سچ ہے کالج کی زندگی بہت پرکشش اور یادگار ہوتی ہے۔ اسی بہترین دور کی میری ساتھی شاہینہ تھی۔ جو اپنی نادانی کے ہاتھوں زندگی کی خوشیاں گنوا بیٹھی۔ شاہینہ بہت ذہین لڑکی تھی۔ اسے خالق نے حسن کی دولت بھی عطا کی جو سے ساری کلاس میں منفرد بناتی تھی۔ اس کا اپنا الگ ایک انداز تھا۔ پڑهائی کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی سب سے آگے رہتی۔ کالج ہو یا کلاس ژوم یا کھیل کا میدان کوئی اس سے سبقت نہ لے سکتا تھا۔ میں اپنی اس دوست پر فخر کیا کرتی تھی۔ بزرگوں کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ انسان کی حیات نصیب کے تابع ہوتی ہے، حسن و دانائی کے نہیں۔ شاہینہ کی زندگی اس کہاوت کی جیتی جاگتی مثال ہوگئی۔ اس کے پاس کسی شے کی کمی نہ تھی۔ یہ نصیب کی خرابی ہی ہوگی کہ وہ چہچہاتی بلبل أداسی اور دکھ کے جنگل میں ایسی پھنسی کہ کالج ہی کو خیرباد کہنا پڑا۔ اس کے بعد ایسی گم ہوئی کہ پھر مجھ کو ملی اور نہ کبھی وہ کالج ہی آئی۔ اچانک اس نے اپنی ساری صحت مند سرگرمیاں چھوڑ دیں۔ ہر دم ہنسنے مسکرانے والی کے ہونٹ سل گئے تھے۔ پتا نہیں کیا ہوا تھا اسے کہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر سے غائب ہوگئی۔ چمکتی آنکھوں میں خاموشی اور اداسی نے ڈیرے ڈال دیئے۔ وہ کلاس میں کھوئی کھوئی سی رہنے لگی تھی اور کالج بھی کم کم آنے لگی۔ وہ کسی گہرے سمندر کی طرح چپ چاپ تھی جس کی تہہ میں کوئی بڑا طوفان چھپا ہوا تھا۔ میں اکثر اس سے پوچھا کرتی کوئی مسئلہ ہے تو بتائو۔ جواب ملتا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ پھر تمہاری شوخیاں کہاں کھو گئی ہیں؟ وہم ہوا ہے تم کو… یہ کہہ کر ٹال جاتی تھی کہ میری فکر نہ کرو۔ میں ٹھیک ہوں۔ ابھی میں اسى ألجهن میں تھی کہ اس کو کیا ہوا ہے کہ اچانک اس نے کالج چھوڑ دیا۔ صدمہ ہوا مگر کچھ نہ کرسکی۔ میں نے تعلیم مکمل کر لی تو زندگی کا یہ سنہرا باب بند ہوگیا۔ میری شادی ہوگئی۔ شوہر کے گھر راولپنڈی سے اسلام آباد آ گئی۔ ایک نئی زندگی کا آغاز ہوا۔ پرانی یادیں پس منظر میں چلی گئیں۔ سارے واقعات دل کی کتاب میں محفوظ ہو کر بند ہوگئے۔ ایک روز میں چیک آپ کو اسپتال گئی تو نرس کو دیکھ کر حیرت زده ره گئی۔ یہ میری پیاری دوست شاہینہ تھی۔ تم اور یہاں … میں نے پوچھا۔ تم کو تو ڈاکٹر بننا تها نرس کیسے بن گئیں؟ کہنے لگی میں ڈیوٹی پر ہوں، یہاں تمہارے سوالات کے جواب نہیں دے سکتی، کبھی باہر ملو گی تو بتا دوں گی۔ میں نے اس کو اپنا ایڈریس بتایا۔ کچھ دنوں بعد وہ مجھ سے ملنے آئی۔ گزرے دنوں سے شناسائی کا سفر منٹوں میں طے کر لیا۔ باتوں باتوں میں، میں نے اس کی حالیہ زندگی کے بارے پوچھا تو وہ افسردہ ہوگئی۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی گہری ہوگئی اور پلکوں تلے ننھے منے ستارے سے چمک اٹھے جن کو اس نے اپنے آنچل کے پلو میں چھپا لیا۔ بولی۔ ایسی باتیں مت پوچھو تو اچھا ہے۔ میری قسمت میں دکھ لکھے تھے سو مل گئے۔ راکھ میں دبی چنگاریاں کریدنے سے کیا حاصل؟ کیوں نہ پوچھوں دوست ہوں تمہاری۔ تم تو ایسی غائب ہوئیں کہ میں بس ڈھونڈتی رہ گئی۔ اب ملی ہو تو مجھے سب بتانا ہی پڑے گا۔ کہنے لگی۔ ساره مانو کہ ہر دور میں انسان طالب علم ہی رہتا ہے۔ وہ وقت کے ہاتهوں بہت کچھ سیکھتا ہے، سیکھتا ہی رہتا ہے۔ میں جو کل تھی آج نہیں ہوں اور جو آج ہوں وہ کل نہ رہوں گی۔ میں نے جو سوچا، جو چاہا سب کچھ اس کے برعکس ہوگیا۔ اب تو صبر بھی آ گیا ہے۔ اپنی خوشیوں کے لاشے کو مدت ہوگئی دفن کرنے کے بعد اس نے نجانے کب سے بندھ باندھ رکھے تھے سو ٹوٹ گئے… میں نے اسے رونے دیا۔ سوچا کہ یہ ہمدردی بھی بڑی چیز ہے جو پتھر جیسے انسان کو بھی پانی کر دیتی ہے۔ کچھ دیر بعد جب اس کا غبار غم گھٹا کی صورت میں برس کر صاف ہوگیا تو اس نے بتایا۔ جانتی ہو نا کہ کالج کے شروع دنوں میری زندگی کتنی پرسکون تھی۔ تمہارا ساتھ تھا اور بے فکری تھی۔ وقت مزے سے گزر ہا تھا کہ انہی دنوں میری ملاقات شہریار سے ہو گئی اور میرے سکون کا خاتمہ ہوگیا۔ وہ ہمارے محلے میں نیا نیا رہائش پذیر ہوا تھا۔ اس وقت میں کالج جاتی، اسی وقت پر وہ بھی دفتر جانے کو اپنے گھر سے نکلتا تھا۔ اکثر ایک ہی بس میں سوار ہوتے۔ اس کا دفتر ہمارے کالج سے تھوڑا سا آگے تھا۔ رفتہ رفتہ میں اس کی ہم سفری کی عادی ہوگئی۔ مجھ کو اس کے ساتھ چند ساعتوں کا یہ سفر بہت اچھا لگتا تھا۔ شروع میں ہم ایک دوسرے سے بات نہ کرتے، رفتہ رفتہ ایک آدھ جملے میں بات کر لیتے۔ مجھے سیٹ نہ ملتی وہ اپنی جگہ مجھے دے دیتا، خود کھڑا رہتا اور میں اس کی نشست پر بیٹھ کر سفر کرتی۔ بس یہی اس کی رواداری وبال بن گئی۔ مجھ کو احساس تک نہ ہوا کہ کس فریب میں پھنستی جا رہی ہوں۔ وہ خوبرو انسان مخلص بھی تھا۔ ہمارے درمیان لاشعوری طور پر انسیت ہوئی اور پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھے بغیر نہیں ره سکتے تھے۔ وہ ٹریننگ کو چند ہفتے کے لئے دوسرے شہر چلا گیا۔ اس کے اس طرح غائب ہو جانے سے میں وسوسوں کا شکار ہو کر بیمار پڑ گئی۔ ان دنوں کالج میں بھی پریشان رہتی تھی۔ میں اس کی جدائی میں پریشان تھی۔ وہ واپس آیا تو اس کے چہرے پر بھی رونق نہ تھی۔ ایک دوسرے کو دیکھا تو ہمارے چہروں کی رونقیں لوٹ آئیں۔ ہمارا خون جدائی کے آسیب نے چوس لیا تھا۔ ہمارا تعلق ڈیڑھ سال رہا مگر اس امر کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ ہم کبھی تنہائی میں نہ ملے حالانکہ وہ اپنے مکان میں تنہا رہتا تھا لیکن اس نے وہاں مجھے کبھی آنے کا نہ کہا۔ جب ملنا ہوتا ہم کسی پارک یا مارکیٹ میں ملتے، جہاں اردگرد لوگ ہوتے تھے۔ اس کی یہی بات میرے لئے باعزت اور اس کے بلند کردار ہونے کی دلیل تھی۔ وہ ہمیشہ مجھے محنت سے پڑھنے اور آگے بڑھنے کی تلقین کیا کرتا تھا۔ میں اسے کیا بتاتی کہ اس کی شربتی آنکھیں مجهے پڑهنے نہیں دیتیں۔ میں اس کو ہر بات بتاتی اور وہ بھی مجھ کو اپنے سے متعلق ساری باتیں بتایا کرتا۔ اس کی باتیں بہت خوبصورت ہوتیں۔ میں مکمل طور پر اس کی شخصیت میں کھو گئی۔ ایک دوپہر کو میں اور امی جان برآمدے میں بیٹھی تھیں۔ میرے سامنے میری کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔ انہی کتابوں میں سے ایک میں، میں نے شہریار کی تصویر چھپا رکھی تھی۔ میں پڑھنے میں مگن تھی کہ امی نے وہی کتاب اٹھا لی۔ تصویر اوراق میں سے فرش پر جا گری۔ امی نے تصویر دیکھ کر پوچها یہ کس کی ہے؟ میں نے کہہ دیا۔ مجھے نہیں معلوم کون ہے۔ کالج سے آتے ہوئے رستے میں پڑی تھی میں نے اٹھا کر کتاب میں رکھ لی۔ ایسے ہی کسی کی تصویر کتاب میں رکھ لی؟ امی نے مجھے گھورا اور تصویر پھاڑ کر پھینک دی۔ اس روز تو والدہ نے مجھ کو مزید کچھ نہ کہا لیکن قدرت کو میرے راز کی پردہ پوشی منظور نہ تھی کہ ایک روز جبکہ میں کالج سے لوٹی ہی تھی کہ امی نے شہریار کی چار پانچ فوٹو میرے سامنے لا کر پٹخیں اور کہا کہ کیا یہ سب بھی تم کو گلی میں پڑی ملی تھیں۔ ان کو الماری کے سیف میں رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ یاد آیا کہ صبح

جلدی میں، میں اپنی چابیاں الماری میں لگا کر نکالنا بھول گئی تھی، تبھی انہوں نے اس میں لگی سیف کھول کر دیکھی اور یہ تصویریں اٹھا لیں۔ ساتھ کچھ شہریار کے ہاتھ سے لکھے پرچے بھی تھے، وہ بولیں۔ شک تو مجھے اسی روز پڑ گیا تھا۔ اب یقین بھی ہوگیا ہے کہ تم کس راستے چل پڑی ہو. تم کو شرم نہیں آتی، کالج پڑھنے جاتی ہو یا ہماری عزت کو مٹی میں ملانے؟ سچ سچ بتائو کہ یہ شہریار کون ہے۔ کیا بتاتی لہو میری رگوں میں منجمد ہوگیا تھا۔ اس روز پہلی بار انہوں نے مجھے مارا اور کہا کہ تمہارے باپ کو الینے دو۔ سب بتاتی ہوں انہیں تاکہ وہ تیرا بہت جلد فیصلہ کر دیں۔ ماں بہرحال ماں ہوتی ہے۔ انہوں نے والد کو بتانے کی دھمکی تو دی مگر بتایا نہیں۔ میں اب شہریار کو بتا دینا چاہتی تھی کہ امی جان کو سب معلوم ہوگیا ہے مگر ماں نے تو مجھ کو کالج جانے سے ہی روک لیا تھا۔ چند دن گھر میں ماہی بے تاب کی طرح تڑپتی رہی۔ بالآخر ایک روز موقع مل گیا۔ امی خالہ کی فوتگی میں گئی ہوئی تھیں، میں گھر سے نکلی اور ایک دکان سے شہریار کو اس کے آفس میں فون کیا۔ صد شکر کہ فون اسی نے اٹھایا۔ میں نے کہا کہ ملنا چاہتی ہوں ضروری بات بتانی ہے۔ کہنے لگا… تم نزدیکی ریسٹورنٹ میں آ جائو میں بھی وہاں آ جاتا ہوں۔ اس نے دفتر سے اٹھنے میں توقف نہ کیا اور پندرہ منٹ میں وہاں پہنچ گیا، جب میں ریسٹورنٹ کے سامنے پہنچی وہ باہر کھڑا میرا انتظار کر رہا تھا۔ ہم اندر جا کر بیٹھ گئے، اس نے چائے کا آرڈر دیا، میں نے اس کو ساری رام کہانی کہہ سنائی۔ بولا، ڈر کس بات کا ہے میرے ہوتے تمہارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ میری ترقی ہوگئی ہے۔ گاڑی بھی آفس کی طرف سے مل گئی ہے۔ امی ابو کو اپنے پاس بلوا رہا ہوں۔ وہ آ کر تمہارے والدین سے رشتے کی بات کر لیں گے اور پھر جو ہو دیکھی جائے گی۔ غرض اس نے مجھے تسلی دی تو دل کو کچھ قرار آگیا۔ میں اس کے ساتھ گھر کے نزدیکی ریسٹورنٹ میں پہلی دفعہ گئی تھی اور بدقسمتی سے محلے کے دو آدمیوں نے ہم کو وہاں ساتھ بیٹھے اور چائے پیتے دیکھ لیا۔ انہوں نے میرے والد کو یہ بات بتا دی۔ ان کو بہت برا لگا۔ وه آگ بگولہ ہوگئے اور گھر آ کر مجھ پر بہت غصہ کیا۔ ماں نے ان سے کہا۔ تم ایک بار اس لڑکے سے مل تو لو۔ اگر شریف گھرانہ ہے اور اچھی نوکری ہے تو کر دو اسی سے بیٹی کی شادی۔ کیا کوئی ہر آئے گئے سے کر دیتا ہوگا بیٹی کی شادی اس کی شرافت تو اسی بات سے ثابت ہے کہ محلے دار ہو کر کسی کی بیٹی کو لئے ریستورانوں میں پھرتا ہے۔ تم ایسے کے ساتھ شادی کا کہتی ہو، مجھ کو نظر آیا تو شوٹ کردوں گا۔ مجھ پر پابندی اور بڑھ گئی، اب تو گھر سے نکلنا بھی محال ہوا۔ محلے میں بات نکل گئی، لوگ طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ ماں باپ کی نظروں سے گر جانے کی ذلت ایک طرف جبکہ لوگوں کی طرح طرح کی باتیں کرب ناک اور جان لیوا تھیں۔ محلے کے انہی دو نوجوانوں نے شہریار کی بھی جا خبر لی، ایک روز اس کو چوک میں جا لیا اور کہا۔ بھئی ہیرو کیسا چل رہا ہے تمہارا رومانس خواجہ صاحب کی لڑکی کے ساتھ لگتا ہے یہاں نوکری کرنے نہیں آئے عشق کرنے آئے ہو… یہ جملہ بازی سن کر شہریار کو بہت غصہ آیا۔ وہ ان لوگوں سے جا کر بھڑ گیا۔ لڑائی جھگڑا ہوا جس میں میرا نام بھی لوگوں نے برملا لیا۔ غرض رسوائی ہونی تھی سوا ہوگئی۔ ایک روز اپنی ملازمہ کو ہمارے گھر بھیجا۔ یہ ہماری ملازمہ بھی رہ چکی تھی۔ راحت نام تھا اس عورت کا جس نے گھر آکر چپکے سے مجھے شہریار کا خط دیا۔ میں نے کمرے میں جاکر پڑها لکها تها کسی صورت ملو اور جواب پرچے پر لکھ کر راحت کو دے دو۔ میں نے دو سطریں جلدی سے لکھیں اس سے پہلے کہ اماں کچن سے باہر آتیں جا کر راحت کو پرچی تھما دی۔ اگلے روز شہریار کے والدین امی ابو سے ملنے آئے اور رشتہ کی بات کی، وہ نہ مانے بلکہ والد صاحب نے سیدھے منہ بات نہ کی۔ امی سے کہا۔ ان سے کہہ دو کہ یہ دوبارہ یہاں نہ آئیں۔ وہ بے عزت ہو کر چلے گئے۔ میں راحت کی پیغام رسانی کی بدولت ایک روز موقع پا کر شہریار سے ملی۔ اس نے کہا کہ سیدھے طریقے سے تو تمہارا رشتہ ملنے والا نہیں ہے۔ میں تو شریفانہ طریقے سے تم کو شادی کر کے لے جانا چاہتا تھا لیکن اب مرد ہونے کے ناتے میرا یہی فیصلہ ہے کہ تم ہمت سے کام لو اور ہم عدالت سے شادی کر لیں۔ کیا تم یہ قربانی دے سکتی ہو۔ میں اپنا سب کچھ چھوڑنے کے لئے تیار ہوں، ماں، باپ، بہن، بھائی، گهر بار… کیا تم ایسا کر سکتی ہو؟ نہیں… شہریار میں ایسا نہیں کر سکتی۔ مر تو سکتی ہوں مگر ماں باپ کی عزت کو دائو پر نہیں لگا سکتی۔ وہ خاموش ہو گیا۔ اس نے مجھے بے وفائی کا طعنہ بھی نہ دیا بلکہ کہا۔ ٹھیک ہے تو پھر مجھے بھول جائو، آج کے بعد ہم کبھی نہیں ملیں گے کیونکہ شادی نہیں کر سکتے اور یونہی ملتے رہے تو رسوائی ہوگی اور پھر تباہی بھی ہوگی۔ لہذا مجھے بھول جانا بہتر ہے۔ میں بھی تم کو بھلانے کی کوشش کروں گا۔ اس کے بعد اس نے اپنا تبادلہ کروالیا اور وہ ہمارے شہر سے ہی چلا گیا۔ میں گھر میں قید ہوگئی۔ وہ میرے بدن میں لہو کی طرح بہتا تھا۔ جب وہی نہ رہا میں بھی نہ رہی۔ جدائی کا گهن مجھے اندر اندر کھانے لگا اور میں ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گئی۔ محلے میں رسوا ہو چکی تھی، اچها رشتہ اب کہاں سے آتا۔ ادهر والدین میری حالت دیکھ رہے تھے کہ میں گھلتی جا رہی تھی۔ انہوں نے سوچا کہ میری شادی کر دینی چاہئے، شاید اس طرح میں ٹھیک ہو جائوں گی لہذا میرے ماموں کو بلوایا اور کہا کہ تم ہماری شبو کا رشتہ لے لو…وہ بولے۔ جب میں نے منت کی، آپ لوگوں نے میرے چھوٹے بیٹے کو رشتہ نہ دیا۔ اب جب اس کی شادی کر دی تو بلاکر رشتہ دے رہے ہو۔ میں چھوٹے کی بات نہیں کر رہا۔ تمہارے بڑے لڑکے ریاض کی بات کر رہا ہوں۔ اس کی بیوی کو مرے بھی آٹھ سال گزر چکے ہیں اس کا دوبارہ سے گھر بسائو۔ ہاں اس بابت میں ریاض سے بات کرتا ہوں۔ شبو اپنی بچی ہے، اس کے بچوں کو بھی ماں کا پیار دے گی… البتہ ریاض اور شبو میں عمروں کا فرق کافی ہے اس بارے اور سوچ لو۔ سوچ لیا ہے۔ ابو نے کہا۔ اتنا فرق نہیں ہے بارہ پندرہ سال کا فرق چلتا ہے۔ اس طرح انہوں نے جلدی میں میری شادی ریاض سے کرا دی۔ انہوں نے میری قربانی کا صلہ ادھیڑ عمر ریاض کی شکل میں دیا۔ بدشکل اور بدنما اکھڑ مزاج… مٹی کے بت کو دلہن بناکر وہ اپنے گھر لے آیا۔ اس کو بھی بہت جلد معلوم ہوگیا کہ مجھ سے اس کی شادی ایک بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ میرے پاس اس کے لئے کوئی محبت بھرا جذبہ نہیں تھا۔ شوہر کے گهر روپے پیسے کی کمی نہ تھی۔ ریاض ابوظہبی میں کما رہا تھا۔ مگر سکوں کی جھنکار میرے ڈکھ کو کم نہ کر سکی۔ میں اپنی سسرال میں صرف پندرہ دن رہی۔ ریاض واپس ملازمت پر ابوظہبی چلا گیا۔ اس کا ساتھ میرے لئے کسی سزا سے کم نہ تھا۔ اس کے جانے کے بعد میں اور زیاده بیمار پڑ گئی تو ساس سسر مجھے میکے لے آئے اور والدین کے گھر چھوڑ کر چلے گئے، کہا یہ ٹھیک ہو جائے تو لے جائیں گے۔ میرا مرض اب ٹھیک ہونے والا نہ تھا۔ ریاض نے مجھے کئی بار ابوظہبی بلوانا چاہا، میں نہ گئی۔ اس نے سال بهر خرچہ بهیجا پهر خرچہ بهیجنا بند کر دیا اور مجھ سے کوئی ناتا نہ رکھا۔ میں اب والدین کے پاس ہوں۔ نرسنگ کا ڈپلوما کیا اور نوکری کرلی۔ خود کما رہی ہوں اور زندگی کی گاڑی کھینچ رہی ہوں۔ مجھے اس کی داستان غم شن کر دکھ ہوا۔ وہ تھوڑی دیر بعد چلی گئی اور میں سوچتی رہ گئی کہ شابینہ صحیح تھی یا اس کے والدین نے صحیح فیصلہ کیا اس بابت کوئی کیا انصاف کرے گا۔ بہرحال بدنصیبی سے اس کی زندگی تو تباہ ہو ہی گئی۔ ش… اسلام آباد)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here