Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen KahaniyanKash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen Kahaniyan

Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents

Kash Bikharan Ban Jati Teen Auratien Teen Kahaniyan

Complete story

ہمارے گائوں میں جب فصل کٹ جاتی اور اناج کے ڈھیر کھیتوں میں چمکنے لگتے، کسانوں کی آنکھوں میں بھی چمک آجاتی۔ سال بھر کا اناج گھروں میں ذخیره کرلیا جاتا، تبھی میلے کا موسم آجاتا۔ اس بار بھی میلہ سج گیا۔ گائوں کی دوسری لڑکیوں کے ساتھ میں بھی میلہ دیکھنے گئی تھی اور اس کے تیکھے پن پر دل ہار کر آگئی۔ جس بے جگری سے اس نے اپنا گھوڑا جلتے ہوئے الائو سے پار کیا تھا، وہ جواں مردوں ہی کا کام تھا۔ الائو کیا تھا، آگ کا دریا تها کہ جس میں وہ گھوڑے پر بیٹها دیوتائوں کی شان سے گزرا تھا۔ میں نے اسی وقت قسم کھالی تھی کہ شادی کروں گی تو اسی شیردل سے، ورنہ زہر کھا کر مر جائوں گی۔ زہر کھانے کی نوبت نہ آئی اور میری شادی نوشیرواں سے ہوگئی۔ وہ مجھے اپنے مضبوط اور قدآور گھوڑے پر بٹھا کر اپنے گائوں لے گیا۔ اب ہم ایک ایسے بندھن میں بندھ چکے تھے کہ صرف موت ہی ہمیں جدا کرسکتی تھی۔ اگرچہ اس شادی پر رشتے دارخوش نہ تھے کہ میری منگنی ہوچکی تھی۔ خاندان والوں نے مخالفت کی۔ ادهر نوشیرواں کے بھائیوں اور بھاوجوں نے بھی اس کو برابھلا کہا۔ میرے والدین نے تو مجھ کو مرا ہوا سمجھ لیا تھا، بس ایک نانا تھے جنہوں نے میرا ساتھ دیا۔ اس بزرگ کے ہمراہ ہوجانے کے بعد ہم نے کسی کی پروا نہیں کی۔ میری ماں مجھے بچپن میں ہی نانا، نانی کو سونپ کر خود دوسری شادی کرکے چلی گئی تھی۔ نوشیرواں کے ماں باپ بھی اس کے بچپن میں مرچکے تھے۔ مدتوں پیار سے ہم دونوں محروم تھے۔ مجھے اپنی منگنی ٹوٹنے کا ذرا دکھ نہ تھا۔ جس باپ نے پلٹ کر خبر نہ لی، اس کے بھائی کے بیٹے کی دوسری بیوی کیوں بنتی۔ ابا نے نانا پر بہت دبائو ڈالا مگر وہ ڈٹ گئے۔ کہا کہ اس کو پال پوس کر بڑا ہم نے کیا، تم نے تو عید برات پر بھی ایک ٹکا بچی کے ہاتھ پر نہ رکھا۔ اب وارث بننے آگئے ہو۔ میری نواسی اٹھارہ برس کی ہو چکی ہے، زبردستی لے جائو گے تو میں کورٹ چلا جائوں گا۔ دیکھتا ہوں تم کیسے کرتے ہو کندنی کی شادی اپنے بھتیجے سے… نانا کی دلیری سے میں ایک جہنم سے بچ گئی۔ جس کے ساتھ میرا باپ شادی کرانا چاہتا تھا، وہ پہلے سے پانچ بیٹیوں کا باپ، مجھ سے عمر میں دگنا تها۔ محض اولاد نرینہ کی چاہ میں دوسرا بیاہ رچانا چاہتا تھا۔ معاملہ آسانی سے ختم ہوگیا۔ نانا، نوشیرواں سے مطمئن تھا کہ کسی طور کما کر دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر ہی لے گا۔ بے جوڑ شادی سے تو پھر یہ نوشیرواں کیا برا تھا۔ وہ مجھ سے محبت کرتا تھا۔ دنیا اس کو چور، أچکا اور لٹیرا کہتی تھی۔ دوسروں کی نظروں میں وہ مجرم تھا۔ میں نے کبھی اس کو چڑیا کو ستاتے ہوئے نہ دیکھا تھا۔ وہ زمین پر پائوں بھی دهرتا تو دیکھ بھال کر کہ کہیں کوئی ذی روح اس کے بوجھ سے نہ روندا جائے۔ اس روز معمولی جھگڑا تھا۔ کسی کمزور پر کسی طاقتور نے ناحق ہاتھ اٹھایا تھا۔ کمزوربیچارا کیا مقابلہ کرسکتا ہے، ضمیر سے نہ رہا گیا۔ میں نے اس کا دامن تھاما بھی مگر وہ نہ رک سکا اور مظلوم کی مدد کے لئے میدان میں کود پڑا۔ جھگڑنے والوں میں ایک پولیس والے کا سالا تها۔ سمجھ لو کہ مقابلہ پولیس سے تھا اور ان کے ہاتھوں میں بندوقیں بھی ہوتی ہیں۔ نوشیرواں تنہا تها اور وہاں گولیاں چل گئیں۔ گولی نوشیرواں کا جگر چیرتی ہوئی نکل گئی اور وہ وہیں تڑپ کر ڈھیر ہوگیا۔ یوں پولیس والے نے دشمنی کا بدلہ میرے ساگ سے لے لیا۔ جس کا قصور اتنا تھا کہ وہ ایک طاقتور کی کلائی پکڑ کر مظلوم کو بچانے گیا تھا۔ اس کا اپنا تو کوئی معاملہ نہ تھا۔ کتنی

جلد زندگی کے خوبصورت دن تمام ہوگئے۔ ایک میرا منا راجہ ہی میرا غمگسار تھا۔ کیسے کہوں کہ اس کے بعد مجھ پر کیا بیتی، راجہ کی پیدائش سے پہلے بھی میں نے نوشیرواں کو کوئی جرم کرتے نہ دیکھا تھا۔ وہ قسم کھا کر کہتا تھا۔ لوگ جھوٹ کہتے ہیں۔ میں نے کبھی چوری نہیں کی، جهوٹ نہیں بولا، کسی کو نہیں ستایا، یونہی بس دشمنی میں حوالات پہنچا دیا جاتا ہوں۔ بیٹے کی پیدائش سے اتنا خوش تھا کہ رات کو اٹھ اٹھ کر الله تعالی کے حضور سجدئہ شکر ادا کیا کرتا تھا۔ کہتا تھا کہ خدایا! | تو نے یہ نعمت بن مانگے دی ہے، میرے جگر کے ٹکڑے کو کوئی دکھ نہ دینا اور نہ اس کا دکھ مجھ کو دکھانا۔ نوشیرواں کے مرنے کے بعد میری دنیا اندھیری ہوگئی، غم سہنے کو تنہا رها گئی۔ لاکه زمانے کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ میرا ساتھی برا نہ تها، وه مجرم نہ تھا۔ کسی نے یقین نہ کیا۔ اس کے مرنے کے بعد بھی مجھ سے نفرت بهرا سلوک کیا۔ وہ برتائو کیا جو مجرموں سے کیا جاتا ہے۔ گویا اس کی بیوه ہونا بھی جرم تھا جس کی مجھ کو سزا مل رہی تھی۔ جس در جاتی، وہی در بند ہوجاتا، جس سے مدد کی درخواست کرتی، وہ منہ پھیر کر چل دیتا۔ رفتہ رفتہ بھوک نے مجھے نڈھال اور راجہ کو آدھ موا کردیا۔ دو سال کا راجہ، چھ ماہ کا نظر آنے لگا۔ اس کی ٹانگیں سوکھنے لگیں، چلنے پھرنے سے معذور ہوگیا۔

جسم پر طرف ہڈیاں اور کھال تھی خوراک کی کمی سے اس کو سوکھے کی بیماری ہوگئی۔ عورتیں اس کی پرچھائیں سے اپنے بچوں کو بچانے لگیں۔ لوگ ہم ماں، بیٹے سے یوں ڈرنے اور نفرت کرنے لگے جیسے ہم انسان نہ ہوں، بھوت پریت ہوں۔ تھک ہار کر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب میں یہ گائوں چھوڑ دوں گی۔ نانا کے انتقال کے بعد اب میرا یہاں کون رہ گیا تھا۔ ایسی جگہ رہنے سے کیا فائدہ کہ جہاں کسی کو مجھ سے ہمدردی نہیں تھی۔ ان ہی دنوں نوشیرواں کے دو چچازاد بھائی اپنے بال بچوں کے ساتھ شہر

جارہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ وہاں محنت مزدوری کریں گے اور جب اتنا روپیہ جمع ہوجائے گا کہ ویزا خرید سکیں تو دبئی چلے جائیں گے۔ میں نے بھی ان کے ساتھ جانے کا فیصلہ کرلیا۔ کس طرح میں کراچی تک پہنچی، یہ ایک الگ داستان ہے۔ شہر پہنچ کر انہوں نے غریبوں کی بستی میں جھگیاں ڈال لیں۔ مرد محنت، مزدوری کرنے لگے اور عورتوں نے گھروں میں کام تلاش کرلیا۔ میں نے بھی کئی بنگلوں اور کوٹھیوں کے در کھٹکھٹائے کہ مجھ کو کام چاہئے۔ وہ پوچهتیں کہ کیا اس بیمار بچے کو بھی ساتھ لائو گی؟ جی ہاں بیگم صاحبہ… کیونکہ میرے پیچھے اس کو دیکھنے والا کوئی نہیں۔ تب بیگمات فورا انکار کردیتیں۔ اگر بچہ لائو گی تو ہم تم کو ملازم نہیں رکھ سکتے، بچے کے بغیر ہی کام پر آنا ہوگا۔ کئی دن یونہی گزر گئے، ہر در سے مایوس لوٹا دی گئی۔ میری جیٹھانیاں صبح کام پر چلی جاتیں اور میں اپنے بچے کے ساتھ جھگی میں اکیلی رہ جاتی۔ کوڑے کے ڈھیر کو لکڑی سے کریدتی کہ شاید کسی نے باسی ڈبل روٹی شاپر میں لا پهینکی ہو۔ بھوک سے تنگ آکر میں نے فیصلہ کرلیا کہ بچے کو جھگی میں ہی چھوڑ کر کام پر چلی جایا کروں گی۔ دونوں بھاوجوں کے بچے بڑے تھے، وہ بھی کوٹھیوں میں کام پر لگ گئے۔ آخر مجھے بھی اپنے لخت جگر کو زندہ رکهنا تها۔ جس جھگی میں، میں رہتی تھی، اس کے سامنے ہی ایک اور جھگی بنی ہوئی تھی جس میں ایک گداگر عورت اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ وہ اور اس کا لنگڑا شوہر بھیک مانگنے جاتے تھے۔ کبھی اپنے بچے ساتھ لے جاتے اور کبھی جھگی میں چھوڑ جاتے۔ یہ عورت میرا حال دیکھ رہی تھی۔ اس کو اندازه ہوگیا کہ بہت مجبور ہوں۔ وہ بولی۔ اپنا چھوٹا بچہ، لڑکی کے پاس چھوڑ جاتی ہوں، تم بھی میری بیٹی کے پاس بچہ چهوڑ کر کام پر چلی جایا کرنا۔ اس کی لڑکی آٹھ نو سال کی تھی۔ یہ عورت اکثر مجھ کو کھانا بھی دیا کرتی۔ وہ مجھ پر ترس کھاتی اور میں اسے اپنا ہمدرد سمجھتی تھی۔ ایک دن اس کے شوہر نے کہا اگر تم بھی گداگری کرلو تو اچها گزارہ ہوجائے گا۔ تمہارا لڑکا کمزور ہے، لوگ اس پر ترس کھا کر تم کو پیسے دے جائیں گے۔ بس اسٹاپ کے پاس ایک چادر فٹ پاتھ پر بچا کر بیٹھ جانا اور بچہ ساتھ بٹھا لینا۔ میں نے اس کام سے انکار کردیا کیونکہ بھیک مانگنے کو میرے ضمیر نے گوارا نہ کیا۔ تاہم اپنا بچہ اس کی لڑکی کے حوالے کرکے خود کام پر جانے لگی۔ درمیان میں وقفہ مل جاتا تو جھگی میں واپس آکر بچے کو دیکھ جاتی اور کچھ کھلا پلا بھی دیتی۔ اس لڑکی نے چند دن تو راجہ کا خیال رکھا پھر وہ بھی بیزار ہوگئی۔ اس نے میرے بچے کی پروا کرنا چھوڑ دی۔ اپنے چھوٹے بھائی کو اٹھا کر وہ سڑک پر جاکھڑی ہوتی۔ کبھی میدان میں کھیلتے بچوں کے پاس چلی جاتی اور اپنی بوریت دور کرتی۔ راجہ جھگی میں اکیلا پڑا رہتا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ میں ایک گھر کا کام کر کے جلد واپس آئی، دیکھا کہ راجہ جھگی میں نہیں ہے۔ وہ کھسک کھسک کر میدان کے درمیان پہنچ جاتا اور میرے انتظار میں دھوپ میں بلکتا رہتا۔ کبھی کبھار وہاں سے گزرتے ہوئے کوئی خدا ترس بنده اس کو اٹھا کر چھائوں میں بٹھا جاتا۔ دوسری جھگیوں میں سے کوئی عورت میدان سے گزرتی، اس کے پیاسے لبوں سے پانی کا کٹورا لگا دیتی ورنہ وہ یونہی تڑپتا روتا اور چلاتا رہتا۔ ایک روز بیگم نے پلائو دیا اور میں دوڑی دوڑی میدان کی طرف گئی تاکہ اپنے بچے کو گرم گرم کھانا کھلا سکوں۔ وہاں پہنچی تو راجہ کہیں نظر نہ آیا۔ آنکھوں تلے اندھیرا چھانے لگا۔ وہ جھگی میں، میدان میں، ادهر دهر، دور اور نزدیک کہیں بھی نہیں تھا۔ میں دوڑی ہوئی گداگر عورت کی جھگی میں گئی، وہ بھی خالی تھی، صرف بانس اور پرانے کپڑے لٹک رہے تھے۔ وہ بھکاری لوگ اپنا سامان اٹھا کر کوچ کرگئے تھے۔ آه! میرا کلیجہ پھٹنے لگا۔ وہ میرے راجہ کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ شاید اس عورت کے لنگڑے شوہر کا ہی یہ منصوبہ تھا جو اکثر مجھ کو گداگری پر اکسایا کرتا۔ کہتا تھا کہ اگر تم ہماری مان لو تو تیرا یہ معذور بچہ بہت کمائی دے گا۔ انہوں نے اپنی منشا پوری کرلی اور میری گود کا پھول چرا کر لے گئے۔ ان بے رحموں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اس کے بغیر میری زندگی کتنی اذیت ناک اور ویران ہوجائے گی۔ ایک راجہ ہی تو میری جان ،بے آب و گیاه جهان کا پھول تھا جس کی خاطر جی رہی تھی۔ راجہ کو کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔ پاگلوں کی طرح سڑکوں پر پھرتی رہی۔ اس کو ڈھونڈتے، پکارتے بھکارن ہی بن گئی مگر وہ نہ ملا۔ بھلا کہیں کھوئے ہوئے لعل بھی واپس ملتے ہیں۔ اے کاش! اس وقت بھکارن ہی بن جاتی، اپنے لعل کو خود سے جدا نہ کرتی۔ (ب… فاضل پور)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *