HomeTeen Auratien Teen KahaniyanBabool Ki Chaoun | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Babool Ki Chaoun | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

Table of Contents

رابو میری سہیلی تھی ۔وہ میرے ساتھ کھیلی اور ہم ساتھ ہی پڑھنے جاتے تھے۔پانچوں جماعت تک وہ امیر آدمی کی بیٹی تھی۔پھر ان پر غیربت ٹوٹ پڑی۔اس کو نہیں یاد کبھی اس کی زندگی میں اچھے دن بھی آئے تھے،محلے والوں سے سنا کرتی تھی۔کہ وہ ٹھاٹ سے رہا کرتے تھے اور کمخواب کے کپڑے اس کی اماں پہنا کرتی تھی۔

Babool Ki Chaoun | Teen Auratien Teen Kahaniyan 2021

رابو کے والد کو محلے والے سیٹھ ابرار کہتے تھے۔ان کے پاس کیا نہیں تھا۔موٹر کاریں،بنگلے اور ،روپیہ پیسہ مگر انہوں نے اپنی محنت سے نہیں کمایا تھا بلکہ ان کو ،وراثت میں ملا تھا۔
رابو کے دادا ،رئیس آدمی تھے اور یہ دولت ان کی محنت کی پونجی ےتھی جو ان کے مرنے کے بعد اکلوتے بیٹے کی جھولی میں ایسے آگری ،جیسے اللہ کی کو چھپر پھاڑ کر دے دیتا ہے۔جب بن مانگے چھاجوں سونا مل جائے تو ،آدمی کو کب اس کی قدر ہوتی ہے۔ابرار صاحب بھی مفت کی دولت ملتے ہی خم پہ ،خم لنڈھانے لگے۔اور اس بن محنت ملی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لٹانے لگے۔
دولت ایسی بے وفا شے تو سارے زمانے میں نہیں ہوگی۔یہ جیسے آئی ،ویسے ہی ابرار کے ہاتھوں سے نکلتی گئی۔یہاں تک ایک مکان اور تھوڑی سی ذرعی زمین رہ گئی۔جنتی تیزی سے رئیس ہوئے تھے،انتی ہی تیزی سے نان شبینہ کے محتاج ہوگئے۔کام کرنا کچھ جانتے نہ تھے۔اور ٹھاٹ باٹ کی زندگی گزاری تھی۔تو اب کیسے کوئی چھوٹا موٹا کام کرتے۔سبھی لوگ تو ان کو اب بھی سیٹھ ،سیٹھ پکارتے اور غریب محلے دار فرشی سلام کرتے تھے۔یہ اپنی انا کے خول سے نہ نکل سکے۔یہاں تک کہ گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی۔
بیوی،بچوں کی خاطر ان پر چلانے لگیں۔یہ دوستوں کے ٹھکانوں پر جا چھپتے جہاں اچھوں کا گزر تو محال برے تاروں کی چوکٹریاں لگتی تھیں۔سیٹھ ابرار ،جواریوں میں بیٹھنے سے انہی کے رنگ میں رنگ گئے،زرعی زمین تھوڑی تھوڑی اس امید پر بیچنے لگے کہ بازی جیت کر دوبارہ اس سے زیادہ ،رقبہ لے لوں گا۔مگر جواریوں پر تو رحمت برستی کسی نے نہ دیکھی ،لعنت ہی پڑتی دیکھی ہے۔ان کا بھی یہی حال ہوا۔ہوتے ہوتے اچھی بھلی زمین کوڑیوں کے داموں بگ گئی۔اور ایک گز ٹکڑا بھی باقی نہ بچا۔مگر ان کا حال نہ سدھرا اور،یہ اور زیادہ مفلس اور کنگال ہو گئے،کہتے ہیں ایک بار جوئےکی لت لگ جائے تو یہ اور، سب نشوں سے زیادہ خراب ہوتی ہے۔نری بربادی اور ،تباہی لاتی ہے۔ایسی لت ہے کہ بکھاری بنا دیتی ہے مگر چھوٹتی نہیں۔تب جواری گھر بار تو کیا ،بیوی بچے تک دائو پر ،لگا دیتے ہیں۔
چاچا ابرار کا جو حال ہواتو ،آنکھوں سے انجام بھی دیکھا لیا،کسی نے توبہ توبہ کی اور کسی نے تھوتھو۔
رابو ان حالات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ۔وہ اپنے دادا کی چہیتی تھی،اور شہزادیوں کی سی زندگی تھی ،باپ کے راج میں بھوک کی اذیت سے بھی آشنا ہو گئی۔اور ماں کے آنسوئوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے سمیٹنے لگی۔اچھے اور شاندار بچپن کی ہلکی ہلکی یادیں البتہ اس کے ذہن میں اب بھی محفوظ تھیں۔جیسے خوبصورت خواب یا درہ جاتے ہیں۔وقت کے ساتھ یہ یادیں دکھ دینے لگیں۔اور عذاب بنتی گئیں۔پھر وقت کی ایسی آندھی چلی کہ زمانے کی گرد نے ان حسین خوابوں کو ڈھانپ کر شعور کی آنکھوں سے بھی چھپا دیا۔
پہلے میں رابو کے پاس جا کر بچپن کا وقت ہاد کر کے اس کے زخموں پر پھاہا ۔رکھنے کی کوشش کرتی تھی کہ شاید اس طرح وہ حال کی تلخی کو بھلا دے۔لیکن جب اس کی زیادہ شعور آیا تو ۔یہ باتیں اور اس کو تڑپانے لگیں،تب میں نے بھی پھر ماضی کے ان زخموں کو کریدنے کی کوشش نہ کی،اور اس سے ملنا جلنا کم کر دیا۔کبھی ہم مل جاتے تو اس کی بچپن کے شاندار ماضی کا ذکر کرنے سے اجتناب کرتی ،کیا فائدہ ان باتوں کو دہرانے سے کہ جس سے زخموں میں ٹیس بڑھ جائے۔
جب وہ بار برس کی ہوگئی ،ان کا مکان بگ گیا۔اور اس نے ایک جھونپڑی نما گھر میں ہوش سنبھالا۔وقت کے ساتھ ساتھ اس کی والدہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ،بنتی گئیں۔ٹی بی کے مرض نے ایسے ایسا جکڑا کہ ایک روز کھانستے کھانستے دنیا سے منہ موڑ لیا۔
رابو کا بھائی جو اس سے چار سال بڑا تھا ،باپ کی ان بداعمالیوں سے دل برداشتہ ہو کر ایک روز گھر سے نکلا تو ایسا گیا کہ پھر نہ لوٹا۔خدا جانے وہ کہاں چلے گیا۔ماں کے بعد دوسرا بڑا صدمہ تھا۔جو رابو کو ملا۔اور وہ غم سے آدھی رہ گئی۔اس کو باپ سے نفرت ہوگئی مگر وہ اس کا گھر چھوڑ کر کہیں نہ جا سکتی تھی لڑکی تھی اور لڑکی ذات کو باپ کے گھر کے سوا کہاں امان ملتی ہے۔اس کی کوئی بہن نہ تھی۔لہذا باپ اور بیٹی اب دو ہی اس ویران اجڑے ہوئے جھونپڑے نما مکان میں باقی رہ گئے تھے۔
ابرار چاچا کو جب جوئے کی لت لگی وہ سارے کا سارا اسی لت کا شکار ہو ۔حالانکہ ہارتا۔زیادہ تھااور جیتا کم تھا لیکن لت تو لت ہوتی ہے۔ہارتا تو وہ دل کھول کر تھا۔اگر جیت جاتا تو بھی جب تک رقم ہار نہ جاتا ،محفل سے نہ اٹھتا۔بیوی کے زیوز سبھی پونجی اس نے جوئے کی نذر کر دی تھی۔گھر کھانے کے لانے پڑے تھے اور چاچا ابرار جوئے جانے میں پڑے تھے۔جو کماتے سیدھے جاتے جوئے خانے میں جا کر دوسرے جواریوں کی جیبوں میں جمع کر آتے۔کبھی وہ اپنی آدھی پونی آمدنی گھر نہ لائے۔کبھی رابو نے پیٹ بھر کھانا نہ کھایا۔اسکول بھی چھوٹا ،نصیب میں ہی نہ تھا۔تو کیا پڑھنے جاتی،اور علم حاصل کرتی ، کبھی کبھی البتہ ہمارے گھر آجاتی ۔امی دال ساگ بھی دے دیتیں تو خوشی سے کھاتی۔جانے یہ کیسی عمر ہوتی ہے کہ چٹنی روٹی بھی گھی پراٹھا بن کر لگتی ہے۔
ہماری تائی اس کو دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھر کر کہتیں ،ہائے رابو تیرے نصیب کہاں محل سے جھونپڑے نما مکان میں جا پڑی ہے،تیری مسند تو کسی اونچے محلے میں بچھنی تھی۔

مجھے تائی کا ایسا کہنا بھلا نہ لگتا۔تبھی اماں دل جوئی کرتیں۔ایسی صورت نکال لی ہے رابو نے دیکھ لینا ایک دن اللہ نے چاہا تو لاکھوں میں کھیلے گی۔ایک روز بارش ہو رہی تھی ۔رابو کے ابا اپنے ساتھ ایک شخص کو گھر لے آئے۔وہ چولہے کے پاس بیٹھی چائے بنا رہی تھی۔دودھ ہمارے گھر سے مانگ کر لے گئی تھی۔اور اب ٹوٹے پھوٹے پیالے اس کے سامنے دھرےتھے۔اس کے باپ کے ساتھ آنے والا بھی اس کے باپ کا ہم عمر تھا۔مگر حلیے سے خوشحال لگتا تھا۔چاچا ابرار اس کے سامنےکھوسٹ لگ رہا تھا۔

آہ غربت بھی کیا چیز ہے۔صورت کے ساتھ ساتھ صحت کو بھی برباد کر دیتی ہے اور اصل عمر سے برسوں آگے دھکیل دیتی ہے۔رابو بولی،اے کاش ابا تم نے جوا نہ کھیلا ہوتا تو آج تمہاری یہ حالت نہ ہوتی اور ہمارے بھی دن اتنے کٹھن نہ ہوتے۔

چاچا ابرار تبھی اپنے دوست کے آمنے سامنے بیٹھ گئے اور بیٹی سے کہا رابو،کیا دو پیالی چائے ملے گی۔ابا وہ نظریں جھکائے بولی۔آنے والے مہمان نے اس کی طرف نظر بھر کر دیکھا تو جیسے اس کی آنکھیں خیرہ ہو گئی ہوں۔ابرار یہ تیری بیٹی ہے؟یہ تو چاند کا ٹکڑا ہے ۔اے کاش میری بھی ایسی ہی ایک بیٹی ہوتی۔

ہاں بھئ ہے ابرار نے رکھائی سے جواب دیا، اب تو کام کی بات کر۔۔۔۔۔

میری زمین خریدنی ہے ،ادھر جوا خانے میں بات نہ کرنا چاہتا تھا ورنہ قرض دار میری گردن پکڑ لیتے۔زمین تیری دریابرد تھی،اب نکلی ہے۔نجانے کیسی ہو گئی۔بہت زرخیر ہے ،مٹی نہیں سونا ہے،پھر سے دریا نے نگل لی تو اب نہ ہوگا۔اس طرح ،دریا نے پھیر رُخ پھیرلیا ہے،دور چلا گیا ہے۔مجھے تو خبر بھی نہ تھی۔یہ تو ایک دن اچانک پٹواری مل گیا۔اس نے بتایا کہ ابرار میاں تم کو خبر نہیں۔جلد خبر لو ورنہ ایرے،غیرے آبادیکاری کر بیٹھے تو پھر ان کو بے دخل کرنا مشکل ہو جائے گا۔سوچ رہا ہوں کہ آبادکاری تو مجھ سے نہ ہو گئی بیچ ہی دوں۔

اچھا تو پھر تم دام لگاؤ،میں خرید لیتا ہوں۔آگے اچھی قسمت ہوئی تو سونا ورنہ مٹی کے مول تو بک ہی جائے گی۔

رابو نے جوان دونوں کی باتیں سنیں،کلیجہ دھک سے رہ گیا،قدرت نے ایک بار سنبھلنے کا موقع دیا تو ابا اس کو گنوائے دے رہے ہیں،آخر جوئے میں اس کو بھی دائو پر لگا دیں گے۔کاش اس زمین کو رہنے دیتے۔آخر میرا بھی تو حق ہے۔مگر ابرار پر تو پھر سے جوئے کا نشہ سوار تھا۔زمین کی مالیت سے چوتھائی میں بیٹھے بیٹھے سودا کر دیا اور، پھر تاش کے پتے فرش پر بکھر گئے۔

رابو نے چائےپیالوں میں ڈالی تو وہ بھر چھلک گئی۔اس کے نین کٹوروں کی طرح آنسو آنچل سے پو نچھ کر اس نے پیالے باپ کو تھمائے۔اور دوبارہ چولہے کے پاس جا بیٹھی۔

آج اس کا سانس گلے میں رک گیا تھا،اور وہ دعا مانگ رہی تھی اللہ کرے ابا جیت جائیں۔ابرار جیت گئے۔پیالہ ان کے ہاتھ میں لرز گیاتھا۔ایک لمحے کو ان کا چہرہ زرہ سے سرخ ہوا ،اور مدمقابل کھسیا کر رہ گیا۔ایک بازی اور سہی سیٹھ ابرار۔چلو تمہاری خاطرایک اور سہی۔اگر جیت گیاتو دوگنی رقم دوگے۔دوں گا،بازی لگائوتو۔۔۔۔

خوشی سے سرشاد ماضی کے سیٹھ نے بازی باندھی اور تاش کے پتے پھر سے فرش پر گرے۔مگر ذرا کی ذرا میں ابرار کا چہرہ اُتر گیا،اور ،رابو کے ہاتھ سے چائے کا پیالہ چھوٹ کر فرش پر گر گیا۔وہ یہ بازی ہار گئے تھے۔لو بھئ ابرار ،روپیہ دو،اور ان میں چلوں۔مگر رابو کے باپ کو تو جیسے سکتہ ہوگیا ہو۔وہ سانس تک لینا بھول چکا تھا۔جاگو بھی اب،ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے ،اس نے کندھے سے پکڑ کر بلایا۔تبھی رابو کے والد نے دوست کو گھنٹوں سے پکڑ لیا۔اور منت بھری آواز میں بولا۔کیا تیسری نہ لگائے گا۔یہ بس آخری بازی ہو گئی۔یار میں اتنا نقصان برداشت نہیں کر سکتا۔ایک بار اور موقع دے دو۔مگر بازی بدھنے کو تمہاری پاس رہ کیا گیا ہے۔کچھ ہے تمہارے پاس مجھے دینے کو ۔ابرار نے اِدھر اُدھر دیکھا اور اس کی نظر رابو پر ٹھہر گئی۔ابھی بہت کچھ ہے ۔تم شرط تو ندھو۔پتے ایک بار فرش پر پھیل گئے۔خالی کٹیا میں سوائے ناداری کے اب کچھ بھی نہ دھرا تھا اور بازی لاکھوں کی تھی۔

ابرار نے کہا ،یار تیرے پاس اب بھی بہت دولت ہے مگر اولاد نہیں ہے۔تجھے اولاد کی آرزو ہے نا۔۔۔میں ہارا تو ،رابعہ کو تجھے دے دوں گا۔تو اس کو اپنی بیٹی بنا لینا۔میں تو یوں بھی اب اس کا بوجھ انہیں اٹھا سکتا۔یہ سن کر رابو نے آنکھیں بند کر لیں۔اور دیوار سے ٹیک لگالی۔اس کو ہوش نہ رہا۔

جب ہوش آیا باپ بازی ہار چکا تھا۔اجننی نے رابو کا ہاتھ پکڑا،وہ رونے لگی اور دروازے کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔تب اس کے باپ نے کہا ۔بیٹی جا تو اپنے چاچا کے گھر زیادہ محفوظ رہے گی۔کم از کم اس کے پاس گھر تو ہے۔تیری چاچی اچھی عورت ہے۔اس کو بیٹی کی بہت چاہ ہے۔تجھ پیار سے رکھ گی تواچھا کھائے گی۔یہ تجھے خوش حال گھر میں بیاہ دیں گے۔اور میں کیا دے سکتا ہوں۔تجھ کو بتا؟ایک وقت پیٹ بھر روٹی بھی نہیں کھلا سکتا۔

باپ کی باتیں سن کر تبھی رابعہ کا دک ٹوٹ گیا۔اس نے سوچا کہ یہ جو بیٹی بنانے لے جارہا ہے۔یہ کون سا فرشتہ ہے؟یہ بھی تو جواری ہی ہےاور جواری کب کردار کے کھرے ہوتے ہیں۔مگر اس باپ کے پاس رہنے سے تو اس اجننی کے ساتھ جانا اچھا ہے کہ جس باپ کو اپنی بیٹی کو جوئے میں ہارتے ہو ئے شرم نہ آئی۔رستم سیٹھ ،اسے بیٹی بنانے کو تو لایا تھا۔مگر اس کی بیوی نے چند دن پیار سے رکھا ،پھر نوکرانی بنا لیا۔سارا دن کام کرانے کے عوض دو، وقت کی روٹی وہ ۔رابو کو دے دیتی تھی۔ماں کا پیار تو نہ دیا۔ممتا کے پیار کو اس کی پیاسی روح ترستی ہی رہ گئی۔

ایک روز محلے والوں کو ابرار جواری کی موت کی اطلاع ملی ۔وہ جوئے خانے میں ہی مرا تھا۔جواری ساتھی اس کی میت کو گھر لے آئے،مگر اس پرچادر پڑی تھی کفن نہ تھا۔محلے والوں نے چندہ کر کے کفن دفن جا انتظام کیا۔رابو کو بھی اطلاع دی گئی۔وہ باپ کا آخری دیدار کرنے نہیں آئی۔

اس نے کہا نجانے کون مرا ہے۔میرا تو کوئی باپ ہی نہیں تھا۔

Na Kardah Gunah Ki Saza | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Na Kardah Gunah Ki Saza | Teen Auratien Teen Kahaniyan

سچ ہے کالج کی زندگی بہت پرکشش اور یادگار ہوتی ہے۔ اسی بہترین دور کی میری ساتھی شاہینہ تھی۔ جو اپنی نادانی کے ہاتھوں زندگی کی خوشیاں گنوا بیٹھی۔ شاہینہ بہت ذہین لڑکی تھی۔ اسے خالق نے حسن کی دولت بھی عطا کی جو سے ساری کلاس میں منفرد بناتی تھی۔ اس کا اپنا الگ […]

0 comments
Hue Tum Jiss Kay Dost Teen Auratien Teen Kahaniyan

Hue Tum Jiss Kay Dost Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents کچھ دنوں سے منصب بھائی پریشان سے دکھتے تھے۔ وہ ایف ایس سی فرسٹ ایئر کا امتحان دے چکے تھے اور سیکنڈ ایئر شروع ہونے سے پہلے چند روز کی چھٹیاں ملی تھیں۔ امی کو فکر ہوئی کہ پرچے تو ہو چکے، صاحبزادے اب کیوں پریشان ہیں۔ شاید رزلٹ کی فکر ہے […]

0 comments

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments