Hue Tum Jiss Kay Dost Teen Auratien Teen Kahaniyan

Hue Tum Jiss Kay Dost Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents

کچھ دنوں سے منصب بھائی پریشان سے دکھتے تھے۔ وہ ایف ایس سی فرسٹ ایئر کا امتحان دے چکے تھے اور سیکنڈ ایئر شروع ہونے سے پہلے چند روز کی چھٹیاں ملی تھیں۔ امی کو فکر ہوئی کہ پرچے تو ہو چکے، صاحبزادے اب کیوں پریشان ہیں۔ شاید رزلٹ کی فکر ہے کیونکہ والد صاحب ٹیوشن کے خلاف تھے اور بھائی کو میڈیکل میں داخلے کے لئے میرٹ بنانا تھا۔ تبھی انہوں نے باقاعده خالہ کے گھر جانا شروع کردیا۔ ان دنوں میرے خالو ملازمت کے سلسلے میں علی پور کے قریب ایک شہر میں مقیم تھے۔ لہذا ہر چھٹی پر بهائی وہاں کا رخ کر لیتے۔

خالہ اور خالو ، بے شک ہم لوگوں سے محبت کرتے تھے لیکن وہاں جانے کی وجہ ان کا محبت بھرا سلوک نہ تھا بلکہ یہ اور ہی لگن تھی جو میرے بهائی کو اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔ بھائی نے ان کی بیٹی ماہین کو پسند کر لیا تھا ۔ اسی کی کشش ان کو علی پور سے خالہ کے گھر لے جاتی تھی۔ ماہین بھی ان کی منتظر ہوتی، جب بھائی کو دیکھتی خوش ہو جاتی۔ ایک روز امی منصب سے کہنے لگیں۔ بیٹے جان! تم ہر چھٹی خالہ کے ہاں چلے جاتے ہو، کبھی مجھ سے نہیں پوچھتے کہ امی جان آپ نے چلنا ہے؟ اس بار مجھے بھی ساتھ لے کر چلنا میں تیری خالہ سے ملوں گی۔ ضرور امی جان آپ جمعہ کی شام کو تیار رہنا۔ جمعہ کی صبح سے امی تیار ہو بیٹھیں۔ منصب بھیا کے ہمراہ وہ خالہ کے گھر گئیں۔ تبھی بیٹے کے وہاں جانے کا سبب معلوم ہو گیا۔ انہوں نے خالہ سے مابین کا رشتہ طلب کر لیا۔ خالو سے بھی بات کی، وہ پہلے سے ہی جی میں یہی ٹھانے بیٹھے تھے۔ فورا ہاں کہہ دی۔ ہماری خاندانی روایات کے مطابق ماہین سے شادی کی بات پکی ہوتے ہی منگیتر کا اس کے گھر آنا جانا عام نہ رہا، بلکہ حجاب کی دیوار اٹھا دی گئی۔ اب وہ کئی دنوں بعد جاتے۔ انہی دنوں ایف ایس سی کے امتحان کی تیاری بھی کر رہے تھے۔ جب بھائی نے ایف ایس سی، اچھے نمبروں سے پاس کر لیا۔ مابین کا رزلٹ بھی آگیا۔ وہ ایف اے میں فیل ہو گئی تھی۔ خالو نے بیٹی کو کالج سے ہٹا لیا۔ امی افسرده تھیں۔ تبھی بھائی نے ان سے کہا کہ کوئی بات نہیں اگر مابين آگے نہیں پڑھ سکتی۔ تو اسی قدر تعلیم اس کے لئے کافی ہے۔ ماہین کی سہیلی عقیلہ پاس ہو گئی۔ بہت خوش تھی۔ خالہ کے پڑوس میں رہتی تھی۔ عقیلہ، افسرده مابین کو حوصلہ دلانے کو ہر روز ان کے گھر آنے جانے لگی۔ اسے سمجھایا کہ میں جو کالج سے پڑھ کر آئوں گی روز کے روز تم کو پڑھا دیا کروں گی، تم گھر پر ہی امتحان کی تیاری کر لینا۔ کوئی بات نہیں، اگر تمہارے والد کالج جانے کی اجازت نہیں دے رہے، محنت کر لو تو گھر پر تیاری کر کے بھی بطور پرائیویٹ طالبہ کے امتحان دے سکتی ہو۔ اس طرح اس نے میری کزن کو مایوسی میں امید کی کرن دکھائی تو خالہ اس کی مشکور رہنے لگیں۔ مابین کو پڑھانے کے بہانے اب وہ ہر وقت خالہ کے گھر گھسی رہتی۔ جب بھی منصب بھائی وہاں جانے سب سے پہلے ان کا عقیلہ سے ہی سامنا ہوتا۔ لگتا تھا کہ یہ اسی کا گھر ہے۔ مابین بھی اپنی سہیلی کے ساتھ خوش تھی، تبھی والدين منع نہ کرتے تھے۔

منگنی کے بعد ماہین نے منصب بھائی کے سامنے آنا چھوڑ دیا لیکن عقیلہ آجاتی۔ ان سے منگیتر کی باتیں کرنے لگتی، ان باتوں کو سن کر میرے بھائی کا دل خوش ہو جاتا۔ گویا وه دو محبت بھرے دلوں کے درمیان ایک پیامبر کا کام کرتی تھی۔ کبھی خالہ ادهر ادهر ہوتیں تو ان کی آپس میں بات بھی کروا دیا کرتی۔ یوں وہ میرے بھائی کے لئے بہت اہم ہو گئی۔ کبھی کبھی ماہین خط لکھ کر سہیلی کو دیتی کہ یہ منصب کو دے دو۔ کہنا کہ جواب لکھ دیں۔ بھائی خط لے لیتے مگر جواب نہ لکھتے۔ خط کو بھی پڑھ کر اسی وقت پھاڑ دیتے، تاکہ بهولے سے بھی یہ خطوط مابين کی بدنامی کا باعث نہ بن جائیں۔ البتہ جب مابین سے بات کرنے کا موقع ملتا ،خطوط تحریر کرنے پر زبانی اس کا شکریہ ادا کرتے۔ یہ سلسلہ سال بھر چلا۔ بھائی کے امتحانات ہو گئے، میرٹ بن گیا، ان کو میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔ یہ بات جہاں ہم سب کے لئے باعث مسرت تھی وہاں ماہین بھی خوش تھی۔ اس نے بھائی کو مبارک باد لکھ کر بھیجی… تاہم میں حیران تھی کہ عقیلہ بھی میرے بھائی کی کامیابی پر بہت خوش نظراتی ہے۔ وہ اب ان کا بہت خیال کرنے لگی۔ مابین ان کے لئے چائے بناتی۔ یہ گهر سے بسکٹ، کیک اور کبھی شامی کباب لے آتی۔ ماہین کو اچھا لگتا کہ سہیلی اس کے منگیتر کا اتنا خیال رکھتی ہے۔ وہ سیدھی سادی لڑکی نہیں جانتی تھی کہ ایسے معاملات میں کبھی کبھی سہیلیاں ہی آستین کا سانپ ہوتی ہیں۔ ایک روز عقیلہ نے ماہین سے کہا کہ میں نے تمہارے منگیتر کو کسی اور لڑکی کے ساتھ گھومتے پھرتے دیکھا ہے۔ پرسوں ہم ہیڈ پنجند پر گھومنے گئے تھے، وہ وہاں لڑکی کے ساتھ آیا ہوا تھا۔ ہمیں دیکھا تو نو دو گیارہ ہو گیا۔ ماہین نے اپنی سہیلی کے بہکاوے میں آکر منصب بھائی کو ایک لمبا چوڑا خط لکھ دیا۔ یہ کہ… تم بے وفا ہو، لالچی ہو، تم ذلیل انسان ہو اور اسی قسم کی خرافات، کہ جس کو پڑھ کر منصب بھائی پریشان ہو گئے۔ خط لاکر مجھ کو پڑھوایا تو میرا بھی سر چکرا گیا۔ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اس نے ایسا کیوں لکھا ہے۔ خط میں ماہین نے یہ بھی لکھ دیا کہ مجھے تمہاری طرف سے کسی

جواب کی ضرورت نہیں ہے۔ اب مجھے خط بھی مت لکھنا۔ غرض کہ اس قدر یقین کے ساتھ خفگی کا اظہار تھا کہ میری ہمت نہ پڑتی تھی ماہین سے بات کروں۔ پھر بھی بھائی کی خاطر بات کرنا پڑی، کیونکہ وہ بہت اداس تھے۔ میں ان کے ہمراہ خالہ کے گھر گئی۔ ڈھائی گھٹنے کی مسافت تھی۔ خالہ نے سیدھے منہ بات نہ کی۔ عقیلہ موجود تھی اس نے البتہ ہماری آئو بھگت کی اور مہمان نوازی کرنے لگی تو ہم کو کچھ مورل سپورٹ ملی۔ لگا کہ اب ہر بات کے لئے اسی خوش اخلاق لڑکی کا محتاج ہونا پڑے گا۔ جو روز اول سے مابین کی رازداں تھی ۔ میں نے اس سے بات کی۔ بولی۔ اگر ماہین خود منصب سے بات کرلے تو معاملہ سلجھ سکتا ہے۔ آمنے سامنے بات کرنے سے غلط فہمی دور ہو جائے گی مگر وہ نہیں مان رہی ہے۔ میں پھر بھی کوشش کرتی ہوں۔ تبھی وه کھینچ کھانچ کر ماہین کو ہمارے سامنے لے آئی۔ اس کے تیور بگڑے ہوئے تھے۔ بمشکل بات کرنے پر آمادہ ہوئی۔ تلخ لہجے میں منصب سے سوال کیا۔ کیا تم فلاں دن… ہیڈ پنجند گئے تھے؟ ہاں میں گیا تھا۔ بھائی نے جواب دیا۔ کس لئے وہاں گئے تھے؟ سیر کرنے… اور کس لئے وہاں جاتے ہیں۔ کس کے ساتھ گئے تھے؟ مابین نے ایک اور سوال کردیا۔ ارے بھئی اپنے دوستوں کے ساتھ گیا تھا۔ لیکن تم کیوں پوچھ رہی ہو۔ اس پر وه لال پیلی ہو کر بولی۔ یہ آپ بکواس نہ کریں اور یہاں سے چلے جائیں فورا… آب یہاں آنے کی ضرورت نہیں۔ ماہین کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ تم ایسی تو نہ تھیں۔ آخر مجھ سے ایسی کون سی غلطی ہو گئی ہے جو تم نے خط میں الٹی سیدھی باتیں لکھ بھیجی ہیں۔ وجہ تو بتا دو۔ اس نے وجہ نہ بتائی۔ بولی۔ میں نے تم سے شادی نہیں کرنی۔ مجھے بھول جائو۔ ہماری منگنی ہو چکی ہے۔ بھلا کوئی اپنی منگیتر کو چھوڑتا ہے بهائی کا یہ کہنا تھا کہ وہ غصے میں بپھر گئی۔ سختی سے جواب دیا۔ میری مرضی۔ نہیں کرتی تم سے شادی کوئی زبردستی ہے۔ تب میں نے مداخلت کی۔ ماہین آخر کیوں منع کر رہی ہو تم شادی سے؟ فیصلہ بدلنے کی کوئی وجہ تو ہو گی۔ وجہ بتائو … وجہ بتانا ضروری نہیں ہے۔ شادی تمہارے بھائی سے نہیں کرنی تو نہیں کرنی ہے۔ مجھے بھی غصہ آگیا۔ ماہین تمہیں یہ شادی کرنی ہو گی۔ ہم نے منگنی دھوم دهام سے کی تھی اور اب یہ ہماری عزت کا سوال ہے۔ میری بات سن کر وہ اس قدر جذباتی ہو گئی کہ کلام پاک پر قسم کھا لی کہ اب منصب سے ہرگز شادی نہ کروں گی۔ اس کی اس حرکت پر ہم بہن بھائی کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔ میں تو سر سے پائوں تک کانپ گئی تھی۔ میں نے بھائی سے کہا کہ اب لوٹ چلیں لیکن خالہ اور عقیلہ نے جانے نہ دیا۔ خالہ بولیں۔ اب آگئے ہو تو کھانا کھا کر جانا۔ اس بھری دوپہر میں کیسے جائو گے۔ ہم نے تهوڑا سا کھانا زہر مار کیا۔ بھلا کھانے کا کس کو جی کر رہا تھا۔ ہمارے دل رو رہے تھے کیونکہ میں جانتی تھی کہ میرا ’’ویر اپنی اس خالہ زاد کو کس قدر چاہتا ہے۔ اس کے لئے اس رشتے کو توڑنا محال تھا۔ میں نے شام تک اسے منانے کی کوشش کی لیکن وہ موم نہ ہوئی۔ تبھی اندازه ہو گیا کہ اس بے وقوف کو کسی نے منصب بھائی کے بارے میں بہکایا ہے اور یہ اس بدخواہ پر بھروسہ کر بیٹھی ہے۔ جب کہ اپنوں پر بھروسہ ہی نہیں رہا ہے۔ ہم ٹوٹے ہوئے دل سے لوٹ کر آگئے۔ امی کو احوال بتایا۔ ان کے دل کو اس قدر دھچکا پہنچا کہ ہفتہ بھر بیمار پڑی رہیں۔ امی کی بیماری کا سن کر خالہ ہمارے گھر آئیں۔ وہ بھی میری ماں کے گلے لگ کر زار و قطار روتی رہیں۔ اپنی بیٹی اور شوہر کو بد دعائیں دینے لگیں، تب میں نے منع کر دیا کہ بد دعائیں مت دو۔ یہ سب تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔ اس واقعہ کے پندرہ روز بعد میرے بھائی کو میڈیکل کالج جوائن کرنا تھا۔ وہ بہت بے دلی سے پہلے روز کالج گئے تھے۔ مجھے یاد ہے جاتے ہوئے کہا تھا۔ نور جہاں جی نہیں کر رہا ہے کہ کالج جائوں؟ جس کے لئے راتوں کو جاگ کر محنت کی؟ اس نے ہی ٹھکرا دیا۔ تو اب کس کے لئے اور محنت کروں؟ میں نے سمجھا بجھا کر پڑی مشکل سے ان کو بھیجا تھا۔ کچھ ہی دن گزرے کہ عقیلہ اور اس کی امی ہمارے گھر آگئیں۔ رشتہ ٹوٹنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ہمارے گھر کی راہ ہی دیکھ لی۔ آنا جانا شروع ہو گیا۔ خاص طور پر جب بھائی کی چھٹی ہوتی یا وه گهر ہوتے، یہ بھی آجاتیں۔ عقیلہ کی امی، میری امی کی دل جوئی کرتیں جبکہ عقیلہ امی جان کا گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے لگتی۔ غرض ہر لحاظ سے وہ اچھی اور بااخلاق نظر آتی تھیں۔ عقیلہ خوش شکل لڑکی تھی، وہ بہت سمجھ دار بھی تھی۔ لباس عمده اور سلیقے کا پہنتی تھی اور بات کرنے کا انداز دل کو لبھانے والا ہوتا۔ یوں بہت جلد اس نے ہمارے دلوں میں گھر کر لیا۔ ایک دن منصب بھائی لاؤنج میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے، عقیلہ میرے کمرے میں آئی، آتے ہی سلام کیا۔ میں نے احوال پوچھا۔ اس نے مسکرا کر جواب دیا۔ الله تعالی کے کرم سے سب خیریت ہے۔ میں نے ماہین کے بارے میں پوچھا۔ کہنے لگی۔ میں نے تو اس کو کافی سمجهایا۔ اب بھی وجہ پوچهتی آئی ہوں کہ منگنی کیوں ختم کرائی۔ منصب تو بہت اچھے آدمی ہیں۔ اس پر کہنے لگی کہ میں اب بہت خوش ہوں۔ مجھے منصب کی یاد نہ آتی ہے اور نہ آئے گی۔ وہ غلط انسان ہے اور میں اس کو پسند نہیں کرتی۔ آئندہ میرے سامنے اس کا ذکر بھی مت کرنا۔ یہ باتیں سن کر میرے دل میں اس کے لئے جو محبت باقی تھی وہ بھی جاتی رہی۔ امی جان نے ایک دن مجھے کہا۔ عقیلہ کیسی ہے۔ مجھے تو پسند ہے، بهائی جان سے اور پوچھ لیں۔ ہاں پوچھ لیتی ہوں۔ مجھے اس میں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ البتہ خوبیاں دکھائی دیتی ہیں۔ اس کو بہو بنانے کا سوچ رہی ہوں۔ میں بھی اپنے بھائی کو خوش دیکھنا چاہتی تھی۔ کوئی ایسی لڑکی بھابی کے روپ میں لانا چاہتی تھی جس میں میرے بھائی کے ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے کی صلاحیت ہو۔ کسی انجانی لڑکی سے مجھ کو عقیلہ بہتر نظر آئی۔ جس سے ہم لوگ کافی مانوس بھی ہو گئے تھے۔ تاہم ایسا محسوس ہوتا تھا کہ عقیلہ کے دھیان میں منصب کے بارے میں ایسا کوئی خواب نہیں ہے کیونکہ وہ بڑے کھلے دل، میرے بھائی کو بھائی بھائی کہتے نہ تھکتی تھی۔ یوں ظاہر کرتی جیسے اس کو اندازہ نہ ہو کہ ہم اس کو اپنے گھر کی بہو بنانے کا سوچ

امی نے بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ مابین کے بعد سب ہی لڑکیاں اب تو میرے لئے ایک جیسی ہیں۔ آپ جس کو بھی پسند کر لیں گی مجھے قبول ہو گی۔ کافی سوچ بچار کے بعد امی جان نے عقیلہ کا انتخاب کر لیا۔ منگنی توڑنے کے اعلان کے بعد خالو جان سے امی اور ابو بہت خفا تھے، تبھی ہم لوگ ان کے گھر نہیں جاتے تھے۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ان دنوں وه کس حال میں ہیں؟ جو خبریں ہم کو عقیلہ اور اس کی والدہ کی معرفت ملتی تھیں ان پر یقین کر لیا کرتے تھے۔ عقیلہ سے میرے بھائی کا رشتہ پکا ہو گیا۔ وہ دن بھی آگیا جب شادی کے کارڈ چھپ کر آگئے۔ جب کارڈ عقیلہ کی ماں کی جانب سے خالہ اور خالو کو ملا وہ حیران رہ گئے کہ یہ کیا ہوگیا اور کیسے ہوگیا۔ اب ماہین کے ذہن میں یہ بات آئی کہ مجھ کو منصب کے ساتھ شادی سے منع کرنے والی خود اس کے ساتھ کیسے شادی کر رہی ہے؟ اگر وہ برا تھا تو میری سہیلی اور اس کی ماں نے اس کو کیسے قبول کر لیا۔ وہ سمجھ گئی کہ اس کی سہیلی نے اس کے ساتھ بڑی گہری چال چلی تھی۔ یہ باور کروا کر کہ منصب اكثر ’’پنجند‘‘ میں ریسٹ ہائوس بک کراتا ہے اور اپنی ایک دوست لڑکی کے ساتھ وہاں دو، دو اور کبھی تین دن بھی گزارتا ہے۔ نجانے کیا کچھ عقیلہ اس کو من گھڑت کہانیاں سنایا کرتی تھیں مگر قسمیں دے کر سختی سے منع بھی کرتی تھی کہ میرا نام نہیں لینا کہ میں منصب کی بے راہ روی سے متعلق راز تم کو بتاتی ہوں ورنہ بات کھلے گی تو میرا نام بھی ظاہر ہو گا۔ میرے والدین مجھ کو بہت ڈانٹ ڈپٹ کریں گے۔ تمہارے گھر آنے اور تم سے ملنے کو بھی پابندی لگا دیں گے اور ہماری دوستی ختم کرا دیں گے۔ ماہین، عقیلہ سے محبت کرتی تھی لہذا اس نے آخر وقت تک عقیلہ کا نام نہ لیا اور اس اندھے اعتماد کی وجہ سے اپنی محبت گنوا بیٹھی۔ جب اصل معاملہ سمجھ میں آیا، پانی پلوں سے گزر چکا تھا۔ اس نے رو رو کر ماں کو بتایا کہ یہ عقیلہ ہی تھی جس نے منصب کو اس کی نظروں میں برا بنایا، وہ برا نہ تها، یہی بدنیت دراصل مجھ کو اس سے دور کر کے خود منصب سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ اس نے ایسی چالیں چلیں کہ میرا دل اس کی طرف سے اور اس کا دل میری طرف سے پھیر دیا۔ میرے ذہن میں غلط فہمیاں بھر دیں۔ بیٹی، اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ جب میں نے تمہیں سمجھایا کہ کسی کی بات کا اعتبار نہ کرو۔ منصب ایسا ویسا نہیں ہے تو تم کہتی تھیں کہ کیا بات کرتی ہیں، سبھی لڑکے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ نگاہیں بدلتے ان کو دیر نہیں لگتی۔ تب میں تمہاری نادانی پر روتی تھی، اب تم اپنی نادانی پر روتی ہو۔ اس وقت تم ہی نے اپنے والد کے کان منصب کے خلاف بھرے تھے۔ تو اب کیوں روتی ہو. جب خالہ روتی آئیں اس وقت تک بھائی کا نکاح عقیلہ سے ہو چکا تھا۔ وہ امی سے محبت کرتی تھیں، لہذا ان کی خوشی برباد کرنے کی بجائے خاموشی سے بنا کچھ کہے لوٹ گئیں۔ انہوں نے یہی سوچا کہ نکاح ہو گیا اور کل رخصتی ہے۔ اب بہن اور بھانجے کی خوشی کے موقع پر رنگ میں بھنگ ڈال کر بھی کیا ملے گا۔ آج بھائی اور بھابی عقیلہ اچھی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بھائی ایک سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر ہیں۔ بنگلہ، اچھی گاڑی، نوکر چاکر اور اعلی معیار زندگی ہے۔ خدا کا شکر کہ بچے بھی ہو گئے ہیں۔ الله کا دیا سبھی کچھ ہے۔ جب کہ بے وقوف ماہین کو اپنی بے وقوفی کی سزا ملی۔ اس نے منصب کی شادی کے بعد ایک دن بھی خوشی کا نہ دیکھا۔ یہاں تک کہ خالو جان فوت ہو گئے۔ وفات سے ایک ماہ قبل خالہ نے ماہین کی شادی اپنے بھتیجے سے کر دی تھی۔ جو ان دنوں ایف اے کا طالب علم تھا۔ وہ نالائق لڑکا ایف اے بھی مکمل نہ کر سکا۔ میٹرک پاس رہ گیا۔ اس کو کہیں ڈھنگ کی نوکری نہ ملی یہاں تک کہ خالو

جان اس جہاں سے چل بسے۔ آج کل ماہین کا شوہر ایک محکمہ میں ’’پیون‘‘ لگا ہوا ہے۔ جبکہ بھائی اور بھابی کے بچے اعلی اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ افسوس کہ ماہین کے بچوں کو سرکاری اسکول تک میسر نہیں ہے۔ تو یہ ہے اپنی اپنی قسمت، مگر انسان کی عقل کا بھی اس کی زندگی بنانے میں بڑا عمل دخل ہے۔ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ میں تو یہی سمجھتی ہوں کہ اول تو انسان کو کسی پر اتنا زیاده بهروسہ نہ کرنا چاہیے۔ مزید یہ کہ اپنی عقل سے بھی کام لینا چاہیے، ورنہ ماہین ایسا حال تو ہوتا ہی ہے۔ (ن… کراچی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *