۔سلیمان کچی نیند میں تھا۔جلد ہی بے وار ہو گیا۔

سیاہ پوش بے فکری سے اپنے کام میں مصروف تھا ،سلیمان چاندنی کے اشارے پر کھلی تجوری اور سیاہ پوش کے ہاتھ میں بھرتا ہوا تھیلا دیکھ کے غصے اور اشتعال سے کپکپا اٹھا۔پھر فورا ہی اس کا ہاتھ تکیے کے نیچے اپنا پستول ٹٹولنے لگا لیکن پستول نہ ملا۔وہ تو چاندنی نے پہلے ہی نقاب پوش کی جیب میں منتقل کر دیا تھا۔سلیمان بستر پر کھڑا ہو کر کنارے پر چلا گیا۔اور سیاہ پوش کو للکار کر اس پر جھپٹنا ہی چاہتا تھا کہ نقاب پوش نے اسے دیکھا اور اس کا ہاتھ جیب میں رنگ گیا۔سلیمان نے بقاب پوش پر حملہ کر دیا لیکن طاقتور سیاہ پوش نے اسے ایک ہی جھٹکے کے ساتھ بستر پر اچھال پھینکا۔

سلیمان پھر اچھل کر سیدھ ہو ا،اور آگے بڑھا ہی چاہتا تھا کہ نقاب پوش نے جیب سے نکالے گئے ریوالور سے فائر کر دیا۔گولی سلیمان کے سینے میں لگی اور وہ پیچھے کی طرف بستر پر الٹ گیا۔لیکن سنبھلنے کی کوشش جاری رکھی ۔اس کی بناک چیخ کمرے میں گونجی مگر باہر پھیلے ہوئے طوفانی شور میں دب کر رہ گئی۔محافظ خبردار نہ ہو سکے۔ریوالور سائلنسر پروف تھا،اس کی آنکھوں میں اب تک بے حد حیرت تھی کیونکہ ریوالور کے دہانے سے نکلنے والی گولی اس کے اپنے ریوالور کی تھی۔سلیمان کا سینہ خون کے آنسو رونے لگا۔

چاندنی ڈارلنگ یہ تو گیا۔نقاب پوز قہقہہ مار کر ہنس پڑا۔چاندنی بستر سے اترکر نقاب پوش کی طرف جارہی تھی،سلیمان آنا فانا ساری صورت حال سمجھ گیا تھا چاندنی کیا کھیل کھیل چکی ہے۔
مگار عورت میں نے تمہارے لیے کیا نہیں کیا۔لیکن تم نے اپنے یار کے ساتھ مل کر مجھے قتل کرنے کی کوشش کی ۔سلیمان بستر پر مچھلی کی مانند تڑپنے لگا۔
چاندنی چلتی ہوئی اپنے خاوند کے پاس آئی اور بستر کے کنارے رک کر بولی۔تم جیسے احمق اور ۔دل پھینک عاشقوں کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔تم شروع دن سے ہی میرے معیار کے نہیں تھے۔لیکن رئیس زادے تھے۔اس لیے دولت کی خاطر مجھے تمہارے ساتھ دوستی اور پھر محبت کا ناٹک کھیلنا پڑا۔میرا دوست جان شیر آئیڈیل نوجوان ہے۔میں اس کے ساتھ خوبصورت زندگی بسر کروں گی۔سلیمان خون سے سرخ سینے کے ساتھ بستر پر نڈھال پڑا تھا۔اور چاندنی کی آواز اس کے کانوں میں زہر گھول رہی تھی۔چاندنی سلیمان کی کیفیت سے لطف اندوز ہو رہی تھی لیکن پھر بقاہت سے نیچے گرادیتا۔
ڈیئر خاوند تمہارے مرنے کے بعد میرا بیان یہ ہوگا۔چاندنی ٹہل ٹہل کر اس کے زخموں پر نمک پاشی کرنے لگی۔آج چاندنی اسے ایک بدصورت ناگن دکھائی دے رہی تھی۔وہ تڑپ اٹھا۔اس کی زندگی کا چراغ پھڑپھڑا رہا تھا۔
ہاں تو میں کہہ رہی تھی میرا بیان تمہارے مرنے کے بعد یہ ہو گا۔ میری آنکھ بستر پر کھلی تو سب سے پہلے کمرے کی مغربی کھڑکی کھلی دیکھ کر میں چونک پڑی پھر جیسے ہی نگاہ گھوم کر بستر کے کنارے دیوار میں نصب تجوری پر پڑی تو میں دھک سے رہ گئی۔ایک لمبا چوڑا نقاب پوش تجوری کھولے دولت سمیٹنے میں مصروف تھا۔میں نے آواز نکالے بغیر اپنے خاوند کو جگا دیا ۔نقاب پوش خاموشی سے تجوری کا صفایا کرنا چاہتا تھا لیکن میرا خاوند جو کچی نیند میں تھا فورا بیدار ہوگیا۔میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کے اسے تجوری کی طرف متوجہ کیا۔میرے خاوند نے تکیے کے نیچے سے اپنا پستول نکالنے کی کوشش کی لیکن پستول نقاب پوش ڈھونڈ کر پہلے ہی قبضے میں کر چکاتھا۔میرا خاوند سے اتر کر چور سے الجھ پڑا۔چور نے تیزی کی کوشش کی لیکن میرے بہادر خاوند نے پستول پر ہاتھ ڈال دیا۔پستول چور کے ہاتھ سے گر کر فرش پر جا پڑا۔دونوں میں زورآز مائی شروع ہوگئی۔میں چوکیدار اور گارڈ کو بلانے کیلئے بیرونی دروازے کی طرف لپکی۔
میں چند قدم ہی چلی تھی کہ میرے خاوند کی خوفناک چیخ نکل گئی۔سیاہ پوش جو زیادہ طاقتور تھا اس نے پستول فرش سے اٹھا کر اسے گولی ماردی۔میرا خاوند تجوری کے سامنے فرش پر پڑا تڑپ رہا تھا اس کے سنیے سے تیزی سے خون بہہ رہا تھا اور نقاب پوش کھڑکی پھلانگ کر باہر جارہا تھا۔عقبی کھڑکی کی دوسری جانب پتلی سے راہ ،داری ہے ۔یہ راستہ پچھلے زینے کی طرف نکلتا ہے۔اور متروک ہے چور پستول جس سے اس نے میرے خاوند کو گولی ماری تھی اپنے ساتھ لے گیا۔انسپکٹر صاحب کمرے کی کھڑکی غلطی سے کھلی رہ گئی تھی۔یا کوئی ملازم چور سے مل گیا تھا۔میں بھاگ کر نیچے جاتے چوکیدار کو اطلاع دی۔وہ ۔اِدھر اُدھر نکل کے نقاب پوش کو تلاش کرنے لگے لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔گاڈز نے عقبی سٹرک پر ایک سیاہ کار کو تیزی سے دور جاتےہوئے دیکھ لیاتھا۔جس میں وہ فرار ہواتھا۔
یہاں تک کہہ کر چاندنی عرف ڈمپل سلیمان کی بکھرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔یہ اس کی خاص عادت تھی۔سلیمان تفریحات پر خرچ کرنے کا شکریہ۔چاندنی نے دھیمے لہجے میں کہا۔سلیمان کا سفید سلیپنگ سوٹ سرخ خون میں تربتر ہوتا جارہا تھا۔ وہ کرب کے عالم میں سوچنے لگا کہ اگر وہ چچا کی نصیحتوں کو پلے باندھتا اپنے باپ کے جذبات کا احترام کرتا۔اچھے افعال اپناتا تو اس کا یہ انجام نہ ہوتا۔اس نے جس دولت کی خاطر اپنے فرض شناس چچا کا خون کر دیا تھا وہ دولت اسے موت کی نیند سلاتے ہوئے ہاتھ سے نکلی جارہی تھی۔اب یہ جائداد چاندنی کی مل جائے گی اور ۔وہ مکافات عمل پورا ہو چکا تھا۔اسے زلف کا سہارا گراں ملا تھا۔سلیمان نے آخری ہچکی لینے سے قبل ہمت کر کے چہرہ اٹھایا۔اور منہ میں آنے والے سرخ تھوک کو ان دونوں کے چہرے پر پھینک دیا۔چاندنی تڑپ کر بولی ۔جان شیر بہت دم خم ہے اس میں دو گولیاں اور مار دو ۔
جان شیر بھیانک مسکراہٹ کے ساتھ ٹرائیگر دبانے لگا وہ بستر کے قریب آچکاتھا یہ ۔دنیا مکافات عمل ہے۔سلیمان نے بمشکل کہا اور اس کا منہ خون سے بھر گیا۔
(ختم شد)

Na Kardah Gunah Ki Saza | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Na Kardah Gunah Ki Saza | Teen Auratien Teen Kahaniyan

سچ ہے کالج کی زندگی بہت پرکشش اور یادگار ہوتی ہے۔ اسی بہترین دور کی میری ساتھی شاہینہ تھی۔ جو اپنی نادانی کے ہاتھوں زندگی کی خوشیاں گنوا بیٹھی۔ شاہینہ بہت ذہین لڑکی تھی۔ اسے خالق نے حسن کی دولت بھی عطا کی جو سے ساری کلاس میں منفرد بناتی تھی۔ اس کا اپنا الگ […]

0 comments
Hue Tum Jiss Kay Dost Teen Auratien Teen Kahaniyan

Hue Tum Jiss Kay Dost Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents کچھ دنوں سے منصب بھائی پریشان سے دکھتے تھے۔ وہ ایف ایس سی فرسٹ ایئر کا امتحان دے چکے تھے اور سیکنڈ ایئر شروع ہونے سے پہلے چند روز کی چھٹیاں ملی تھیں۔ امی کو فکر ہوئی کہ پرچے تو ہو چکے، صاحبزادے اب کیوں پریشان ہیں۔ شاید رزلٹ کی فکر ہے […]

0 comments
Sunehrey Khawaboun Ki Chahat Main Teen Auratien Teen Kahaniyan

Sunehrey Khawaboun Ki Chahat Main Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents ہمارے گائوں میں جب فصل کٹ جاتی اور اناج کے ڈھیر کھیتوں میں چمکنے لگتے، کسانوں کی آنکھوں میں بھی چمک آجاتی۔ سال بھر کا اناج گھروں میں ذخیره کرلیا جاتا، تبھی میلے کا موسم آجاتا۔ اس بار بھی میلہ سج گیا۔ گائوں کی دوسری لڑکیوں کے ساتھ میں بھی میلہ دیکھنے […]

0 comments
Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen Kahaniyan

Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen KahaniyanKash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen KahaniyanComplete storyہمارے گائوں میں جب فصل کٹ جاتی اور اناج کے ڈھیر کھیتوں میں چمکنے لگتے، کسانوں کی آنکھوں میں بھی چمک آجاتی۔ سال بھر کا اناج گھروں میں ذخیره کرلیا جاتا، تبھی میلے کا موسم آجاتا۔ اس بار بھی میلہ سج گیا۔ گائوں کی […]

0 comments
Woh Hadsa Bhoolta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan

Woh Hadsa Bhoolta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents ایک دن میں اپنی دوست منورہ کے گھر گئی تو اس کی ملازمہ شاداں کو روتے دیکھا۔ پوچھا۔ اس کو کیا ہوا ہے؟ منوره نے بتایا۔ اس کا خاوند بہت بیمار ہے تبھی بیچاری پریشان ہے۔ وہ تو اچھا خاصا تندرست تھا اور ان کے حالات بھی ٹھیک تھے تو کیونکر بیمار […]

0 comments
Aik Jhalak Nay loota | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Aik Jhalak Nay loota | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents بڑے دنوں سے چاہ تھی کچھ دن کسی پر فضا مقام پر گزاریں اور ہم نے شمالی علاقہ جات جانے کا پروگرام بنا لیا۔ سیر کرتے ہوئے واپسی پر مری میں پڑائو ڈالا… ایک اچھے سے ہوٹل میں زندگی کے یہ یادگار گزارنے کا پروگرام بنا گیا۔ یوں میرے میاں نے ہوٹل […]

0 comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *