HomeTeen Auratien Teen KahaniyanWaqt Palatta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Waqt Palatta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Table of Contents

اس روز صبع کے سات بجے تھے جب طوبیٰ کے گھر گئی۔سامنے ہی ایک نوجوان کرسی پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔اسے پہلی بارطوبیٰ کے گھر دیکھا تھا۔قدم ٹھٹھک گئے۔آنٹی کچن سے نکلیں۔ان کے ہاتھ میں ٹرے تھی۔وہ اس مہمان کیلئے ناشتہ لا رہی تھی۔مجھ پر نظر پڑی تو کہا۔شانو بیٹی اندر چلی جاؤ۔طوبیٰ تیار ہو رہی ہے۔میں کمرے میں گئی،تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں،جلدی کرو،کالج کو دیر ہو رہی ہے۔بس پانچ منٹ انتظار کرلو،بال بنالوں۔اس نے جلدی جلدی کنگھا بالوں میں پھیرا،اور بال باندھ لئے۔
ہم روز ساتھ کالج جاتی تھیں۔وہ راستے بھر چہکتی جاتی،ایک منٹ کو خاموش نہیں ہوتی تھی۔مگر آج تمام رستے خاموش رہی۔ایک دو،بار میں نے بات بھی کرنے کی کوشش کی۔اس نے ہوں۔ہاں، میں جواب دیا۔جیسے کسی گہری سوچ میں گم ہو۔

واپسی میں اس نے ہی بتایا کہ کل شام گاؤں سے اس کا کزن آیا ہے۔ تم کیوں اس کے آنے سے گم صم ہو؟وہ مجھے دیکھا آیا ہے۔ کیا مطلب؟سمجھو نا،تایا اور ابو کا خیال ہے ہماری شادی کرنے کا ہے۔یہ تو خوشی کی بات ہے،کیسا ہے وہ۔اس نے ذرا شرما کر پوچھا۔مجھے تو اچھا لگا۔تمہاری خوش قسمتی ہے تم کو اپنے گھر کا لڑکا مل رہا ہے۔وہ بھی اتنا خوش شکل اور خوش لباس۔۔۔اب امی میری مرضی پوچھیں گی۔تم ضرور ہاں کر دینا۔

وہ میرے چہرے کو سوالیہ نظروں سے تکنے لگی۔سوچتی ہوں اگر مجھے گاؤں راس نہ آیا۔ساری زندگی شہر میں رہی ہوں۔اب گاؤں میں کیوں کر رہ پاؤں گی۔دونوں میں محبت ہو گی تو شہر کیا گاؤں تم جہاں رہو گی ہر جگہ تم کو اچھی لگے گی۔
دو،دن گزرے تو میں نے محسوس کیا کہ طوبیٰ کچھ ڈسٹرب ہے۔کیا بات ہے۔طوبیٰ،،،مجھ سے کچھ مت چھپانا۔۔خدارا،نتاؤ۔کیا پریشانی ہے؟
جب میں پیدا ہوئی تو تایا یا،تائی نے اپنے بیٹے کیلئے مانگ لیا تھا۔یہ بزرگوں کے فیصلے تھے۔مجھے ان کا علم نہیں تھا۔مگر والدین کے دلوں میں برسوں سے یہ بات تھی جو،اب مجھ ظاہر ہوئی ہے۔کیا وہ تم کو پسند نہیں ہے۔وہ مجھے پسند ہے لیکن کچھ زیادہ اس کی عادت و طبیعت کے بارے نہیں جانتی۔کم ہی گاؤں جاتی تھی۔اچھا بتاؤ تمہارا یہ کزن کتنے دن تمہارے گھر ٹھہرے گا۔
ایک ماہ تو قیام کرے گا۔غالباوہ بھی تمہاری عادات و اطوار،دیکھا چاہتا ہے۔اچھا ہے تم بھی اتنے دنوں میں کچھ تو اس کو جانا لو گی۔یہ بات نہیں ہے۔شاہین،،،اصل بات یہ ہے کہ میں محبت اور عملی زندگی کے سکھ اور خوشیوں کو الگ الگ سمجھتی ہوں۔اگر محبت ہو اور،دولت نہ ہو تو،محبت اور خوشیوں کے گلاب خود بخود،سو کھ کر کا نٹا ہو جاتے ہیں،اور پھر وہ ساری زندگی رہتے ہیں۔تمہارا کزن تو غریب نہیں ہے؟
غریب تو نہیں مگر ہمارے جیسے ہی متوسط طبقے کے لوگ ہیں یہ بھی،ہم ان کو دولت مند نہیں کہہ سکتے۔گاؤں میں جو تھوڑی سی زرعی زمین اور مکان ہے وہ بھی تایا اور،ابو کی مشترکہ ملکیت ہے۔ان کے پاس بینک بیلنس کوٹھی بنگلہ نوکر چاکر کچھ بھی نہیں ہے۔عامر گریجویٹ ضرور ہے مگر کسی اعلیٰ عہدے پر تو نہیں ہے۔

میں نے اپنی بچپن کی دوست کے منہ سے یہ باتیں سن کر حیران رہ گئی۔وہ اپنی عمر اور عقل سے زیادہ بڑی باتیں کر رہی تھی،سچ بتاؤ طوبیٰ یہ باتیں تم کو کس نے سمجھائی ہیں۔پہلے دن عامر کے آنے سے تم خوش تھیں۔لیکن اس کے بعد کشمکش کا شکار ہو۔ضرور اس موضوع پر کسی نے تم سے بات کی ہے۔

میری چھوٹی چچی نے مجھے یہ بات کہی ہیں جو شہر میں رہتی ہیں،وہ خوشحال گھر کی تھیں۔مگر شادی ہمارے چچا سے ہو گئی جو زیادہ خوشحال نہ تھے،تبھی ان کو اپنی،آرزوؤں کو حسرتوں میں بد لنا پڑا۔وہ کہتی ہیں کہ تم کو کزن کے ساتھ بے شک محبت ہو تو اس رشتے کو قبول نہ کرنا،ورنہ بعد میں پچھتاؤگی۔اگر کسی دولت مند سے شادی کروگی تو سکھی رہوگی۔مجھ کو نجانے کیوں طوبیٰ کی یہ بات اچھی نہ لگیں۔میرا دوٹ عامر کے حق میں تھا،اس کے چہرے پر شرافت اطمینان اور سکون تھا۔بہرحال ایک ماہ بعد وہ۔اپنے گاؤں چلا گیا۔اس دن میری سہیلی اداس تھی،جس سے انداز ہو ا کہ۔طوبیٰ کو عامر پسند ہے مگر اس کی سوچوں کو چھوٹی چچی نے بھٹکا دیا ہے،جو قریب ہونے کی وجہ سے اکثر ان کے یہاں آتی رہتی تھیں۔
گاؤں جا کر عامر نے ماں سے کہا کہ مجھے طوبیٰ اچھی لگی ہے۔اب آپ بے شک میری شادی کی تاریخ طے کر آئیں۔مجھ کو،کوئی اعتراض نہیں ہے۔طوبیٰ کی تائی شہر آئیں۔اور،آنٹی سے شادی کی تاریخ طے کرنا چاہی،لیکن ہمیشہ سواگت کرنے والی دیورانی اس بار چپ چپ لگی۔جب کریدا تو انہوں نے مزید سوچنے کا وقت مانگ لیا۔عامر کی والدہ حیرت زدہ،رہ گئیں۔کہ کل یہی اصرار کر رہی تھیں کہ بیٹی کی جلد شادی کرنے میں بھلائی ہے اور آج ٹال رہی ہیں۔گاؤں جا کر بیٹے کو بتایا۔خدا جانے کیا معاملہ ہے کہ تمہاری چچی گومگو میں ہیں۔کچھ دن ٹھہرو۔دوبارہ جا کر واضع بات کرتی ہوں۔کچھ روز،بعد دوبارہ آئیں طوبیٰ کی ماں بولی۔تمہارے دیور اور، میں تو دل سے راضی ہیں مگر لڑکی کی رضامندی بھی ضروری ہے۔

کیوں طوبیٰ منع کر رہی ہے؟اس سے پوچھا لو۔مجھے تو صحیح جوان نہیں دے رہی۔تائی نے طوبیٰ سے عندیہ پوچھا،وہ بولی،تائی میں ایم اے کرنے تک شادی کرنا نہیں چاہتی۔تم کو جنتا آگے پڑھنا ہو بیٹی، ہم نہیں روکیں گے لیکن میں تمہاری رضامندی چاہتی ہوں۔اچھا کا بتاؤں گی،آج میرا ٹیسٹ ہے۔تیاری کرنا ہے۔اس نے تائی کو ٹال دیا۔کالج میں مجھ سے تمام احوال بتا کر طوبیٰ نے سوال کیا۔شانوسمجھ میں نہیں آرہا ابھی تک،کیا فیصلہ کروں۔کیا جواب دوں ان کو،سوچو مت اور فورا، ہاں کہہ دو۔میں نے اس کو مشورہ دیا۔اگلے دن وہ ملی تو میں نے پوچھا۔کہوتم نے کیا جواب دیاہے۔
میں ہاں کرنا چاہتی تھی۔مگر چھوٹی چچی مجھے اپنے ساتھ گھر لے گئیں۔اور کافی دماغ کھایا کہ ہرگز ہاں مت کرنا۔سوچنے کیلئے وقت لے لو۔ایک اور بہت ہی اچھا رشتہ ہے میرے پاس وہ دولت مند لوگ ہیں اور لڑکا بھی خوبصورت ہے۔ایک نظر سے بھی دیکھ لو پھر جو چاہو فیصلہ کر لینا۔
غرض طوبیٰ کی تائی واپس چلی گئیں کیونکہ اس کو اس کی چچی نے ہاں نہیں کہنے دی۔اس نے طوبی کی ماں سے بھی کہا کہ بچیاں نا سمجھ ہوتی ہیں۔آپ معاملہ لڑکی پر مت چھوڑیئے۔بات طوبی کے والد نے بیوی سے کہی مگر آنٹی نے نجانے کیا سوچ کہ بیٹی کی مرضی کو اہمیت دی اور عامر کی والدہ کو یہی جواب دیا کہ لڑکی آپ ہی کی ہے مگر دباؤ مت ڈالئے۔جلدی کس بات کی ہے۔بچی کو سوچنے کیلئے تھوڑی سی ملہت دینے میں کچھ حرج نہیں ہے۔آپ لوگ گاؤں میں رہتے ہیں اور یہ بچپن میں کبھی وہاں گئی تھی۔تبھی ہچکچا رہی ہے۔گاؤں کا ماحول شہر سے مختلف ہوتا ہے۔شاید وہاں دل نہ لگا پائے تبھی گھبراہٹ کا شکار ہے۔
تائی کے جاتے ہی چھوٹی چچی رشتہ لے کر آگئیں۔امی کو بتایا کہ شہری لوگ ہیں،دولت کی ریل پیل ہے۔لڑکا اپنے بڑے بھائی کے ہمراہ دبئی میں کاروبار کرتا ہے۔ان کی بڑی کمائی ہے۔بس ایک بار، ان کا گھر چل کر دیکھ لو۔پھر فیصلہ کرنا،گھر میں دو،گاڑیوں اور نوکر چاکر شاندار فرنیچر ہے۔تمہاری بیٹی کے نصیب کھل جائے گے۔میرے برسوں کے جاننے والے ہیں،کب سے لڑکے کی ماں پیچھے بڑی ہے طوبیٰ سے رشتہ کرادو۔انہوں نے میری عاتکہ کی شادی میں تمہاری بیٹی کو دیکھا تھا۔اور ایک نظر میں پسند کرلیا تھا۔بڑے بھائی کا معاملہ تھا ہی میں نے دل میں بات دبائے رکھی۔اب جب لڑکی گاؤں جانے سے گریزاں ہے۔یہ رشتہ عامر سے کہیں بہتر ہے۔بیٹی کے مستقبل کو دیکھو،رشتوں ناتوں کو نہ دیکھو۔رشتے داری اپنی جگہ،مگر اولاد کا مفاد،اول ہے،غرض انہوں نے اپنی چرب زبانی آنٹی کی سوچ کا رخ موڑ کر ان کے ذہن کو اپنی مٹھی میں لے لیا۔

یوں چھوٹی چچی کے بہت اصرار پر آنٹی لڑکے والوں کے گھر گئیں۔مکان تو واقعی شاندار تھا۔فرنیچر بھی جدید اور عمدہ گاڑیوں بھی تھیں۔لڑکے کی ماں اور بہن گرمجوشی سے ملیں۔تواضع کی مگر لڑکا موجود نہ تھا۔وہ بقول اس کی ماں کے دبئی میں تھا۔البتہ تصویر دکھائی شکل واجبی تھی تبھی طوبیٰ کی چچی نے کہا۔مردوں کی شکل کوں دیکھتا ہے۔کمائی اور اخلاق دیکھنا چاہئے،اور بس۔۔۔

بیوی نے شوہر کو راضی کیا اور بہت اصرار کر کے ان کو بھی لڑکے کے گھر لے گئیں۔طوبیٰ کے والد کی آنکھیں ان کی شان و شوکت کو دیکھ کر کھلی رہ گئیں۔گیراج میں قیمتی اور نئی گاڑیوں موجود تھیں۔گھر آئے تو سوچا رشتہ تو ٹھیک ہے مگر اب بڑے بھائی کو کیا جواب دیں گے۔بیوی نے لگام بیٹی کے ہاتھ میں تھما دی شوہر نے کہا اپنی کہئے اور نہ میری سنیئے۔آپ بس بیٹی کی رضا کے مطابق فیصلہ کر دیجئے۔
کچی عمر کی طوبیٰ کو تو اس کی چچی پہلے ہی شیشے میں اتار چکی تھیں۔طوبیٰ نے چچی کے بار بار کہنے سے،اسی رشتے کیلئے ہاں کہہ دی۔بہانہ یہ کیا یہ شہر کا رشتہ ہے۔میں گاؤں میں ہرگز نہ رہ سکوں گی۔جہاں آٹھ آٹھ گھنٹے، بجلی عنقا ہوتی ہے۔جہاں گھر میں چولہا لکڑیوں سے جلتا ہے۔

ایسی زندگی عمر بھر کیونکر بسر کروں گی؟

یہ وہی طوبیٰ تھی جس نے کہا تھا کہ عامر مجھے دل سے پسند ہے۔چلو گاؤں میں جیسی بھی زندگی ہے،شادی کے بعد شہر لے آؤں گی۔اب وہی تھی کہ دولت کے خواب اور نئی گاڑی کی چمک دمک نے اس کا ذہن پلٹ دیا اور،اس نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا ارمان پورا کرنے کی ٹھان لگیں۔کہا کہ ٹھیک فیصلہ کیا ہے۔آپ کی بیٹی نے عقل مند ہے جو منع کر دیا ہے۔گاؤں نہیں قبول اسے تو اب زبردستی مت کیجئے گا۔سچ کہتی ہوں کہ ایسا رشتہ اس کیلئے آپ لوگوں کو پھر نہ ملے گا۔

اس خاتون نے تو دراصل اپنی جیٹھانی سے کبھی کی پرُخاش نکالی تھی اور اپنی کسی محرومی کا بدلہ لیا تھا۔جب عامر کو پتا چلا کہ طوبی کسی اور کی ہونے جارہی ہے۔وہ بہت افسردہ ہوا۔بیٹے کو افسردہ دیکھ کر بڑے تایا نے طوبیٰ کے والد کو خط لکھا کہ تم کیا غلطی کر رہے ہواور، اپنوں کو ٹھکرار ہے ہو۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں پچھتانا پڑجائے۔

خط آنٹی کے ہاتھ لگا۔شوہر کو نہ بتایا۔کو نہ بتایا کہ آپ کے بھائی کا خط آیا ہے۔انہوں نے بیٹی کی شادی کی تاریخ رکھ دی اور،رخصتی کی تیاری شروع کر دی گئیں۔دولہا اور اس کے بھائی کو شادی سے چند روز قبل دبئی سے آنا تھا۔ادھر پاس پڑوس والوں نے کہہ دیا کہ ہاں یہ ٹھیک لوگ ہیں۔کسی کے لینے دینے میں نہیں بس اپنے بزنس میں مگن ہیں۔محلے والوں کو ان سے کبھی کوئی تکلیف پہنچی ہے اور نہ شکایت ہے۔البتہ ملنا ملانا کم رہتا ہے۔کیونکہ کفایت شعارقسم کے ہیں۔غرض پڑوسیوں نے تو گن گائے اور نہ کھل کر برائی کی۔جو محسوس کرتے تھے کہہ دیا۔ان باتوں سے بھی طوبیٰ کے والد مطمئن ہو گئے۔کہ پڑوسیوں کی رائے اہمیت رکھتی ہے۔

طوبیٰ شادی کے دن خوش تھی۔سسرال سے بھاری زیورات اور قیمتی کپڑے آئے تھے۔لیکن۔۔شادی کی رات جو نہی دولہا نے گھونگٹ اٹھایا،اسے اپنا بدوضع سا اور واجبی شکل کا دولہا اچھا نہ لگا۔دل کے گوشے میں تو عامر کی حسین صورت نقش تھی۔جس کو محض دولت کی وجہ سے اس نے ٹھکرا دیا تھا۔عامر سے لگوؤ تھا مگر دولہا کی پہلی جھلک دیکھ کر اس کو پتا چلا کہ وہ لگاؤ معمولی نہ تھا وہ تو محبت تھی۔جس پر اس کی بے عقلی کا پردہ پڑگیا تھا۔

کبھی کبھی بعض لڑکیا ں ایسا فیصلہ عجلت میں کر لیتی ہیں کہ پسند کوئی ہوتا ہے مگر دوسرں کے بہکائے میں آکر شادی کسی دولت مند سے کع لیتی ہیں۔شادی کے فورا بعد اس کا دولہا واپس دبئی چلا گیا۔اور وہ سسرال میں اکیلے دن بتانے پر مجبور ہوگئی۔نئی دلہن کا چاؤ چند دن کیا گیا۔اس نے بعد اصل حالات کھلے کہ یہ لوگ ظاہری ٹپ ٹاپ پر خرچ کرنے والے اور اصل میں بہت کنجوس تھے۔اچھا کھاتے تھے اور نہ ہی خوشیوں پر کچھ خرچ کرنے کے قائل تھے۔دولت کو جمع کرنا ان کا نصب العین تھا یا پھر پیسے کو ایسے معاملات پر خرچ کرنا پسند کرتے تھے جس سے ان کا نام ہو۔
ساس نے چند دن تو طوبیٰ سے تمام زیور لے کر لاکر میں رکھوادیئے۔کہا کہ بیٹی گھر میں رکھنے سے چوری کا خطرہ رہتا ہے۔جب کہیں جانا ہو گا۔تقریبات کے وقت نکال لیا کریں گیااور،بعد میں لاکر میں رکھ دیں گے۔ان کو گھر میں نہیں رکھنا ہے۔یہ محفوظ نہ رہیں گے۔

جو کھاا یہاں بناتا جاتا اس سے اچھی خوراک تو طوبیٰ کو اپنے گھر میں میسر تھی۔یہاں گوشت پلاؤ،وغیرہ تو کبھی کبھار کسی خاص موقع پر پکایا جاتا تھا۔ورنہ آلو،دال۔یا پھر چٹنی اچار سے کام چلتا۔ساس کہتی۔زیادہ پکوان سے کچن میں کسی قدر پھیلاوا رہتا ہے۔کون سمیٹے اور صفائی کرے روز،روز نوکرانیوں کے نخرے اٹھانے پڑتے ہیں وہ نقصان الگ کرتی ہیں۔اور ملازمہ کی تنخواہ بچتی ہے۔ان کی باتیں اچھی لگی تھیں۔طوبیٰ کو اس قدر کفایت شعاری کی عادت نہ تھی،جبکہ اللہ نے اتنا دیا ہے تو ایک ملازمہ رکھنے میں کیا ہرج تھا،کام کاج میں کسی کی معاون تو ضرورت رہتی ہے۔جبکہ گھر بھی بڑا ہو۔مگر ساس نے باریاں لگا دیں کہ ایک روز اس کی لڑکی کام کریں گی اور ایک دن دلہن کرے گی۔ہاں ڈرائیور،مالی،سوداسلف،لانے والا ملازم جو گھر کے کچھ اور کام کر دیتا تھا ان کو رکھا ہوا تھا۔چوکیدار بھی موجود تھا۔لیکن طوبیٰ کو ملازمہ کی سہولت نہ دی گئی۔طوبیٰ کہتی جو لوگ خود اچھا نہ کھاتے ہوں وہ بہو کو کیا کھلائیں گے۔وہ سو کھ کر کانٹا ہو گئی۔رنگت کالی پڑنے لگی۔وہ اس کو جیب خرچ کیلئے پھوٹی کوڑی نہ دیتے تھے۔نہ ہی کپڑے اس کی پسند کے بنتے تھے اور نہ کھانا ڈھنگ کا پکتا،تھا کہیں جانا ہوتا میلوں پیدل چلتے،گاڑیوں گیراج میں بند رکھتے تاکہ پیٹرول کا خرچہ کم سے کم ہو۔

اب طوبیٰ کو پتا چلا کہ محبت کیا چیز ہوتی ہے۔تایا،تائی کی محبت ٹھکرا کر خود کو وہ اب خالی دام محسوس کرتی تھی۔اب اپنے خاندان کے افراد یاد،آتے جو روز فروٹ اور دوسری پسند کی اشیاء تھیلے بھر بھر کر لاتےتھے۔طوبیٰ جب آتی مجھ سے گلے لگ کر رونے لگتی۔شوہر کا تو پتا نہیں لیکن روپیہ بے شمار آتا ہے۔جس سے اس گھر والے پلاٹ خریدتے جاتے ہیں۔ان کو پلاٹ خریدنے کی ہوس ہے کہ روپیہ اکھٹا کرنے کی چاہ میں چٹنی سے روکھی سوکھی کھا کر سو جاتے ہیں مگر زمین خریدنے کی چاہت کم نہیں ہوتی۔ایسی زمین خریدنے کا کیا فائدہ؟نہ اچھا کھا سکتے ہیں اور نہ کہیں تفریح پر آجاسکتے ہیں۔پائی پائی بچا کر روپے جوڑتے رہتے ہیں۔میں تو فروٹ کی شکل کو ترس گئی ہوں۔یہ لوگ اتنے کنجوس اور،زرپرست ہیں کہ مجھ ہی کو نہیں خود بھی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کیلئے ترساتے رہتے ہیں۔جب کبھی اس کا شوہر دبئی سے آتا اس کیلئے تحفہ نہ لاتا۔
دو،چاردن ساتھ گزار کر واپس چلا جاتا۔اس نے ایک بار بھی اسے کہیں کی سیر نہ کرائی۔اب طوبیٰ دعا کرتی۔اے کاش یہ دولت نہ رہے۔اور محبت مل جائے۔مگر محبت نصیب سے ملتی ہے مانگے سے نہیں۔اپنے نصیب کو اس نے خود تھکرایا تھا۔

اس کی شادی کے پانچ برس بعد طوبی کے والد کی وفات ہوگئی۔ان کی میت کو دفنائے آبائی گاؤں لے گئے۔اس کے لہلہاتے کھیت،سونا اگلتے تھے۔اور اس کا مکان علاقے کا سب سے اونچا مکان تھا۔وہاں کسی شی کی کمی نہ تھی۔بلکہ اتنی رزق کی فراوانی تھی کہ وہ لوگ خود ہی نہیں اور بہت سے ضرورت مندوں کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے۔صرف اللہ کی رضا کیلئے۔وہاں کنجوسی کو کفر اور سخاوت کو عجز مانا جاتا تھا،اور ضرورت مندوں کے در پر آنے کو اللہ کی رحمت سمجھا جاتا تھا۔یہ رحمت ہرسو،ان کے گھر میں نظر آتی تھی۔

جب وہ گاؤں سے لوٹی اس نے کہا۔شانو تم ٹھیک کہتی تھیں،میرے لئے تایا ابو کے گھر سے بہتر کوئی نہ تھا۔لیکن میں نے اس وقت چھوٹی چچی کی باتوں میں آکر بھرے تھال کو ٹھوکر ماردی۔مجھے سمجھ ہی نہ تھی کہجس پر تعیش زندگی کے خواب دیکھ کر میں نے امیر گھر کا رشتہ قبول کیا،وہ مجھے نہ ملی۔آج میں ایک امیر شحض کی بیوی ہو کر بھی کتنی غریب ہوں کہ میرا دامن دولت سے ہی نہیں محبت سے بھی خالی ہے۔اور عامر کی بیوی ایسی زندگی بسر کر رہی ہے کہ جس کا میں نے کبھی خواب دیکھا تھا۔اے کاش وقت ایک بار پلٹ سکتا اور میں پھر سے اپنے ماضی میں لوٹ سکتی۔

Na Kardah Gunah Ki Saza | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Na Kardah Gunah Ki Saza | Teen Auratien Teen Kahaniyan

سچ ہے کالج کی زندگی بہت پرکشش اور یادگار ہوتی ہے۔ اسی بہترین دور کی میری ساتھی شاہینہ تھی۔ جو اپنی نادانی کے ہاتھوں زندگی کی خوشیاں گنوا بیٹھی۔ شاہینہ بہت ذہین لڑکی تھی۔ اسے خالق نے حسن کی دولت بھی عطا کی جو سے ساری کلاس میں منفرد بناتی تھی۔ اس کا اپنا الگ […]

0 comments
Hue Tum Jiss Kay Dost Teen Auratien Teen Kahaniyan

Hue Tum Jiss Kay Dost Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents کچھ دنوں سے منصب بھائی پریشان سے دکھتے تھے۔ وہ ایف ایس سی فرسٹ ایئر کا امتحان دے چکے تھے اور سیکنڈ ایئر شروع ہونے سے پہلے چند روز کی چھٹیاں ملی تھیں۔ امی کو فکر ہوئی کہ پرچے تو ہو چکے، صاحبزادے اب کیوں پریشان ہیں۔ شاید رزلٹ کی فکر ہے […]

0 comments
Sunehrey Khawaboun Ki Chahat Main Teen Auratien Teen Kahaniyan

Sunehrey Khawaboun Ki Chahat Main Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents ہمارے گائوں میں جب فصل کٹ جاتی اور اناج کے ڈھیر کھیتوں میں چمکنے لگتے، کسانوں کی آنکھوں میں بھی چمک آجاتی۔ سال بھر کا اناج گھروں میں ذخیره کرلیا جاتا، تبھی میلے کا موسم آجاتا۔ اس بار بھی میلہ سج گیا۔ گائوں کی دوسری لڑکیوں کے ساتھ میں بھی میلہ دیکھنے […]

0 comments
Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen Kahaniyan

Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen KahaniyanKash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen KahaniyanComplete storyہمارے گائوں میں جب فصل کٹ جاتی اور اناج کے ڈھیر کھیتوں میں چمکنے لگتے، کسانوں کی آنکھوں میں بھی چمک آجاتی۔ سال بھر کا اناج گھروں میں ذخیره کرلیا جاتا، تبھی میلے کا موسم آجاتا۔ اس بار بھی میلہ سج گیا۔ گائوں کی […]

0 comments
Woh Hadsa Bhoolta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan

Woh Hadsa Bhoolta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents ایک دن میں اپنی دوست منورہ کے گھر گئی تو اس کی ملازمہ شاداں کو روتے دیکھا۔ پوچھا۔ اس کو کیا ہوا ہے؟ منوره نے بتایا۔ اس کا خاوند بہت بیمار ہے تبھی بیچاری پریشان ہے۔ وہ تو اچھا خاصا تندرست تھا اور ان کے حالات بھی ٹھیک تھے تو کیونکر بیمار […]

0 comments

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments