Saadgi Kay Khaasarey | Teen Auratien Teen Kahaniyan in urdu 2021

Aik Jhalak Nay loota | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents

سادگی کے خَسارے

میری آپا بہت سیدھی سادی اور معصوم تھیں۔وہ فیشن کرنا نہیں جانتی تھی۔کس کر چوٹی گوندھ کے اپنے چہرہ طباق سا بنالیتیں۔کپڑے مردہ رنگوں کے ،دوپٹہ چادر کی طرح سر منہ لپیٹ لیتیں۔
ہم سب بہنوں نے آپا کو ملازمت کرنے سے روکا کہ تم گھر سنبھالو ،بیمار ماں کا خیال رکھو ہم ملازمت ڈھونڈتی ہیں۔مگر انہوں نے بات نہ مانی کہا کہ بڑی میں ہوئی یہ ذمہ داری ہے کہ تم لوگوں کیلئے کماؤں اور گھر کا بوجھ اُٹھاؤں۔تم گھر بیٹھواور مجھے ملازمت کرنے دو۔
انہی دنوں اُن کا ،بی اے ، کا رزلٹ آیا تو ملازمت کی تلاش اور انٹرویو کے چکر شروع ہوگئے۔جہاں انٹرویو دینے جاتیں،عجیب سا حلیہ بنا لیتیں۔اور ناکام لوٹتیں۔وہ نئے دور کے تقاضوں کو سمجھتی ہی نہ تھیں-تبھی ہم کہتے آپا بڑی ماڈرن کمپنیوں میں انٹرویو میں کامیابی تمہارے بس کا کام نہیں ہے۔تم ذرا بھی چالاک نہیں ہو۔اور یہاں چالاک و چرب زبان لوگوں کا ہی کام ہے۔آپا کی سہیلیاں ،ملازمت کر رہی تھی۔وہ بھی کہتیں خولہ بی بی تم میں وہ ہوشیاری نہیں ہے جو آج کل ملازمت کیلئے چاہئے ہوتی ہے۔بھلا تم ایسی دقیانوسی کو کون نوکری دے گا۔آرام سے گھر بیٹھو اور تانیہ کو قسمت آزمائی کرنے دومگر انہوں نے بات ماننے کی نجائے برا منایا۔
انسان اپنے رب سے مایوس نہ ہو توکبھی وہ اپنی مراد پا ہی لیتا ہے۔جب اس تگ و ،دو سال بیت گیا۔کہ ایک روز انہوں نے گھر آکر یہ مژدہ سنایا کہ ان کو ملازمت مل گئی ہے۔جس شحص نے انٹرویو لیا تھا ۔وہ ان کی سادگی دوسرے لفظوں میں ہونگے پن سے متاثر ہوا تھا۔آپا کمپیوٹر سٹم سے بھی واقف نہیں تھیں۔پھر بھی باس نے ان کو پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر رکھا تھا اور تخواہ کافی معقول تھی۔جبکہ میری بہن اُس سیٹ کیلئے بالکل بھی موزوں نہ تھا،یوں بالآخر ہماری آپا اپنے سادی و معصوم حسن کی بدولت انٹرویو میں کامیاب ہو گئی تھیں۔
وہ خوش تھیں۔باس کا سلوک ان سے اچھا تھا ۔اختر صاحب کی تعریف کرتے نہیں تھکتی تھیں۔جب وہ تعریف کر چکتیں تو ان سے کہتی ۔آپا ہوشیار رہنا ۔مرد ذات بڑےبے اعتبار ہوتا ہے۔ان پر بھروسہ کتنا ۔وہ میری بات کا برا مناتیں۔اور کبھی میری جانب معصومیت سے تکنے لگتیں۔جیسے میں نے ان کو کوئی بہت بری بات کہہ دی ہو۔آپا اتنی سادہ لوح تھیں۔کہ اس شکاری کی چالوں کو نہ جانتی تھیں۔ان کی مہربابیوں پر خوش ہوتیں اور پھولے نہ سماتی تھیں۔میرا جی کرتا کہ ان کو آفس نہ جانے دوں۔ہر دم کوئی دھڑکا سا لگا رہتا تھا۔خدا جانے کیسا شخص ہے کمپنی کا مالک اور کیا نیت ہے اس کی ۔دل کسی آنے والے سانحے کی جیسے پیشگی خبر دیتا تھا۔وہی ہوا جس کا ڈر تھا،اس گھاگ شکاری نے بالآخر میری بہن کو اپنے جال میں پھنسا ہی لیا۔وہ چوبیس کے سن کےایک خوبصورت دوشیزہ تھیں۔مگر چہرے پر معصومیت بچوں ایسی تھی۔جو ان کے رنگ روپ میں نوُر سا چھلکائے رکھتی تھی۔ اور اسی نوُر بھرے روپ ہی ان کے مکھڑے پر بلا کی کشش تھی۔
اختر ملک نے ایک پوش علاقے میں خوبصورت فلیٹ لے رکھا تھا اور،اس فلیٹ کو وہ اپنی تعیش بھری زندگی کا سائبان سمجھتا تھا۔اس کو بخوبی معلوم تھا ہمارے سر سے بھئ سائبان اٹھ چکا ہے۔ابو کے انتقال کے بعد کنبے کا کوئی کفیل نہ رہا تھا۔تبھی آپا کو گھر سے مجبور ا پہلی بار قدم نکالنے پڑے تھے۔اختر صاحب اپنے دوستوں کے ساتھ فلیٹ میں پر تعیش محفلیں منعقد کیا کرتے تھے۔یہاں مے نوشی اور وہ سب کچھ ہوتا تھا جو ایک عیاش آدمی کر سکتا ہے۔
ایک روز کوئی فائل ڈھونڈنے کے بہانے وہ آپا کو اُسی فلیٹ میں لے گیا۔کہا کہ وہاں سارا بزنس کا ریکارڈ ہے ۔بہت اہم فائل ہے ،اُسسے ڈھونڈنے میں میری مدد کروگی۔اعتماد جمانے کو اپنے ایک کلرک کو بھی ساتھ لے لیا۔جس کو بعد میں کسی بہانے کھسکا دیا۔
بے خبر آپا جس کا واسطہ اس قسم کے غیرمردوں سے کبھی نہ پڑا تھا۔آنکھیں بند کر کے اپنے مہربان باس کے پیچھے چلتی ہوئی فلیٹ میں داخل ہو گئیں۔باس نے کہا کہ ہمارا کلرک کچھ کاغذات لے کر ابھی واپس آ رہا ہے ۔وہ بھی اس اہم فائل کو ڈھونڈنے میں ہماری مدد کرے گا۔
آپا کو اس نے ایک کمرے میں جانے کا اشارہ کیا اور خود واش روم چلا گیا۔جب وااپس لوٹا تو اس کی شکل بدلی ہوئی تھی اور، چہرے سے شرافت کا نقاب اُتر چکاتھا۔اب وہ انسان سے حیوان کا روپ دھار چھکاتھا۔غافل ہو کر اس فلیٹ میں داخل ہوئیں اور عمر بھر کا پچھتاوا ،دامن میں سمیٹ کر نکلیں ،جانے کیسے گھر آئیں۔غم سے نڈھال تھیں،کسی کو کچھ نہ بتایا کہ ان پر کیا قیامت گزر گئی ہے۔سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئیں۔اور ،دو گھنٹے تک باہر نہ نکلیں ۔کھانے کا بھی نہ کہا۔
امی اپنے کمرے میں بیمار پڑی تھی۔ان کو نہیں معلوم کہ خولہ آچکی ہے۔آپا کو کھانا میں ہی دیا کرتی تھی۔شام تک انہوں نے نہ مانگا۔میں ان کے کمرے میں گئی اور کھانے کا پوچھا ۔وہ بستر پر لیٹی چھت کو گھور ،رہی تھیں۔جیسے کوئی پتھر کی مورت ہوں۔رنگ اُڑا ہوا تھا۔اور آنکھیں ویران تھیں۔اُس رات انہوں نے کھانا بھی نہ کھایا نہ کمرے سے نکلیں۔صبع دفتر کی گاڑی لینے آئی تو وہ سو رہی تھی۔میں نے ڈرائیور کو یہ کہہ کر گاڑی واپس کر دی کہ اُن کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔لہذا آج وہ آفس نہ جائیں گی۔اس کے بعد بھی روز آفس کی گاڑی اُن کو لینے آتی مگر وہ نہ جاتیں۔ایک دن اختر صاحب خود آگئے۔میں نے دروازہ کھولا۔وہ گاڑی سے اُتر آئے ۔ان کو کبھی دیکھا نہ تھا پھر بھی پہچان لیا کہ حلیے بشرے سے لگتا تھا ہو نہ ہو یہی باس ہے۔انہوں نے آگے بڑھ کر تعارف کروایا۔میں نے کہا ٹھہریئے میں آپا کو خبر کرتی ہوں۔ان کو بتایا وہ بولیں۔تم اب اِدھر ہی رہومیں خود جا کر بات کرتی ہوں۔

وہ باہر گئیں دونوں میں چند منٹ بات ہوئی نہیں معلوم ذرا دیر ہی وہ ان کو ڈرائنگ روم میں لے گئیں۔مجھے کہا تانیہ چائے بنا دو ۔باس آئے ہیں۔چہرے پر ان کے کوئی جذبات نہ تھے۔لہجہ بھی سپاٹ تھا۔میں کچن میں چلی گئی۔والد مرحوم ہو چکے تھے اور بھائی اللہ نے دیا ہی نہ تھا۔یہ آپا کا مہمان تھا۔انہوں نے ہی میزبانی کرنا تھا۔چائے بناکر جب میں ڈرائنگ روم میں لائی تو اختر صاحب کچھ خجل سے اور آپا کا موڈ قدرتے درست تھا۔گویا ،دونوں میں کوئی سمجھوتہ ہو چکا تھا۔
اگلے دن سے آپا پھر سے دفتر جانے لگیں۔ایک ماہ بعد انہوں نے امی کو بتایا کہ ان کی کمپنی کا مالک ان سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔اُس کو گھر لا کر مجھ سے ملواؤ۔ماں نے جواب دیا ۔اگر ٹھیک آدمی ہے تو شادی تو کرنا ہی ہے۔تمہارے ماموں سے ملوادوں گی۔وہی اس اہم کام کو انجام دیں گے۔خیال رہے کہیں شادی شدہ نہ ہو۔
ماں ان درمیان میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے ۔نہیں بیٹی شادی بیاہ کے معاملات میں کسی اپنے کی سر پرستی ضروری ہوتی ہے۔مگر میری سیدھی سادی بہن اور ماں کی فرمانبردار بیٹی ہماری آپا کو نجانے کیا ہوگیا تھا کہ انہوں نے ماموں کی اس معاملے میں شمولیت کو صاف منع کر دیا تھا۔ماں کی خفگی کی بھی پروانہ کی ۔جیسے ان کی جان بن گئی ہو۔بغیر کسی کی پروا کئے اختر صاحب سے نکاح پڑھوا لیا۔ماں بچاری معذور بستر پر پڑی تھیں۔کیا کرتیں اور آپا،،،آختر صاحب کو گھر بھی لے آئیں ۔اماں سے ملوایا۔وہ حیران نظروں سے بس دونوں کو تکتی گئیں۔اور کرتی بھی کیا ،ہم چھوٹی بہنیں اب انہی دست نگر تھیں۔گھر کا چولہا ان کے دم سے جلتا تھا۔جب سے آپا کی ملازمت ہوئی تھی ۔ماموں نے ہماری امداد سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔اب اماں کو یہ بھی ڈر کہ اگر ان کے بھائی کو علم ہو گیا کہ خولہ کا نکاح ہو گیا ہے تو کس قدر برا منائیں گے کہ ان سے صلاح مشورہ تک نہ کیا۔اب جو بھی معاملات ہو رہے تھے۔ ہم خود اس سے بے خبر اور لا علم تھے۔آپا سے کوئی سوال کرتے وہ چپ ہو جاتیں۔اور خاطر خواہ جواب نہ دیتیں۔یہ وہی ہماری بہن تھی جس کو سبھی سیدھی سادی کہتے تھے۔انہوں نے منہ میں گھنگنیاں ڈال ،چپ ساھ رکھی تھی۔البتہ اب وہ بغیر رخصتی ہر جگہ اختر صاحب کے ساتھ آتی جاتی تھی۔
کچھ دنوں بعد آپا اختر صاحب کے فلیٹ میں منتقل ہوگئیں۔ہم کو ہر ماہ خرچہ بھجوادیا کرتیں۔کچھ عرصہ ایسے ہی گزر گیا۔وہ ،والدہ کو بھی ملنے نہ آتیں۔البتہ مجھے ایک دن انہوں نے ساتھ گھر چلنے کو کہا اور،فلیٹ میں لے گئیں۔
بتایا کہ جلد ہی تمہارا بھانجا یا بھانجی اس دنیا میں آنے والے ہیں۔تم کو کچھ دنوں کیلئے میرے پاس آکر رہنا پڑے گا۔کیونکہ اماں تو بیماری کے سبب آ نہ سکیں گی۔دو ماہ بعد انہوں نے مجھے بلوایا اور ایک مردہ بچی کو جنم دیا۔ان کی سار ی خوشی خاک میں مل گئی۔اس مرحلے کے بعد اختر صاحب ان کو پھر سے ہمارے گھر چھوڑ گئے۔اب جب ڈرائیور لینے آتا وہ چلی جاتیں۔ایک روز مجھے ڈرائیور سے بات کرنے کا موقع مل گیا۔پوچھا کہ تمہارے صاحب میری بہن کو گھر کیوں نہیں لے جاتے ؟اس نے کہا باجی کسی سے ذکر مت کرنا۔اپنے گھر میں تو ان کی بیوی اور بچے رہتے ہیں اور آپ کی آپا ان کی دوسری بیوی ہیں۔یہ شادی انہوں نے گھر والوں سے چھپ کر کی ہے۔تو ان کو کیسے وہاں لے جا سکتا ہے۔
یہ تو امی کو اور مجھے پہلے سے انداز تھا کہ اختر نے خولہ سے دوسری شادی کی ہے کیونکہ دونوں کی عمروں میں کم ازکم پندرہ برس کا تو فرق ہوگا۔اور رخصتی کے بغیر محض نکاح کر کے لے جانے کا مطلب صاف ظاہر تھا۔
رفتہ رفتہ اختر صاحب آپا سے کنارہ کرنے لگا۔وہ دنوں بعد آتے ،صبع ان کو لے جاتے شام کو واپس چھوڑ جاتے ۔آپا کہتیں میں تمہاری بیوی ہوں۔مجھے مستقل اپنے پاس رکھو۔یہ بات ہوئی کہ زمانے سے چھپاتے ہو کبھی میکے لا چھوڑتے ہو کبھی لے جاتا ہو،بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے۔یہ سردیوں کے د ن تھے۔ایک روز اختر صاحب ہمارے گھر کے دروازے پر آئے ۔گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہارن دیا۔آپا ،اس مدھتر آواز کو پہچاتی تھیں۔ان کے کان کھڑے ہو گئے۔دوڑ کر در پر پہنچیں۔اور ،اختر صاحب کے ساتھ چلی گئیں۔اگلے دن وہ نہ آئیں۔مگر اطلاع آگئی،کہ رات گیس کا ہیٹر کھلا رہ گیا ۔کمرے میں گیس بھر گئی۔اختر مغرب کے بعد واپس آنے کا کہہ کر گھر سے چلے گئے اور واپس نہ آسکے۔آدھی رات کے بعد لوڈشیٹنگ کے باعث جب گیس آنی بند ہوگئی تو ہیٹر بھی بجھ گیا،خدا جانے کب گیس دوبارہ آ گئی۔اور ہیٹر سے لیک ہوتی رہی حتی کہ کمرہ بھر گیا۔آپا نیند میں بیہوش ہو گئی ہلنے جلنے کے قابل نہ رہیں۔دم گھٹ جانے سے نجانے رات کو کون سے وقت موت کی آغوش میں چلی گئیں۔
جب اختر صاحب کے درائیور نے آکر یہ اندوہناک خبر بتائی تو ہمارے دلوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔حوصلہ نہ ہوتا تھا کہ امی جان کو بتاتے ،ان کی حالت تو دو،دن سے ویسے ہی کافی خراب تھی۔اس پر وہ آپا کی طرف سے فکر مند تھیں۔۔۔۔بڑی مشکل سے مین نے ان کو آگاہ کیا۔میری ماں کو تو ایسی چپ لگی ،جیسے سکتہ ہو گیا ہو۔ہم چار بہنیں آپا سے چھوٹی تھیں۔چاروں کی آہ و بکا سے گھر میں کہرام مچا تھا۔آپا کو آخری دیدار کیلئے لایا گیا۔اختر صاحب ساتھ آئے افسردہ تھے۔امی کے پاس تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر آپا کو تدفین کیلئے لے گئے۔
آپا کی موت دم گھٹ جانے کے سبب ہوئی تھی۔یہی بتانا گیا ،وہ جیسے فلیٹ میں اکیلی سوئیں۔ویسے ہی اکیلی دنیا چھوڑ کر چلی گئیں۔ان کے دنیا سے چلے جانے کا،اس قدر غم ہو کہ مہینوں کسی بہن کے لبوں پر مسکراہٹ نہ آئی۔لگتا تھا کہ آپا نہیں روٹھیں۔ہم سے زندگی کی ساری خوشیاں روٹھ گئی ہیں۔

آپا خولہ کی وفات کے بعد اختر صاحب نے ہمیں بے یار و مد د گار نہ چھوڑا۔وقتا فوقتا ،آتے اور خرچہ وغیرہ دے جاتے ،مجھے ان سے اب کچھ لینا گوارا نہ تھا۔مگر ہمارا ،اور کوئی ذریعہ آمدنی بھی نہ تھا۔ایک روز ان کے لبوں پر وہ بات آگئی جو میرے دل میں تھی،انہوں نے مجھے ملازمت کی پیش کش کر دی ۔جس کو میں نے فورا قبول کیا۔تاہم ان کے انداز سے میں منتظر تھی کہ وہ ایسا ایک دن ضرور کہیں گے۔
میں نے اختر صاحب سے کہا کہ آپ نے ملازمت کی پیش کش کر کے یہ اچھا کیا ہے۔کیونکہ آپا تو اب اس دنیا میں نہیں رہی ہیں۔ان کی جگہ مجھے گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں۔کیونکہ ہمارے حالات ہی ایسے ہیں اگر آپ مجھے نہ کہتے تو مجھے خود آپ سے درخواست کرنا پڑتی۔انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں ویسے ہی تمہارے گھر کے اخراجات اٹھانے کو تیار ہوں۔مگر شاید تمہاری غیرت یہ گوارا نہ کرے۔تاہم اگر تم نکاح کرنا چاہو تو میں تیار ہوں ۔مگر یہ معاملہ عمر بھر خفیہ رہے گا۔کہ شادی شدہ ہوں۔
آپ نے بالکل ٹھیک سوچا ہے۔میں نے کہا مگر میں آپا کی طرح سادہ لوح نہیں ہوں۔خفیہ شادی پر یقین نہیں رکھتی۔اس کے بعد خود کو ایڈونس ظاہر کیا ۔مردوں کے ساتھ بات چیت میرے لئے کو ئی مسئلہ نہ تھا۔بیوٹی پارلر سے بال بنواتی تھی۔ہلکا میک اپ اور شوخ رنگ کے کپڑے پہنتی تھی۔مگر اختر صاحب سے لئے دیئے رہتی تھی۔آپا ،دھوکے سے اختر صاحب کے فلیٹ میں چلی گئی تھیں۔اور خفیہ شادی کے خول میں بند کر چار دن خوشی کے چھپ چھپ کر جی سکیں۔میں ان جیسی نہ تھی۔دلیر تھی ،مردوں سے ساتھ گھومنا پھیرنا میرے لئے کوئی مسئلہ نہ تھا۔میر ے اس رویئے سے اختر صاحب کی ہمت نہ ہوئی کہ مجھ سے دوبارہ ایسی بات کہتے۔
ایک روز میں آفس میں بیٹھی تھی کہ ایک خوُبرو نوجوان آیا ۔یہ اختر صاحب کا بیٹا تھا جو میرا ہم عمر تھا۔بیرون ملک سے پڑھ کر آیا تھا۔اس نے مجھے دیکھا تو بس دیکھتا رہ گیا۔اس کے بعد وہ اکثر آفس آنے لگا۔مجھ سے بھی ہیلو ہائے کرنے لگا۔میں نے محسوس کیا کہ طارق مجھ سے باتیں کرتا اور،اختر صاحب دیکھ لیتے ۔وہ بے چینی محسوس کرتے نہیں چاہتے تھے کہ ان کو بیٹا مجھ سے راہ۔ورسم بڑھائےیا گھلے ملے۔تب میں سوچتی کہ خود انہوں نے کیسے میری بہن کو گھیرا تھا،دوسری بیوی بنایا ۔مگر کبھی کسی پر ظاہر نہ کیا کہ خولہ ان کی پرسنل سیکڑٹری نہیں بلکہ منکوحہ ہیں۔میری بہن بچاری چھپ چھپ کر ان کے ساتھ رفاقت کے دن گزارے تھے۔لیکن میں کبھی ایسی بے بسی کی زندگی کو قبول نہ کروں گی۔ایک روز طارق نے مجھے کہا اگر اجازت ہو تو آپ کے کمرے میں چند منٹ بیٹھ جاؤں۔آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔میں نے کہا کہ یہاں نہیں۔یہ آفس ہے مجھے تم سے باہر کسی تنہا جگہ بات کرنی ہے۔مجھے معلوم ہے کہ تم مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہو۔تاہم اپنی زبان سے اقرار کرو تو یہ اچھا ہے۔وہ بولا ،تب یہیں پر ہی تم سے مختصر الفاظ میں کہہ دیتا ہوں کہ مجھے تم سے شادی کرنی ہے۔اگر تم میری پیش کش قبول کر لو تو اسے اپنی خوش قسمتی سمجھوں گا،اور،آپ کے والد صاحب کا کیا ہوگا۔کیا وہ مان جائیں گے۔نہیں مائیں گے تو ہم اپنے طور پر نکاح کر لیں گے،کیا چھپ کر؟ایسا میں قبول نہیں کر سکتی ۔شادی کرنی ہے تو ببانگ دہل کرو۔ہر کسی کو بتاکر۔اپنے والدین کو بھی اور سارے زمانے کو شامل کرنا ہو گا۔تب ہی میں تمہاری دلہن بنوں گی۔
طارق سوچ میں پڑگیا۔سوچ لیں اچھی طرح میں نے کہا۔میں قدم پیچھے نہیں ہٹاؤں گی۔اگر تم دلیری سے قدم بڑھاؤ گے۔طارق نے اپنے والد کو کہا کہ وہ مجھے سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔انہوں نے بہت روکا۔مخالفت کی۔حالانکہ وہ خود آپا سے شادی کر چکے تھے۔مگر اب بیٹے کی مخالفت پر ڈٹ گئے۔مجھے بھی کہا کہ جس قدر،روپیہ چاہئے لے لو مگر طارق کو انکار کر دو۔کیونکہ میری بیوی اس رشتے پر راضی نہ ہو گی۔
میری بہن سے اس شرط پر نکاح کیا تھا آپ نے کہ ان کو کوئی رشتہ دار نکاح میں شامل نہ ہو گا۔اور کسی کو وہ بتائیں گی اور اب اپنے بیٹے کے معاملے میں اور طرح کا روپ دھار لیا ہے۔آپ نے ٹھیک ہے۔اگر آپ نہیں چاہتے تو میں نہیں کروں گی طارق سے شادی۔ آپ روک لیں اپنے صاحب زادے کو۔طارق مگر کب رکنے والا تھا ۔وہ ،اڑ گیا اور اپنی بات منوا کر دم لیا۔وہ باقاعدہ اپنے والدین کے ساتھ بارات لے کر آیا۔اور مجھ کو باعزت طریقے سے بیاہ کر لے گیا۔اس نے اپنی دلیری سے میری عزت کو دوچندکیا۔یو ں میں اختر صاحب کے گھر میں وہ توقیر پائی جو میری بہن کو نہ ملی ۔اور جس مقام کو وہ ترستی ہوئی اس جہان سے چلی گئیں۔اس کو میں نے پا لیا۔میں نے یہی تہیہ کیا تھا کہ اپنی آپا کا بدلہ اس شخص سے اسی طرح لوں گی۔کہ اسے بھی بتانا پڑے گا۔کسی کی بہو بیٹی کو بھی عزت ہوتی ہے۔خواہ ،وہ ضرورت مند اور غریب گھر کی کیوں نہ ہو۔جب عورت منکوحہ بنتی ہے تو اس کو مرد کا نام ہی نہیں ۔اس کامقام بھی ملتا چاہیے ۔ورنہ زمانہ اس کو مشکوک نظروں سے دیکھتا ہے ۔اور ،وہ ناعزت زندگی جینے کی خواہش میں اپنی توقیر کھو دیتی ہے۔
آج اختر صاحب اس دنیا میں نہیں ہیں اور ان کا سارا ، اثاثہ ،عزت، اور عیش و آرام طارق کو مل گیاہے۔آج میں اس بات پر فخر کرتی ہوں کہ میں طارق کی بیوی ہو ں اور ، سب مجھ کو رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ میں معاشرے میں کوئی مشکوک پرسن نہیں ہو ں اور یہ صرف میری جرات کی وجہ سے ہے۔اگر طارق میری بات نہ مانتے اور خفیہ نکاح پر اڑ جاتے تو میں آپا جیسا ٖفیصلہ کبھی نہ کرتی ۔میں طارق کو رد کر دیتی کیونکہ میرے نزدیک محبت ہی سب کچھ نہیں ہے۔عزت اور معاشرے میں مقام محبت سے بڑھ کر ہیں۔
(مسز طارق۔۔۔۔چورہٹہ)

Na Kardah Gunah Ki Saza | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Na Kardah Gunah Ki Saza | Teen Auratien Teen Kahaniyan

سچ ہے کالج کی زندگی بہت پرکشش اور یادگار ہوتی ہے۔ اسی بہترین دور کی میری ساتھی شاہینہ تھی۔ جو اپنی نادانی کے ہاتھوں زندگی کی خوشیاں گنوا بیٹھی۔ شاہینہ بہت ذہین لڑکی تھی۔ اسے خالق نے حسن کی دولت بھی عطا کی جو سے ساری کلاس میں منفرد بناتی تھی۔ اس کا اپنا الگ […]

0 comments
Hue Tum Jiss Kay Dost Teen Auratien Teen Kahaniyan

Hue Tum Jiss Kay Dost Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents کچھ دنوں سے منصب بھائی پریشان سے دکھتے تھے۔ وہ ایف ایس سی فرسٹ ایئر کا امتحان دے چکے تھے اور سیکنڈ ایئر شروع ہونے سے پہلے چند روز کی چھٹیاں ملی تھیں۔ امی کو فکر ہوئی کہ پرچے تو ہو چکے، صاحبزادے اب کیوں پریشان ہیں۔ شاید رزلٹ کی فکر ہے […]

0 comments
Sunehrey Khawaboun Ki Chahat Main Teen Auratien Teen Kahaniyan

Sunehrey Khawaboun Ki Chahat Main Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents ہمارے گائوں میں جب فصل کٹ جاتی اور اناج کے ڈھیر کھیتوں میں چمکنے لگتے، کسانوں کی آنکھوں میں بھی چمک آجاتی۔ سال بھر کا اناج گھروں میں ذخیره کرلیا جاتا، تبھی میلے کا موسم آجاتا۔ اس بار بھی میلہ سج گیا۔ گائوں کی دوسری لڑکیوں کے ساتھ میں بھی میلہ دیکھنے […]

0 comments
Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen Kahaniyan

Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen KahaniyanKash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen KahaniyanComplete storyہمارے گائوں میں جب فصل کٹ جاتی اور اناج کے ڈھیر کھیتوں میں چمکنے لگتے، کسانوں کی آنکھوں میں بھی چمک آجاتی۔ سال بھر کا اناج گھروں میں ذخیره کرلیا جاتا، تبھی میلے کا موسم آجاتا۔ اس بار بھی میلہ سج گیا۔ گائوں کی […]

0 comments
Woh Hadsa Bhoolta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan

Woh Hadsa Bhoolta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents ایک دن میں اپنی دوست منورہ کے گھر گئی تو اس کی ملازمہ شاداں کو روتے دیکھا۔ پوچھا۔ اس کو کیا ہوا ہے؟ منوره نے بتایا۔ اس کا خاوند بہت بیمار ہے تبھی بیچاری پریشان ہے۔ وہ تو اچھا خاصا تندرست تھا اور ان کے حالات بھی ٹھیک تھے تو کیونکر بیمار […]

0 comments
Aik Jhalak Nay loota | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Aik Jhalak Nay loota | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents بڑے دنوں سے چاہ تھی کچھ دن کسی پر فضا مقام پر گزاریں اور ہم نے شمالی علاقہ جات جانے کا پروگرام بنا لیا۔ سیر کرتے ہوئے واپسی پر مری میں پڑائو ڈالا… ایک اچھے سے ہوٹل میں زندگی کے یہ یادگار گزارنے کا پروگرام بنا گیا۔ یوں میرے میاں نے ہوٹل […]

0 comments

urdu story,
urdu sories,
stories in urdu,
true stories in urdu,
complete novel,
urdu novels,
urdu ki kahanian,
kahanian in urdu,
urdu ki kahani,
sachhi kahanian,
true kahani,
true stories,
urdu story channel,
drama story in urdu,
top urdu stories,
best urdu stories,
top urdu novel,
best urdu novel,
3 aurtain 3 kahani,
yanFamous Stories ,
TEEN AURATIEN TEEN KAHANIYAN,
Teen Auratien Teen Kahaniyan,
TEEN AURATIEN TEEN KAHANIYAN KAHANIYAN,
Teen Auratien Teen Kahaniyan ,
latest story,
WEEKLY AKHBAR-E-JEHAN,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *