Home Blog Page 3

History of Pakistan #01| When A General Refused Quaid-e-Azam’s Order

0
History of Pakistan #01| When A General Refused Quaid-e-Azam's Order
History of Pakistan #01| When A General Refused Quaid-e-Azam's Order

History of Pakistan #01| When A General Refused Quaid-e-Azam’s Order 

As soon as Pakistan was formed, war broke out

History Of Pakistan  With the establishment of Pakistan, war broke out. There are very few countries in the world that fell victim to foreign attacks immediately after their establishment. Pakistan is also one of those countries. Only two months had passed since the establishment of Pakistan. History Of Pakistan  That India invaded Kashmir and pushed Pakistan into an unwelcome war. The story is that Kashmir was also part of more than 560 Indian states which after independence became part of either Pakistan or India. The border of Kashmir was with Pakistan and since there was a Muslim majority there, it was natural for Kashmir to join Pakistan. But the Maharaja of Kashmir, Hari Singh, conspired with India to support Pakistan in Kashmir.

The Kashmiris, realizing the Raja’s intentions, revolted against him. Thousands of tribesmen from Pakistan also came to the aid of their Kashmiri brothers. When the joint army of Kashmiris and tribesmen reached Srinagar, Raja Hari Singh fled to Delhi, where he signed a document to annex Kashmir to India. The army landed in Kashmir and captured Srinagar. At that time, the British army chief, General Douglas Gracie, who was deprived of Pakistan’s resources, refused to face India in Kashmir despite the clear orders of Quaid-e-Azam. History Of Pakistan 

When India consolidated its hold, General Gracie had no objection to sending troops to Kashmir. But it was obviously too late. Still, the Pakistan Army successfully defended Gilgit-Baltistan and Azad Kashmir. India took the matter to the United Nations. History Of Pakistan  The United Nations passed a resolution calling for a referendum in Kashmir. But injustice was done in the resolution that instead of declaring India an aggressor, Pakistan was told the opposite. That he called back the army from Kashmir. Quaid-e-Azam rejected this resolution, declaring it unjust. However, after his death, Prime Minister Liaquat Ali Khan agreed to a ceasefire under this resolution, and on January 1, 1949. There was a ceasefire in Kashmir. A newly independent state was suffering from gambling. The situation was so bad that another tragedy befell it.

Qismat Achi Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

0
Qismat Achi Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021
Qismat Achi Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

قسمت اچھی تھی

شہربانو چودہ برس کی ہوئی توباپ نے اس کا گھر سے نکلنا بند کر دیا۔یوں وہ شیرے سے ملنے سے مجبور ہوگئی ۔شیرا ،اس کی خالہ کا بیٹا تھا۔بچپن ساتھ کھاتے دوڑتے گزرا۔اب وہ ایک دوسرے سے ملے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔تبھی بہانے بہانے سے شہربانو گھر سے باہر جانے لگی۔
ان کے گاؤں سے نہری پانی دور تھا،لہذا پانی کا انحصار اس کنویں پر تھا۔جو کافی پرانا تھا ،اور شیرے کے گھر کے قریب تھا۔شہربانو جب بھی کنویں سے پانی لینے جاتی وہ جان بوجھ کر اس طرف چل دیتی جدھر شیرا کھیتوں میں کام کر رہا ہوتا۔
ایک دن زمیندار کے منشی کا گزر ادھر کو ہوا۔اس نے دونوں کو باتیں کرتے دیکھ لیا۔منشی تبھی اللہ بخش کے پاس گیا اور،اس نے اسے کہا لالہ گاؤں میں سب تمہاری عزت کرتے ہیں۔میں تم کو خبردار کرنے آیا ہوں۔تیری بیٹی وسیم کے لڑکے شیرا سے زمیندار کے کھیتوں میں ملتی ہے۔اگر زمیندار بلند بخت کو پتا چل گیا تو تیری پگڑی اچھلنے میں دیر نہ لگے گی۔اپنی لڑکی کو روک لو کہ اس طرف نہ آیا کرے۔اب وہ بڑی ہو گئی ہے۔اگر کسی نے بلند بخت سے شکایت بھی کر دی تو پھر میرے پاس مت آنا۔
شہربانو کا باپ یہ باتیں سن کر گھبرا گیا۔کہنے لگا بھائی میں نے تو ۔شہربانو کے باہر جانے پر روک لگائی ۔اگر وہ نہ مانے تو تم ہی کہو کیا کروں۔برا نہ مانو ،تو کہتا ہوں ۔تمہاری بیٹی شادی کے لائق ہو گئی ہے میرا بیٹا شہر سے میٹرک کر کے آیا ہے اور، اس کی سرکاری نوکری زمیندار لگا کر دے رہے ہیں۔میرے رشید کا رشتہ قبول کر لو۔تیری بیٹی سکھی رہے گی۔میں زمیندار کے ٹیوب ویل سے تیرے چار ایکڑ کے رقبہ کو مفت پانی لگوا دیا کروں گا،ٹھیک ہے میرے بھائی مجھے تمہارے بیٹے کا رشتہ منظور ہے۔تو کل میں شام کو آؤں گا۔تم برادری کے دو ،چار آدمی بلوا لینا ۔شادی کی تاریخ رکھ لیں گے۔
بلندبخت کے منشی سے اللہ بخش کی بنتی تھی۔دونوں میں عرصے کا یارانہ تھا۔رشتہ طے ہوگیا اور شہربانو چاند کو نویں تاریخ کو دلہن بن کر منشی فیض کے گھر مین رخصت کر دی گئی۔گاؤں کی لڑکیاں مجبور ہوتی ہیں وہ اپنی قسمت کے فیصلے کرنے کی مجاز نہیں ہوتیں۔انکار کر دیں تو ان کی سنی نہیں جاتی جو باغی ہوں گھر سے بھاگ جائیں تو قتل کر دی جاتی ہیں۔روتی ہوئی شہربانو بھی ناچار بیاہ کر رشید کے ساتھ شہر آگئی۔
شادی سے دو ،دن پہلے خوش بختی اور زمیندار کی سفارش سے محکمے انہار میں اس کی نوکری کے آرڈر آگئے تو سبھی نے کہا کہ یہ دلہن بڑی بھاگوان ہے۔اس کے قدم برکت والے ہیں کہ دولہا نائب قاصد ہو گیا ہے۔لوگ تو شہربانو کو خوش قسمت کہہ رہے تھے لیکن وہ خوش قسمت تھی کہ بد قسمت یہ تو اس کا دل جابتا تھا جس پر قیامت گزر گئی تھی۔
وہ گاؤں کی کھلی فضا کی عادی تھی شہر کے تنگ وتاریک کوارٹر میں دم گھٹنے لگا ۔عمر بھی کم تھی کہ حالات سے سمجھوتا کرنے کی صلاحیت ہوتی ۔اس پر رشید بددماغ نوجوان تھا۔شکل و صورت سے بھی گیا گزرا تھا۔تبھی شہربانو کا دل اپنے دولہا سے برا رہنے لگا۔جب وہ کھاتے میں سو عیب نکالتا۔بات بات پر اس کو برا بھلا کہتا تو شیرے کی یاد کو بری طرح ستانے لگتی تھی۔وہ اس کا بچپن کا ساتھی تھا۔اس کو بھلانا ،آسان نہ تھا۔
صبع سویرے ناشتے کر کے رشید دفتر چلا جاتا اور ساس پڑوس میں نکلی جاتی۔تب شہوبانو اکیلی رہ جاتی۔یہاں اس کی کوئی ہم جولی تھی نہ کوئی دیکھ بانٹنے والا تھا جس کو وہ اپنے دل کا حال کہتی۔اسے پاس پڑوس میں آنے جانے کی اجازت نہ تھی۔اور نہ رشید کہیں گھمانے پھرانے لے جاتا تھا۔ایسے میں حالات میں بھلا ایک چودہ پندرہ بر س کی لڑکی کا کیسے دل لگتا۔وہ پریشان اور غمزدہ رہنے کگی۔جب وہ شوہر سے کہتی مجھے گاؤں جانا ہے۔تو اس کو ڈانٹ کر چپ کرادیتا۔تبھی گھٹ گھٹ کر آدھی رہ گئی۔اب اس کا ایک مشغلہ تھا ،جب شوہر ڈیوٹی پر چلا جاتا اورساس گھر کے کام کاج میں مصروف ہوتی وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر گلی میں جھانکتی رہتی اور ،وہاں سے گزرنے والوں کو بے مقصد تکتی رہتی۔اس طرح گلی کی چہل پہل سے اس کوخود اپنے زندہ ہونے کا احساس ہوتا تھا۔
ایسے ہی ایک دن وہ صحن کی جھاڑو لگا رہی تھی۔اس نے ایک شخص کو سنا ۔بندر کی ڈور ہاتھ میں تھامے ڈگڈگی بجاتاجا رہا تھا۔دوڑ کر وہ کھڑکی کی طرف گئی اور باہر جھانکنے لگی۔جب وہ مداری نزدیک آیا ۔شہربانو کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں یہ بندر والا کوئی مداری نہیں بلکہ اس کا خالہ زاد شیرو تھا۔شیرو کی نظر بھی شہربانو پڑگئی۔اس کی آنکھوں میں چمک در آئی ۔اور اس کی کھڑکی کے سامنے ہی زمین پر بیٹھ گیا اور ڈگڈگی بجانے لگا۔تھوڑی دیر میں محلے کے بہت سے بچے اس کے گرد اکٹھے ہو گئے اور بندر کا تماشا شروع ہوگیا۔
اس تماشے میں شہر بانو کا دل بلیوں اچھلنے لگا اور جب کھیل ختم ہوا۔بچے ادھر ادھر ہوگئے۔تواس نے کٹورا بھر آٹا کھڑکی سے بندر والے کو تھما دیا۔خیرات لیتے ہوئے شہربانو سے کہا۔تم کو کہاں کہاں نہیں ڈھونڈاہے۔دیکھوتمہاری خاطر مداری بن گیا ہوں۔وہ ششدر ۔رہ گئی۔اور اس کے لبوں سے سسکاری نکل گئی۔آنکھوں میں تو آنسو تھے۔مگر دل میں خوشی کی لہریں اٹھ رہی تھی۔جیسے مدت بعد اس کے دوارے کوئی اس کا اپنا آگیا ہو۔

شہربانو نے کہا تم نے مجھے کیسے تلاش کر لیا۔وہ بولا اتنا تو پتا تھا کہ تمہارا ٹھکانہ محکمے کے کسی کوارٹر میں ہے۔اور محکمے کا بھی پتا تھا۔لیکن گھر کا معلوم نہ تھا۔یک بارگی وہ حیرت کے سمندر سے نکل آئی۔کہنے لگی شیرو۔،تیرا کام بندار نچانا تو نہیں ہے تو کیوں اس پیشے میں آگیا ہے؟یہ بات اچھی نہیں ہے۔تیری خاطر یہ روپ اختیار کیا ہے۔اب مجھے نہیں پتا کیا اچھا ہے کیا برا ہے۔میں تو بس تیری ایک جھلک دیکھنے کو در ،در کا بھکاری ہوا ہوں۔لیکن اب روز ،روز ادھر کو مت آنا شیرو۔بچپن کی باتیں ۔بچپن کے ساتھ گئیں۔اب میں شادی شدہ ہوں،میرے سسر یا رشید کو علم ہو گیا تو اچھا نہ ہوگا۔تیرے حق میں اور نہ میرے حق میں ۔ٹھیک ہے شہربانو میں نہ آوں گا۔مگر تیری خیریت کی ضرور معلوم کروں گا۔میری جگی جگنوآئے گا۔تجھے جو کہنا ہو اسی کو کہہ دینا۔
شیرے کا آنا اچھا تھا یا برا ،اس بات سے قطع نظر اس کے آئے کے بعد سے شہربانو جیسے مردہ سے زندہ ہو گئی تھیں۔بے شک انتظار اذیت دہ ، ہوتا ہے،لیکن کبھی کبھی یہ زندگی کی نوید بھی بن جاتا ہے۔اب وہی اس کیلئے جینے کا سہارا بن گیا۔
شہربانو میں کسی کام میں مشغول ہوتی۔اس کے گان گلی کے طرف لگے ہوتے ۔شاید کہ وہاں سے آتی ڈگڈگی کی آواز ،اس کی روح کو سوئے تاروں کو چھیڑدے۔جب پندرہ دن وہ آواز سنائی نہ دی کہ جس کا انتظار تھا۔شہربانو اداس ہو گئی۔سوچتی تھی کہ کیوں اس نے شیرو کو گلی میں آنے سے منع کیا۔اب پچھتانے لگی کہ دل پر اداسی روز بہ روز برف کی سلوں کی مانند گرتی تھی۔اس بوجھ سے اس کا دم گھٹتا جارہا تھا۔ایک روز پھر ڈگڈگی کی آواز سنائی دی۔اس کے دل کے تاروں کو چھیڑی ہوئی یہ آواز اس کیلئے زندگی کی نوید بن گئی۔دوڑتی ہوئی کھڑکی کی طرف گئی اور جھٹ سے بند پٹ کھول کر سلاخوں کے اُدھر سے گلی میں جھانکنے لگی۔مداری اور ڈگڈگی قریب تر آگئے لیکن اس کی امید بھری نظروں میں اس وقت مایوسی گھر گئی۔جب دیکھا کہ ڈگڈگی بجانے والا شیرو نہیں بلکہ جگنوتھا اس کا بچپن کا دوست۔
کچھ سہی وہ بھی تو اس کے گاؤں سے آیا تھا ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ۔اس نے کھڑکی کا پٹ بجایا۔جگنو ٹھہر گیا۔کھڑکی کی جانب دیکھا ۔شہربانو بولی ۔جگنو آج تم آئے ہو۔کیا تم نے بھی بندر نچانا شروع کر دیا ہے؟ہاں میں نے بھی ۔مگر صرف تیرے شہر میں اپنے یار شیرے کی کی خاطر ۔۔تو نے منع کیا تھا نہ اس کو کہ اب یہاں مت آنا۔مجھے بھیج دیاہے تیری خیریت کا پوچھنے ۔اب بتا شہربانو تو کیسی ہے؟خوش ہے نا اپنے گھر میں؟پر شہربانو چپ ہی رہی مگر دو آنسو ٹپ ٹپ اس کی آنکھوں سے گر پڑے۔روتی کیوں ہے؟جو پیغام دینا ہے۔دے دے میں شیرے کو جا کر بتادوں گا۔اگر وہ نہیں آسکتا۔جگنو تو ہی آجایا کر بندر کا تماشا دکھانے میرا جی بہل جاتا ہے۔
جگنونے ڈگڈگی بجائی اور آن واحد میں اس کے ارد گرد گلی کے بچے جمع ہوگئے۔کچھ دیر بندر کا تماشا ہو تا رہا۔پھر ڈگڈگی کی آواز بند ہو گئی۔تماشہ ختم ہو گیا۔اور بچے ،بالے اپنی راہ چلے گئے۔اب ہفتہ دس دن بعد باقاعدگی سے بندر والا آنے لگا۔اور تماشا دکھانے لگا۔جب جاتے لگتا شہربانو آٹے کا کٹورا ،بطورخیرات اس کو تھما دیتی ۔جس کو اپنے جھولے میں ڈال کر بندر والا ۔دعائیں دیتا اور ۔انہی دعاؤں میں وہ پیغام بھی شہربانو تک پہنچا دیتا ۔جو اس کو شیرے نے دیا ہوتا ۔اس طرح یہ مداری خیرات کے بہانے سے دونوں کے پیغامات ان کو پہنچانے لگا۔
اس بار جب جگنو دیر بعد آیا تو شہربانو اس کے انتظار میں تھک چکی تھی۔اس نے شکوہ کیا کہ اتنے دن بعد آئے ہو۔میں کیا کرتا۔شیرو نے بات ہی ایسی کہی تھی کہ اگر میں تجھ تک یہ پیغام پہنچاتا تو ،تو مشکل میں پڑ جاتی۔اب بھی اس نے مجبور کیا کے مجھے تیرے پاس بھیجا ہے۔ورنہ میرے آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا،کیا پیغام دیا ہے اس نے؟اس نے کہا ہے کہ اگر تم جمعرات کی رات کو شہر بانو کو گاؤں نہ لے کر آئے تو میں دریا میں چھلانگ لگا کر ڈوب جاؤں گا۔ایسی دھمکیاں دے کر مجھے یہاں بھیجے گا تو کسی دن مجھے بھی مروا دے گا۔اور تجھے بھی شہربانو۔اب تو اس کا انتظار چھوڑ دے ۔وہ مرتا ہے تو مر جانے دے۔تو اپنی زندگی کو اچھا کر کے گزار ،اسی میں تیرا ہی نہیں ہم سبھی کا بھلا ہے۔
شہربانو مگر اس قید خانے سے اوب چکی تھی۔اس نے کہا ویرا ،مرنا تو ہر کسی نے ایک دن ہے مگر یہ گھٹ گھٹ کر جینا تو مرنے سے بھی بدتر ہے۔تجھے نہیں خبر کہ میں یہاں کس تکلیف مین ہوں۔پھر خوشامد سے بولی ۔میرے بھائی جگنو اگر میں تیرے ساتھ نکل چلوں تو پھر تو مجھے کہاں لے جائے گا۔گاؤں میں تو موت کا ڈر ہے یا پھر زمیندار کا مزار پر ہی لے چل۔
جگنو نے کہا کہ شیرو ،علی پور میں تیرا انتظار کر ے گا پنجند کے پاس پھر تجھے لے کر کراچی چلا جائے گا۔اپنے دوست کے پاس جو کارخانے میں کام کرتا ہے۔وہ پہلے تنسیخ نکاح کرائے گا پھر۔پھر تیرا شیرو سے نکاح کرا دے گا۔کیونکہ اس کا سالا وکیل ہے۔تو اس دوست کو جانتا ہے۔ہاں جانتا ہوں۔وہ ہمارے ساتھ والے گاؤں کا ہے بہت مدت سے کراچی میں ہے اور اس نے شادی بھی وہاں کی ہے۔کیا نام ہے اس کا ؟شیرو کے اس دوست کا نام منظور ہے۔تو بھی جانتی ہو گی۔شیرا ،اس کو منظورا کہا کرتا تھا۔ہاں جانتی ہوں۔وہ بولی تو پھر تو مجھے وہاں لے ہی چل۔میں عمر بھر ان سلاخوں کے پیچھے نہیں رہ سکتی۔ایک بے بس پرندے کی طرح اس قید میں کسی دن مر ہی نہ جاؤں۔سوچ لے ۔میں پھر آؤں گا سوچ لیا ہے۔پرسوں جمعرات ہے،میں بیگ تیار رکھوں گی۔تو دوپہر کے فورا بعد آجانا۔اس وقت میری ساس کھانا کھا کر سوجاتی ہے اور ،رشید رات کو گھر آتا ہے۔وعدہ کر تو آئے گا؟آجاؤں گا جگنو نے کہا اور اپنی راہ ہو لیا۔

اس جمعرات جگنو نہ آیا۔شہربانو راہ دیکھتے دیکھتے گئی۔اگلی جمعرات دوپہر کے بعد جب ساس سو گئی ۔کپڑوں کی پوٹلی میں چاندی کے زیور چھپا ،وہ گھر سے نکلی ۔گلی کی نکڑ پر یکے والا کھڑا تھا۔کہنے لگی بھیا لاری اڈا یہاں سے کتنی دور ہے۔وہ بولا تم نے وہاں کس کے پاس جانا ہے؟اپنے بھائی کے پاس ۔تمہارا بھائی کیا لاری اڈا پر ملازم ہے؟نہیں وہ بندر کا تماشا دکھاتا ہے۔کیا نام ہے اس کا ؟ یکے والے نے پوچھا کہنے لگی اس کا نام جگنو ہے کیا تم اسے جانتے ہو؟
ہاں کئی بار میرے یکے پر سواری کر چکا ہے گاؤں سے آتا ہے وہ آج صبع بھی میں نے اس کو لاری اڈا سے اترتے دیکھا تھا،تم مجھے اس کے پاس لے چلوگے؟یکے پر بیٹھ جاؤ۔وہاں سرائے سے پتا کر لیں گے وہ ادھر ہی ٹھہرتا ہے۔کھانا بھی سرائے لنگراں سے کھاتا ہے۔
بغیر سوچے سمجھے یہ بے وقوف لڑکی یکے پر چڑھ گئی۔لاری اڈے پر یکے والے نے یکہ روکا،اور وہ اتر کر سرائے لنگراں چلا گیا۔اس کا اندازہ ۔درست نکلا ۔جگنو وہاں اپنے بندر سمیت چارپائی پر بیٹھ کھانا کھا رہا تھا۔مداری بھائی تمہاری سواری آئی ہے۔میرے یکے میں ہے۔تم سے ملاقات کرنی ہے اچھا نوالے کو پلیٹ میں اس نے واپس رکھ دیا ۔کون ہے ؟تم کو اپنا بھائی بتائی ہے۔جہاں محکمہ نہر کے کوارٹر ہیں وہاں بڑی سٹرک کے کنارےسے میرے یکے میں بیٹھی تھی۔اچھا ٹھیک ہے میں آتا ہوں جگنونے کھانا وہاں چھوڑا ،اور اپنے گلے میں پڑے رومال کو کونے سے ہاتھ پونچھتا وہ سرائے سے باہر نکل آیا۔یکے والے کے پیچھے چلنے لگا۔دور سے جگنو کو آتا دیکھ کر شہربانو یکے سے اترآئی۔کہنے لگی کتنا انتظا ر کیا ہے؟جگنوبھائی ؟ بالآخر تم کیوں نہ آئے؟میں ہر جمعرات کو آتا ہوں۔نہیں آؤں گا تو شیرا مجھے قتل کر دے گا لیکن تیری گلی میں نہیں آتا ۔کیوں کہ نہیں چاہتا کہ تو اس طرح گھر سے بھاگے۔میری مان تو گھر سے مت نکل ۔اس میں تم دونوں کیلئے بڑی مصیبت ہے۔میری بہن شیرا تو بات سمجھتا نہیں تو ہی سمجھ لے۔وہ نہیں سمجھوں گی ۔اگر سمجھوں گی تو بھی مر جاؤں گی۔یکے والا دور کھڑا ۔ان کیباتیں سن رہا تھا ۔وہ انتظار کر رہا تھا کہ یہ سواریاں شاید دوبارہ اس کے یکے میں سوار ہوں تو اس کی دہاڑی بن جائے ۔کچھ دیر کی تکرار کے بعد بالآخر فیصلہ ہو گیا۔جگنو نے کہا کہ یکے والے سے کہتا ہوں کہ وہ تجھ کو ساتھ والے گاؤں لے جائے اور میں پیچھے آتا ہوں۔اگر ساتھ یہاں سے نکلے اور کسی نے دیکھ لیا میری شامت آجائے گی۔میں نے بندر کو بھی گاؤں میں اپنے ایک دوست کے پاس چھوڑنا ہے۔وہ بولی ٹھیک ہے۔
بے فکر ہو کر شہربانو یکے پر سورا ہو گئی۔جگنو نے تمام احوال یکے والے کو سمجھا دیئے کہ کہاں خاتون کو پہنچانا ہے۔یکے والا خاتون کو لے کر چلا گیا۔اور جگنو اپنے بندر سمیت سرائے کے قریب موٹرسائیکل اسٹینڈ پر پہنچا ۔کرائے پر موٹر سائیکل لی اور گاؤں روانہ ہوا۔
یکے والے نے ایک جگہ موڑ سے دوسرا ۔رستہ لے لیا۔شہربانو کو پتا نہ چلا کہ اس نے رستہ بدل لیا ہے۔سمجھی کہ کوچوان کو صحیع مقام پر جگنو کے نتائے ہوئے گاؤں لئے جارہا ہے۔آدھ گھنٹے کا رستہ تھا لیکن اس نے گھنٹہ بھر لگا دیا تو شہربانو کے کان کھڑے ہوگئے۔پوچھا کوچوان بھائی اب اور کنتی دور ہے گاؤں وہ بولا بس آیا ہی چاہتا ہے؟کچے رستے سے تو جلدی پہنچ جاتے تھا مگر رستہ خراب تھا اس لئے پکی سٹرک سے لایا ہوں۔وہ دیکھو سامنے ااترائی ہے نا بس وہاں جانا ہے۔
شہربانو نے اپنے گاؤں سے ساتھ والا گاؤں کبھی نہیں دیکھا تھا۔وہ خاموش ہی رہی یکے والا اس کو بہاولپور کے نزدیک ایک علاقے میں لے گیا جہاں کھیتوں کے درمیان ایک شاندار حویلی بنی ہوئی تھی،چوہی گیٹ کے پاس یکے کو روک کر کہا یہی اتر جاؤ۔وہ اتر گئی۔کوچوان نے گیٹ پر کھڑے دربان سے کہا صاحب نے کچھ دنوں پہلے ایک کام میرے ذمے لگایا تھا یہ بی بی آگئی ہے اس کو اندر لے جاؤ،دربان شہربانو کو اندر لے گیا۔جہاں ایک ملازمہ نے ان کا سواگت کیا۔ملازمہ کو دربان ایک طرف لے گیا اور ساری بات سمجھائی۔وہ عورت شہربانو کو گھر کی مالکہ کے پاس لے گئی۔جو بیمار تھی اور اس کو ایک دیکھ بھال کرنے والی عورت کی اشد ضرورت تھی۔شہربانو کے ساتھ وہ ادھیڑ عمر خاتون خالہ بہت مہربانی کے ساتھ پیش آئی ۔ملازمہ سے کھانا لانے کو کہا۔پھر بولی اس کو کمرہ ،دکھا دو ۔جہاں اس نے قیام کرنا ہے کچھ دن تو وہ انتظار کرتی رہی کہ جگنو آئے گا یا پھر شیرا۔ آئے گاانہوں نے کسی صاحب حیثیت کے پاس اس کو تبھی چھپایا ہے کہ تاکہ ان کا پیچھا نہ کیا جائے۔
پندرہ دن گزر گئے وہ نہ آئے۔البتہ ملازمہ نے اس کو اس کی ڈیوٹی سمجھا دی کہ مالکن بیمار ہے تم نے ان کی دیکھ بھال کرنی ہے شہربانو صبر اور خاموشی سے اپنی ڈیوٹی نباہتی رہی۔مالک کو اس نے بس ایک بار دیکھا تھا جس نے بحیر کلام کئے اسے لمحے کو آکر دیکھا اور دوبارہ ،وہ شہربانو کے سامنے نہ آیا۔ایک ماہ گزر گیا۔اس نے ملازمہ سے پوچھا کہ ابھی بھی شیرعلی اور جگنو نہیں آئے کیا بات ہے اور کب تک اس کو یہاں رہنا ہو گا؟
یہ تو مالک کو خبر ۔۔ہماری جرات نہیں ہے کہ ملک صاحب سے کچھ پوچھیں۔تم آرام سے رہ رہی ہو ۔تم کو یہاں کوئی تکلیف بھی نہیں ہے،جس نے جب آنا ہو گا آجائیں گے،شہربانو نےاس آس میں چھ ماہ گزار دیئے اور وہ نہ آئے اب اس کو یقین ہو گیا کہ کوئی پولیس کا سنگین معاملہ ہو گیا ہے جو شیرا ،ظاہرنہیں ہوا ہے۔

وہ پریشان رہنے لگی بالآخر ملازمہ نے ایک روز اس کو بتادیا کہ زمیندانی کو اپنی خدمت کیلئے ایک باندی کی ضرورت تھی ملک صاحب نے یکے والے کے ذمے یہ کام لگایا تھا کہ کوئی مصیبت زدہ یا پناہ کی تلاش میں عورت ملے تو دے جانا۔یکہ والا تم کو ملک صاحب کے سپرد کر کے اپنا انعام لے گیاہے۔یوں سمجھ کہ انہوں نے تم کو خرید لیا ہے۔مگر ہمارا ملک صاحب شریف آدمی ہے اس کو ٹھی کے اندر تمہاری عزت کو کوئی خطرہ نہیں ہے،تم خوش قسمت ہو کہ اچھی لوگوں کی پناہ میں آگئی ہو۔ورنہ گھر سے نکلی والی لڑکیوں کی عزت کو زمانہ خراب کر ڈالتا ہے۔
سال بعد زمیندار نی اپنے خالق سے جا ملی ۔کچھ دن بعد گھر میں سوگ رہا۔ملک صاحب کے دونوں لڑکے شہر میں پڑھ رہے تھے۔اور ،بیٹیاں بیاہ دی تھیں ۔اب وہ اکیلے رہ گئے تھے۔
عمر بڑی ہو کہ چھوٹی تنہائی کا سانپ ہر کسی کو ڈستا ہے ۔ایک دن وہ گھر آئے تو دیکھا کہ شہربانو نہا کر دھوپ میں بیٹھی بال سکھا رہی تھی۔اس کا چہرہ چاند کی مانند چمک رہا تھا اور ۔وہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھا۔پہلی بار زمیندار کی اس پر نظر ٹھہری تو اس کو کسی اور زاویئے سے دیکھا اور پھر اس کے ساتھ نکاح کی ٹھان لی۔
وہ باندی تھی اور وہ مالک ،انہوں نے سمجھا بجا کر اس کے ساتھ نکاح کر لیا ۔عمر میں ضرور بڑے تھے مگر انہوں نے شہربانو کو سب کچھ دیا جس کی خواہش کو ئی عزت دار عورت کر سکتی ہے۔رفتہ رفتہ شہربانو کے دل میں بھی اس بڑی عمر والے شوہر کو قبول کر لیا۔بیوی بن جانے کے بعد جو تحفظ اور آرام ملا تو شہربانو نے ماضی بھلا کر سکھ کا سانس لیا۔کہ اب اس کو عقل آگئی تھی۔اس کے بعد ساری زندگی ملک صاحب کے گھر آرام سے رہی۔اللہ نے دو بیٹے اور دو ،بیٹیاں دے دیں اور بھی دل کو لگا کر زندگی کی سب آسائشوں کے ساتھ گزار لیا۔اولاد میں گھر کر ماضی کو بھول گئی۔
(ایس ۔اے۔۔۔جنوبی پنجاب)

Qismat Achi Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Qismat Achi Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

قسمت اچھی تھی شہربانو چودہ برس کی ہوئی توباپ نے اس کا گھر سے نکلنا بند کر دیا۔یوں وہ شیرے سے ملنے سے مجبور ہوگئی ۔شیرا ،اس کی خالہ کا بیٹا تھا۔بچپن ساتھ کھاتے دوڑتے گزرا۔اب وہ ایک دوسرے سے ملے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔تبھی بہانے بہانے سے شہربانو گھر سے باہر جانے لگی۔ […]

0 comments
Saadgi Kay Khaasarey | Teen Auratien Teen Kahaniyan in urdu 2021

Saadgi Kay Khaasarey | Teen Auratien Teen Kahaniyan in urdu 2021

سادگی کے خَسارے میری آپا بہت سیدھی سادی اور معصوم تھیں۔وہ فیشن کرنا نہیں جانتی تھی۔کس کر چوٹی گوندھ کے اپنے چہرہ طباق سا بنالیتیں۔کپڑے مردہ رنگوں کے ،دوپٹہ چادر کی طرح سر منہ لپیٹ لیتیں۔ ہم سب بہنوں نے آپا کو ملازمت کرنے سے روکا کہ تم گھر سنبھالو ،بیمار ماں کا خیال رکھو […]

0 comments
Khabi Aisa Bhi Hota Hai | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Khabi Aisa Bhi Hota Hai | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے جب سے وہ نوکری کیلئے میرے پاس آیا تومیں اس یوسف ثانی کو دیکھتی رہ گئی۔وہ سیدھا سادہ،بھولابھالا نوجوان سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا،سرخ و سفید رنگت دراز قد ۔۔پہاڑوں کا باسی مگر نرم خو ،سخت ضرورت مند نظر آیا۔ نام بتاؤ،صنوبر خان تم کہاں کے رہنے والے ہو اور […]

0 comments
Waqt Palatta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Waqt Palatta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

اس روز صبع کے سات بجے تھے جب طوبیٰ کے گھر گئی۔سامنے ہی ایک نوجوان کرسی پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔اسے پہلی بارطوبیٰ کے گھر دیکھا تھا۔قدم ٹھٹھک گئے۔آنٹی کچن سے نکلیں۔ان کے ہاتھ میں ٹرے تھی۔وہ اس مہمان کیلئے ناشتہ لا رہی تھی۔مجھ پر نظر پڑی تو کہا۔شانو بیٹی اندر چلی جاؤ۔طوبیٰ تیار […]

0 comments
Sabr Ka Samar Mila Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Sabr Ka Samar Mila Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

ایک روز کلینک میں مریضوں کو دیکھ رہی تھی کہ ایک خوبصورت معصوم سی لڑکی۔۔بوڑھی عورت کے ساتھ آئی۔اور اپنی بار ی کا انتظار کرنے لگی۔کچھ دیر بعد جب میں نے اس کو طلب کیا اور ،مرض کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگی ۔ڈاکٹر صاحبہ میں بیمار نہیں ہوں بس کمزوری ہے۔مجھے طاقت کے […]

0 comments
Babool Ki Chaoun | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Babool Ki Chaoun | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

رابو میری سہیلی تھی ۔وہ میرے ساتھ کھیلی اور ہم ساتھ ہی پڑھنے جاتے تھے۔پانچوں جماعت تک وہ امیر آدمی کی بیٹی تھی۔پھر ان پر غیربت ٹوٹ پڑی۔اس کو نہیں یاد کبھی اس کی زندگی میں اچھے دن بھی آئے تھے،محلے والوں سے سنا کرتی تھی۔کہ وہ ٹھاٹ سے رہا کرتے تھے اور کمخواب کے […]

0 comments

Qismat Achi Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

,
Qismat Achi Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan,
Qismat Achi Thi,
Urdu Stories for kids,
urdu story,
urdu sories,
stories in urdu,
true stories in urdu,
complete novel,
urdu novels,
urdu ki kahanian,
kahanian in urdu,
urdu ki kahani,
sachhi kahanian,
true kahani,
true stories,
urdu story channel,
drama story in urdu,
top urdu stories,
best urdu stories,
top urdu novel,
best urdu novel,
3 aurtain 3 kahani,
yanFamous Stories ,
TEEN AURATIEN TEEN KAHANIYAN,
Teen Auratien Teen Kahaniyan,
TEEN AURATIEN TEEN KAHANIYAN KAHANIYAN,
Teen Auratien Teen Kahaniyan ,
latest story,
WEEKLY AKHBAR-E-JEHAN,

Wajahat Rauf Director Home Party with Dananeer and Showbiz Actors 2021

0
Wajahat Rauf Director Home Party with Dananeer and Showbiz Actors 2021
Wajahat Rauf Director Home Party with Dananeer and Showbiz Actors 2021

وجاہت رؤف ڈینئیر اور شوبز ایکٹرز کے ساتھ ڈائریکٹر ہوم پارٹی
وجاہت رؤف شوکیس چینل پر وائس اوور مین کے طور پر بہت سی اداکاراؤں کے انٹرویو لے رہی ہیں۔ وجاہت رؤف کی اہلیہ شازیہ رؤف بھی پاکستان شوبز انڈسٹری کی بڑی پروڈیوسر ہیں۔ ہم ٹی وی راقس ای بسمل کا تازہ ترین ٹرینڈنگ ڈرامہ بھی وجاہت نے ڈائریکٹ کیا اور ان کی اہلیہ شازیہ نے پروڈیوس کیا۔ وجاہت نے متعدد لیجنڈ اداکاروں کو اپنی ہوم پارٹی میں مدعو کیا ، یہ پارٹی پاواری گرل کے ڈینیئر کے لئے وقف ہے۔

دانیئر موبیین یا موبیین صرف ایک آن لائن میڈیا اسٹارٹ تھے جو ان کے ل l مخصوص مطابقت پذیری کی ریکارڈنگ کو منتقل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ وہ اسی طرح تندرستی اور پرورش کے لئے بلاگ میں مشمولات شائع کررہی تھی۔ تاہم ، یہ اتنا وائرل نہیں تھا جتنا شام کے وقت ہماری پیواری ہو ر ہا وائرل ویڈیو چلتا رہا۔

وجاہت ایک قابل ذکر چیف ، بنانے والا ، تفریح ​​کنندہ اور کاروبار کا مذاق ہے۔ انہوں نے اپنے تخلیق ہاؤس میں اس طرح کی ان گنت فلموں اور ڈرامہ بازوں اور طنزیہ فلموں کو اپنے بہتر ہاف کے ساتھ مربوط کیا ہے۔ وجاہت نے اب تک متعدد شوز کو ڈلیور اور کوآرڈینیشن کیا ہے۔ انہوں نے اضافی طور پر AAJ ٹیلی ویژن کی برتری بھی بھر لی۔ 2006 میں ، انہوں نے شو کے ترتیب وار “کراچی ہائی” کو مربوط کیا۔

اسی طرح ڈینیئر موبن مختصر مدت کے بڑے نام نوجوان خواتین میں سے ایک ہے جو بے قاعدہ ویڈیو کے ذریعہ مشہور ہے۔ نیز ، اس کی ویڈیو محض دس سے پندرہ سیکنڈ تک جاری رہی۔ اس کی ویڈیو میں اصل لطیفہ یہ تھا کہ یہ ہماری گاڑی ہے اور یہ ہم ہیں اور یہ ہمارا اجتماع ہے (یہ ہماری گاڑی ہے یہ گنگناہ ہے اور یقین ہے کہ ہماری پارٹی ہو راہی ہے)۔

شوبز اداکاروں اور ہدایت کار کے ساتھ ڈینیئر کی کچھ خوبصورت اور لطف اٹھانے والی تصاویر دیکھیں۔

Yashma Gill Stunning look in Casual Workout costume 2021

Yashma Gill Stunning look in Casual Workout costume 2021

آرام دہ اور پرسکون ورزش کے لباس میں یشما گل شاندار نظر آ رہی ہیں یشما گل پاکسان شوبز انڈسٹری کی ایک ابھرتی ہوئی ماڈل اور اداکارہ ہیں۔ اس نے پاکستان سے باہر سے اپنی گریجویشن مکمل کی۔ یشما کا اپنا ایمان ختم ہوگیا اور وہ ملحد ہوگئی اور شوبز میں شامل ہونے سے پہلے […]

0 comments
Shaista Lodhi wore the lovely jeans with White Shirt 2021

Shaista Lodhi wore the lovely jeans with White Shirt 2021

شائستہ لودھی نے خوبصورت جینز کو وائٹ شرٹ کے ساتھ پہنا تھا شائستہ لودھی بہترین پاکستانی میزبان ہیں اور ماڈل کی حیثیت سے بھی کام کرتی ہیں لیکن پیشہ سے سرکاری طور پر ، وہ جلد سے متعلق امور کے بارے میں اسلام آباد میں ایک ڈاکٹر اور ان کا اپنا کلینک ہے۔ شائستہ نے […]

0 comments
Momina Mustehsan Shares some New Lovely Clicks 2021

Momina Mustehsan Shares some New Lovely Clicks 2021

مومینہ مستحسن نے کچھ نئے خوبصورت کلکس کا اشتراک کیا مومنہ مستحسن پاکستانی میوزک انڈسٹری میں سب سے اچھے گلوکارہ ہیں۔ ان کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور وہ مومنہ مستحسن کی اچھی تعلیم یافتہ فنکار ہیں جنھیں سن 2008 میں کوک اسٹوڈیو سیزن 1 میں گلوکار کے طور پر پہچانا گیا تھا اور […]

0 comments
Yumna Zaidi Looking Queen in New Lovely Dress

Yumna Zaidi Looking Queen in New Lovely Dress

نئے خوبصورت لباس میں یمنا زیدی لِکنگ ملکہ یمنا زیدی پاکستانی شوبز انڈسٹری میں اب تک کی بہترین اداکارہ اور انوکھا فنکارانہ ہیں ، یومنا کا تعلق ایک بہت ہی پڑھے لکھے گھرانے سے ہے جس نے اپنی تعلیم پاکستان سے باہر کی تھی۔ یومنا کو انتہائی پیارے اور خوبصورت چہرے سے نوازا گیا ہے […]

0 comments

Sohai Ali Abro Finally Got Married Wedding Lovely Moments 2021

0
Sohai Ali Abro Finally Got Married Wedding Lovely Moments 2021
Sohai Ali Abro Finally Got Married Wedding Lovely Moments 2021

سوہائے علی ابڑو نے آخر کار شادی کے خوبصورت لمحوں سے شادی کرلی

سہائے علی ابڑو پاکستان فیشن انڈسٹری کی اگلی سطح کی اداکارہ اور ماڈل ہیں۔ اس کی بالآخر کل ان کی شادی شہراز شعیب سے ہوگئی اور آج سوہائی کا ولیمہ ڈے ہے۔ انہوں نے 26 سال کی عمر میں کامل زندگی میں شادی کی۔ وہ متعدد فلموں میں کام کرنے والی ایک فلمی اسٹار بھی ہیں۔ ہمایوں سعید کو بھی شادی میں مدعو کیا گیا ہے۔

سوہائی علی ابڑو ایک نتیجہ خیز اور اعلی نمونہ ہیں جنہوں نے تصاویر کیں جن کی طرز دنیا کے تمام بڑے ناموں پر مشتمل ہے۔ اس نے ٹیلی وژن کے اشتہارات میں بھی کام کیا ہے جس میں کوکا کولا ، پیپسی ، موبی لنک اور شان اچن بھی شامل ہیں۔ اس نے 2012 میں جیو ٹیلی ویژن کے ٹیلیویژن ترتیب “سات عذر میں” کے ساتھ اپنی اداکاری کی پیش کش کی تھی جس میں انہوں نے مرکزی حصہ سنبھالا تھا اور اپنی نمایاں نمائش سے سب کو سموہن کردیا تھا۔

پاکستانی انٹرٹینر اور ماڈل سوہائی علی ابڑو شادی شہزاد محمد کے ذریعہ اپنے مداحوں کے لئے خوش کن خبریں لے رہی ہیں۔ اس کی دوسری اہم شخصیت سابقہ ​​نامور کرکٹر شعیب محمد کا بچہ ہے اور شعیب محمد حیرت انگیز کرکٹر حنیف محمد کا بچہ ہے۔ ویب پر مبنی میڈیا کے ذریعہ ان کی شادی کی تصاویر ویب سنسنیشن میں تبدیل ہوگئیں۔ موجودہ حالات کے پیش نظر ، بہت سارے زائرین کا خیرمقدم نہیں کیا گیا۔

حیرت انگیز تفریح ​​کنندہ سوہائے علی ابڑو کی اپنی اگلی پہلی فلم ہالی ووڈ میں جانا اچھا ہے اور انہوں نے فلم “دی ونڈو” کو بطور لیڈ جاب کے طور پر نشان زد کیا۔ کہانی 15 سال کی عمر کی نوجوان خاتون کی ہے۔ تفریحی فنال قریشی نے ایک ملاقات میں مزید کہا کہ وہ بھی اسی طرح اس فلم میں نظر آئیں گے۔

Yashma Gill Stunning look in Casual Workout costume 2021

Yashma Gill Stunning look in Casual Workout costume 2021

آرام دہ اور پرسکون ورزش کے لباس میں یشما گل شاندار نظر آ رہی ہیں یشما گل پاکسان شوبز انڈسٹری کی ایک ابھرتی ہوئی ماڈل اور اداکارہ ہیں۔ اس نے پاکستان سے باہر سے اپنی گریجویشن مکمل کی۔ یشما کا اپنا ایمان ختم ہوگیا اور وہ ملحد ہوگئی اور شوبز میں شامل ہونے سے پہلے […]

0 comments
Shaista Lodhi wore the lovely jeans with White Shirt 2021

Shaista Lodhi wore the lovely jeans with White Shirt 2021

شائستہ لودھی نے خوبصورت جینز کو وائٹ شرٹ کے ساتھ پہنا تھا شائستہ لودھی بہترین پاکستانی میزبان ہیں اور ماڈل کی حیثیت سے بھی کام کرتی ہیں لیکن پیشہ سے سرکاری طور پر ، وہ جلد سے متعلق امور کے بارے میں اسلام آباد میں ایک ڈاکٹر اور ان کا اپنا کلینک ہے۔ شائستہ نے […]

0 comments
Momina Mustehsan Shares some New Lovely Clicks 2021

Momina Mustehsan Shares some New Lovely Clicks 2021

مومینہ مستحسن نے کچھ نئے خوبصورت کلکس کا اشتراک کیا مومنہ مستحسن پاکستانی میوزک انڈسٹری میں سب سے اچھے گلوکارہ ہیں۔ ان کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور وہ مومنہ مستحسن کی اچھی تعلیم یافتہ فنکار ہیں جنھیں سن 2008 میں کوک اسٹوڈیو سیزن 1 میں گلوکار کے طور پر پہچانا گیا تھا اور […]

0 comments
Yumna Zaidi Looking Queen in New Lovely Dress

Yumna Zaidi Looking Queen in New Lovely Dress

نئے خوبصورت لباس میں یمنا زیدی لِکنگ ملکہ یمنا زیدی پاکستانی شوبز انڈسٹری میں اب تک کی بہترین اداکارہ اور انوکھا فنکارانہ ہیں ، یومنا کا تعلق ایک بہت ہی پڑھے لکھے گھرانے سے ہے جس نے اپنی تعلیم پاکستان سے باہر کی تھی۔ یومنا کو انتہائی پیارے اور خوبصورت چہرے سے نوازا گیا ہے […]

0 comments

Saadgi Kay Khaasarey | Teen Auratien Teen Kahaniyan in urdu 2021

0
Saadgi Kay Khaasarey | Teen Auratien Teen Kahaniyan in urdu 2021
Saadgi Kay Khaasarey | Teen Auratien Teen Kahaniyan in urdu 2021

سادگی کے خَسارے

میری آپا بہت سیدھی سادی اور معصوم تھیں۔وہ فیشن کرنا نہیں جانتی تھی۔کس کر چوٹی گوندھ کے اپنے چہرہ طباق سا بنالیتیں۔کپڑے مردہ رنگوں کے ،دوپٹہ چادر کی طرح سر منہ لپیٹ لیتیں۔
ہم سب بہنوں نے آپا کو ملازمت کرنے سے روکا کہ تم گھر سنبھالو ،بیمار ماں کا خیال رکھو ہم ملازمت ڈھونڈتی ہیں۔مگر انہوں نے بات نہ مانی کہا کہ بڑی میں ہوئی یہ ذمہ داری ہے کہ تم لوگوں کیلئے کماؤں اور گھر کا بوجھ اُٹھاؤں۔تم گھر بیٹھواور مجھے ملازمت کرنے دو۔
انہی دنوں اُن کا ،بی اے ، کا رزلٹ آیا تو ملازمت کی تلاش اور انٹرویو کے چکر شروع ہوگئے۔جہاں انٹرویو دینے جاتیں،عجیب سا حلیہ بنا لیتیں۔اور ناکام لوٹتیں۔وہ نئے دور کے تقاضوں کو سمجھتی ہی نہ تھیں-تبھی ہم کہتے آپا بڑی ماڈرن کمپنیوں میں انٹرویو میں کامیابی تمہارے بس کا کام نہیں ہے۔تم ذرا بھی چالاک نہیں ہو۔اور یہاں چالاک و چرب زبان لوگوں کا ہی کام ہے۔آپا کی سہیلیاں ،ملازمت کر رہی تھی۔وہ بھی کہتیں خولہ بی بی تم میں وہ ہوشیاری نہیں ہے جو آج کل ملازمت کیلئے چاہئے ہوتی ہے۔بھلا تم ایسی دقیانوسی کو کون نوکری دے گا۔آرام سے گھر بیٹھو اور تانیہ کو قسمت آزمائی کرنے دومگر انہوں نے بات ماننے کی نجائے برا منایا۔
انسان اپنے رب سے مایوس نہ ہو توکبھی وہ اپنی مراد پا ہی لیتا ہے۔جب اس تگ و ،دو سال بیت گیا۔کہ ایک روز انہوں نے گھر آکر یہ مژدہ سنایا کہ ان کو ملازمت مل گئی ہے۔جس شحص نے انٹرویو لیا تھا ۔وہ ان کی سادگی دوسرے لفظوں میں ہونگے پن سے متاثر ہوا تھا۔آپا کمپیوٹر سٹم سے بھی واقف نہیں تھیں۔پھر بھی باس نے ان کو پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر رکھا تھا اور تخواہ کافی معقول تھی۔جبکہ میری بہن اُس سیٹ کیلئے بالکل بھی موزوں نہ تھا،یوں بالآخر ہماری آپا اپنے سادی و معصوم حسن کی بدولت انٹرویو میں کامیاب ہو گئی تھیں۔
وہ خوش تھیں۔باس کا سلوک ان سے اچھا تھا ۔اختر صاحب کی تعریف کرتے نہیں تھکتی تھیں۔جب وہ تعریف کر چکتیں تو ان سے کہتی ۔آپا ہوشیار رہنا ۔مرد ذات بڑےبے اعتبار ہوتا ہے۔ان پر بھروسہ کتنا ۔وہ میری بات کا برا مناتیں۔اور کبھی میری جانب معصومیت سے تکنے لگتیں۔جیسے میں نے ان کو کوئی بہت بری بات کہہ دی ہو۔آپا اتنی سادہ لوح تھیں۔کہ اس شکاری کی چالوں کو نہ جانتی تھیں۔ان کی مہربابیوں پر خوش ہوتیں اور پھولے نہ سماتی تھیں۔میرا جی کرتا کہ ان کو آفس نہ جانے دوں۔ہر دم کوئی دھڑکا سا لگا رہتا تھا۔خدا جانے کیسا شخص ہے کمپنی کا مالک اور کیا نیت ہے اس کی ۔دل کسی آنے والے سانحے کی جیسے پیشگی خبر دیتا تھا۔وہی ہوا جس کا ڈر تھا،اس گھاگ شکاری نے بالآخر میری بہن کو اپنے جال میں پھنسا ہی لیا۔وہ چوبیس کے سن کےایک خوبصورت دوشیزہ تھیں۔مگر چہرے پر معصومیت بچوں ایسی تھی۔جو ان کے رنگ روپ میں نوُر سا چھلکائے رکھتی تھی۔ اور اسی نوُر بھرے روپ ہی ان کے مکھڑے پر بلا کی کشش تھی۔
اختر ملک نے ایک پوش علاقے میں خوبصورت فلیٹ لے رکھا تھا اور،اس فلیٹ کو وہ اپنی تعیش بھری زندگی کا سائبان سمجھتا تھا۔اس کو بخوبی معلوم تھا ہمارے سر سے بھئ سائبان اٹھ چکا ہے۔ابو کے انتقال کے بعد کنبے کا کوئی کفیل نہ رہا تھا۔تبھی آپا کو گھر سے مجبور ا پہلی بار قدم نکالنے پڑے تھے۔اختر صاحب اپنے دوستوں کے ساتھ فلیٹ میں پر تعیش محفلیں منعقد کیا کرتے تھے۔یہاں مے نوشی اور وہ سب کچھ ہوتا تھا جو ایک عیاش آدمی کر سکتا ہے۔
ایک روز کوئی فائل ڈھونڈنے کے بہانے وہ آپا کو اُسی فلیٹ میں لے گیا۔کہا کہ وہاں سارا بزنس کا ریکارڈ ہے ۔بہت اہم فائل ہے ،اُسسے ڈھونڈنے میں میری مدد کروگی۔اعتماد جمانے کو اپنے ایک کلرک کو بھی ساتھ لے لیا۔جس کو بعد میں کسی بہانے کھسکا دیا۔
بے خبر آپا جس کا واسطہ اس قسم کے غیرمردوں سے کبھی نہ پڑا تھا۔آنکھیں بند کر کے اپنے مہربان باس کے پیچھے چلتی ہوئی فلیٹ میں داخل ہو گئیں۔باس نے کہا کہ ہمارا کلرک کچھ کاغذات لے کر ابھی واپس آ رہا ہے ۔وہ بھی اس اہم فائل کو ڈھونڈنے میں ہماری مدد کرے گا۔
آپا کو اس نے ایک کمرے میں جانے کا اشارہ کیا اور خود واش روم چلا گیا۔جب وااپس لوٹا تو اس کی شکل بدلی ہوئی تھی اور، چہرے سے شرافت کا نقاب اُتر چکاتھا۔اب وہ انسان سے حیوان کا روپ دھار چھکاتھا۔غافل ہو کر اس فلیٹ میں داخل ہوئیں اور عمر بھر کا پچھتاوا ،دامن میں سمیٹ کر نکلیں ،جانے کیسے گھر آئیں۔غم سے نڈھال تھیں،کسی کو کچھ نہ بتایا کہ ان پر کیا قیامت گزر گئی ہے۔سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئیں۔اور ،دو گھنٹے تک باہر نہ نکلیں ۔کھانے کا بھی نہ کہا۔
امی اپنے کمرے میں بیمار پڑی تھی۔ان کو نہیں معلوم کہ خولہ آچکی ہے۔آپا کو کھانا میں ہی دیا کرتی تھی۔شام تک انہوں نے نہ مانگا۔میں ان کے کمرے میں گئی اور کھانے کا پوچھا ۔وہ بستر پر لیٹی چھت کو گھور ،رہی تھیں۔جیسے کوئی پتھر کی مورت ہوں۔رنگ اُڑا ہوا تھا۔اور آنکھیں ویران تھیں۔اُس رات انہوں نے کھانا بھی نہ کھایا نہ کمرے سے نکلیں۔صبع دفتر کی گاڑی لینے آئی تو وہ سو رہی تھی۔میں نے ڈرائیور کو یہ کہہ کر گاڑی واپس کر دی کہ اُن کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔لہذا آج وہ آفس نہ جائیں گی۔اس کے بعد بھی روز آفس کی گاڑی اُن کو لینے آتی مگر وہ نہ جاتیں۔ایک دن اختر صاحب خود آگئے۔میں نے دروازہ کھولا۔وہ گاڑی سے اُتر آئے ۔ان کو کبھی دیکھا نہ تھا پھر بھی پہچان لیا کہ حلیے بشرے سے لگتا تھا ہو نہ ہو یہی باس ہے۔انہوں نے آگے بڑھ کر تعارف کروایا۔میں نے کہا ٹھہریئے میں آپا کو خبر کرتی ہوں۔ان کو بتایا وہ بولیں۔تم اب اِدھر ہی رہومیں خود جا کر بات کرتی ہوں۔

وہ باہر گئیں دونوں میں چند منٹ بات ہوئی نہیں معلوم ذرا دیر ہی وہ ان کو ڈرائنگ روم میں لے گئیں۔مجھے کہا تانیہ چائے بنا دو ۔باس آئے ہیں۔چہرے پر ان کے کوئی جذبات نہ تھے۔لہجہ بھی سپاٹ تھا۔میں کچن میں چلی گئی۔والد مرحوم ہو چکے تھے اور بھائی اللہ نے دیا ہی نہ تھا۔یہ آپا کا مہمان تھا۔انہوں نے ہی میزبانی کرنا تھا۔چائے بناکر جب میں ڈرائنگ روم میں لائی تو اختر صاحب کچھ خجل سے اور آپا کا موڈ قدرتے درست تھا۔گویا ،دونوں میں کوئی سمجھوتہ ہو چکا تھا۔
اگلے دن سے آپا پھر سے دفتر جانے لگیں۔ایک ماہ بعد انہوں نے امی کو بتایا کہ ان کی کمپنی کا مالک ان سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔اُس کو گھر لا کر مجھ سے ملواؤ۔ماں نے جواب دیا ۔اگر ٹھیک آدمی ہے تو شادی تو کرنا ہی ہے۔تمہارے ماموں سے ملوادوں گی۔وہی اس اہم کام کو انجام دیں گے۔خیال رہے کہیں شادی شدہ نہ ہو۔
ماں ان درمیان میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے ۔نہیں بیٹی شادی بیاہ کے معاملات میں کسی اپنے کی سر پرستی ضروری ہوتی ہے۔مگر میری سیدھی سادی بہن اور ماں کی فرمانبردار بیٹی ہماری آپا کو نجانے کیا ہوگیا تھا کہ انہوں نے ماموں کی اس معاملے میں شمولیت کو صاف منع کر دیا تھا۔ماں کی خفگی کی بھی پروانہ کی ۔جیسے ان کی جان بن گئی ہو۔بغیر کسی کی پروا کئے اختر صاحب سے نکاح پڑھوا لیا۔ماں بچاری معذور بستر پر پڑی تھیں۔کیا کرتیں اور آپا،،،آختر صاحب کو گھر بھی لے آئیں ۔اماں سے ملوایا۔وہ حیران نظروں سے بس دونوں کو تکتی گئیں۔اور کرتی بھی کیا ،ہم چھوٹی بہنیں اب انہی دست نگر تھیں۔گھر کا چولہا ان کے دم سے جلتا تھا۔جب سے آپا کی ملازمت ہوئی تھی ۔ماموں نے ہماری امداد سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔اب اماں کو یہ بھی ڈر کہ اگر ان کے بھائی کو علم ہو گیا کہ خولہ کا نکاح ہو گیا ہے تو کس قدر برا منائیں گے کہ ان سے صلاح مشورہ تک نہ کیا۔اب جو بھی معاملات ہو رہے تھے۔ ہم خود اس سے بے خبر اور لا علم تھے۔آپا سے کوئی سوال کرتے وہ چپ ہو جاتیں۔اور خاطر خواہ جواب نہ دیتیں۔یہ وہی ہماری بہن تھی جس کو سبھی سیدھی سادی کہتے تھے۔انہوں نے منہ میں گھنگنیاں ڈال ،چپ ساھ رکھی تھی۔البتہ اب وہ بغیر رخصتی ہر جگہ اختر صاحب کے ساتھ آتی جاتی تھی۔
کچھ دنوں بعد آپا اختر صاحب کے فلیٹ میں منتقل ہوگئیں۔ہم کو ہر ماہ خرچہ بھجوادیا کرتیں۔کچھ عرصہ ایسے ہی گزر گیا۔وہ ،والدہ کو بھی ملنے نہ آتیں۔البتہ مجھے ایک دن انہوں نے ساتھ گھر چلنے کو کہا اور،فلیٹ میں لے گئیں۔
بتایا کہ جلد ہی تمہارا بھانجا یا بھانجی اس دنیا میں آنے والے ہیں۔تم کو کچھ دنوں کیلئے میرے پاس آکر رہنا پڑے گا۔کیونکہ اماں تو بیماری کے سبب آ نہ سکیں گی۔دو ماہ بعد انہوں نے مجھے بلوایا اور ایک مردہ بچی کو جنم دیا۔ان کی سار ی خوشی خاک میں مل گئی۔اس مرحلے کے بعد اختر صاحب ان کو پھر سے ہمارے گھر چھوڑ گئے۔اب جب ڈرائیور لینے آتا وہ چلی جاتیں۔ایک روز مجھے ڈرائیور سے بات کرنے کا موقع مل گیا۔پوچھا کہ تمہارے صاحب میری بہن کو گھر کیوں نہیں لے جاتے ؟اس نے کہا باجی کسی سے ذکر مت کرنا۔اپنے گھر میں تو ان کی بیوی اور بچے رہتے ہیں اور آپ کی آپا ان کی دوسری بیوی ہیں۔یہ شادی انہوں نے گھر والوں سے چھپ کر کی ہے۔تو ان کو کیسے وہاں لے جا سکتا ہے۔
یہ تو امی کو اور مجھے پہلے سے انداز تھا کہ اختر نے خولہ سے دوسری شادی کی ہے کیونکہ دونوں کی عمروں میں کم ازکم پندرہ برس کا تو فرق ہوگا۔اور رخصتی کے بغیر محض نکاح کر کے لے جانے کا مطلب صاف ظاہر تھا۔
رفتہ رفتہ اختر صاحب آپا سے کنارہ کرنے لگا۔وہ دنوں بعد آتے ،صبع ان کو لے جاتے شام کو واپس چھوڑ جاتے ۔آپا کہتیں میں تمہاری بیوی ہوں۔مجھے مستقل اپنے پاس رکھو۔یہ بات ہوئی کہ زمانے سے چھپاتے ہو کبھی میکے لا چھوڑتے ہو کبھی لے جاتا ہو،بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے۔یہ سردیوں کے د ن تھے۔ایک روز اختر صاحب ہمارے گھر کے دروازے پر آئے ۔گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہارن دیا۔آپا ،اس مدھتر آواز کو پہچاتی تھیں۔ان کے کان کھڑے ہو گئے۔دوڑ کر در پر پہنچیں۔اور ،اختر صاحب کے ساتھ چلی گئیں۔اگلے دن وہ نہ آئیں۔مگر اطلاع آگئی،کہ رات گیس کا ہیٹر کھلا رہ گیا ۔کمرے میں گیس بھر گئی۔اختر مغرب کے بعد واپس آنے کا کہہ کر گھر سے چلے گئے اور واپس نہ آسکے۔آدھی رات کے بعد لوڈشیٹنگ کے باعث جب گیس آنی بند ہوگئی تو ہیٹر بھی بجھ گیا،خدا جانے کب گیس دوبارہ آ گئی۔اور ہیٹر سے لیک ہوتی رہی حتی کہ کمرہ بھر گیا۔آپا نیند میں بیہوش ہو گئی ہلنے جلنے کے قابل نہ رہیں۔دم گھٹ جانے سے نجانے رات کو کون سے وقت موت کی آغوش میں چلی گئیں۔
جب اختر صاحب کے درائیور نے آکر یہ اندوہناک خبر بتائی تو ہمارے دلوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔حوصلہ نہ ہوتا تھا کہ امی جان کو بتاتے ،ان کی حالت تو دو،دن سے ویسے ہی کافی خراب تھی۔اس پر وہ آپا کی طرف سے فکر مند تھیں۔۔۔۔بڑی مشکل سے مین نے ان کو آگاہ کیا۔میری ماں کو تو ایسی چپ لگی ،جیسے سکتہ ہو گیا ہو۔ہم چار بہنیں آپا سے چھوٹی تھیں۔چاروں کی آہ و بکا سے گھر میں کہرام مچا تھا۔آپا کو آخری دیدار کیلئے لایا گیا۔اختر صاحب ساتھ آئے افسردہ تھے۔امی کے پاس تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر آپا کو تدفین کیلئے لے گئے۔
آپا کی موت دم گھٹ جانے کے سبب ہوئی تھی۔یہی بتانا گیا ،وہ جیسے فلیٹ میں اکیلی سوئیں۔ویسے ہی اکیلی دنیا چھوڑ کر چلی گئیں۔ان کے دنیا سے چلے جانے کا،اس قدر غم ہو کہ مہینوں کسی بہن کے لبوں پر مسکراہٹ نہ آئی۔لگتا تھا کہ آپا نہیں روٹھیں۔ہم سے زندگی کی ساری خوشیاں روٹھ گئی ہیں۔

آپا خولہ کی وفات کے بعد اختر صاحب نے ہمیں بے یار و مد د گار نہ چھوڑا۔وقتا فوقتا ،آتے اور خرچہ وغیرہ دے جاتے ،مجھے ان سے اب کچھ لینا گوارا نہ تھا۔مگر ہمارا ،اور کوئی ذریعہ آمدنی بھی نہ تھا۔ایک روز ان کے لبوں پر وہ بات آگئی جو میرے دل میں تھی،انہوں نے مجھے ملازمت کی پیش کش کر دی ۔جس کو میں نے فورا قبول کیا۔تاہم ان کے انداز سے میں منتظر تھی کہ وہ ایسا ایک دن ضرور کہیں گے۔
میں نے اختر صاحب سے کہا کہ آپ نے ملازمت کی پیش کش کر کے یہ اچھا کیا ہے۔کیونکہ آپا تو اب اس دنیا میں نہیں رہی ہیں۔ان کی جگہ مجھے گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں۔کیونکہ ہمارے حالات ہی ایسے ہیں اگر آپ مجھے نہ کہتے تو مجھے خود آپ سے درخواست کرنا پڑتی۔انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں ویسے ہی تمہارے گھر کے اخراجات اٹھانے کو تیار ہوں۔مگر شاید تمہاری غیرت یہ گوارا نہ کرے۔تاہم اگر تم نکاح کرنا چاہو تو میں تیار ہوں ۔مگر یہ معاملہ عمر بھر خفیہ رہے گا۔کہ شادی شدہ ہوں۔
آپ نے بالکل ٹھیک سوچا ہے۔میں نے کہا مگر میں آپا کی طرح سادہ لوح نہیں ہوں۔خفیہ شادی پر یقین نہیں رکھتی۔اس کے بعد خود کو ایڈونس ظاہر کیا ۔مردوں کے ساتھ بات چیت میرے لئے کو ئی مسئلہ نہ تھا۔بیوٹی پارلر سے بال بنواتی تھی۔ہلکا میک اپ اور شوخ رنگ کے کپڑے پہنتی تھی۔مگر اختر صاحب سے لئے دیئے رہتی تھی۔آپا ،دھوکے سے اختر صاحب کے فلیٹ میں چلی گئی تھیں۔اور خفیہ شادی کے خول میں بند کر چار دن خوشی کے چھپ چھپ کر جی سکیں۔میں ان جیسی نہ تھی۔دلیر تھی ،مردوں سے ساتھ گھومنا پھیرنا میرے لئے کوئی مسئلہ نہ تھا۔میر ے اس رویئے سے اختر صاحب کی ہمت نہ ہوئی کہ مجھ سے دوبارہ ایسی بات کہتے۔
ایک روز میں آفس میں بیٹھی تھی کہ ایک خوُبرو نوجوان آیا ۔یہ اختر صاحب کا بیٹا تھا جو میرا ہم عمر تھا۔بیرون ملک سے پڑھ کر آیا تھا۔اس نے مجھے دیکھا تو بس دیکھتا رہ گیا۔اس کے بعد وہ اکثر آفس آنے لگا۔مجھ سے بھی ہیلو ہائے کرنے لگا۔میں نے محسوس کیا کہ طارق مجھ سے باتیں کرتا اور،اختر صاحب دیکھ لیتے ۔وہ بے چینی محسوس کرتے نہیں چاہتے تھے کہ ان کو بیٹا مجھ سے راہ۔ورسم بڑھائےیا گھلے ملے۔تب میں سوچتی کہ خود انہوں نے کیسے میری بہن کو گھیرا تھا،دوسری بیوی بنایا ۔مگر کبھی کسی پر ظاہر نہ کیا کہ خولہ ان کی پرسنل سیکڑٹری نہیں بلکہ منکوحہ ہیں۔میری بہن بچاری چھپ چھپ کر ان کے ساتھ رفاقت کے دن گزارے تھے۔لیکن میں کبھی ایسی بے بسی کی زندگی کو قبول نہ کروں گی۔ایک روز طارق نے مجھے کہا اگر اجازت ہو تو آپ کے کمرے میں چند منٹ بیٹھ جاؤں۔آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔میں نے کہا کہ یہاں نہیں۔یہ آفس ہے مجھے تم سے باہر کسی تنہا جگہ بات کرنی ہے۔مجھے معلوم ہے کہ تم مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہو۔تاہم اپنی زبان سے اقرار کرو تو یہ اچھا ہے۔وہ بولا ،تب یہیں پر ہی تم سے مختصر الفاظ میں کہہ دیتا ہوں کہ مجھے تم سے شادی کرنی ہے۔اگر تم میری پیش کش قبول کر لو تو اسے اپنی خوش قسمتی سمجھوں گا،اور،آپ کے والد صاحب کا کیا ہوگا۔کیا وہ مان جائیں گے۔نہیں مائیں گے تو ہم اپنے طور پر نکاح کر لیں گے،کیا چھپ کر؟ایسا میں قبول نہیں کر سکتی ۔شادی کرنی ہے تو ببانگ دہل کرو۔ہر کسی کو بتاکر۔اپنے والدین کو بھی اور سارے زمانے کو شامل کرنا ہو گا۔تب ہی میں تمہاری دلہن بنوں گی۔
طارق سوچ میں پڑگیا۔سوچ لیں اچھی طرح میں نے کہا۔میں قدم پیچھے نہیں ہٹاؤں گی۔اگر تم دلیری سے قدم بڑھاؤ گے۔طارق نے اپنے والد کو کہا کہ وہ مجھے سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔انہوں نے بہت روکا۔مخالفت کی۔حالانکہ وہ خود آپا سے شادی کر چکے تھے۔مگر اب بیٹے کی مخالفت پر ڈٹ گئے۔مجھے بھی کہا کہ جس قدر،روپیہ چاہئے لے لو مگر طارق کو انکار کر دو۔کیونکہ میری بیوی اس رشتے پر راضی نہ ہو گی۔
میری بہن سے اس شرط پر نکاح کیا تھا آپ نے کہ ان کو کوئی رشتہ دار نکاح میں شامل نہ ہو گا۔اور کسی کو وہ بتائیں گی اور اب اپنے بیٹے کے معاملے میں اور طرح کا روپ دھار لیا ہے۔آپ نے ٹھیک ہے۔اگر آپ نہیں چاہتے تو میں نہیں کروں گی طارق سے شادی۔ آپ روک لیں اپنے صاحب زادے کو۔طارق مگر کب رکنے والا تھا ۔وہ ،اڑ گیا اور اپنی بات منوا کر دم لیا۔وہ باقاعدہ اپنے والدین کے ساتھ بارات لے کر آیا۔اور مجھ کو باعزت طریقے سے بیاہ کر لے گیا۔اس نے اپنی دلیری سے میری عزت کو دوچندکیا۔یو ں میں اختر صاحب کے گھر میں وہ توقیر پائی جو میری بہن کو نہ ملی ۔اور جس مقام کو وہ ترستی ہوئی اس جہان سے چلی گئیں۔اس کو میں نے پا لیا۔میں نے یہی تہیہ کیا تھا کہ اپنی آپا کا بدلہ اس شخص سے اسی طرح لوں گی۔کہ اسے بھی بتانا پڑے گا۔کسی کی بہو بیٹی کو بھی عزت ہوتی ہے۔خواہ ،وہ ضرورت مند اور غریب گھر کی کیوں نہ ہو۔جب عورت منکوحہ بنتی ہے تو اس کو مرد کا نام ہی نہیں ۔اس کامقام بھی ملتا چاہیے ۔ورنہ زمانہ اس کو مشکوک نظروں سے دیکھتا ہے ۔اور ،وہ ناعزت زندگی جینے کی خواہش میں اپنی توقیر کھو دیتی ہے۔
آج اختر صاحب اس دنیا میں نہیں ہیں اور ان کا سارا ، اثاثہ ،عزت، اور عیش و آرام طارق کو مل گیاہے۔آج میں اس بات پر فخر کرتی ہوں کہ میں طارق کی بیوی ہو ں اور ، سب مجھ کو رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ میں معاشرے میں کوئی مشکوک پرسن نہیں ہو ں اور یہ صرف میری جرات کی وجہ سے ہے۔اگر طارق میری بات نہ مانتے اور خفیہ نکاح پر اڑ جاتے تو میں آپا جیسا ٖفیصلہ کبھی نہ کرتی ۔میں طارق کو رد کر دیتی کیونکہ میرے نزدیک محبت ہی سب کچھ نہیں ہے۔عزت اور معاشرے میں مقام محبت سے بڑھ کر ہیں۔
(مسز طارق۔۔۔۔چورہٹہ)

Qismat Achi Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Qismat Achi Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

قسمت اچھی تھی شہربانو چودہ برس کی ہوئی توباپ نے اس کا گھر سے نکلنا بند کر دیا۔یوں وہ شیرے سے ملنے سے مجبور ہوگئی ۔شیرا ،اس کی خالہ کا بیٹا تھا۔بچپن ساتھ کھاتے دوڑتے گزرا۔اب وہ ایک دوسرے سے ملے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔تبھی بہانے بہانے سے شہربانو گھر سے باہر جانے لگی۔ […]

0 comments
Saadgi Kay Khaasarey | Teen Auratien Teen Kahaniyan in urdu 2021

Saadgi Kay Khaasarey | Teen Auratien Teen Kahaniyan in urdu 2021

سادگی کے خَسارے میری آپا بہت سیدھی سادی اور معصوم تھیں۔وہ فیشن کرنا نہیں جانتی تھی۔کس کر چوٹی گوندھ کے اپنے چہرہ طباق سا بنالیتیں۔کپڑے مردہ رنگوں کے ،دوپٹہ چادر کی طرح سر منہ لپیٹ لیتیں۔ ہم سب بہنوں نے آپا کو ملازمت کرنے سے روکا کہ تم گھر سنبھالو ،بیمار ماں کا خیال رکھو […]

0 comments
Khabi Aisa Bhi Hota Hai | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Khabi Aisa Bhi Hota Hai | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے جب سے وہ نوکری کیلئے میرے پاس آیا تومیں اس یوسف ثانی کو دیکھتی رہ گئی۔وہ سیدھا سادہ،بھولابھالا نوجوان سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا،سرخ و سفید رنگت دراز قد ۔۔پہاڑوں کا باسی مگر نرم خو ،سخت ضرورت مند نظر آیا۔ نام بتاؤ،صنوبر خان تم کہاں کے رہنے والے ہو اور […]

0 comments
Waqt Palatta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Waqt Palatta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

اس روز صبع کے سات بجے تھے جب طوبیٰ کے گھر گئی۔سامنے ہی ایک نوجوان کرسی پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔اسے پہلی بارطوبیٰ کے گھر دیکھا تھا۔قدم ٹھٹھک گئے۔آنٹی کچن سے نکلیں۔ان کے ہاتھ میں ٹرے تھی۔وہ اس مہمان کیلئے ناشتہ لا رہی تھی۔مجھ پر نظر پڑی تو کہا۔شانو بیٹی اندر چلی جاؤ۔طوبیٰ تیار […]

0 comments
Sabr Ka Samar Mila Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Sabr Ka Samar Mila Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

ایک روز کلینک میں مریضوں کو دیکھ رہی تھی کہ ایک خوبصورت معصوم سی لڑکی۔۔بوڑھی عورت کے ساتھ آئی۔اور اپنی بار ی کا انتظار کرنے لگی۔کچھ دیر بعد جب میں نے اس کو طلب کیا اور ،مرض کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگی ۔ڈاکٹر صاحبہ میں بیمار نہیں ہوں بس کمزوری ہے۔مجھے طاقت کے […]

0 comments
Babool Ki Chaoun | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Babool Ki Chaoun | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

رابو میری سہیلی تھی ۔وہ میرے ساتھ کھیلی اور ہم ساتھ ہی پڑھنے جاتے تھے۔پانچوں جماعت تک وہ امیر آدمی کی بیٹی تھی۔پھر ان پر غیربت ٹوٹ پڑی۔اس کو نہیں یاد کبھی اس کی زندگی میں اچھے دن بھی آئے تھے،محلے والوں سے سنا کرتی تھی۔کہ وہ ٹھاٹ سے رہا کرتے تھے اور کمخواب کے […]

0 comments

urdu story,
urdu sories,
stories in urdu,
true stories in urdu,
complete novel,
urdu novels,
urdu ki kahanian,
kahanian in urdu,
urdu ki kahani,
sachhi kahanian,
true kahani,
true stories,
urdu story channel,
drama story in urdu,
top urdu stories,
best urdu stories,
top urdu novel,
best urdu novel,
3 aurtain 3 kahani,
yanFamous Stories ,
TEEN AURATIEN TEEN KAHANIYAN,
Teen Auratien Teen Kahaniyan,
TEEN AURATIEN TEEN KAHANIYAN KAHANIYAN,
Teen Auratien Teen Kahaniyan ,
latest story,
WEEKLY AKHBAR-E-JEHAN,

Zulf e Giran | Complete Urdu Story in Urdu 2021

0
Zulf e Giran | Complete Urdu Story in Urdu 2021
Zulf e Giran | Complete Urdu Story in Urdu 2021

سلیمان کا دل تو چاہا رہا تھا کہ دَبے پاؤں آگے بڑھے اور اپنے بوڑھے چچا کا گلا دبا دے ۔لیکن یہ خیال احمقا نہ تھا۔متعدد افراد نے اسے چچا کے فلیٹ میں داخل ہوتے ہوئے صاف طور پر دیکھا تھا۔
اس نے چاپلوسی سے اپنی بات جاری رکھی۔چچا اب میں پہلے کی نسبت بہت سدھر گیا ہوں۔مسئلہ یہ ہے کہ میں کئی لوگوں کا مقروض ہوں۔اور چند دن کے اندر،اندرمجھے لازمی طور پر اُن کا قرض چکانا ہے۔ورنہ سلیمان نے چچا کو قائل کرنا چاہا۔
برخوردار مجھے دھوکا دینا آسان نہیں ۔میں تمہارے چال چلن اور شب و ،روز کے سب مشاغل پر نگاہ رکھے ہوئے ہوں۔تمہارے باپ نے عقل مندی کی کہ وہ مرتے وقت اپنی جائداد کا نگرا ن بنا گئے۔انہوں نے مجھے سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے متعدد بار خدشہ ظاہر کیا تھا۔کہ سلیمان ذمہ دار نہیں ،دونوں ہاتھوں سے روپیہ لُٹا رہا ہے۔جب کہ یہ پینتیں برس کی عمر میں پہنچ کر اپنے آپ کو ذمہ دار اور محنتی ثابت نہ کرے۔جائداد میں سے اُسے صرف ایک معتول رقم ہی اخرات کیلئے ملنی چاہیے۔میں اپنے بھائی کی وصیت پر آخری دم ےتک سختی سے کار بند رہنا چاہتا ہوں۔تمہارے باپ کی وفات اخراجات کی رقم دس ہزار ،روپیہ ماہانہ تھی۔جو اب تمہاری شاہ خرچیوں کی بنا پر بیس ہزار تک جا چکی ہے۔لیکن تم نے کسی طور بھی اپنے آپ کو ذمہ دار اور ،جائداد کا اہل ثابت نہیں کیا۔
ذمہ داری کی ایک اہم شکل ازدواجی زندگی ہے۔تمہیں پینتیس برس کی عمر میں اس بندھن میں بندھ جا نا چاہئے۔یہ قرضے کا بوجھ جوئے کی بدولت تم پر سوار ہے۔ہوش کے ناخن لینا تم نے سیکھاہی نہیں ۔میں تمہیں ہرگز بیس ،ہزار سے زیادہ کا چیک نہیں دے سکتا۔چچا نے ناصحانہ لہجے میں لیکچر جھاڑا۔
سلیمان اند ر ہی اندر بُری طرح اُٹھا،لیکن بظاہر پر سکون بیٹھا کڑوی ،کیسلی نصیحتیں برداشت کرتے ہوئے دوبارہ مخاطب ہوا۔پلیز چچا میرا ہاتھ ،بڑا تنگ ہے اور صورت حال نازک ۔۔۔میری زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔سلیمان نے منت سماجت کرتے ہوئے کہا۔
اس قسم کی نہانہ بازیاں تم آئے دن کرتے ہی رہتے ہو۔آخر تم کب اپنی حرکتوں سے باز آؤ گے۔صرف میری موت ہی تمہارا ۔راستہ،ہموار کر سکتی ہے۔لیکن فی الحال میرا مرنے کا کوئی پروگرام نہیں ۔میں اپنا ہر طرح سے خیال رکھتا ہوں۔میں اس عمر میں بھی ملازمت کر رہا ہوں۔تم بھی اپنے وقت کو مثنت استعمال میں لاؤ۔اور ،کوئی جاب وغیرہ کرلو۔
چچا لوگ کیا کہیں گے۔وہ جذباتی لہجے میں بولا،ایک رئیس آدمی کا بیٹا دھکے کھات پھر رہا ہے۔گدھوں کی طرح کلرکی کر رہا ہے۔سلیمان پھٹ پڑا۔چچا غصے سے سرخ ، ہو کر بلند لہجے میں بولے ،نواب زادے ،تم یا تو،کوئی کام کاج کرویا،اپنے اخراجات کم کر دو۔اور رہا،قرض کا مسئلہ تو اس کیلئے تم اپنی کچھ قیمتی اشیاء فروخت کر سکتے ہو۔
سلیمان کا خون کھول اُٹھا۔اُس کے کثیر ورثے پر ایک سانپ کو مسلط کر چکا تھا۔جو پھنکارنے کے سوا کچھ نہیں جانتا تھا۔آخر یہ دولت جو کل اُس کے ہاتھ آنے والی ہے ،آج دے دینے میں کیا حرج ہے؟
چچا کی نصیحتیں اور تجویزیں اُسے سخت ناگوار گزر،رہی تھیں۔انہوں نے آج کھل کر اُس کی تذلیل کی تھی۔اُس کی رگوں میں چنگاریاں سی دوڑنے لگیں۔اور دل غیظ و غضب سے بھر گیا۔اُسے یو ں محسوس ہوا جیسے اُسے کسی آتش فشاں کے دہانے پر جھکا دیا گیا ہو۔
میں تمہارے فائدے اور سہانے مستقبل کیلئے ہی نگران ہوں۔چچا سلیم اختر نے بھتیجے کی کیفیت بھانپ کر اپنا ہاتھ اُس کے کندھے پر رکھتے ہوئے محبت سے کہا،مگر یہ جملہ بھی زہر یلا تیز بن کر اُس کے دل میں اُتر گیا۔وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔لفٹ کی طرف بڑھے ہوئے سوچنے لگا کہ اب چچا اور ،میں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔اب مجھے اپنا حق حاصل کر لینا چاہیے۔اب میں چچا کی نصیحتیں اور،ڈانٹ پھٹکار مزید برداشت نہیں کر سکتا۔اب میں ہر قیمت پر اپنی دولت حاصل کروں گا۔اب بساط اُلت کر رہے گی۔میں جو ذلت اور،تنگدسی کی زندگی گزار ،رہا ہوں،کیوں نہ اپنی دولت سے عیش کروں۔اُف میں چچا کا بندوبست کس طرح کروں۔ان پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہے۔شک و شبہ فوراُ مجھ پر ہی کیا جائے گا۔میں اپنا راستہ کس طرح سیدھ کروں۔مجھے کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔کچھ ایسا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
مختلف خیالات طوفانی بگولے کی مانند اُس کے ذہن میں گردش کر رہے تھے۔وہ طیش کے عالم میں مٹھیاں دبا ، رہا تھا۔قتل کے امکانات اُس کے ذہن میں وارد ہوتے رہے،لیکن ایک ایک کر کے سب کو مسترہ کرتا چلا گیا۔کیونکہ ہر وقت گواہوں کے حصار میں بند رہتے تھے۔ان کا فلیٹ دو بڑے کمروں برآمدے ،بالکونی،کچن ،اور ،واش روم پر مشتمل تھا۔اُوپر اور نیچے آنے جانے کیلئے لفٹ چوبیس گھنٹے متحرک رہتی تھی۔اور لفٹ میں ہر وقت مستعد رہتا تھا۔صبع چچا کسی ٹیکسی یا رکشا کو اپنے لیے منتخب کرتے ،ان کا سفر مال روڑ پر واقع بینک پر جا کر ختم ہوتا،ریٹاٹرمنٹ کے بعد چچا کو پرائیویٹ ،ملازمت مل گئی تھی۔بینک کے صدر ،دروازے پر مسلع گارڈز موجود رہتے تھے۔بینک کے سامنے کوئی ایسا مقام نہیں تھا جہاں چھپ کر چچا کو نشانہ بنایا جائے۔کسی اُجرتی قاتل کی خدمات حاصل کی صورت میں ایڈاونس ،اور بقیہ ادائیگی کہا ں سے کرتا۔
چچا بے اولاد تھے۔اپنی پہلی بیوی کی وفات کے بعد سے تنہا رہتے تھے۔انہیں صنف نازک سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ورنہ کسی عورت کو ہی چارے کے طور پراستعمال کیا جاتا اور بار بن سکتی تھی،
وہ سوچتے سوچتے بری طرح چکرا گیااور،سیدھا گھر جا کر لیٹ گیااور،رات بھر کروٹیں بدلتا رہا۔صبع ہی صبع چاندنی اُس کے گھر نازل ہوگئی۔چاندنی اس کی محبت تھی۔وہ اس وقت انتہائی خوبصورت اور حسین دکھائی دے رہی تھی۔لمبا قد ،سڈول جسم ،سرخ و سفید ،رنگت ،دلکش نشیب و فراز ،نیلی جھیل کی مانند گہری آنکھیں اور لمبے گھنے سیاہ بال۔ہو ا میں اس طرح اُڑ ،رہے تھے جیسے چودھویں کے چاند کو سیاہ بادلوں نے گھیر لیا ہو۔ہونٹوں پر گلابی لپ اسٹک قیامت ڈھارہی تھی۔وہ سفید پتلوں اور، زردجیکٹ میں ملبوی تھی۔

رسمی گفتگو کے بعد دونوں اصل موضوع کی طرف آگئے۔سناؤ کچھ کام بنایا نہیں۔چاندنی نے متفکر لہجے میں کہا۔وہ کہتے کہتے اچانک کسی گہریی سوچ میں ڈوب گئی۔سلیمان ،کمبخت چچا تو کسی آسیب یا بدُوح کی طرح جان کو آگئے ہیں۔کسی صورت بھی پینتیس برس سے قبل دولت میرے حوالے کرنےکیلئے تیار نہیں۔
تو اُسے کسے طرح راستے سے کھسکادو۔چاندنی نے دھیمے لہجے میں کہا کہ کہیں دیواریں نہ سن لیں،کوئی صورت نہیں،،،،سلیمان نے چاندنی کو درپیش رکاوٹوں سے آگاہ کیا۔یہ تو بڑی مایوس کن اور پریشان کن صورت حال ہے۔چاندنی نے اُٹھ کر کمرے میں ٹہلنا شروع کر دیا۔سلیمان کو وہ موسم بہار کی نو شگفتہ کلی ایک دم مرجھائی ہوئی دکھائی دینے لگی۔اسی وقت موبائل فون کی بیل بجنے لگی ۔غنڈے بار بار سلیمان سے اُس رقم کا مطالبہ کرنے لگے جو وہ جوئے میں لگا کے ہار گیا تھا۔دوستوں سے اُس نے جوئے کے علاوہ بھی قرض لے رکھا تھا،اس کا رنگ زرد پڑگیا۔چہرے پر شکنیں اور پیشانی کی رگیں اُبھر آئیں۔وہ عالم اضطراب میں مٹھی کو کھولنے اور بند کرنے لگے۔
چاندنی رُک کر اُس کی ہیجانی کیفیت کو بغور دیکھنے لگی۔اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو میں کہیں کی نہ رہوں گی۔چاندنی نے قریب آکے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔اُسے راستے سے ہٹانا ہی پڑے گا۔سلیمان نے مشتعل لہجے میں کہا۔اُس کے چہرے میں سرخی سی چھا گئی تھی۔اُس کے سر پر قرضداروں کا بوجھ تھا،جو مزید مہلت دینے کیلئے بالکل تیار نہیں تھے۔اُس کی کار ورکشاپ میں مرمت ہو چکی تھی۔جو ایک حادثے میں تباہ ہوتے ہوئے بمشکل بچی تھی۔لیکن اب اُس کا لمبا چوڑا،بل وہ کہاں سے ادا کرتا،کار کے فوری فروخت کا بھی امکان نہیں تھا۔اب اُس کے پاس ایک ہی راستہ تھا ۔ اس نے گھر سے نکل کے شام اپنے علاقے کا ایک چکر لگایا تو اُسے پچھلی گلی میں ایک فیملی کار میں سوار ہو کر جاتی ہوئی دکھائی دی۔گلی سنسان تھی۔اور ماحول نیم تاریک ۔۔اُس گھر کے سامنے والی لائٹ خراب تھی۔سلیمان کچھ سوچ کر گھر لوٹ آیا۔اور ،رات گہری ہونے کا انتظار کرنے لگا۔رات کے پچھلے پہر وہ گھر سے باہر نکلا۔اُس نے کوٹ کے کالر کھڑے کیے ،سر پر فلیٹ ہیٹ وہ پہن چکا تھا۔آنکھوں پر بڑے بڑے شیشوں والی عینک بھی لگی ہوئی تھی۔وہ حلیے سے ہرگز پہچانا نہیں جارہا تھا۔ہونٹوں کے اوپر اُس نے مصنوعی مونچھیں بھی چیکا رکھی تھیں۔اُس کے مطلوبہ مکان کے ساتھ ایک بڑا خالی پلاٹ تھا۔جہاں خودرو ،جھاڑیاں اور چھوٹے چھوٹے درخت اُگے ہوئے تھے۔ایک بڑا درخت دیوار کے ساتھ تھا۔آگے بڑھے ہوئے اُس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔مساموں سے پسینہ پھوٹنے لگا۔جی کڑا کر کے اُس نے اِدھر اُدھر دیکھ ۔خود کو سنبھالا اور جوتے اُتار کر جیبوں میں ٹھونسے اور درخت پر چڑھنے لگا۔پھیلی ہوئی موٹی شاخوں کے ذریعے وہ مکان کی اُونچی خاردار تاروں تک پہنچ گیا۔اب اُس نے باریک دستانے پہن لیے اور کٹر سے تاروں کو کاٹ دیا۔اور خلا سے گردن گزار کر اندر نگاہ ڈالی۔دوسری طرف ایک پرانی الماری دیوار کے ساتھ ٹکی ہوئی تھی۔لہذا وہ درخت سے دیوار پر آکر با آسانی مکان کے اندر کود گیا۔وہ یہ کام پہلی مرتبہ کر رہاتھا۔
دل ایک بار پھر سے دھڑکنے لگا۔لیکن اس کے علاوہ ،اُس کےپاس کوئی دوسرا حل نہیں تھا۔اُس نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا۔غنڈو کے تشدد کی دہشت نے اُسے اس کام پر آمادہ کیا تھا۔پنسل ٹارچ ،اسکرو،ڈرئیور ،اور چابیوں کا گچھا اُس کا معاون تھا۔آگے بڑھتے بڑھتے وہ بیڈروم میں داخل ہوکر چار لاکھ کی واردات کرنے میں کامیاب ہوگیا،گھر کے لوگ شاید کہیں گئے تھے۔ہتھوڑی کی ضرب سے تجوری کا دروازہ ہل گیا۔تو اُس نے تیز پائر کٹر سے قبضے کاٹ کر نقدی زیوز نکال لیے۔
اگلی صبع سلیمان نے قرض داروں کا قرض مقررہ ،وقت سے پہلے ہی چکا دیا۔اور خود ،ڈرائنگ روم میں آکر بے چینی سے ٹہلنے لگا۔اُس کا اصل مشن ابھی ادھورا تھا۔وہ ماضی کی سڑک پر دوڑتا چلا گیا۔اور آغاز شباب کے زمانے کی دیکھی ہوئی جاسوسی فلمیں اور لڑکپن میں پڑھنے ہوئے جاسوسی و سنسنی خیز ناولوں کے واقعات یاد کرنے لگا۔اچانک ایک فلم کے مرڈر سیکونس نے اُس کے ذہن میں چکاچوند پیدا کر دی ،اور قتل کی ایک اسکیم اُس کے ذہن میں روشن ہوئی چلی گئی۔اب اُسے مناسب موقع کا انتظار تھا کہ کسی طرح چچا تنہائی میں اُس کے قابو میں آ جائے اور ،وہ اپنی سکیم کو عملی جامہ پہنائے۔
اسی وقت فون کی گھنٹی بجنے لگی ۔سلیمان نے سوچتے ہوئے بے دلی سے ریسیور اٹھایا۔دوسری طرف کی گفتگو سن کر اسے کامیابی اپنے قریب محسوس ہونے لگی۔اُس کے چچا کو ،زبردست اٹیک ہو ا تھا لیکن بروقت ٹریٹمنٹ سے وہ موت کے منہ میں جانے سے بچ گئے تھے۔اُسے فورا جیل روڑ اسپتال میں بلایا گیا تھا۔وہ جلدی سے گھر سے نکلا۔ٹیکسی میں بیٹھا اور ،کارڈیالوجی اسپتال جا پہنچا۔جب وہ بستر کے قریب پہنچا تو چچا مسکرا کر ،اُس کی طرف یوں دیکھ رہے تھے کہ دیکھ لو۔میں ابھی زندہ ہوں۔ابھی دولت تمہیں نہیں مل سکتی۔سلیمان دل ہی دل میں سلگ اٹھا۔لیکن ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ آویزاں کر لی۔
ڈاکٹر نے ڈسچارج کرتے وقت کام کی زیادتی سے چچا کی متاثرہ حالت کو دیکھتے ہوئے کسی پہاڑی اور صحت افزا مقام پر جا کر کچھ روز گزارنے کا مشورہ دیا۔دل کی کیفیت اب نارمل تھی مگر اعصابی دباؤ کی وجہ سے مزاج میں چڑچڑاپن ہو گیا تھا،چچا سلیم اختر شاید خود بھی کام کرتے کرتے اُکتا گئے تھے لہذا ماحول کی تبدیلی ،آب و ہوا ،اور طبیعت کا اضمحلال دور کرنے کیلئے ایبٹ آباد میں اپنے ایک دوست کے خالی بنگلے میں ایک نوکر کی وقتی خدمات کے ساتھ جا ٹھہرے تھے۔یہ موقع سلیمان کیلئے نادر تھا،سلیمان اُس بنگلےکے محل وقوع سے واقف تھا۔اس بنگلے کی اندرونی اور بیرونی تصاویر چچا کے دوست نے ایک بار دکھائی تھی۔

سلیمان نے پروگرام کے مطابق ایبٹ آباد میں ایک درمیانے درجے کے ہوٹل میں رہائش اختیار کر لی،اور ٹیلے پر واقع سبزے اور پھولوں سے گھرے ہوئے خوبصورت بنگلے کا عقبی راستہ بھی دیکھ لیا۔اُس نے بدلے پوئے حلیے تبدیل شدہ نام اور جعلی شناختی کارڈ کی مدد سے سیروتفریع کیلئے ایک لمبی کار کرائے پر حاصل کر لی
سلیمان بڑی ہوشیاری سے لمبی کار چلا کر بنگلے کی عقی سڑک پر کھڑی کر چھکا تھا۔اب وہ ،اِدھراُدھر دیکھ کر دبے پاؤں بنگلے کی عقی دیورا کی طرف بڑھا اور احتیاط ے اندر کود کر عقی گیٹ کھول دیا۔پھر وہ چچا کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔چچا پر فضا مقامات کے نظارے کے بعد فریش ہو کر میٹھی نیند سو رہے تھے۔ضرورت کی ہر شے اُس کے پاس موجود تھی۔بے ہوشی مسلط کرنے والی ایک دوا ،اُس نے ایک بدنام میڈیکل اسٹور سے خریدی تھی۔چچا بستر پر لحاف اوڑھے بے خبر سو رہے تھے۔کھڑکی کے راستے چاند کی زرہ چاندنی اندر ،داخل ہو کر پراسرار بنا رہی تھی۔سلیمان نے شیشی کی نوزل سے اسپرے کی دھار چچا کے چہرے پر پھینکی ۔دوسرے ہی لمحے چچا گہری نیند میں چلے گئے۔چند لمحوں بعد ہی اُس نے دبلے پتلے چچا کو اپنے ورزشی جسم کے کندھے پر منتقل کیا اور لحاف بستر پر پھیلا کر دبے پاؤں عقبی گیٹ کی طرف بڑھنے لگا۔باہر چند گز کے فاصلے پر اندھیرے میں ڈوہی ہوئی گار بمشکل دکھائی دے رہی تھی۔یہ جگہ دن کے وقت بھی بالکل سنسان دکھائی دیتی تھی۔آبادی یہاں دُور،دُور تھی اور ،آدم زاد کا کو ئی گزر نہ تھا۔ڈرئیونگ سیٹ والا دروازہ کھول کر سلیمان نے چچا کو سیٹ پر ٹکادیا۔اب اس نے سامان میں سے ایک چھوٹی سی فولادی زنجیر منتخب کی جس کے دونوں سروں پر گول کلپ لگے ہوئے تھے،جو چابی سے کھلنے اور بند ہونے والے تھے۔سلیمان نے زنجیر کے ایک سرے کا کلپ ڈرئیونگ سیٹ کے دروازے کے اندر کی جانب لگے ہینڈل میں پھنسا کر جکڑا دیا۔اور دوسرا چچا کے بائیں بازو میں کہنی کے قریب ڈال کر چابی سے لاک کردیا۔
اُس کے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ در آئی۔فتع مند ی کے احساس سے اُس کا چہرہ سرخ تھا۔اب سلیمان نے کلپ کی چابی لمبی کار کے ڈیش بورڈ کے دوسرے کونے میں رکھ دی اور چچا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر پھیلا کر دیکھا۔چابی چچا کی دسترس سے دور تھی۔اُس نے مطمئن ہو کر کار کا ،اگلا،دروازہ باہر نکل کے لاک کیااور گاڑی کی پچھلی نشست پر آکر عقبی ڈیش بورڈ پر اب سے بیس منٹ بعد یعنی ڈھائی بجے شب کا وقت سیٹ کر کے ٹائم بم کو ٹیپ کی مدد سے چپکادیا۔بم کا ٹائم پیس والا حصہ کار میں صاف دکھائی دے رہا تھا۔ٹائم بم کی ٹک ٹک کار میں گونجنے گی۔اب سلیمان چچا کے ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگا۔
ٹھیک دس منٹ بھی اُس کے چچا کو ہوش آگیا۔کارمیں تیز لائٹ جل رہی تھی۔چچا سلیم اختر خود کو کار میں بیٹھا اور بازو کو،زنجیر میں جکڑا دیکھ کر دھک سے رہ گئے۔اُن کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔اور ،دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔اُس نے چاروں طرف نگاہ ،دوڑا کر ماحول کا جائزہ لیا۔لیکن بنگلے کے ویران عقبی حصے میں کوئی انسان رات کے پچھلے پہر دکھائی نہ دیا۔اُنہوں نے چیخنا چاہا لیکن آواز حلق سے نہ نکل سکی۔اُن کا گلابھی کافی خراب تھا۔آواز کافی دھیمی نکل رہی تھی۔سلیمان بھی اس طرف سے بے فکر تھا۔
اُنہوں نے ڈرائیونگ سیٹ والا،دروازکھولنے کی کوشش کی لیکن ،دروازہ باہر سے لاک کر دیا گیا تھا۔پھر انہوں نے اُلٹے ہاتھ سے شیشہ نیچے اُتارا ،اور خوف سے گہرے گہرے سانس لینے لگا۔حلق پھاڑ پھاڑ کر چلانے کی کوشش کی مگر آواز بہت معمول نکلی ۔ایک تو گلا بہت خراب تھا۔دوسرا خوف رگ وپے میں سرایت کر چکا تھا۔
ٹائم بم کو دیکھ کر تو چچا نے فورا ہی نگاہیں پھیر لی تھیں۔ڈھائی بجے کا وقت سیٹ تھا۔ٹائم پیس کے سرخ ہندسوں کی تبدیلی سے وہ موت کے دبے پاؤں قریب آتا ہو ا دیکھ رہے تھے۔ٹائم بم کی ٹک ٹک اُن کے اعصاب پر ہتھوڑے کی مانند برسنے لگی۔اورخون کنپٹی میں ٹھوکریں مارنے لگا۔وہ خوف اور سردی سے منجمد سا ہو کر رہ گئے۔حالت اضطراب اب میں اُنہوں نے بار ،بار لپک کر ڈیش بورڈ کے سرے پر رکھی چابی اُٹھانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔اُن کی انگلیان کانپنے لگیں۔اور پسینے کے قطرے جسم کو بھگونے لگے،اعصاب تن گئے۔اور پیشانی کی رگیں اُبھر آئیں۔دوران خون بری طرح خوف کی آمیزش سے متاثر ہو رہا تھا۔اس وقت کار کی ٹیپ نے ایک خوفناک جملہ اُگلنا شروع کر دیا۔آواز بھاری اور طنزیہ تھی۔پیارے چچا تمہاری زندگی بہت لمبی ہوگئی تھی اور لمبی زندگی ایک وبال ہوتی ہے۔اپنے لیے اور دوسرں کیلئے بھی۔اب تمہیں اپنی زندگی سے نجات دی جا رہی ہے۔ٹھیک ڈھائی بجنے پر کار بم دھماکے سے ۔آگے جملہ ادھورا چھوڑ دیا گیا تھا۔دراصل سلیمان نے اپنی گفتگو خودکار میں ٹیپ میں بھر کر ریورس کر دی تھی،جو خود ،بجودچل پڑی تھی۔
کمینے تمہارا خون اس قدر گندا ہو سکتا ہے،میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا،میرے بھائی کی آخری نشانی اتنی غلیظ اور گھٹیا ۔۔چچا ہذیانی آواز میں چللانے لگے۔ان کا جسم خوف اور دہشت سے کا نپ رہا تھا۔وہ حالت اضطرار میں بار،بار کلائی ،چابی اور ٹائم بم کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔

دور ایک ٹیلے کی آڑ میں سلیمان دور بین ہاتھوں میں لیے موت کے ہوش ربا کھیل سے لطف اندوز ،ہو رہا تھا۔اُس کی دُوربین اندھرے کو کا ٹ دینے والی تھی۔وقت گزرتا گیا۔سلیمان کے چچا کی دل کی دھڑکن بڑھی چلی گئی۔دماغ پر بوجھ اور ،اعصاب پر تناؤ بھی شدید ہونے لگا۔ٹائم بم کی ٹک ٹک کسی ہتھوڑے کی مانند گونج رہ تھی چچا کی آنکھیں خوف سے پھیلی ہوئی تھیں۔اُنہوں نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھا ۔منٹ کی سوئی کلائی کی گھڑی پر دو،بج کر تیسویں منٹ کا آخری چکر پورا کر رہی تھی۔چچا کے جسم میں تشنج سا پیدا ہوا۔آنکھیں خوف سے سرخ ہو کر ابل آئیں۔بدن خوف سے کانپا ،ایک بار ،زنجیر جھنجھنا اُٹھی ۔وہ سیٹ سے اوپر اُچھلا پر نیچے گرا ۔دوسرے ہی لمحے ایک ہچکی کے ساتھ اُس کی گردن ڈھلک گئی۔آنکھیں بے نور ہو گئیں۔اور جسم سرد پڑنے لگا۔اُس کے خاکی پنجرے سے روح پھڑپھڑا کر پرواز کر چکی تھی۔ڈھائی بجے کوئی دھماکہ نہ ہوا تھا۔
سلیمان تیزی سے قریب آیا۔چچا کے دل کی دھڑکن معلوم کی جو ساکن تھی۔اب اُس نے فاتحانہ انداز سے کار کا پچھلا ،دروازہ کھولا اور عقبی ڈیش بورڈ پر ٹیپ کی مدد سے چپکائے ہوئے بم کو اُتار لیا جو ،در حقیقت ایک چھوٹے سے بکس میں پوشیدہ ایک برقی گھنٹی تھی۔جو ٹائم بم سے مشابہ آواز خارج کرتی تھی۔اور ٹائم پیس کی چھوٹی سے سرخ ہندسوں والی اسکرین بکس کے اوپر نصب تھی۔یہ ایک ذہین اور جرائم پیشہ انجینئر سے تیار کروائی گئی تھی جو ایک بار سلیمان سے مل چکا تھا،سلیمان ایک کامیاب قتل کر چکا تھا۔اُس کے چچا کی موت حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے واقع ہو چکی تھی۔اُسے کسی ہتھیار سے گلا دبانے سے ،زہر سے،پانی میں ڈبو کر یا پہاڑی سے دھکا دے کر نہیں ہلاک کیا گیا تھا۔سلیمان نے مردہ چچا کو زنجیر کھول کر اُٹھایا اور کندھے پر ڈال کر واپس بنگلے کی طرف چلنے لگا۔
احتیاطا ،وہ سوتے ہوئے ملازم کے منہ پر کلورو،فارم سے بھیگا ہوا ،رومال پھیر آیا تھا۔وہ خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھا۔چچا کو اُس نے اُسی پوزیشن میں بستر پر لٹا کر اوپر سے لحاف اوڑھا دیا۔اور خود کمرے پر الوداعی نظر ڈالتا ہوا باہر ،نکل آیا۔باہر آکے اُس نے ہاتھوں سے باریک دستانے اُتار کر جیب میں ڈال لیے۔اُس کا دل خوشی سے پاگل ہوا جا رہا تھا۔اُس کی دولت اب جلدی اُس کے قدموں میں آنے والی تھی۔تقریبا چار کروڑ کی جائداد تھی۔وہ مسرت سے جھوم اُٹھا۔ایک خوبصورت زندگی اُس کے استقبال کیلئے بانہیں پھیلانے منتظر تھی۔چچا کی موت کو کوئی قتل ثابت نہیں کر سکتا تھا۔
صبع ملازم بیدار ہو کر صاحب کی گھنٹی کا انتظار کر رہا تھا۔لیکن جب صاحب کی بیل نہ بجائی تو ملازم فکر مند ہوا۔اور،ہچکچاتا ہوا سلیم صاحب کے کمرے میں داخل ہوا۔صاحب صبع کے گیارہ نجے تک لحاف اوڑھے سو رہے تھے،ملازم چند لمحے بستر کے قریب کھڑا ہوچتا رہا کہ جگائے یا لوٹ جائے ۔پھر ہمت کر کے اُس نے لحاف کا سرا تھوڑا سا سر کایا اور صاحب کے چہرے پر نگا ہ ڈالی۔صاحب ساکت وصامت تھے۔اور بے نور ،آنکھیں چھت کو گور رہی تھیں۔اُس کی سانس کی آمد و ،رفت رُک چکی تھی۔منہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا۔
پھیلی ہو ئی آنکھوں میں شاید حیرت اور خوف منجمد کر دیا گیا تھا۔ملازم دھک سے رہ گیا۔اُس کا یک بیٹا ،ایبٹ آباد تھانے میں پویس انسپکڑ تھا۔اُس نے فون پر بیٹے کو صاحب کے متعلق اطلاع دے دی جو فورا کام چھوڑا کر موقع پر پہنچا اور ،مردہ جسم کا جائزہ لینے کے بعد کمرے سے اُنگلیوں کے نشانات اُٹھانے ،لیکن کوئی نشان نہ ملا۔ڈاکٹر کو بلایا گیا۔تفصیلی معائنے کے بعد ڈاکٹر نے رپورٹ لکھ دی کہ مسٹر سلیم اختر زبردست ہارٹ اٹیک سے انتقال کر چکے ہیں۔قتل کا کوئی امکان نہیں۔
انسپکٹر جلال نے سلیم اختر سے اُس کے دوستوں اور بھتیجے سلیمان کو نمبر دیکھ کر رنگ کیا،سلیمان ایبٹ آباد میں ہی بدلے ہوئے روپ میں موجود تھا۔اُس نے موبائل پر کہا کہ وہ لاہور سے ایبٹ آباد پہنچ رہا ہے ۔لاہور میں اُس کی موجودگی کی شہادت دینے کیلئے چاندنی موجود تھی۔
چچا کے دوستوں اور لاہور کے پنجاب کارڈیالوجی اسپتال کے اسپیشلسٹ کوو اچانک اور زبردست ہارٹ اٹیک پر بڑی حیرت ہوئی۔ایبٹ آباد جانے سے قبل سلیم اختر کا دل نارمل حالت میں صحت مندی سے کام کر رہا تھا۔اعصابی دباؤ کی وجہ سے سیروتفریع کا مشورہ دیا گیا تھا۔خیالی گھوڑے اور پولیس تفتیش بھی موت کو غیر قدرتی یا غیرطبعی ثابت نہ کر سکی ۔سلیمان خوش تھا۔اور دل ہی دل میں اُن سب کے حیرت و استعجاب اور قیاس آرائیوں پر قہقہے لگا رہا تھا۔کہ وہ قتل کر کے صاف بچ گیا۔ایک بڑے رائٹر کا کرائم سیکونس اُسے کامیابی سے ہم کنار کر چکا تھا۔اُس کے باپ کی چھوڑی ہوئی دولت وجائداد اُسے منتقل کر دی گئی تھی۔کیونکہ چچا کی موت کی صورت میں کسی اور نگران کا وصیت کے کا غذات میں ذکر موجود نہ تھا۔
اب سلیمان ماڈل ٹاؤن میں چار کنال کی کھوٹھی میں مالک کی حیثیت سے رہ ،رہا تھا جو سنگ مرمر اور،سنگ سرخ سےآراستہ ایک خوبصورت اور حسین عمارت تھی۔شاداب باغیچے کے وسط میں نصب بڑے فوارے کا پانی فضا میں اچھل اچھل کر سلیمان کو خوش آمدید کہہ رہا تھا۔سوئمنگ پول ،شطرنج گاہ،گھوڑوں کا چھوٹا سا فارم ،باغ کے پھولوں سے لدے ہوئے رنگین تختے ۔اوپری منزل کی کھڑکیوں اور برآمدوں سے صاف دکھائی دیتے تھے۔سلیمان خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا ۔وہ اور چاندنی ہاتھوں میں ہاتھ دیئے ساری عمارت میں چوکڑیاں بھرتے پھر رہے تھے۔انہوں نے فورا شادی کر لی تھی۔اُن کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔

سارا سارا دن گھونے پھرنے اور عیش کوشی کے علاوہ انہیں کوئی دوسرا کام نہیں تھا۔سلیمان کا خیال تھا کہ ایک ماہ خوب عیش وعشرت میں گزارا ،جائے پھر سرمائے کے استعمال کے بارے میں سوچا جائے ۔وہ روزانہ نیا لباس پہنتے اور ناشتہ کرتے اور لمبی سیر کیلئے نکل کھڑے ہوتے۔مہنگے ریسٹورنٹ انہیں خوش آمدید کہہ رہے تھے۔آج دونوں پلازہ سینما میں نئی فلم کا دوسر ا شو دیکھ کر پھرتے پھراتے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔

آسمان پر بکھرے ہوئے سیاہ بادل جمع ہو کر پھیلتے جارہے تھے اور ٹھنڈی ہوا شائیں شائیں کا شور مچاتی ہوئی دانت بجا رہی تھی۔سردی بہت بڑھ گئی تھی اور پھر موسلادھار بارش گرج چمک کے ساتھ شروع ہوگئی۔سلیمان نے پورٹیکو میں گاڑی کھڑی کی تو بادل بڑے زور سے گرجا جیسے آسمان پر کسی کی جان نکل رہی ہو۔کسی نے موت کی آخری سکی بھری ہو،چاندنی اور سلیمان چونک کر ایک دوسرے سے چمٹ گئے۔اس وقت اولے بھی کھٹ کھٹ برسنے لگے۔

گرج کے ساتھ آسمانی بجلی کی چمک فلیش لائٹ کی مانذ لہرانے لگی۔ہوا کے چھکڑ دیوانے ہو کر شور مچانے لگے۔کسی جگہ ایک کتا بڑی بھیانک آواز میں رہ رہا تھا۔انہیں کپکپی سے آگئی۔رونگے کھڑے ہو گئے۔

آج کی رات کتنی بھیانک اور سرد ہے۔سلیمان بڑبڑایا۔اور دونوں جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔اوپری بیڈروم انہیں شب بسری کیلئے زیادہ پسند آیا تھا۔یہ سلیمان کے ڈیڈی کا خاص کمرا تھا،کمرے میں داخل ہو کے سلیمان کھڑکیاں بند کرنے لگا۔پھر بیرونی دروازہ بھی لاک کیا۔سلیپنگ سوٹ پہن کر روشنی میں بستر پر لیٹ گئے۔بجلی گرج چمک کے ساتھ روشن دانوں پر لہرانے لگی ۔پردے گرانے کی انہوں نے ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔سلیمان بچپن سے ہی طوفانی راتوں سے بڑا خائف تھا۔اس کے لاشعور مین طوفابی رات کا خوف بسا ہوا تھا کیونکہ ایسی ہی ایک رات میں اس کی نانی کے مکان کی ایک چھت گرگئی تھی اور۔دوسرے کمرے انتہائی دہشت کے عالم میں ماں سے چمٹ گیا تھا۔چھت کے گرنے سے اس گھر کا ایک فرد کم ہو گیا تھا۔کروٹیں بدلتے ہوئے اسے نیند نے آہی لیا۔کھانا کچھ زیادہ ہی مزیدار تھا۔لذیذ کھانا پیٹ بھر کر کھانے سے انسان کو فورا نیند آنے لگتی ہے۔لیکن چاندنی نے چونکہ بلیک کافی پی رکھی تھی،اس لیے وہ مسلسل جاگ رہی تھی۔اس کی نیلی آنکھیں نیم تاریکی میں کچھ زیادہ ہی چمک رہی تھیں۔وہ آہستہ آہستہ بستر سے اُٹھی اور سلیمان پر نگاہ ڈال کر کمرے کی مغربی بڑی کھڑکی کی طرف گئی۔اور اس کی چٹخنی گرا دی۔اس آرائشی کھڑکی میں لوہے کی سلاخیں نہیں تھیں۔اس نے کلاک اور گھڑی دونوں پر وقت دیکھا۔رات کے دو بجنے والے تھے۔اس کی آنکھوں کی چمک کچھ اور بڑھ گئی،وہ لحاف میں آکر ٹکٹکی باندھے کھڑکی کے پٹ دیکھنے لگی۔

اچانک بجلی بڑے زور سے چمکی جیسے آسمان کا سینہ پھٹ گیا ہو۔روشنی کا تیز جھماکا بھیانک گرج کے ساتھ کھڑکیوں اور روشن دانوں پر چمکا تو کمرا تیز نور سے دمک اٹھا۔اسی لمحے بارش کے قطروں میں بھیگا ہو ا۔ایک طویل قامت سیاہ پوش شخص جس کے شانے کافی چوڑے اور جسم مضبوط تھا خاموشی سے بڑی کھڑکی کےہوا ست ہلتے پٹ کھول کر اندر داخل ہوا۔اس نے چہرے سے نقاب اتار دیا۔

چاندنی بستر سے اتر کر بے اختیار اس کی طرف بڑھی دونوں ایک دوسرے کے قریب ہو کر سر گوشیاںکرنے لگا۔چند لمحوں بعد بقاب پوش اور ڈبل بیڈ کے قریب دیوار پر تجوری کا جائزہ لینے لگا۔چاندنی نے تجوری کی چابی بیڈ کی خفیہ دراز سے نکال کر نقاب پوش کو لا کر تھما دی۔سیاہ پوش نے چابی کو چوما اور آگے بڑھ کر چاندنی کا بوسہ بھی لے لیا۔اس کی وجاہت یونانی دیوتاؤں جیسی تھی۔تجوری کھول کر نقاب پوش نقدی اور ۔زیورات سیاہ چرمی تھیلے میں منتقل کرنے لگا ۔چاندنی واپس بیڈ پر جا کر لحاف میں سوئے سلیمان کو پروگرام کے مطابق جھنجھوڑ کر جگانے لگی۔سلیمان کچی نیند میں تھا۔جلد ہی بے وار ہو گیا۔

سیاہ پوش بے فکری سے اپنے کام میں مصروف تھا ،سلیمان چاندنی کے اشارے پر کھلی تجوری اور سیاہ پوش کے ہاتھ میں بھرتا ہوا تھیلا دیکھ کے غصے اور اشتعال سے کپکپا اٹھا۔پھر فورا ہی اس کا ہاتھ تکیے کے نیچے اپنا پستول ٹٹولنے لگا لیکن پستول نہ ملا۔وہ تو چاندنی نے پہلے ہی نقاب پوش کی جیب میں منتقل کر دیا تھا۔سلیمان بستر پر کھڑا ہو کر کنارے پر چلا گیا۔اور سیاہ پوش کو للکار کر اس پر جھپٹنا ہی چاہتا تھا کہ نقاب پوش نے اسے دیکھا اور اس کا ہاتھ جیب میں رنگ گیا۔سلیمان نے بقاب پوش پر حملہ کر دیا لیکن طاقتور سیاہ پوش نے اسے ایک ہی جھٹکے کے ساتھ بستر پر اچھال پھینکا۔

سلیمان پھر اچھل کر سیدھ ہو ا،اور آگے بڑھا ہی چاہتا تھا کہ نقاب پوش نے جیب سے نکالے گئے ریوالور سے فائر کر دیا۔گولی سلیمان کے سینے میں لگی اور وہ پیچھے کی طرف بستر پر الٹ گیا۔لیکن سنبھلنے کی کوشش جاری رکھی ۔اس کی بناک چیخ کمرے میں گونجی مگر باہر پھیلے ہوئے طوفانی شور میں دب کر رہ گئی۔محافظ خبردار نہ ہو سکے۔ریوالور سائلنسر پروف تھا،اس کی آنکھوں میں اب تک بے حد حیرت تھی کیونکہ ریوالور کے دہانے سے نکلنے والی گولی اس کے اپنے ریوالور کی تھی۔سلیمان کا سینہ خون کے آنسو رونے لگا۔

چاندنی ڈارلنگ یہ تو گیا۔نقاب پوز قہقہہ مار کر ہنس پڑا۔چاندنی بستر سے اترکر نقاب پوش کی طرف جارہی تھی،سلیمان آنا فانا ساری صورت حال سمجھ گیا تھا چاندنی کیا کھیل کھیل چکی ہے۔
مگار عورت میں نے تمہارے لیے کیا نہیں کیا۔لیکن تم نے اپنے یار کے ساتھ مل کر مجھے قتل کرنے کی کوشش کی ۔سلیمان بستر پر مچھلی کی مانند تڑپنے لگا۔
چاندنی چلتی ہوئی اپنے خاوند کے پاس آئی اور بستر کے کنارے رک کر بولی۔تم جیسے احمق اور ۔دل پھینک عاشقوں کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔تم شروع دن سے ہی میرے معیار کے نہیں تھے۔لیکن رئیس زادے تھے۔اس لیے دولت کی خاطر مجھے تمہارے ساتھ دوستی اور پھر محبت کا ناٹک کھیلنا پڑا۔میرا دوست جان شیر آئیڈیل نوجوان ہے۔میں اس کے ساتھ خوبصورت زندگی بسر کروں گی۔سلیمان خون سے سرخ سینے کے ساتھ بستر پر نڈھال پڑا تھا۔اور چاندنی کی آواز اس کے کانوں میں زہر گھول رہی تھی۔چاندنی سلیمان کی کیفیت سے لطف اندوز ہو رہی تھی لیکن پھر بقاہت سے نیچے گرادیتا۔
ڈیئر خاوند تمہارے مرنے کے بعد میرا بیان یہ ہوگا۔چاندنی ٹہل ٹہل کر اس کے زخموں پر نمک پاشی کرنے لگی۔آج چاندنی اسے ایک بدصورت ناگن دکھائی دے رہی تھی۔وہ تڑپ اٹھا۔اس کی زندگی کا چراغ پھڑپھڑا رہا تھا۔
ہاں تو میں کہہ رہی تھی میرا بیان تمہارے مرنے کے بعد یہ ہو گا۔ میری آنکھ بستر پر کھلی تو سب سے پہلے کمرے کی مغربی کھڑکی کھلی دیکھ کر میں چونک پڑی پھر جیسے ہی نگاہ گھوم کر بستر کے کنارے دیوار میں نصب تجوری پر پڑی تو میں دھک سے رہ گئی۔ایک لمبا چوڑا نقاب پوش تجوری کھولے دولت سمیٹنے میں مصروف تھا۔میں نے آواز نکالے بغیر اپنے خاوند کو جگا دیا ۔نقاب پوش خاموشی سے تجوری کا صفایا کرنا چاہتا تھا لیکن میرا خاوند جو کچی نیند میں تھا فورا بیدار ہوگیا۔میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کے اسے تجوری کی طرف متوجہ کیا۔میرے خاوند نے تکیے کے نیچے سے اپنا پستول نکالنے کی کوشش کی لیکن پستول نقاب پوش ڈھونڈ کر پہلے ہی قبضے میں کر چکاتھا۔میرا خاوند سے اتر کر چور سے الجھ پڑا۔چور نے تیزی کی کوشش کی لیکن میرے بہادر خاوند نے پستول پر ہاتھ ڈال دیا۔پستول چور کے ہاتھ سے گر کر فرش پر جا پڑا۔دونوں میں زورآز مائی شروع ہوگئی۔میں چوکیدار اور گارڈ کو بلانے کیلئے بیرونی دروازے کی طرف لپکی۔
میں چند قدم ہی چلی تھی کہ میرے خاوند کی خوفناک چیخ نکل گئی۔سیاہ پوش جو زیادہ طاقتور تھا اس نے پستول فرش سے اٹھا کر اسے گولی ماردی۔میرا خاوند تجوری کے سامنے فرش پر پڑا تڑپ رہا تھا اس کے سنیے سے تیزی سے خون بہہ رہا تھا اور نقاب پوش کھڑکی پھلانگ کر باہر جارہا تھا۔عقبی کھڑکی کی دوسری جانب پتلی سے راہ ،داری ہے ۔یہ راستہ پچھلے زینے کی طرف نکلتا ہے۔اور متروک ہے چور پستول جس سے اس نے میرے خاوند کو گولی ماری تھی اپنے ساتھ لے گیا۔انسپکٹر صاحب کمرے کی کھڑکی غلطی سے کھلی رہ گئی تھی۔یا کوئی ملازم چور سے مل گیا تھا۔میں بھاگ کر نیچے جاتے چوکیدار کو اطلاع دی۔وہ ۔اِدھر اُدھر نکل کے نقاب پوش کو تلاش کرنے لگے لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔گاڈز نے عقبی سٹرک پر ایک سیاہ کار کو تیزی سے دور جاتےہوئے دیکھ لیاتھا۔جس میں وہ فرار ہواتھا۔
یہاں تک کہہ کر چاندنی عرف ڈمپل سلیمان کی بکھرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔یہ اس کی خاص عادت تھی۔سلیمان تفریحات پر خرچ کرنے کا شکریہ۔چاندنی نے دھیمے لہجے میں کہا۔سلیمان کا سفید سلیپنگ سوٹ سرخ خون میں تربتر ہوتا جارہا تھا۔ وہ کرب کے عالم میں سوچنے لگا کہ اگر وہ چچا کی نصیحتوں کو پلے باندھتا اپنے باپ کے جذبات کا احترام کرتا۔اچھے افعال اپناتا تو اس کا یہ انجام نہ ہوتا۔اس نے جس دولت کی خاطر اپنے فرض شناس چچا کا خون کر دیا تھا وہ دولت اسے موت کی نیند سلاتے ہوئے ہاتھ سے نکلی جارہی تھی۔اب یہ جائداد چاندنی کی مل جائے گی اور ۔وہ مکافات عمل پورا ہو چکا تھا۔اسے زلف کا سہارا گراں ملا تھا۔سلیمان نے آخری ہچکی لینے سے قبل ہمت کر کے چہرہ اٹھایا۔اور منہ میں آنے والے سرخ تھوک کو ان دونوں کے چہرے پر پھینک دیا۔چاندنی تڑپ کر بولی ۔جان شیر بہت دم خم ہے اس میں دو گولیاں اور مار دو ۔
جان شیر بھیانک مسکراہٹ کے ساتھ ٹرائیگر دبانے لگا وہ بستر کے قریب آچکاتھا یہ ۔دنیا مکافات عمل ہے۔سلیمان نے بمشکل کہا اور اس کا منہ خون سے بھر گیا۔
(ختم شد)

Qismat Achi Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Qismat Achi Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

قسمت اچھی تھی شہربانو چودہ برس کی ہوئی توباپ نے اس کا گھر سے نکلنا بند کر دیا۔یوں وہ شیرے سے ملنے سے مجبور ہوگئی ۔شیرا ،اس کی خالہ کا بیٹا تھا۔بچپن ساتھ کھاتے دوڑتے گزرا۔اب وہ ایک دوسرے سے ملے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔تبھی بہانے بہانے سے شہربانو گھر سے باہر جانے لگی۔ […]

0 comments
Saadgi Kay Khaasarey | Teen Auratien Teen Kahaniyan in urdu 2021

Saadgi Kay Khaasarey | Teen Auratien Teen Kahaniyan in urdu 2021

سادگی کے خَسارے میری آپا بہت سیدھی سادی اور معصوم تھیں۔وہ فیشن کرنا نہیں جانتی تھی۔کس کر چوٹی گوندھ کے اپنے چہرہ طباق سا بنالیتیں۔کپڑے مردہ رنگوں کے ،دوپٹہ چادر کی طرح سر منہ لپیٹ لیتیں۔ ہم سب بہنوں نے آپا کو ملازمت کرنے سے روکا کہ تم گھر سنبھالو ،بیمار ماں کا خیال رکھو […]

0 comments
Khabi Aisa Bhi Hota Hai | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Khabi Aisa Bhi Hota Hai | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے جب سے وہ نوکری کیلئے میرے پاس آیا تومیں اس یوسف ثانی کو دیکھتی رہ گئی۔وہ سیدھا سادہ،بھولابھالا نوجوان سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا،سرخ و سفید رنگت دراز قد ۔۔پہاڑوں کا باسی مگر نرم خو ،سخت ضرورت مند نظر آیا۔ نام بتاؤ،صنوبر خان تم کہاں کے رہنے والے ہو اور […]

0 comments
Waqt Palatta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Waqt Palatta Nahi Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

اس روز صبع کے سات بجے تھے جب طوبیٰ کے گھر گئی۔سامنے ہی ایک نوجوان کرسی پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔اسے پہلی بارطوبیٰ کے گھر دیکھا تھا۔قدم ٹھٹھک گئے۔آنٹی کچن سے نکلیں۔ان کے ہاتھ میں ٹرے تھی۔وہ اس مہمان کیلئے ناشتہ لا رہی تھی۔مجھ پر نظر پڑی تو کہا۔شانو بیٹی اندر چلی جاؤ۔طوبیٰ تیار […]

0 comments
Sabr Ka Samar Mila Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Sabr Ka Samar Mila Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

ایک روز کلینک میں مریضوں کو دیکھ رہی تھی کہ ایک خوبصورت معصوم سی لڑکی۔۔بوڑھی عورت کے ساتھ آئی۔اور اپنی بار ی کا انتظار کرنے لگی۔کچھ دیر بعد جب میں نے اس کو طلب کیا اور ،مرض کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگی ۔ڈاکٹر صاحبہ میں بیمار نہیں ہوں بس کمزوری ہے۔مجھے طاقت کے […]

0 comments
Babool Ki Chaoun | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Babool Ki Chaoun | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

رابو میری سہیلی تھی ۔وہ میرے ساتھ کھیلی اور ہم ساتھ ہی پڑھنے جاتے تھے۔پانچوں جماعت تک وہ امیر آدمی کی بیٹی تھی۔پھر ان پر غیربت ٹوٹ پڑی۔اس کو نہیں یاد کبھی اس کی زندگی میں اچھے دن بھی آئے تھے،محلے والوں سے سنا کرتی تھی۔کہ وہ ٹھاٹ سے رہا کرتے تھے اور کمخواب کے […]

0 comments

Minal Khan Swimming with Mohsin Akram in Romantic Way 2021

0
Minal Khan Swimming with Mohsin Akram in Romantic Way 2021
Minal Khan Swimming with Mohsin Akram in Romantic Way 2021

رومانٹک طریقہ میں میاں خان محسن اکرم کے ساتھ تیراکی کررہی ہیں

مِنل خان نے محسن اکرم سے منگنی کرلی ، وہ شادی کے بغیر ہی مختلف پارٹیوں میں اپنی منگیتر سے لطف اندوز ہوتی ہیں ۔منل خان کے مداحوں نے ان کی تازہ ترین سرگرمی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کل منل خان موشین کے ساتھ تیراکی کرتے ہیں اور وہ انسٹاگرام پر کچھ رومانٹک انداز کلکس شیئر کرتے ہیں۔ آج کل منل بولڈ ہونے جارہا ہے۔

منل خان اور ایمن خان نے اسی طرح ایک سال قبل اپنے ویب پر مبنی لباس برانڈ روانہ کیا تھا اور وہ اپنے کاروبار کو موثر انداز میں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ ، سال 2021 میں ، ان دونوں بہنوں کی عمر 22 سال ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ ، تین سال کے بعد ، ایمن خان نے اضافی طور پر فوٹو شوٹس میں بھی دکھانا شروع کردیا ہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اس سے پہلے کسی اور ڈرامہ نگاری میں کام کر رہی ہوگی۔

مِن Khanمنل خان کے تین بہن بھائی معاز خان ، حذیفہ خان اور حماد خان ہیں ، وہ انڈسٹری میں نہیں ہیں۔ مِنل خان اپنی جڑواں بہن ایمن خان کے نزدیک ہیں اور زیادہ کثرت سے ، دونوں ملاقات کے لئے ایک ہی مقام پر ہیں اور مستقل طور پر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔

اس کے بعد منل خان نے ایک بچی کے تفریح کار کے طور پر مختلف اسٹیشنوں کے کئی ہٹ ٹیلی ویژن سیریلز میں کام کیا۔ اس کی قابلیت نے اسے اب ٹیلی ویژن سیریل کا مرکزی تفریح بنا دیا ہے۔ اس وقت ، وہ ٹیلی ویژن کے دیگر فنکاروں کی ٹھوس دعویدار ہے۔

مینل خان محسن اکرام کے ساتھ رومانٹک انداز میں تیراکی کر رہے ہیں 2021 download
آن لائن 20 منٹ پر رومانوی انداز میں موہسین اکرام کے ساتھ مینل خان تیراکی
مینل خان محسن اکرام کے ساتھ رومانٹک انداز میں تیراکی کر رہے ہیں 2021 youtube

 

 

Minal Khan Swimming with Mohsin Akram in Romantic Way 2021

minal khan swimming with mohsin akram in romantic way 2021 download

minal khan swimming with mohsin akram in romantic way 2021 online

minal khan swimming with mohsin akram in romantic way 2021 youtube

Shahid Afridi Some Memorable Clicks with his All Daughters 2021

Shahid Afridi Some Memorable Clicks with his All Daughters 2021

شاہد آفریدی اپنی تمام بیٹیوں کے ساتھ کچھ یادگار کلکس شاہد آفریدی پاکستان کے سب سے زیادہ پیارے فرد ہیں وہ پاکستان میں واحد بیٹسمین ہیں لوگ صرف آفریدی کی بیٹنگ دیکھنے اسٹیڈیم میں آتے ہیں۔ وہ 5 بیٹیاں اور سب اچھے اور سچے مسلمان نظر آرہے ہیں۔ شاہد آفریدی کی اہلیہ بھی پارڈا مشاہدہ […]

0 comments
Shehzad Sheikh latest clicks with wife on Wedding Event 2021

Shehzad Sheikh latest clicks with wife on Wedding Event 2021

شہزاد شیخ شادی کے پروگرام میں بیوی کے ساتھ تازہ ترین کلکس شہزاد شیخ کا تعلق لیجنڈ فیملی سے ہے ان کے والد ، چچا کزن ہر ایک بہترین لیجنڈ اسٹار ہے اور پاکستان شوبز انڈسٹری میں اہم شراکت ہے۔ ڈراموں کی کامیابی کے بعد پاکستان شوبز کی زیادہ تر توجہ فلموں کی صنعت پر […]

0 comments
Nida Yasir Enjoying Holidays with Family on Beach 2021

Nida Yasir Enjoying Holidays with Family on Beach 2021

ندا یاسر بیچ پر کنبے کے ساتھ چھٹیاں مناتے ہوئے ندا یاسر نے اپنے پیشہ ورانہ منصوبے کا آغاز بطور بنانے والے اور ماڈل کے طور پر کیا۔ اسی طرح انہوں نے متعدد پیرڈی شوز میں بھی اداکاری کی ہے ، مثال کے طور پر ، رورنا رضوان کی طرف مرور تم تسلسل میں صائمہ […]

0 comments
Nadia Khan with her Ex-Husband and Children Family clicks 2021

Nadia Khan with her Ex-Husband and Children Family clicks 2021

نادیہ خان اپنے سابقہ ​​شوہر اور بچوں کے کنبے کے ساتھ کلیک کرتی ہیں نادیہ خان ایک پاکستانی ٹی وی تفریحی ، ماڈریٹر اور میکر ہیں۔ وہ صبح کے ٹیلی ویژن پروگرام ، نادیہ خان شو کی سہولت فراہم کرنے کے لئے اور ان دنوں یوٹیوب اسٹیشن آؤٹ اسٹائل کے لئے سب سے زیادہ مقبول […]

0 comments
Kiran Haq Latest Lovely Pictures with her Sister Yasmin Haq 2021

Kiran Haq Latest Lovely Pictures with her Sister Yasmin Haq 2021

کرن حق اپنی بہن یاسمین حق کے ساتھ تازہ ترین خوبصورت تصاویر کرن حق 2014 میں ان یا زیادہ ڈائیوریوژن کے ہٹ ٹیلی ویژن سیکوئل ’’ شھرِ اجنبی ‘‘ میں اداکاری کے نتیجے میں ہی دائرے میں آیا تھا۔ اس ٹیلیویژن تسلسل کو اضافی طور پر واک 2016 میں ہندوستانی اسٹیشن زندگی ٹیلی ویژن پر […]

0 comments
Shaheen Khan Beautiful Clicks with her Daughter and Son 2021

Shaheen Khan Beautiful Clicks with her Daughter and Son 2021

شاہین خان اپنی بیٹی اور بیٹے کے ساتھ خوبصورت کلکس شاہین خان پاکستان شوبز انڈسٹری کی ایک مشہور اداکارہ ہیں وہ لالی ووڈ انڈسٹری کے کئی ہٹ ڈراموں میں معاون کردار ادا کرتی ہیں وہ زیادہ تر اس ڈرامے کی مرکزی کاسٹ میں ماں کا کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ ایک حیرت انگیز اور شاندار […]

0 comments
Saba Faisal Bridal Dress with her Daughter and Sons 2021

Saba Faisal Bridal Dress with her Daughter and Sons 2021

صبا فیصل دلہن کا لباس اپنی بیٹی اور بیٹوں کے ساتھ صبا فیصل پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی ایک مشہور اداکارہ ہیں وہ پاکستان میں سب سے سینئر اور شاندار فنکار ہیں۔ صبا 19 ویں صدی سے شوبز انڈسٹری میں کام کررہی ہیں اور اب بھی ڈراموں میں مرکزی کردار میں زیادہ تر مرکزی اداکاروں کی […]

0 comments
Legend Star Shehzad Sheikh Celebrate his son birthday with Family

Legend Star Shehzad Sheikh Celebrate his son birthday with Family

لیجنڈ اسٹار شہزاد شیخ اپنے بیٹے کی سالگرہ فیملی کے ساتھ منا رہے ہیں شہزاد شیخ پاکستان شوبز انڈسٹری کے بہترین اور دلکش اداکار ہیں اور ان کا تعلق بھی لیجنڈ اداکاروں سے ہے جو لالی ووڈ شوبز کے بانی ہیں۔ جاوید شیخ آنے والا ڈرامہ اپنے دوسرے ڈراموں سے مختلف ہوگا وہ ایک جواکر […]

0 comments
Actress Hira Salman Naughty Mood with her Brother 2021

Actress Hira Salman Naughty Mood with her Brother 2021

اداکارہ ہیرا سلمان شرارتی موڈ اپنے بھائی کے ساتھ حرا سلمان اپنے شوہر کے نام کی وجہ سے ہیرا مانی کے نام سے بھی جانتی ہیں۔ محببتیان چاہین آج کل ہیرا مانی کا جنید خان کے ساتھ سب سے زیادہ رجحان لانے والا ڈرامہ ہے ان دونوں میں باہمی افہام و تفہیم اور مضبوط رشتہ […]

0 comments
Aisha Khan Shares Some New Clicks with Young. Husband 2021

Aisha Khan Shares Some New Clicks with Young. Husband 2021

عائشہ خان نے نوجوان کے ساتھ کچھ نئی کلکس کا اشتراک کیا۔ شوہر عائشہ خان بہترین اور بہترین اداکارہ ہیں لیکن شوبز انڈسٹری میں زیادہ کام نہیں کررہی ہیں وہ شوبز اور سیٹلس کو اپنے شوہر کے ساتھ چھوڑ کر صرف گھریلو خاتون کی حیثیت سے اپنی زندگی گزار رہی ہیں۔ اس کا ڈرامہ منمال […]

0 comments

Saba Qamar enjoying the start of Summer at beach with awesome look 2021

0
Saba Qamar enjoying the start of Summer at beach with awesome look 2021
Saba Qamar enjoying the start of Summer at beach with awesome look 2021

صبا قمر ساحل سمندر پر موسم گرما کے آغاز سے ایک حیرت انگیز نظر کے ساتھ لطف اندوز ہو رہی ہیں

صبا قمر پاکستانی ڈراموں اور ماڈلنگ انڈسٹری کی شاہی اداکارہ اور ماڈل ہیں۔ وہ زیادہ تر کچھ انوکھے پروجیکٹس میں مزاج اداکارہ ہوتی ہیں جن کے بارے میں وہ دوسرے لوگوں کے خیال میں سنجیدہ نہیں ہوتی ہیں۔ صبا کام کر رہی ہیں ایک بڑی اور سپر ہٹ سیریل ہے لیکن اپنے نئے ڈرامے کا نام باضابطہ طور پر سامنے نہیں لا رہی ہے۔ پچھلے دن وہ بیچ میں کچھ انوکھا اور آؤٹ گلاس ڈریس پہنے ہوئے تھی اور کچھ نادر نظر دکھائی دیتی تھی۔

صبا قمر کا تصور صوبہ قمر زمان 5 اپریل 1984 کو ، حیدرآباد ، سندھ میں ہوا تھا۔ اس وقت جب وہ صرف 3 سال کی تھی ، اس نے اپنے والد کو کھو دیا۔ اس کی والدہ قریب چھ بچوں کے ساتھ گوجرانوالہ آئیں۔ صبا قمر کی بلوغت گوجرانوالہ میں گزری۔

صبا قمر نے 2017 میں فلم ’ہندی میڈیم‘ سے بالی ووڈ میں قدم رکھا جو ایک زبردست ہٹ میں تبدیل ہوا۔ اسی طرح انہوں نے اردو 1.. پر نشر ہونے والی بائیوپک ٹی وی فلم ’’ باغی ‘‘ میں قندیل بلوچ کا حصہ سنبھال لیا۔ انہوں نے اے آر وائی کمپیوٹرائزڈ کے ڈرامہ نگاری ‘بشرام’ کے لئے ‘بہترین تفریحی گرانٹ’ حاصل کیا۔

صبا قمر سال 2021 میں ، اس وقت ان کی عمر 36 سال ہے۔ اس وقت تک ، جب تک وہ کنواری کی طرح خود کو بالکل فٹ اور ٹھوس رکھتی ہے ، اس وقت تک اور کیا بات ہے۔ اس کے علاوہ ، اسے خوشی ہے کہ وہ غیر معمولی قابلیت کے ساتھ وسیع پیمانے پر نوکریاں کھیلنے کا اختیار حاصل کرسکتا ہے۔ اس بنیاد پر کچھ اہم بات کہ صبا قمر کی پیش گوئی کی جانے والی ڈرامائی نگاہی نمایاں ہونے سے پہلے ہی موجود ہے۔ نیز ، یہ اس قابل تفریح فن کا معیار ہے۔

Shahid Afridi Some Memorable Clicks with his All Daughters 2021

0
Shahid Afridi Some Memorable Clicks with his All Daughters 2021
Shahid Afridi Some Memorable Clicks with his All Daughters 2021

شاہد آفریدی اپنی تمام بیٹیوں کے ساتھ کچھ یادگار کلکس

شاہد آفریدی پاکستان کے سب سے زیادہ پیارے فرد ہیں وہ پاکستان میں واحد بیٹسمین ہیں لوگ صرف آفریدی کی بیٹنگ دیکھنے اسٹیڈیم میں آتے ہیں۔ وہ 5 بیٹیاں اور سب اچھے اور سچے مسلمان نظر آرہے ہیں۔ شاہد آفریدی کی اہلیہ بھی پارڈا مشاہدہ خاتون ہیں ہم شاہد آفریدی کی کچھ یادگار اور نایاب کلکس ان کی تمام بیٹیوں کے ساتھ جمع کرتے ہیں۔

شاہد خان آفریدی کو پاکستان کے خیبر آفس میں پہلی واک 1980 میں دنیا میں لایا گیا تھا۔ وہ پشتونوں کے آفریدی گروپ کا ٹکڑا ہے۔ اس کرکٹر نے اپنے والدین کے پہلے کزن سے نکاح کیا ، جس کا نام نادیہ آفریدی ہے۔ اس جوڑے کی پانچ جوان خواتین ہیں جن کا نام عقصہ ، اسمارہ ، اجوا ، انشا ، عروہ ہے۔

شاہد آفریدی اور ان کی بہتر نصف نادیہ آفریدی کو صرف 20 سالوں سے مقابلہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں ، اس وقت یہ جوڑے پانچ لڑکیوں کا سرپرست بن گیا ہے۔ اور یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے کہ خوش قسمتی سے اس کی سب سے قدیم بچی اقصیٰ آفریدی کو کرکٹر شاہین آفریدی کے ساتھ بند کر دیا گیا۔ مزید یہ کہ آفریدی خاندان نے اس کی تصدیق کی ہے۔ مزید برآں ، سال 2021 میں ، شاہد آفریدی کی عمر 44 سال ہوگئی ہے۔

شاہد آفریدی اپنے زبردست بیٹنگ اسٹائل کی وجہ سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ایک آل راؤنڈر تھے۔ انہوں نے اپنے کرکٹ پیشہ کا آغاز 1996 میں کیا تھا۔ انہوں نے تاریخ کے سب سے زیادہ چھکے لگا کر ون ڈے کرکٹ میں ایک ریکارڈ بنایا تھا اور مزید برآں انہوں نے 37 کنواین میں تیز ون ڈے سنچری بنانے کا ریکارڈ اپنے نام کیا تھا۔

Mehwish Hayat at Vasay Chaudhary show with Lovely Dressing 2021

0
Mehwish Hayat at Vasay Chaudhary show with Lovely Dressing 2021
Mehwish Hayat at Vasay Chaudhary show with Lovely Dressing 2021

لیس ڈریسنگ کے ساتھ واسے چودھری شو میں مہوش حیات

مہوش حیات پاکستان شوبز انڈسٹری کی مرکزی فلم اسٹار ہیں انھیں فیشن انڈسٹری میں بہت سی کامیابیاں ملی ہیں لیکن وہ صرف پاکستان کے لئے کام کرتی ہیں انہوں نے پاکستانی مووی میں ایک آئٹم سانگ بھی کیا ہے۔ مہیوش کو اے آر وائی ڈیجیٹل پر وسائے چودھری شو میں مدعو کیا گیا تھا اور وہ بھوری رنگ کا خوبصورت لباس پہنتی تھی اور مداحوں کے ساتھ کلکس کا اشتراک کرتی تھی۔

مہوش نے اپنے پیشہ میں بے حد فلمیں اور ڈرامائزیشن بنائے ہیں جس کی وجہ سے اس کی تعریف کی جاسکتی ہے۔ مہوش حیات اپنی فلموں بارڈن ویڈنگ اور پنجاب نہیں جنگی ، تفریحی قانون ، اور جوانی پھر نہیں عینی کے لئے بے نقاب ہوگئیں۔ مہیوش حیات کو پاکستانی حکومت نے 2019 میں تمغہ امتیاز دیا تھا۔

واسے چودھری ، پاکستان کے ٹیلی ویژن کے بہت زیادہ میزبانوں میں سے ایک ہیں۔ وہ دنیا ٹیلی ویژن کے طنزیہ پروگرام ’’ مزاق رات ‘‘ کی سہولت فراہم کرنے کے لئے مشہور ہیں۔ اسی طرح انہوں نے جیو ٹیلی ویژن کے چینل جی اور لکس اسٹائل گرانٹس 2016 کے شو ‘بیکار سنگھ دے نال’ کی سہولت فراہم کی۔

مہیوش حیات 38 سال کی عمر میں پہنچ گئیں اور پھر بھی غیر شادی شدہ تھیں۔ مزید کیا بات ہے ، ابھی وہ ہچ پڑنے کے ل disp وضع میں نہیں ہے۔ چونکہ اسے کسی کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ آئے اور اپنی مفت زندگی تک محدود رہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ وقت میں اسے اپنی فلمی پیشہ کو زیادہ نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے۔ نیز ، ایک فلمی تفریحی کی حیثیت سے ، وہ فی الحال اس کو ڈرامے بازوں میں کام کرنے کے ل an سمجھے گی۔

Wajahat Rauf Director Home Party with Dananeer and Showbiz Actors 2021

Wajahat Rauf Director Home Party with Dananeer and Showbiz Actors 2021

وجاہت رؤف ڈینئیر اور شوبز ایکٹرز کے ساتھ ڈائریکٹر ہوم پارٹی وجاہت رؤف شوکیس چینل پر وائس اوور مین کے طور پر بہت سی اداکاراؤں کے انٹرویو لے رہی ہیں۔ وجاہت رؤف کی اہلیہ شازیہ رؤف بھی پاکستان شوبز انڈسٹری کی بڑی پروڈیوسر ہیں۔ ہم ٹی وی راقس ای بسمل کا تازہ ترین ٹرینڈنگ ڈرامہ […]

0 comments
Mehwish Hayat at Vasay Chaudhary show with Lovely Dressing 2021

Mehwish Hayat at Vasay Chaudhary show with Lovely Dressing 2021

لیس ڈریسنگ کے ساتھ واسے چودھری شو میں مہوش حیات مہوش حیات پاکستان شوبز انڈسٹری کی مرکزی فلم اسٹار ہیں انھیں فیشن انڈسٹری میں بہت سی کامیابیاں ملی ہیں لیکن وہ صرف پاکستان کے لئے کام کرتی ہیں انہوں نے پاکستانی مووی میں ایک آئٹم سانگ بھی کیا ہے۔ مہیوش کو اے آر وائی ڈیجیٹل […]

0 comments

LATEST NEWS

TRENDING NEW

Sabr Ka Samar Mila Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Sabr Ka Samar Mila Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

0
ایک روز کلینک میں مریضوں کو دیکھ رہی تھی کہ ایک خوبصورت معصوم سی لڑکی۔۔بوڑھی عورت کے ساتھ آئی۔اور اپنی بار ی کا انتظار...