Qismat Achi Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021
Qismat Achi Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Table of Contents

قسمت اچھی تھی

شہربانو چودہ برس کی ہوئی توباپ نے اس کا گھر سے نکلنا بند کر دیا۔یوں وہ شیرے سے ملنے سے مجبور ہوگئی ۔شیرا ،اس کی خالہ کا بیٹا تھا۔بچپن ساتھ کھاتے دوڑتے گزرا۔اب وہ ایک دوسرے سے ملے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔تبھی بہانے بہانے سے شہربانو گھر سے باہر جانے لگی۔
ان کے گاؤں سے نہری پانی دور تھا،لہذا پانی کا انحصار اس کنویں پر تھا۔جو کافی پرانا تھا ،اور شیرے کے گھر کے قریب تھا۔شہربانو جب بھی کنویں سے پانی لینے جاتی وہ جان بوجھ کر اس طرف چل دیتی جدھر شیرا کھیتوں میں کام کر رہا ہوتا۔
ایک دن زمیندار کے منشی کا گزر ادھر کو ہوا۔اس نے دونوں کو باتیں کرتے دیکھ لیا۔منشی تبھی اللہ بخش کے پاس گیا اور،اس نے اسے کہا لالہ گاؤں میں سب تمہاری عزت کرتے ہیں۔میں تم کو خبردار کرنے آیا ہوں۔تیری بیٹی وسیم کے لڑکے شیرا سے زمیندار کے کھیتوں میں ملتی ہے۔اگر زمیندار بلند بخت کو پتا چل گیا تو تیری پگڑی اچھلنے میں دیر نہ لگے گی۔اپنی لڑکی کو روک لو کہ اس طرف نہ آیا کرے۔اب وہ بڑی ہو گئی ہے۔اگر کسی نے بلند بخت سے شکایت بھی کر دی تو پھر میرے پاس مت آنا۔
شہربانو کا باپ یہ باتیں سن کر گھبرا گیا۔کہنے لگا بھائی میں نے تو ۔شہربانو کے باہر جانے پر روک لگائی ۔اگر وہ نہ مانے تو تم ہی کہو کیا کروں۔برا نہ مانو ،تو کہتا ہوں ۔تمہاری بیٹی شادی کے لائق ہو گئی ہے میرا بیٹا شہر سے میٹرک کر کے آیا ہے اور، اس کی سرکاری نوکری زمیندار لگا کر دے رہے ہیں۔میرے رشید کا رشتہ قبول کر لو۔تیری بیٹی سکھی رہے گی۔میں زمیندار کے ٹیوب ویل سے تیرے چار ایکڑ کے رقبہ کو مفت پانی لگوا دیا کروں گا،ٹھیک ہے میرے بھائی مجھے تمہارے بیٹے کا رشتہ منظور ہے۔تو کل میں شام کو آؤں گا۔تم برادری کے دو ،چار آدمی بلوا لینا ۔شادی کی تاریخ رکھ لیں گے۔
بلندبخت کے منشی سے اللہ بخش کی بنتی تھی۔دونوں میں عرصے کا یارانہ تھا۔رشتہ طے ہوگیا اور شہربانو چاند کو نویں تاریخ کو دلہن بن کر منشی فیض کے گھر مین رخصت کر دی گئی۔گاؤں کی لڑکیاں مجبور ہوتی ہیں وہ اپنی قسمت کے فیصلے کرنے کی مجاز نہیں ہوتیں۔انکار کر دیں تو ان کی سنی نہیں جاتی جو باغی ہوں گھر سے بھاگ جائیں تو قتل کر دی جاتی ہیں۔روتی ہوئی شہربانو بھی ناچار بیاہ کر رشید کے ساتھ شہر آگئی۔
شادی سے دو ،دن پہلے خوش بختی اور زمیندار کی سفارش سے محکمے انہار میں اس کی نوکری کے آرڈر آگئے تو سبھی نے کہا کہ یہ دلہن بڑی بھاگوان ہے۔اس کے قدم برکت والے ہیں کہ دولہا نائب قاصد ہو گیا ہے۔لوگ تو شہربانو کو خوش قسمت کہہ رہے تھے لیکن وہ خوش قسمت تھی کہ بد قسمت یہ تو اس کا دل جابتا تھا جس پر قیامت گزر گئی تھی۔
وہ گاؤں کی کھلی فضا کی عادی تھی شہر کے تنگ وتاریک کوارٹر میں دم گھٹنے لگا ۔عمر بھی کم تھی کہ حالات سے سمجھوتا کرنے کی صلاحیت ہوتی ۔اس پر رشید بددماغ نوجوان تھا۔شکل و صورت سے بھی گیا گزرا تھا۔تبھی شہربانو کا دل اپنے دولہا سے برا رہنے لگا۔جب وہ کھاتے میں سو عیب نکالتا۔بات بات پر اس کو برا بھلا کہتا تو شیرے کی یاد کو بری طرح ستانے لگتی تھی۔وہ اس کا بچپن کا ساتھی تھا۔اس کو بھلانا ،آسان نہ تھا۔
صبع سویرے ناشتے کر کے رشید دفتر چلا جاتا اور ساس پڑوس میں نکلی جاتی۔تب شہوبانو اکیلی رہ جاتی۔یہاں اس کی کوئی ہم جولی تھی نہ کوئی دیکھ بانٹنے والا تھا جس کو وہ اپنے دل کا حال کہتی۔اسے پاس پڑوس میں آنے جانے کی اجازت نہ تھی۔اور نہ رشید کہیں گھمانے پھرانے لے جاتا تھا۔ایسے میں حالات میں بھلا ایک چودہ پندرہ بر س کی لڑکی کا کیسے دل لگتا۔وہ پریشان اور غمزدہ رہنے کگی۔جب وہ شوہر سے کہتی مجھے گاؤں جانا ہے۔تو اس کو ڈانٹ کر چپ کرادیتا۔تبھی گھٹ گھٹ کر آدھی رہ گئی۔اب اس کا ایک مشغلہ تھا ،جب شوہر ڈیوٹی پر چلا جاتا اورساس گھر کے کام کاج میں مصروف ہوتی وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر گلی میں جھانکتی رہتی اور ،وہاں سے گزرنے والوں کو بے مقصد تکتی رہتی۔اس طرح گلی کی چہل پہل سے اس کوخود اپنے زندہ ہونے کا احساس ہوتا تھا۔
ایسے ہی ایک دن وہ صحن کی جھاڑو لگا رہی تھی۔اس نے ایک شخص کو سنا ۔بندر کی ڈور ہاتھ میں تھامے ڈگڈگی بجاتاجا رہا تھا۔دوڑ کر وہ کھڑکی کی طرف گئی اور باہر جھانکنے لگی۔جب وہ مداری نزدیک آیا ۔شہربانو کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں یہ بندر والا کوئی مداری نہیں بلکہ اس کا خالہ زاد شیرو تھا۔شیرو کی نظر بھی شہربانو پڑگئی۔اس کی آنکھوں میں چمک در آئی ۔اور اس کی کھڑکی کے سامنے ہی زمین پر بیٹھ گیا اور ڈگڈگی بجانے لگا۔تھوڑی دیر میں محلے کے بہت سے بچے اس کے گرد اکٹھے ہو گئے اور بندر کا تماشا شروع ہوگیا۔
اس تماشے میں شہر بانو کا دل بلیوں اچھلنے لگا اور جب کھیل ختم ہوا۔بچے ادھر ادھر ہوگئے۔تواس نے کٹورا بھر آٹا کھڑکی سے بندر والے کو تھما دیا۔خیرات لیتے ہوئے شہربانو سے کہا۔تم کو کہاں کہاں نہیں ڈھونڈاہے۔دیکھوتمہاری خاطر مداری بن گیا ہوں۔وہ ششدر ۔رہ گئی۔اور اس کے لبوں سے سسکاری نکل گئی۔آنکھوں میں تو آنسو تھے۔مگر دل میں خوشی کی لہریں اٹھ رہی تھی۔جیسے مدت بعد اس کے دوارے کوئی اس کا اپنا آگیا ہو۔

شہربانو نے کہا تم نے مجھے کیسے تلاش کر لیا۔وہ بولا اتنا تو پتا تھا کہ تمہارا ٹھکانہ محکمے کے کسی کوارٹر میں ہے۔اور محکمے کا بھی پتا تھا۔لیکن گھر کا معلوم نہ تھا۔یک بارگی وہ حیرت کے سمندر سے نکل آئی۔کہنے لگی شیرو۔،تیرا کام بندار نچانا تو نہیں ہے تو کیوں اس پیشے میں آگیا ہے؟یہ بات اچھی نہیں ہے۔تیری خاطر یہ روپ اختیار کیا ہے۔اب مجھے نہیں پتا کیا اچھا ہے کیا برا ہے۔میں تو بس تیری ایک جھلک دیکھنے کو در ،در کا بھکاری ہوا ہوں۔لیکن اب روز ،روز ادھر کو مت آنا شیرو۔بچپن کی باتیں ۔بچپن کے ساتھ گئیں۔اب میں شادی شدہ ہوں،میرے سسر یا رشید کو علم ہو گیا تو اچھا نہ ہوگا۔تیرے حق میں اور نہ میرے حق میں ۔ٹھیک ہے شہربانو میں نہ آوں گا۔مگر تیری خیریت کی ضرور معلوم کروں گا۔میری جگی جگنوآئے گا۔تجھے جو کہنا ہو اسی کو کہہ دینا۔
شیرے کا آنا اچھا تھا یا برا ،اس بات سے قطع نظر اس کے آئے کے بعد سے شہربانو جیسے مردہ سے زندہ ہو گئی تھیں۔بے شک انتظار اذیت دہ ، ہوتا ہے،لیکن کبھی کبھی یہ زندگی کی نوید بھی بن جاتا ہے۔اب وہی اس کیلئے جینے کا سہارا بن گیا۔
شہربانو میں کسی کام میں مشغول ہوتی۔اس کے گان گلی کے طرف لگے ہوتے ۔شاید کہ وہاں سے آتی ڈگڈگی کی آواز ،اس کی روح کو سوئے تاروں کو چھیڑدے۔جب پندرہ دن وہ آواز سنائی نہ دی کہ جس کا انتظار تھا۔شہربانو اداس ہو گئی۔سوچتی تھی کہ کیوں اس نے شیرو کو گلی میں آنے سے منع کیا۔اب پچھتانے لگی کہ دل پر اداسی روز بہ روز برف کی سلوں کی مانند گرتی تھی۔اس بوجھ سے اس کا دم گھٹتا جارہا تھا۔ایک روز پھر ڈگڈگی کی آواز سنائی دی۔اس کے دل کے تاروں کو چھیڑی ہوئی یہ آواز اس کیلئے زندگی کی نوید بن گئی۔دوڑتی ہوئی کھڑکی کی طرف گئی اور جھٹ سے بند پٹ کھول کر سلاخوں کے اُدھر سے گلی میں جھانکنے لگی۔مداری اور ڈگڈگی قریب تر آگئے لیکن اس کی امید بھری نظروں میں اس وقت مایوسی گھر گئی۔جب دیکھا کہ ڈگڈگی بجانے والا شیرو نہیں بلکہ جگنوتھا اس کا بچپن کا دوست۔
کچھ سہی وہ بھی تو اس کے گاؤں سے آیا تھا ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ۔اس نے کھڑکی کا پٹ بجایا۔جگنو ٹھہر گیا۔کھڑکی کی جانب دیکھا ۔شہربانو بولی ۔جگنو آج تم آئے ہو۔کیا تم نے بھی بندر نچانا شروع کر دیا ہے؟ہاں میں نے بھی ۔مگر صرف تیرے شہر میں اپنے یار شیرے کی کی خاطر ۔۔تو نے منع کیا تھا نہ اس کو کہ اب یہاں مت آنا۔مجھے بھیج دیاہے تیری خیریت کا پوچھنے ۔اب بتا شہربانو تو کیسی ہے؟خوش ہے نا اپنے گھر میں؟پر شہربانو چپ ہی رہی مگر دو آنسو ٹپ ٹپ اس کی آنکھوں سے گر پڑے۔روتی کیوں ہے؟جو پیغام دینا ہے۔دے دے میں شیرے کو جا کر بتادوں گا۔اگر وہ نہیں آسکتا۔جگنو تو ہی آجایا کر بندر کا تماشا دکھانے میرا جی بہل جاتا ہے۔
جگنونے ڈگڈگی بجائی اور آن واحد میں اس کے ارد گرد گلی کے بچے جمع ہوگئے۔کچھ دیر بندر کا تماشا ہو تا رہا۔پھر ڈگڈگی کی آواز بند ہو گئی۔تماشہ ختم ہو گیا۔اور بچے ،بالے اپنی راہ چلے گئے۔اب ہفتہ دس دن بعد باقاعدگی سے بندر والا آنے لگا۔اور تماشا دکھانے لگا۔جب جاتے لگتا شہربانو آٹے کا کٹورا ،بطورخیرات اس کو تھما دیتی ۔جس کو اپنے جھولے میں ڈال کر بندر والا ۔دعائیں دیتا اور ۔انہی دعاؤں میں وہ پیغام بھی شہربانو تک پہنچا دیتا ۔جو اس کو شیرے نے دیا ہوتا ۔اس طرح یہ مداری خیرات کے بہانے سے دونوں کے پیغامات ان کو پہنچانے لگا۔
اس بار جب جگنو دیر بعد آیا تو شہربانو اس کے انتظار میں تھک چکی تھی۔اس نے شکوہ کیا کہ اتنے دن بعد آئے ہو۔میں کیا کرتا۔شیرو نے بات ہی ایسی کہی تھی کہ اگر میں تجھ تک یہ پیغام پہنچاتا تو ،تو مشکل میں پڑ جاتی۔اب بھی اس نے مجبور کیا کے مجھے تیرے پاس بھیجا ہے۔ورنہ میرے آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا،کیا پیغام دیا ہے اس نے؟اس نے کہا ہے کہ اگر تم جمعرات کی رات کو شہر بانو کو گاؤں نہ لے کر آئے تو میں دریا میں چھلانگ لگا کر ڈوب جاؤں گا۔ایسی دھمکیاں دے کر مجھے یہاں بھیجے گا تو کسی دن مجھے بھی مروا دے گا۔اور تجھے بھی شہربانو۔اب تو اس کا انتظار چھوڑ دے ۔وہ مرتا ہے تو مر جانے دے۔تو اپنی زندگی کو اچھا کر کے گزار ،اسی میں تیرا ہی نہیں ہم سبھی کا بھلا ہے۔
شہربانو مگر اس قید خانے سے اوب چکی تھی۔اس نے کہا ویرا ،مرنا تو ہر کسی نے ایک دن ہے مگر یہ گھٹ گھٹ کر جینا تو مرنے سے بھی بدتر ہے۔تجھے نہیں خبر کہ میں یہاں کس تکلیف مین ہوں۔پھر خوشامد سے بولی ۔میرے بھائی جگنو اگر میں تیرے ساتھ نکل چلوں تو پھر تو مجھے کہاں لے جائے گا۔گاؤں میں تو موت کا ڈر ہے یا پھر زمیندار کا مزار پر ہی لے چل۔
جگنو نے کہا کہ شیرو ،علی پور میں تیرا انتظار کر ے گا پنجند کے پاس پھر تجھے لے کر کراچی چلا جائے گا۔اپنے دوست کے پاس جو کارخانے میں کام کرتا ہے۔وہ پہلے تنسیخ نکاح کرائے گا پھر۔پھر تیرا شیرو سے نکاح کرا دے گا۔کیونکہ اس کا سالا وکیل ہے۔تو اس دوست کو جانتا ہے۔ہاں جانتا ہوں۔وہ ہمارے ساتھ والے گاؤں کا ہے بہت مدت سے کراچی میں ہے اور اس نے شادی بھی وہاں کی ہے۔کیا نام ہے اس کا ؟شیرو کے اس دوست کا نام منظور ہے۔تو بھی جانتی ہو گی۔شیرا ،اس کو منظورا کہا کرتا تھا۔ہاں جانتی ہوں۔وہ بولی تو پھر تو مجھے وہاں لے ہی چل۔میں عمر بھر ان سلاخوں کے پیچھے نہیں رہ سکتی۔ایک بے بس پرندے کی طرح اس قید میں کسی دن مر ہی نہ جاؤں۔سوچ لے ۔میں پھر آؤں گا سوچ لیا ہے۔پرسوں جمعرات ہے،میں بیگ تیار رکھوں گی۔تو دوپہر کے فورا بعد آجانا۔اس وقت میری ساس کھانا کھا کر سوجاتی ہے اور ،رشید رات کو گھر آتا ہے۔وعدہ کر تو آئے گا؟آجاؤں گا جگنو نے کہا اور اپنی راہ ہو لیا۔

اس جمعرات جگنو نہ آیا۔شہربانو راہ دیکھتے دیکھتے گئی۔اگلی جمعرات دوپہر کے بعد جب ساس سو گئی ۔کپڑوں کی پوٹلی میں چاندی کے زیور چھپا ،وہ گھر سے نکلی ۔گلی کی نکڑ پر یکے والا کھڑا تھا۔کہنے لگی بھیا لاری اڈا یہاں سے کتنی دور ہے۔وہ بولا تم نے وہاں کس کے پاس جانا ہے؟اپنے بھائی کے پاس ۔تمہارا بھائی کیا لاری اڈا پر ملازم ہے؟نہیں وہ بندر کا تماشا دکھاتا ہے۔کیا نام ہے اس کا ؟ یکے والے نے پوچھا کہنے لگی اس کا نام جگنو ہے کیا تم اسے جانتے ہو؟
ہاں کئی بار میرے یکے پر سواری کر چکا ہے گاؤں سے آتا ہے وہ آج صبع بھی میں نے اس کو لاری اڈا سے اترتے دیکھا تھا،تم مجھے اس کے پاس لے چلوگے؟یکے پر بیٹھ جاؤ۔وہاں سرائے سے پتا کر لیں گے وہ ادھر ہی ٹھہرتا ہے۔کھانا بھی سرائے لنگراں سے کھاتا ہے۔
بغیر سوچے سمجھے یہ بے وقوف لڑکی یکے پر چڑھ گئی۔لاری اڈے پر یکے والے نے یکہ روکا،اور وہ اتر کر سرائے لنگراں چلا گیا۔اس کا اندازہ ۔درست نکلا ۔جگنو وہاں اپنے بندر سمیت چارپائی پر بیٹھ کھانا کھا رہا تھا۔مداری بھائی تمہاری سواری آئی ہے۔میرے یکے میں ہے۔تم سے ملاقات کرنی ہے اچھا نوالے کو پلیٹ میں اس نے واپس رکھ دیا ۔کون ہے ؟تم کو اپنا بھائی بتائی ہے۔جہاں محکمہ نہر کے کوارٹر ہیں وہاں بڑی سٹرک کے کنارےسے میرے یکے میں بیٹھی تھی۔اچھا ٹھیک ہے میں آتا ہوں جگنونے کھانا وہاں چھوڑا ،اور اپنے گلے میں پڑے رومال کو کونے سے ہاتھ پونچھتا وہ سرائے سے باہر نکل آیا۔یکے والے کے پیچھے چلنے لگا۔دور سے جگنو کو آتا دیکھ کر شہربانو یکے سے اترآئی۔کہنے لگی کتنا انتظا ر کیا ہے؟جگنوبھائی ؟ بالآخر تم کیوں نہ آئے؟میں ہر جمعرات کو آتا ہوں۔نہیں آؤں گا تو شیرا مجھے قتل کر دے گا لیکن تیری گلی میں نہیں آتا ۔کیوں کہ نہیں چاہتا کہ تو اس طرح گھر سے بھاگے۔میری مان تو گھر سے مت نکل ۔اس میں تم دونوں کیلئے بڑی مصیبت ہے۔میری بہن شیرا تو بات سمجھتا نہیں تو ہی سمجھ لے۔وہ نہیں سمجھوں گی ۔اگر سمجھوں گی تو بھی مر جاؤں گی۔یکے والا دور کھڑا ۔ان کیباتیں سن رہا تھا ۔وہ انتظار کر رہا تھا کہ یہ سواریاں شاید دوبارہ اس کے یکے میں سوار ہوں تو اس کی دہاڑی بن جائے ۔کچھ دیر کی تکرار کے بعد بالآخر فیصلہ ہو گیا۔جگنو نے کہا کہ یکے والے سے کہتا ہوں کہ وہ تجھ کو ساتھ والے گاؤں لے جائے اور میں پیچھے آتا ہوں۔اگر ساتھ یہاں سے نکلے اور کسی نے دیکھ لیا میری شامت آجائے گی۔میں نے بندر کو بھی گاؤں میں اپنے ایک دوست کے پاس چھوڑنا ہے۔وہ بولی ٹھیک ہے۔
بے فکر ہو کر شہربانو یکے پر سورا ہو گئی۔جگنو نے تمام احوال یکے والے کو سمجھا دیئے کہ کہاں خاتون کو پہنچانا ہے۔یکے والا خاتون کو لے کر چلا گیا۔اور جگنو اپنے بندر سمیت سرائے کے قریب موٹرسائیکل اسٹینڈ پر پہنچا ۔کرائے پر موٹر سائیکل لی اور گاؤں روانہ ہوا۔
یکے والے نے ایک جگہ موڑ سے دوسرا ۔رستہ لے لیا۔شہربانو کو پتا نہ چلا کہ اس نے رستہ بدل لیا ہے۔سمجھی کہ کوچوان کو صحیع مقام پر جگنو کے نتائے ہوئے گاؤں لئے جارہا ہے۔آدھ گھنٹے کا رستہ تھا لیکن اس نے گھنٹہ بھر لگا دیا تو شہربانو کے کان کھڑے ہوگئے۔پوچھا کوچوان بھائی اب اور کنتی دور ہے گاؤں وہ بولا بس آیا ہی چاہتا ہے؟کچے رستے سے تو جلدی پہنچ جاتے تھا مگر رستہ خراب تھا اس لئے پکی سٹرک سے لایا ہوں۔وہ دیکھو سامنے ااترائی ہے نا بس وہاں جانا ہے۔
شہربانو نے اپنے گاؤں سے ساتھ والا گاؤں کبھی نہیں دیکھا تھا۔وہ خاموش ہی رہی یکے والا اس کو بہاولپور کے نزدیک ایک علاقے میں لے گیا جہاں کھیتوں کے درمیان ایک شاندار حویلی بنی ہوئی تھی،چوہی گیٹ کے پاس یکے کو روک کر کہا یہی اتر جاؤ۔وہ اتر گئی۔کوچوان نے گیٹ پر کھڑے دربان سے کہا صاحب نے کچھ دنوں پہلے ایک کام میرے ذمے لگایا تھا یہ بی بی آگئی ہے اس کو اندر لے جاؤ،دربان شہربانو کو اندر لے گیا۔جہاں ایک ملازمہ نے ان کا سواگت کیا۔ملازمہ کو دربان ایک طرف لے گیا اور ساری بات سمجھائی۔وہ عورت شہربانو کو گھر کی مالکہ کے پاس لے گئی۔جو بیمار تھی اور اس کو ایک دیکھ بھال کرنے والی عورت کی اشد ضرورت تھی۔شہربانو کے ساتھ وہ ادھیڑ عمر خاتون خالہ بہت مہربانی کے ساتھ پیش آئی ۔ملازمہ سے کھانا لانے کو کہا۔پھر بولی اس کو کمرہ ،دکھا دو ۔جہاں اس نے قیام کرنا ہے کچھ دن تو وہ انتظار کرتی رہی کہ جگنو آئے گا یا پھر شیرا۔ آئے گاانہوں نے کسی صاحب حیثیت کے پاس اس کو تبھی چھپایا ہے کہ تاکہ ان کا پیچھا نہ کیا جائے۔
پندرہ دن گزر گئے وہ نہ آئے۔البتہ ملازمہ نے اس کو اس کی ڈیوٹی سمجھا دی کہ مالکن بیمار ہے تم نے ان کی دیکھ بھال کرنی ہے شہربانو صبر اور خاموشی سے اپنی ڈیوٹی نباہتی رہی۔مالک کو اس نے بس ایک بار دیکھا تھا جس نے بحیر کلام کئے اسے لمحے کو آکر دیکھا اور دوبارہ ،وہ شہربانو کے سامنے نہ آیا۔ایک ماہ گزر گیا۔اس نے ملازمہ سے پوچھا کہ ابھی بھی شیرعلی اور جگنو نہیں آئے کیا بات ہے اور کب تک اس کو یہاں رہنا ہو گا؟
یہ تو مالک کو خبر ۔۔ہماری جرات نہیں ہے کہ ملک صاحب سے کچھ پوچھیں۔تم آرام سے رہ رہی ہو ۔تم کو یہاں کوئی تکلیف بھی نہیں ہے،جس نے جب آنا ہو گا آجائیں گے،شہربانو نےاس آس میں چھ ماہ گزار دیئے اور وہ نہ آئے اب اس کو یقین ہو گیا کہ کوئی پولیس کا سنگین معاملہ ہو گیا ہے جو شیرا ،ظاہرنہیں ہوا ہے۔

وہ پریشان رہنے لگی بالآخر ملازمہ نے ایک روز اس کو بتادیا کہ زمیندانی کو اپنی خدمت کیلئے ایک باندی کی ضرورت تھی ملک صاحب نے یکے والے کے ذمے یہ کام لگایا تھا کہ کوئی مصیبت زدہ یا پناہ کی تلاش میں عورت ملے تو دے جانا۔یکہ والا تم کو ملک صاحب کے سپرد کر کے اپنا انعام لے گیاہے۔یوں سمجھ کہ انہوں نے تم کو خرید لیا ہے۔مگر ہمارا ملک صاحب شریف آدمی ہے اس کو ٹھی کے اندر تمہاری عزت کو کوئی خطرہ نہیں ہے،تم خوش قسمت ہو کہ اچھی لوگوں کی پناہ میں آگئی ہو۔ورنہ گھر سے نکلی والی لڑکیوں کی عزت کو زمانہ خراب کر ڈالتا ہے۔
سال بعد زمیندار نی اپنے خالق سے جا ملی ۔کچھ دن بعد گھر میں سوگ رہا۔ملک صاحب کے دونوں لڑکے شہر میں پڑھ رہے تھے۔اور ،بیٹیاں بیاہ دی تھیں ۔اب وہ اکیلے رہ گئے تھے۔
عمر بڑی ہو کہ چھوٹی تنہائی کا سانپ ہر کسی کو ڈستا ہے ۔ایک دن وہ گھر آئے تو دیکھا کہ شہربانو نہا کر دھوپ میں بیٹھی بال سکھا رہی تھی۔اس کا چہرہ چاند کی مانند چمک رہا تھا اور ۔وہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھا۔پہلی بار زمیندار کی اس پر نظر ٹھہری تو اس کو کسی اور زاویئے سے دیکھا اور پھر اس کے ساتھ نکاح کی ٹھان لی۔
وہ باندی تھی اور وہ مالک ،انہوں نے سمجھا بجا کر اس کے ساتھ نکاح کر لیا ۔عمر میں ضرور بڑے تھے مگر انہوں نے شہربانو کو سب کچھ دیا جس کی خواہش کو ئی عزت دار عورت کر سکتی ہے۔رفتہ رفتہ شہربانو کے دل میں بھی اس بڑی عمر والے شوہر کو قبول کر لیا۔بیوی بن جانے کے بعد جو تحفظ اور آرام ملا تو شہربانو نے ماضی بھلا کر سکھ کا سانس لیا۔کہ اب اس کو عقل آگئی تھی۔اس کے بعد ساری زندگی ملک صاحب کے گھر آرام سے رہی۔اللہ نے دو بیٹے اور دو ،بیٹیاں دے دیں اور بھی دل کو لگا کر زندگی کی سب آسائشوں کے ساتھ گزار لیا۔اولاد میں گھر کر ماضی کو بھول گئی۔
(ایس ۔اے۔۔۔جنوبی پنجاب)

Na Kardah Gunah Ki Saza | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Na Kardah Gunah Ki Saza | Teen Auratien Teen Kahaniyan

سچ ہے کالج کی زندگی بہت پرکشش اور یادگار ہوتی ہے۔ اسی بہترین دور کی میری ساتھی شاہینہ تھی۔ جو اپنی نادانی کے ہاتھوں زندگی کی خوشیاں گنوا بیٹھی۔ شاہینہ بہت ذہین لڑکی تھی۔ اسے خالق نے حسن کی دولت بھی عطا کی جو سے ساری کلاس میں منفرد بناتی تھی۔ اس کا اپنا الگ […]

0 comments
Hue Tum Jiss Kay Dost Teen Auratien Teen Kahaniyan

Hue Tum Jiss Kay Dost Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents کچھ دنوں سے منصب بھائی پریشان سے دکھتے تھے۔ وہ ایف ایس سی فرسٹ ایئر کا امتحان دے چکے تھے اور سیکنڈ ایئر شروع ہونے سے پہلے چند روز کی چھٹیاں ملی تھیں۔ امی کو فکر ہوئی کہ پرچے تو ہو چکے، صاحبزادے اب کیوں پریشان ہیں۔ شاید رزلٹ کی فکر ہے […]

0 comments
Sunehrey Khawaboun Ki Chahat Main Teen Auratien Teen Kahaniyan

Sunehrey Khawaboun Ki Chahat Main Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents ہمارے گائوں میں جب فصل کٹ جاتی اور اناج کے ڈھیر کھیتوں میں چمکنے لگتے، کسانوں کی آنکھوں میں بھی چمک آجاتی۔ سال بھر کا اناج گھروں میں ذخیره کرلیا جاتا، تبھی میلے کا موسم آجاتا۔ اس بار بھی میلہ سج گیا۔ گائوں کی دوسری لڑکیوں کے ساتھ میں بھی میلہ دیکھنے […]

0 comments
Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen Kahaniyan

Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen KahaniyanKash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen KahaniyanComplete storyہمارے گائوں میں جب فصل کٹ جاتی اور اناج کے ڈھیر کھیتوں میں چمکنے لگتے، کسانوں کی آنکھوں میں بھی چمک آجاتی۔ سال بھر کا اناج گھروں میں ذخیره کرلیا جاتا، تبھی میلے کا موسم آجاتا۔ اس بار بھی میلہ سج گیا۔ گائوں کی […]

0 comments
Woh Hadsa Bhoolta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan

Woh Hadsa Bhoolta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents ایک دن میں اپنی دوست منورہ کے گھر گئی تو اس کی ملازمہ شاداں کو روتے دیکھا۔ پوچھا۔ اس کو کیا ہوا ہے؟ منوره نے بتایا۔ اس کا خاوند بہت بیمار ہے تبھی بیچاری پریشان ہے۔ وہ تو اچھا خاصا تندرست تھا اور ان کے حالات بھی ٹھیک تھے تو کیونکر بیمار […]

0 comments
Aik Jhalak Nay loota | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Aik Jhalak Nay loota | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents بڑے دنوں سے چاہ تھی کچھ دن کسی پر فضا مقام پر گزاریں اور ہم نے شمالی علاقہ جات جانے کا پروگرام بنا لیا۔ سیر کرتے ہوئے واپسی پر مری میں پڑائو ڈالا… ایک اچھے سے ہوٹل میں زندگی کے یہ یادگار گزارنے کا پروگرام بنا گیا۔ یوں میرے میاں نے ہوٹل […]

0 comments

Qismat Achi Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

,
Qismat Achi Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan,
Qismat Achi Thi,
Urdu Stories for kids,
urdu story,
urdu sories,
stories in urdu,
true stories in urdu,
complete novel,
urdu novels,
urdu ki kahanian,
kahanian in urdu,
urdu ki kahani,
sachhi kahanian,
true kahani,
true stories,
urdu story channel,
drama story in urdu,
top urdu stories,
best urdu stories,
top urdu novel,
best urdu novel,
3 aurtain 3 kahani,
yanFamous Stories ,
TEEN AURATIEN TEEN KAHANIYAN,
Teen Auratien Teen Kahaniyan,
TEEN AURATIEN TEEN KAHANIYAN KAHANIYAN,
Teen Auratien Teen Kahaniyan ,
latest story,
WEEKLY AKHBAR-E-JEHAN,

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here