Sabr Ka Samar Mila Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Sabr Ka Samar Mila Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Table of Contents

ایک روز کلینک میں مریضوں کو دیکھ رہی تھی کہ ایک خوبصورت معصوم سی لڑکی۔۔بوڑھی عورت کے ساتھ آئی۔اور اپنی بار ی کا انتظار کرنے لگی۔کچھ دیر بعد جب میں نے اس کو طلب کیا اور ،مرض کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگی ۔ڈاکٹر صاحبہ میں بیمار نہیں ہوں بس کمزوری ہے۔مجھے طاقت کے انجکشن لگوانے ہیں۔اس کی بات سن کر میں حیران ہو گئی تھی،تبھی اس کے ساتھ آئی بوڑھی عورت نے کہا ۔ڈاکٹر صاحبہ یہ میری بیٹی ہے۔سولہ برس میں اس کی شادی ہوئی اور پانچ برس گزر چکے ہیں۔ابھی تک اولاد نہیں ہے۔اس لئےیہ طاقت کی دوا ،لینے آئی ہے۔اولاد نہ ہونے سے متعلق اس سے چند ضروری سوالات کئے اور پوچھا ،کیا تمہارے پاس سابقہ ٹیسٹ رپورٹس ہیں؟

اس نے فائل آگے کر دی اور بولی۔جی وہ سب رپورٹیں ساتھ لائی ہوں۔میں نے رپورٹیں دیکھیں۔تمام صحیح تھیں۔اس کا چیک آپ کیا،سب کچھ نارمل تھا۔ہر شے ٹھیک ہے۔کچھ انتظار کرو۔اللہ نے چاہا تو ،اولاد بھی ہو جائے گی۔کہنے لگی،ڈاکٹر صاحبہ آپ بس مجھے طاقت کے انجکشن لگا دیں۔تم بالکل صحت مند ہو،اس لئے انجکشن کی ضرورت نہیں ہے،ٹینشن مت لو بس اچھا کھاؤ ،پیو۔اور خوش رہو۔۔۔

اس کا نام صبیحہ تھا۔افسردگی سے مجھے دیکھا۔کہنے لگی ڈاکٹر صاحبہ بہت پریشان ہوں کیسے نہ ٹینشن لوں۔جب کسی ڈاکٹر کے پاس گئی۔انہوں نے یہی کہا کہ طاقت کے انجکشن لو۔تمہیں کمزوری ہے۔ٹھیک ہو جائوگی۔کمزوری دور ہوگی۔تو ،اولادبھی ہو جائے گی۔عجب بات ہے۔بہر حال تمہاری تسلی کیلئے میں تم کو طاقت کی دوا ۔دیئےدیتی ہوں۔میں نے اس کو کچھ وٹامن وغیرہ لکھ کر دیئے۔کچھ دن بعد دوبارہ آگئی۔اور طاقت کے انجکشن کیلئے اصرار کیا۔جبکہ اس کی صحت قابل رشک تھی۔اس کو کچھ ٹیسٹ لکھ کر دیئے اور ہدایت کی کہ یہ ٹیسٹ کرانے کے بعد رپورٹ دیکھ کر پھر دوا ،دوں گی۔

ہفتہ بعد وہ ٹیسٹ کی رپورٹس لے آئی۔سب کچھ ٹھیک تھا۔بظاہر کمزوری نہ تھی۔اور کسی قسم کی بیماری بھی نہ تھی،ایک بار پھر سے سمجھایا ۔بی بی  تم کو ،کوئی بیاری نہیں ہے۔خواہ مخواہ ،دوا ،استعمال کرنا صحت کیلئے مضر ہوتاہے۔لیکن وہ میری بات نظر انداز کر کے حسب معول اسپتال چلی آئی۔آخر کار میں نے دوا دینے سے انکار کر دیا ۔اور کہا کہ اب بغیر وجہ کی فیس دینے ادھر مت آنا۔کسی اور ڈاکٹر کے پاس چلی جانا۔میں کسی کو خواہ مخواہ کی دوائیں نہیں دیتی۔تم کو معلوم ہونا چاہئے۔بلاوجہ دوا لینا صحت کیلئے مضر ہے۔میری بات سن کر صبیحہ مایوس ہو گئی ۔اور ،اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔تبھی اس کی ماں بولی ۔ڈاکٹر صاحبہ۔اگر یہ بیمار نہ ہوتی تو تم ہم یہاں آپ ،کے پاس کیوں آتے۔ہماری محلے دار عورت نے آپ کی بہت تعریف کی ہے۔تو آئے ہیں کہ آپ قابل لیڈی ڈاکٹر ہیں۔اور آپ کے ہاتھ میں اللہ نے شفا دی ہے۔ہم بھی اس یقن کے ساتھ آئے تھے مگر آپ ڈاکٹر لوگ نجانے توجہ کیوں نہیں دیتے ۔بی بی ،ڈاکٹر بیمار پر ضرور توجہ دیتا ہے۔جو بیمار نہ ہوتو،اسے بلاوجہ دوا دینا بیکار ہوتا ہے۔یہ کہہ کر جب میں نے صبیحہ کی طرف نظر کی۔وہ باقاعدہ رو ،رہی تھی۔اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔مجھے خفت سی ہوئی کہ میری بات سے اس کو ٹھیس پہنچی تھی۔تب میں نے ہمدری سے پوچھا۔صبیحہ سچ بتاؤ۔تمہارے رونے کی وجہ کیا ہے۔کیونکہ تم میں جسمانی طور پر نقص نہیں ہے اور نہ کوئی بیماری ظاہر ہوئی ہے۔اب اصل بات بتادو۔تاکہ میں تمہارا مناسب علاج کر سکوں۔وہ بول نہ پا رہی تھی۔اور ،روتی جارہی تھی۔جبکہ اس کا رونا مجھے تردد میں ڈال رہا تھا۔تبھی میں نے اس کی ماں سے مخاطب ہوئی۔ایسا کریں آپ ان کو سول اسپتال میں پروفیسرعزیزہ کو دکھا دیں۔میں پرچہ لکھ دیتی ہوں۔

ان کو دکھا چکی ہوں ڈاکٹر صاحبہ ہم نے کوئی ڈاکٹر ،پیر،فقیر ، تک نہیں چھوڑا ۔اب آپ کے پاس آئے ہیں۔اماں اولاد اللہ کی دین ہے۔ہونا ہوگئی۔ہو جائے گی۔تمہاری لڑکی کو آخر کس بات کا ڈر ہے۔آپ سمجھدار ہیں۔ڈاکٹر صاحبہ اولاد نہ ہوگی تو اس پر سوتن پڑ جائے گی۔اچھا تو یہ بات ہے۔

صبیحہ تبھی تم پریشان ہو؟ صرف یہی نہیں ۔مجھے طاق بھی ہو سکتی ہے۔اسی لئے علاج کیلئے بھٹک رہی ہوں۔ہزاروں روپے خرچ کر دیئے ہیں۔جہاں جاتی ہوں ڈاکٹر کہہ دیتی ہے کہ جسمانی کمزوری ہے۔اسی وجہ سے تم کو اولاد نہیں ہوتی ۔اسی لئے طاقت کے انجکشن لیتی ہوں۔کیا تمہارا خاوند اور ،سسرال والے پڑھے لکھے لوگ ہیں؟میں نے سوال کیا۔جی نہیں ڈاکٹر صاحبہ۔وہ اَن پڑھ ہیں لیکن میں نے بارہ جماعتیں پاس کی ہیں۔شوہر کہاں ہے۔اسی شہرہ میں ہے۔وہ عرن امارت میں ہے۔سال میں ڈیڑھ ماہ کی چھٹی پر آتا ہے۔میری اصل پریشانی یہ ہے۔کہ ساس اب میرے شوہر کی دوسری شادی کرانا چاہتی ہے۔اس کے سارے رشتے دار میرے خاوند کی اکسا رہے ہیں۔کہ تم اور شادی کرلو۔اس عورت سے اولاد نہیں ہو گی۔بیکار وقت ضائع نہ کرو۔خاوند تو کچھ دن رہ کر چلا جاتا ہے اس کے پیچھے ساس،نندیں ،مجھے ذہنی اذیت ،دیتی ہیں۔تاکہ میں جود طلاق لے لوں۔یا گھر چھوڑ کر چلی جائوں۔

مجھے صبیحہ کی بات سن کر افسوس ہوا۔میں نے پوچھا اب تمہارا شوہرکب لوٹے گا؟ پندرہ ،روز میں آنے والا ہے۔اچھا تو اس کو میرے پاس لے کر آنا۔میں اس کو سمجھائوں گی۔شاید اس میں کوئی خرابی ہو یا اس کو علاج کی ضرورت ہو۔باہر،دیگر مریض خواتین انتظار کر رہی تھیں۔لہذا میں نے ان کو کہا کہ آپ لوگ پندرہ روزبعد آجانا۔جب صبیحہ کا شوہر آجائے۔وہ بوجھل دل کے ساتھ چلی گئی۔میرا دل بھی بوجھل ہو گیا۔کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ صبیحہ کے دکھ کا میرے پاس کوئی علاج نہیں ہے۔

تین ہفتوں بعد یہ ماں بیٹی دوبارہ آگیئں۔صبیحہ کے چہرے پر آج بھی ملال اور ،اداسی پھیلی ہوئی تھی۔وہ مجھ سے کافی پہلے آچکی تھی۔لہذا سب سے پہلے ان ہی کی باری تھی۔میں نے فورا ،اندر بلا لیا۔پوچھا ،صبیحہ کیسی ہو؟کیا تمہارا شوہر آگیا ہے۔بولی آگیا ہے،لیکن اس نے آپ کے کلینک آنے سے انکار کر دیا ہے۔کہتا ہے تمہاری لیڈی ڈاکٹر مجھے کیوں بلا رہی ہے؟صبیحہ بی بی اس لئے کہ ضروری نہیں فقط عورت ہی بانجھ ہو۔نقص مرد میں بھی ہو سکتا ہے۔اس سلسلے میں شوہر کو بھی علاج کروانا چاہئے۔اگر وہ تمہارے ساتھ نہیں آتا تو ،کسی دن اس کو میرے پاس بھیج دو تاکہ اس کو پوری بات سمجھا دوں۔جب تم دونوں کی پوری ہسٹری میرے پاس ہوگی تو ہی معقول مشورہ دے سکوں گی۔اس مقصد کیلئے دونوں کا میڈیکل ٹیسٹ ضروری ہوتا ہے۔ڈاکٹر صاحبہ ۔میرا شوہر اَن پڑھ دیہاتی ہے۔اول تو وہ آپ کے پاس نہیں آئے گا۔آیا بھی تو آپ کی باتیں اس پر اثر نہ کریں گی۔اس طرح کی باتیں ہمارے خیرخواہ رشتے دار بھی سمجھاتے ہیں تو وہ،سیخ پا ہو جاتا ہے۔میں نے کہا ۔بی بی ،مکمل علاج بس یہی ایک صورت ہے۔صحیع رہنمانی میرا فرض تھا۔سو تم کو بتا دیا۔آگے تمہارا اپنا مسئلہ ہے۔وہ ایک بار پھر سے مایو سی سے رو، دی اور وہ ،جاتے ہوئے بولی۔میں ایک بے بس عورت کیا کر سکتی ہوں۔میں تو خاوند کے پیار کے دو بولوں کو ترس رہی ہوں۔وہ کیا میری بات مانے گا اور کیا مسئلہ حل کرے گا۔یہ کہتے ہوئے۔آنسو پوچھتے ہوئے چلی گئی۔

روز بیسیوں مریض دیکھتی تھی۔لیکن اس عورت میں نجانے کیا بات تھی کہ اس کیلئے دل سے دکھ محسوس کیا تھا۔سوچ رہی تھی کہ جہالت کے سبب ہمارے وطن میں کتنے اندھیروں نے پنجے گاڑھے ہوئے ہیں۔انسان اگر خود عقل سے نے گانہ ہو جائےتو ،دوسرا کوئی اس کیلئے کیا کر سکتا ہے۔

لاعلمی بھی تو آدمی کو مایوسی کے اندھے کنویں میں گرا دیتی ہے۔صبیحہ کا انجام بھی بالآخر یہی ہوگا۔اس کا شوہر دوسری شادی کر لے گا۔اور وہ لوگ بھی اس کی زندگی اجیرن کریں گے یا پھر نوبت طلاق پر پہنچ جائے گی۔اور یہ خوشی کاسورج پھر کبھی نہ دیکھ سکے گی۔نجانے ایسی معصوم لڑکیوں کا کیا قصور ہے جو برسوں سے جہالت کی چکی میں پستی آرہی ہیں۔

ابھی انہی سوچوں میں گم تھی کہ نرس نے اندر آکر بتایا کہ یہ ماں ،بیٹی ابھی گئی نہیں ہیں بلکہ انتظار گاہ میں پڑی کرسیوں پر بیٹھی ہوئی ہیں ۔شاید صبیحہ اپنے آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوئوں کے تھم جانے کا انتظار کر رہی تھی۔تبھی کلینک سے باہر نہ گئی تھی۔میں نے نرس سے کہا۔ان کو اند بھیجو ۔دونوں دوبارہ آگئیں۔دیکھو بی بی حوصلہ رکھو اور،اللہ سے دعا کرو۔میں کچھ انجکشن لکھ کر دے رہی ہوں۔کچھ دن لگوا لو۔یہ طاقت کیلئے ہیں ۔اللہ بہتر کرے گا۔

نسخہ ہاتھ میں لےکر اس کی کچھ تسلی ہو گئی۔میں نے سوچا کچھ دن اس کا عارضی علاج جار ی رکھنا چاہئے۔وہ چند دن بعد کلینک آئی رہی اور انجکشن لگواتی رہی پھر ایک روز ایسا ہوا کہ اس نے اسپتال آنا بند کر دیں۔میں نے نرس سے پوچھا ۔کیا صبیحہ پھر نہیں آئی۔سسٹر کہنے لگی ۔ڈاکٹر صاحبہ آخری انجکشن لگوانے آئی تھی اس کے بعد اس کی ماں آئی تھی۔اس نے بتایا کہ صبیحہ کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی ہے اور وہ صدمے سے بیمار پڑگئی ہے۔اسے کسی اور اسپتال لے جا رہے تھے۔

کچھ دنوں بعد نرس کو پتا چلا کہ صبیحہ کے شوہر نے دوسری شادی کر لی ہے۔شاید بوڑھی عورت نے اس کے ساتھ رابطہ رکھا ہوا تھا۔نرس کئی بار صبیحہ کے گھر اس کو انجکشن لگانے بھی جاتی رہی تھی۔اس اطلاع سے مجھے دکھ ہوا۔صبیحہ کا چہرہ میری نظروں میں گھوم گیا۔جس پر ہر دخوف کے سائے رہا کرتے تھے۔بالآخر اس کا خوف حقیقت کا روپ دھا ر چکا تھا۔

کچھ عرصہ بعد اس کی یاد ذہن سے محو ہوگئی۔مریضوں کے جھرمٹ میں میری زندگی کے لیل و نہار اسی طرح گزرتے جارہے تھے۔اس ایک لڑکی جیسی اور بھی کئی لڑکیاں آتی جاتی رہیں۔جن کی یہی ٹریجڈی تھی۔ڈاکٹر بھلاکس کس کو یاد رکھتے ہیں۔

اس واقعے کے دو سال بعد ایک روز میں کلینک پر بیٹھی تھی کہ سسڑ  نے بتایا کہ شفیق نامی نوجوان آپ سے ملنا چاہتا ہے۔خود کو صبیحہ کا شوہر بتاتا ہے۔کون صبیحہ ۔۔۔؟ آپ بھول گئیں۔وہی جو اولاد کیلئے طاقت کے انجکشن لگانے آتی تھی اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ۔اچھا اچھا ٹھیک ہے۔مجھے یاد آگئی۔وہ اندر لے آؤ۔اس کے شوہر کو،تھوڑی دیر کے بعد ایک نوجوان ،خوش شکل اور مہذب سا کمرے میں آیا۔یہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں ،سسٹر نے تعارف کروایا۔

شفیق صاحب ۔آپ مسئلہ بتایئے۔بولا میری بیوی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔وہ گاڑی میں بیٹھی ہے۔ایمرجنسی ہے۔اچھا ٹھیک ہے۔لیبر روم کھول دو۔میں نے سسٹر سے کہا۔آپ بیوی کو سہارا دے کر اند ر لے آیئے۔سسٹر وہیل چیئر کے پاس لے گئی۔اس نے شفیق کے ساتھ مل کر صبیحہ کو گاڑی سے اتار ،اور لیبر روم گئی۔مجھے دیکھ کر اس کا چہرے پر ایک ملکوتی مسکراہت پھیل گئی۔میں نے خوش ہو کر کہا ۔اللہ نے اولاد کی نعمت بھی دے دی ہے۔دیکھو اب تم ماں بننے جارہی ہو۔کتنی مایوس تھیں تب تم۔۔۔۔۔

اس نے ایک خو بصورت بیٹے کو جنم دیا۔اگلے روز جب اس کی حالت سنبھلی ۔اس نے بتایا کہ پہلے شوہر نے طلاق دے دی تھی۔اس نے دوسری شادی اولاد کیلئے کی مگر اس کو اولاد پھر بھی نہ ہوئی۔مگر اللہ نے مجھ پر کرم کیا،میں دوسری شادی نہ کرنا چاہتی تھی۔ماں نے مجبور کر دیا۔اور میری دوسری شادی کرادی۔اور ،اللہ نے مجھے شادی کے بعد ہی اولاد کی خوشی دے دی۔یہ اللہ کے کرشمے ہیں ۔ڈاکٹر صاحبہ میرے نصیب میں دوسری شادی لکھی تھی کیونکہ میرے مقدر میں اولاد تھی۔تبھی طلاق کا دکھ ملاتھا۔اور تب میں رو ،رو کر نڈھال تھی۔کہتے ہیں نا کہ ہر دکھ کے بعد خوشی ملتی ہے۔اب میں بہت خوش ہوں۔یہ شوہر بہت اچھے ہیں پڑھے لکھے بھی ہیں۔

صبیحہ واقعی بہت خوش تھی کیوں نہ ہوتی اس کی روح کو اچھے جیون ساتھی اور بیٹے کی پیدائش سے قرار جو مل گیا تھا۔وہ صاحب اولاد ہو چکی تھی۔مگر اس کا سابقہ شوہر ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *