HomeTeen Auratien Teen KahaniyanKhabi Aisa Bhi Hota Hai | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Khabi Aisa Bhi Hota Hai | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Table of Contents

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے

جب سے وہ نوکری کیلئے میرے پاس آیا تومیں اس یوسف ثانی کو دیکھتی رہ گئی۔وہ سیدھا سادہ،بھولابھالا نوجوان سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا،سرخ و سفید رنگت دراز قد ۔۔پہاڑوں کا باسی مگر نرم خو ،سخت ضرورت مند نظر آیا۔

نام بتاؤ،صنوبر خان تم کہاں کے رہنے والے ہو اور تعلیم کیا ہے۔پشاور کا رہنے والا ہوں ،میٹرک پاس ہوں۔بندوق چلانا جانتے ہو؟جی اچھی طرح پہلے بھی گن مین تھا۔گارڈ کی ملازمت بھی کی ہے۔جی لائسنں ہے؟جی اس نے جیب سے اسلحہ کا لائسنں نکال کر میرے سامنے کر دیا۔اسلام آباد میں کہاں سے رہتے ہو؟فیض آباد میں ایک دوست کے پاس عارضی قیام ہے۔ٹھیک ہےشام کو سابقہ ملازمت سے متعلق کاغذات ہیں تو لیتے آنا،،میرا بیٹا دیکھ لے گا۔تنخواہ کیا لوگے ؟جواب آپ لوگ دے دیں گے۔

وہ چلا گیامگر میرے ذہین پر اپنے شفاف لہجے کے گہرے نقوش چھوڑ گیا۔مجھے بیوہ ہوئے چودہ ، پندرہ سال گزر چکے تھے۔تب سے ابتک کبھی کسی مرد میں دلچسپی محسوس نہیں ہوئی تھی۔اپنے شوہر کی اچانک وفات کے بعد ان کا ،کاروبار سنبھالنے اور اکلوتے لڑکے افتخار کی پرورش کرنے میں ہی لگی رہی تھی۔اپنی ذات کے بارے میں تو سوچا ہی نہ تھا،جب افتخار نے تعلیم مکمل کرلی ۔اس نے اپنے والد کا بزنس سنبھال لیا۔مگر میری تشفی نہ ہوئی۔چاہتی تھی کہ وہ مزید اعلی تعلیم کیلئے بیرون ملک چلا جائے ،سوچ رہی تھی کوئی شریف اور اچھا معاون مل جائے اور میرے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹا سکے تو افتخار کے ہوئے اس کو رکھ لو ں تاکہ وہ ٹرینڈ ہو جائے۔اسی اثنا میں ہمارے پرانے محافظ نے اپنے علاقے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا تو نئے محافظ کی ضرورت پیش آگئی۔تبھی میں نے قیوم لالہ سے کہا کہ آپ ہی کوئی بھروسہ کا آدمی جو آپ کی جگہ کام کرسکے ۔ملازمت کے سلسلے میں تبھی صنوبر آیا تو اپہلی نظر میں مجھے اچھا لگا۔

صنوبرکو لالہ ہی لے کر آیا تھا۔افتخار نے قیوم کے بھروسے کا آدمی سمجھ کر رکھا لیا۔واقعی یہ بہت نیک لڑکا تھا،دیانت داری سے کچھ عرصہ کا م کیا تو میں نے اسے تعلیمی استعداد بڑھانے کی ترغیب دی۔وہ خود بھی پڑھا چاہتا تھا لیکن حالات کی وجہ سے نہ پڑھ سکا۔وہ ایک یتیم لڑکا تھا جس کا خاندان خانہ جنگی کی نذر ہو چکا تھا۔چچا نے اس کی پرورش کی تھی لیکن چچی کی بدسلوکی کے باعث وہ اپنی مزید نہ رہنا چاہتا تھا۔

میرے کہنے سے صنوبر نے شام کے کالج میں داخل لے لیا۔وہ مختی اور ذہین تھا۔صبع سے پانچ بجے تک افتخار کے ساتھ آفس میں ہوتا اور ،شام کو کالج چلا جاتا۔رات کو کھانا کھا کر ہمارے دیئے ہوئے کوارٹر میں چلا جاتا۔تھا وہ میٹرک پاس لیکن بہت جلد افتخار کا آفس معاون ہو گیا،اس نے بزنس کے رموز سیکھ اور ،سمجھ لئے تھے تبھی اس کو آفس ورک سونپ دیا اور اس کی جگہ ایک اور شخص کو محافظ رکھ لیا گیا۔

روز ،اول سے ہی مجھ کو اس کے ساتھ لگاؤ ہو گیا تھا۔اس کی وجہ اس کی حلیمی ،سنجیدگی ،اور فرمانبرداری تھی۔اس نے انداز کرلیا تھا کہ کھرا،آدمی ہے اور ،جھوٹ بولنے والے لوگوں میں سے نہیں ہے۔میرا ،اندازدرست نکلا۔اس نے بہت جانفشانی سے ہر کام جو اس کے ذمے لگایا تھا گیا۔کیا تو ہمارے دل میں جگہ بنالی۔اب میں اس کے ہر مسئلے میں دلچسپی لیتی تھی۔اس کی زیادہ تر مسائل اپنی پڑھانی کے بارے میں ہوتے۔جس شے کی اس کو ضرورت ہوتی ،فوری پر مہیا کر دیتی تھی۔جب اس کے امتحان ہوتے ان دنوں ہم اس کو چھٹی دے دیتے اور ۔وہ پوری یکسوئی کے ساتھ پرچے دیتا۔یو ں اس نے گریجویشن کرلی۔

میرے جیٹھ لندن میں عرصہ سے سکونت پذیر تھے۔انہی دنوں وہ پاکستان آئے ۔افتخار کو کہا کہ تم میرے پاس لندن آجاؤ۔بزنس میں ماسٹرز کرلو۔میرے گھر رہو گے تو ہر طرح سے تمہارا خیال رکھا جائے گا،دراصل ان کا ارادہ میرے بیٹے سے اپنی بیٹی کی شادی کا تھا۔اسی وجہ سے افتخار کو اپنے ساتھ لے جانے پر مصر تھے،

میرا ،ایک ہی بیٹا تھا۔ نہیں چاہتی تھی کہ مجھ سے جدا ہو۔وہ اپنے والد کے بزنس کو بھی سنبھالے ہوئے تھا۔مگر اپنے تایا کے جوش دلانے پر نئی دنیا میں جانے کے خواب اس کی آنکھوں میں بس گئے۔اور ،وہ بزنس میرے حوالے کر کے لندن چلا گیا۔

شادی سے پہلے مین نے بزنس اینڈ ایڈمنسٹریشن میں ڈگری لی تھی۔شوہر کے کاروبار کو سنبھالا تھا۔مجھے کاروبار چلانے کا تجربہ تھا مگر اب افتخار کے بغیر خود  کو اکیلا محسوس کرتی تھی۔ایسے میں اگر کسی کا سہارا لے سکتی تھی۔تو وہ صنوبر ہی تھا۔وہ اپنے گھر بار سے محروم اور،رشتہ دارں سے ٹوٹا ہوا تھا۔اسے بھی کسی کے سہارے کی ضرورت تھی۔تبھی اس نے میرے کہنے پر تعلیم پوری کی اور اس قدر محنت کی کہ بی کام کیا اور پھر ایم کام کرنے کی سوچ رہا تھا۔جس روز افتخار لندن روانہ ہوا ،میں خوب روئی تبھی اس نے میرے دُکھ کو محسوس کرتے ہوئے تسلی دی کہا کہ میڈم آپ مجھ پر بھروسہ کریں۔آپ کو مایوس نہ ہونے دوں گا۔

اس کے ان الفاظ سے میں نے خود کو توانامحسوس کیا۔اس وقت مجھے اپنے محروم وجود کا شدت سے احساس ہو رہا تھا،تمام زندگی محرومی میںگزارنے کا قلق بھی آج کے دن ہی ہوا کہ جس بیٹے کیلئے عمر کے سنہرے دن بیوگی میں گزارے اس کو پالا پوسا بڑا کیا،مجھ کو چھوڑ کر سمندر پار چلا گیا تھا،میں اپنے کمرے میں بیٹھی ما ضی کی یادوں مین گم تھی ۔آج ازدواجی زندگی کا پر آسائش دور ،یادآرہا تھا۔ایسے میں ہمدردی کے چند الفاظ لئے میرا معاون صنوبر سامنے آیا تو نظریں اس کے غمگسار چہرے پر جم کر رہ گئیں۔

اس نے مجھے انتہائی خلوص کے ساتھ دلاسا دیا تھا۔وہ مجھے بہت اچھا لگا۔پانچ سال گزرنے کے بعد ایک پختہ اور مضبوط انسان نظر آرہا تھا۔اس کا وہ لڑکپن اور بھول پن ختم ہو چکا تھا۔وہ ایک پر اعتماد ،اور برُدناد ۔مرد دکھائی دے رہا تھا۔میرے دل میں خواہش اُبھری کہ میرا غم بانٹ لے اور۔ہم خوب جی بھر کر باتیں کریں۔مگر میرے اور اس کے درمیان جو فاصلہ تھا اس کو پاٹنا اس کے بس کی بات تھی اور نہ میرے بس کی۔وہ ملازم تھا اور میں مالکہ۔اس دن کے بعد میرے ہر طرح سے اس کا خیال رکھنے لگی اور ،وہ بھی پہلے سے زیادہ میری تانعداری کرنے لگا۔کئی بار سوچا کہ اگر میں بیوگی کے بعد ایک بار پھر سے نئی زندگی کے بارے میں سوچتی تو یقینا اسی طرح کے جیون ساتھی کی آرزو کرتی۔جو عورت کا احترام کرنے کے ساتھ دل سوزی سے غمگساری کا سلیقہ بھی جانتا ہو،لیکن زندگی کے اس موڑ پر جبکہ میرا بیٹاجوان تھا اور ،میری عمر پینتالیس سال تھی اس طرح کی آزرو کرنا ،دیوانے کا خواب ہی تھا،ایسی سوچ مجھ کو کسی طور زیب نہیں دیتی تھی۔ایک لمحہ کا یہ تصور بھی کہ اب میں پھر سے نئی زندگی شروع کروں،مجھے حجاب  دلانے کو کوئی تھا۔

میری اور صنوبر کی عمروں میں بہت فرق تھا،وہ عمر میں میرے افتخار کے برابر تھا۔اس کی عمر بائیس برس ہوگی۔تاہم جب اس نے ایک مضبوط مرد کی مانند میری غمگساری کی تو مجھ کو اس سے تحفظ کا وہ احساس ملا جو کسی عورت کو اس وقت درکار ہوتا ہے وہ ۔اکیلی اور بغیر مضبوط سہارے کے زندگی گزار رہی ہو۔اگرچہ دولت بھی ایک سہارا ہوتی ہے۔مگر یہ اتنا مضبوط سہارا نہیں ہوتا۔کبھی کبھی تو دولت ہی تنہا عورت کو بہت زیادہ غیر محفوظ کر دیتی ہے،

ان دنوں صنوبرخان میرا زیادہ خیال رکھ رہا تھا اور ،میرے دم میں اس کے لئے وہ فطری جذبات پیدا ہو رہے تھے جو میری عمر کی عورت کو زیب نہیں دیتی تھی۔میں توایک بچے کی ماں بنی اور بیوہ ہوگئی۔میری امنگیں اور آرزائیں ادھوری رہ گئیں۔اب جبکہ اپنی ذمہ دارں سے جاگی تو میرے اندر کی سوئی عورت بھی بیدار ہوگئی۔کبھی سوچتی اے کاش میرے کوئی اور اولاد ہوتی اور کبھی سوچتی کہ کیوں نہ پھر اپنا گھر بسایا تھا۔آج میرے اردگرد میرے اپنے تو ہوتے ۔اب جب بھی صنوبر خان آمدن کا حساب کتاب دینے آتا اور،و ہ میرے سامنے بیٹھا ہوتا۔میری کیفیت عجیب ہو جاتی ،میں کس طرح اس کو اپنی کیفیت بتائی کہ دوبارہ سے اپناگھر بسانا چاہتی ہوں۔اب سمجھ میں آیا کہ کیوں بیوہ کا دوبارہ گھر بسا لینا احسن ہے۔لوگ کہتے تھے کہ بیوہ کا شادی کرلینا کوئی جرم نہیں اور ان باتوں سے بیزاری محسوس کیا کرتی تھی۔غصہ آتا یہ کیوں ایسی باتیں میرے سامنے کرتے ہیں۔بیوگی کوئی جرم تو نہیں ،میرے پاس گھر ،دولت اولاد سب کچھ ہے۔مجھے کسی شے کی بھی ضرورت نہیں ہے مگر اب لگتا کہ عورت کا ہر حال میں حقیقی سہارا، اس کا جیو ن ساتھی ہی ہوتا ہے۔

ایک روز ہم دونوں گاڑی میں سبزی لینے مارکیٹ جارہے تھے۔کار ایک جگہ سگنل بند ہونے کے باعث رکی تو ایک بوڑھے بھکاری نے ہاتھ پھیلا کر کہا کچھ دے دیں بھوکا ہوں۔اللہ آپ کی جوڑی سلامت رکھے۔میں نے پچاس روپے اس کو دیئے اور کار آگے بڑھا دی۔کن آنکھیوں سے صنوبر کی جانب دیکھا ۔وہ بھی کچھ خفیف سا ہو گیا تھا۔تبھی اس کی خفت مٹانے کو میں بولی ۔توبہ ہے کبھی کبھی یہ بھکاری کبھی کسی انہونی بات کہہ دیتے ہیں۔اب اس عمر مین بھی کوئی عورت بیاہتا ہو سکتی ہے۔

کیوں نہیں ،ماشاء اللہ آپ کسی طرح بھی زیادہ عمر کی نہیں لگتیں۔جبکہ اپنی قامت کی وجہ سے آپ سے عمر میں زیادہ لگتا ہوں۔اس کی یہ بات سن کر میرے دل میں مسرت کا دریا بہنے لگا۔میں نے کہا ۔انسان کو اسمارٹ رہنا چاہئے اپنے خیال رکھنا چاہئے ۔صنوبر خان مگر تم تو ایسے کام میں مگن ہوگئے ہو کہ اپنے سر اپے کابھی تمہیں ہوش نہیں رہا۔

کہنے کو تو میں نے کہہ دیا یہ بات کر کے خود ہی شرمندہ ہوگئی۔اب مجھے خفیف دیکھ کر اس نے میری خفت کو دور کرنا چاہا۔میڈم صحیع ہے یہ۔آپ وقعی اپنی عمر سے دس برس کم لگتی ہیں۔بس رہنے بھی دو۔تم مبالغہ آرائی سے کام لے کر مجھے غلط فہمی میں مبتلا کر رہے ہو۔میڈم میں مبلغہ آرائ سے کام نہیں لے رہا حقیقت بیان کر رہا ہوں۔آپ اب بھی شاندار ہیں ،خود سے بیشک غافل رہی ہیں۔آپ نے زندگی میں کیا دیکھا ہے۔آپ کو تو صرف اپنے بچے کی پرورش اور،مستقبل کی فکر رہی ہے اور۔ دن رات اسی دھن میں سرگرداں رہی ہیں ۔چاہیں تو نئی خوشیاں حاصل  کر سکتی ہیں،کیا کہہ رہے ہو صنوبر خان میں ہنس پڑی۔کیا مجھے بہلا رہے ہو؟نہیں نہیں اسے احساس ہوا کہ وہ حد سے پڑھ گیا تبھی معذرت خواہانہ انداز میں بولا۔معافی چاہتا ہوں۔شاید آپ کو میری باتیں ناگورا گزری ہیں ۔نجانے بے خیالی میں کیا کہہ گیا۔یہ بات نہیں ہے۔مگر تم ہی سوچو جبکہ آج سن لڑکیاں گھروں میں بن بیاہی بیٹھی ہیں ،مجھے ایسی عمر رسیدہ سے کون شادی کے گا۔وہ تھوڑی دیر چپ رہا پھر بولا۔اگر ناراض نہ ہوں تو ایک بات کہنے کی جسارت کروں؟کہوصنوبر خان ،میں آپ سے شادی کی آزرو رکھتا ہوں۔مجھے آپ کی چاہت ہے اگر آپ چاہیں تو۔

میں اس کی دیدہ ،دلیری اور جرات پر حیران رہ گئی۔سوچا بھی نہ تھا ایسا مطیع وفرمان بردار میرا ملازم کبھی مجھے اتنی بڑی بات کہہ دے گا۔یکدم خاموش ہوگئی۔وہ سمجھا کہ ناراض ہوگئی ہوں۔تب اس کو بھی سانپ سونگھ گیا۔کچھ دیر خاموشی کے بعد اس نے کہا ،میڈم مجھے معاف کر دیجئے ۔آپ سے یہ بات کر کے بہت شرمندہ ہوں۔

میں نے خود کو سنبھالا ۔دل کی دھڑکنوں کو قابو کی اور کہا ۔میں ناراض نہیں ہوں تم سے صنوبر خان ،تم واقعی بہت اچھا ہو لیکن ہماری عمروں میں بہت فرق ہے۔تم نے محض مجھ سے ہمدردی کے تحت ایسی جذباتی بات کہی ہے۔لیکن جذبات فیصلوں پر ہمیشہ انسان کو پچھتانا پڑتا ہے۔

اس نے پر عزم لہجے میں کہا اب سے ایسی بات کہنا گستاخی تو ہو سکتی ہے۔لیکن یہ جذباتی فیصلہ بالکل نہیں ہے۔میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ بات کہی ہے ۔میری عمر کا اتنا فرق ہے صنوبر کہ اب مین بچوں کی ماں بھی نہیں بن سکتی۔میں اس عمر سے بھی آگے نکل چکی ہوں جبکہ تمہاری عمر کے لوگ شادی کے بعد بچوں کی آرزو کرتے ہیں۔

آپ کی اولاد ہے افتخار کو سلامت رکھے۔اور میں ضروری نہیں سمجھتاکہ میری اولاد ہو،تبھی مجھے لگا کہیں یہ میری دولت پر نظریں نہ جمائے ہو۔خود سے چھوٹے بندے سے شادی کرنے کا مطلب تو بڑھاپے میں خود کی مٹی پلید کرنا ہے۔

اچھا تم سوچ لو ۔میں بھی سوچ کر جواب دوں گی۔اب میں سخت کشمکش میں تھی۔دل کہتا کہ اس پیش کش کو مان لوں اور ،دماغ کہتا کہ نہیں اب وقت بیت گیا ہے۔—انسان اتنے اچھے بھی نہیں ہوتے۔اچھے اچھے مرد بھی فریب دے جاتے ہیں ۔کہیں یہ فریب نہ ہو۔دھوکا نہ ہو۔کافی دن ہم دونوں چپ چپ رہے یہ چپ بے معنی نہ تھی۔طوفان اندر ہی اندر پل رہا تھا۔اب میں راتوں کو سو نہ سکتی تھی۔بالآخر میرا زہین و میرا وجود تھک گئے اور بیمار پڑ گئی۔

گھر میں اب کون تھا صنوبر کے سوا۔اسی کو میری تیمارداری کرنا تھی۔ڈاکٹر کے پاس لے جانا تھا اور ،میری دوا لانی تھی۔اس نے یہ سب کچھ کیا تو میں نے سوچا واقعی اکیلی عورت کو کسی مضبوط سہارے کی کتنی ضرورت ہوتی ہے۔مجھے بھی یقینا صنوبر سے محبت نہیں ہے مگر وہ میری ضرورت بن گیا تھا۔اس نے اپنے صاف ستھرے طوز عمل سے ایسی جگہ بنالی تھی کہ ذہین نے اس کو ملازم کی بجائے اپنا مخلص ساتھی سمجھا شروع کر دیا تھا۔

آدمی ہر لمحہ ایک بات ہی سوچتا رہے تو اس کشمکش سے نکل بھی نہ سکے۔تب ایک دن ضرور وہ اپنی قوتیں کھو بیٹھتا ہے۔ہر پل سوچنے سے میرے بھی اعصاب جواب دے گئے سر میں درد ،رہنے لگا تھا۔ میں نے بزنس کے معاملات سے بھی ہاتھ اٹھا لیا تھا۔تمام امور صنوبر کے ذمے ہو گئے ۔ایک دن سر میں شدید درد تھا ،اور میں اپنے ہاتھوں سے اپنا سر دبا رہی تھی کہ صنوبر آفس سے آگیا۔اس کے ہاتھ میں کچھ فائلیں تھیں۔میرے کمرے میں آنے کی اجازت طلب کی۔میں نے کہا ۔یہیں مجھے فائلیں دکھا دو مگر میرا سر درد سے پٹھا جارہا ہے۔وہ کرسی لے کر میرے پاس آبیٹھا،فائلیں ایک جانب رکھ دیں اور بولا۔کیا میں آپ کا سر دبا ،دوں نہیں مگر فائلیں مت کھولو۔صبع دکھا دینا۔اس نے منع کرنے کے باوجود میری پیشانی پر ہاتھ رکھا اور دنانے لگا ۔مجھے سکون ملا۔

نے شک عورت کو اپنی پاکباری اور مرد کی ذات پر اعتبار نہ کرنا چاہئے۔کیونکہ یقین کی دیواریں قلعہ کی مانند بھی مضبوط ہوں ،ان کو ٹوٹ جانے کا خطرہ رہتا ہے،میرے اند ر بھی ایک محروم عورت برسوں سے سکتی رہی تھی،جو بہار کے کسی تازہ جھونکے کی منتظر تھی۔اور ،اب اتنی کمزور ہو رہی تھی کہ دلدل میں بھی گر سکتی تھی۔مین نے حالانکہ شوہر کی وفات کے بعد کبھی کسی کی جانب آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا اور پاک دامنی کی زندگی گزاری تھی۔تاہم کبھی کبھی کوئی کمزور لمحہ انسانی زندگی کے سارے بند کرلیں۔اور یوں ظاہر کیا کہ اس وقت صنوبر سے بھی کلام کرنے کی سکت نہیں ہے مجھے میں۔

صنوبر نے جان لیا کہ میں اس گھر کی چھت کے اپنے اوپر گر جانے کے ڈر سے سمہی پڑی ہوں۔لہذا اس نے معذرت چاہی اور میرے کمرے سے چلا گیا۔بولا ۔میڈم آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں آپ آرام کر لیں۔میں صبع فائلیں چیک کر والوں گا۔

وہ اگلے روز بھی نہ آیا اور نہ اس کے بعد والے دن ،تبھی میں نے اس کو فون کیا۔وہ بولا آفس سے آج آپ کے پاس آجاؤں گا۔سوچا آپ آرام کرلیں۔اس کا لہجہ اس قدر سپاٹ تھا کہ مجھے لگا وہ اب میری ملازمت چھوڑ کر چلا جائے گا۔اس کو میرے خوف اور پریشانی سے بخوبی آگہی تھی۔وہ اب اتنا تجربہ کار ہو چکا تھا کسی اور بہت اچھی کمپنی میں اس کو ملارمت مل سکتی تھی۔

شام کو وہ آگیا۔مجھ سے نہایت اہم کچھ فائلیں چیک کرائیں۔کچھ کاغذات پر دستخط کرائےتھے۔وہ بھی کر دیئے میں نے تب اس نے کہا میڈم آپ نے میری درخواست کا جواب نہیں دیا ابھی تک؟شاید آپ اتنے اہم فیصلے سے ڈرتی ہیں۔شاید آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں ہے۔تو بھی کوئی بات نہیں ہے۔ہم بھلا دیتے ہیں کہ ہم،ارے درمیان کوئی ایسی بات ہوئی تھی۔میرے اعصاب مضبوط اور سوچ متوازن ہے۔آپ بھی اپنے اعصاب کو مضبوط رکھیں تاکہ آپ کے بزنس پر برا ۔اثر نہ پڑےاور بزنس کے امور پر پہلے کی طرح دلچسپی لیں۔افتخار نے کافی پیسے منگوالئے ہیں۔اب اور ،زیادہ ہم کو بزنس پر توجہ دینی ہو گئی۔

اس کی گفتگو سے میرے دل و ذہین پر چھائے بادل چھٹ گئے ،مگر اس کا خیال دل سے نہ گیا۔نہ چاہتے ہوئے بھی کہہ دیا کہ ۔مجھے واقعی ایک مضبوط سہارے کی ٖضرورت ہے۔افتخار کو خدا سلامت رکھے مگر اب وپ اپنی نئی زندگی میں گم ہو گیا ہے،مجھے معلوم ہے میں واقعی گھر بسانا چاہتی ہوںمگر تمہارے بارے میں سوچتی ہوں کہ تم کو اس میں خسارہ ہوگا،جبکہ مجھے نہیں ۔مجھے بھی خسارہ نہیں ہے،وہ بولا کیونکہ میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔تو ٹھیک ہے مگر افتخار کو کیسے کہوں کہ میں اس عمر میں شادی کی خواستگار ہوں۔آپ اپنے جیٹھ کو کہنے ۔وہ یورپ میں ہیں جہاں اس معاملے میں لوگ اور طرح سوچتے ہیں۔یقینا وہ آپ کی مدد کریں گے۔بڑی ہمت کر کے میں نے جیٹھ کو فون کردیا۔اور ان کو اپنے مسئلے سے آگاہ کیا ،وہ بولے آپ ضرور شادی کرلیں۔افتخار کو میں سنبھال لوں گالیکن بزنس کی مالک آپ ہی رہئے گا،کسی اور کو مالک نہ بنایئے گا ورنہ اپنے ہاتھ کٹوا بیٹھیں گی۔

جیٹھ کی اجازت سے میں نےصنوبر خان سے نکاح کیا۔انہوں نے افتخار کو بعد میں آگاہ کیا مگر اس کو اس بات پر راضی نہ کر سکے کہ وہ ،ما ں کی دوسری شادی کو قبول کر لیتا۔وہ سخت برہم ہو ا ،اور ،اس نے مجھ سے قطع تعلق کر لیا۔کچھ عرصہ بعد پاکستان آکر بزنس میں بھی اپنے نام کروایا۔اور مجھے صرف مکان اور زیورات کے کر تمام سرمایہ خود لے گیا۔بیٹے کو بزنس کا سارا ۔سرمایہ دے کر بھی میں خوش تھی مگر اے کاش وہ مجھ سے راضی ہو جاتا۔کیونکہ میرے سرمائے کا لالچ صنوبر کو نہ تھا اس کو ایک جگہ بہت اچھی تنخواہ پر ملازمت مل گئی تھی۔عقدثانی کر کے میں نے اپنا بیٹا ضرور کھودیا ۔اگر میں عقدثانی نہ کرتی تو بیٹا ہ کھوتی۔

مجھے صنوبر سے کوئی شکوہ نہیں۔اس نے واقعی عمروں کے فرق کے باوجود مجھ سچی محبت کی۔میرا ۔اتنا خیال رکھا کہ ذرا بھی تکلیف نہ ہونے دی ۔لیکن میرا دل اس کی انتی ساری محبت پاکر بے سکون ہی رہا کیونکہ جس بیٹے کو جوانی کے سنہرے دنوں کو قربان کر کے پروان چڑھایا ۔آج اسے مجھ سے ملنا منظور نہیں ہے۔میری بیوگی اگرچہ میرا جرم نہیں مگر عقدثانی میرا جرم ہے۔

(ص۔۔۔ملتان)

Na Kardah Gunah Ki Saza | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Na Kardah Gunah Ki Saza | Teen Auratien Teen Kahaniyan

سچ ہے کالج کی زندگی بہت پرکشش اور یادگار ہوتی ہے۔ اسی بہترین دور کی میری ساتھی شاہینہ تھی۔ جو اپنی نادانی کے ہاتھوں زندگی کی خوشیاں گنوا بیٹھی۔ شاہینہ بہت ذہین لڑکی تھی۔ اسے خالق نے حسن کی دولت بھی عطا کی جو سے ساری کلاس میں منفرد بناتی تھی۔ اس کا اپنا الگ […]

0 comments
Hue Tum Jiss Kay Dost Teen Auratien Teen Kahaniyan

Hue Tum Jiss Kay Dost Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents کچھ دنوں سے منصب بھائی پریشان سے دکھتے تھے۔ وہ ایف ایس سی فرسٹ ایئر کا امتحان دے چکے تھے اور سیکنڈ ایئر شروع ہونے سے پہلے چند روز کی چھٹیاں ملی تھیں۔ امی کو فکر ہوئی کہ پرچے تو ہو چکے، صاحبزادے اب کیوں پریشان ہیں۔ شاید رزلٹ کی فکر ہے […]

0 comments
Sunehrey Khawaboun Ki Chahat Main Teen Auratien Teen Kahaniyan

Sunehrey Khawaboun Ki Chahat Main Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents ہمارے گائوں میں جب فصل کٹ جاتی اور اناج کے ڈھیر کھیتوں میں چمکنے لگتے، کسانوں کی آنکھوں میں بھی چمک آجاتی۔ سال بھر کا اناج گھروں میں ذخیره کرلیا جاتا، تبھی میلے کا موسم آجاتا۔ اس بار بھی میلہ سج گیا۔ گائوں کی دوسری لڑکیوں کے ساتھ میں بھی میلہ دیکھنے […]

0 comments
Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen Kahaniyan

Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen KahaniyanKash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen KahaniyanComplete storyہمارے گائوں میں جب فصل کٹ جاتی اور اناج کے ڈھیر کھیتوں میں چمکنے لگتے، کسانوں کی آنکھوں میں بھی چمک آجاتی۔ سال بھر کا اناج گھروں میں ذخیره کرلیا جاتا، تبھی میلے کا موسم آجاتا۔ اس بار بھی میلہ سج گیا۔ گائوں کی […]

0 comments
Woh Hadsa Bhoolta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan

Woh Hadsa Bhoolta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents ایک دن میں اپنی دوست منورہ کے گھر گئی تو اس کی ملازمہ شاداں کو روتے دیکھا۔ پوچھا۔ اس کو کیا ہوا ہے؟ منوره نے بتایا۔ اس کا خاوند بہت بیمار ہے تبھی بیچاری پریشان ہے۔ وہ تو اچھا خاصا تندرست تھا اور ان کے حالات بھی ٹھیک تھے تو کیونکر بیمار […]

0 comments

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments