Aik Jhalak Nay loota | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Aik Jhalak Nay loota | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents

بڑے دنوں سے چاہ تھی کچھ دن کسی پر فضا مقام پر گزاریں اور ہم نے شمالی علاقہ جات جانے کا پروگرام بنا لیا۔ سیر کرتے ہوئے واپسی پر مری میں پڑائو ڈالا… ایک اچھے سے ہوٹل میں زندگی کے یہ یادگار گزارنے کا پروگرام بنا گیا۔ یوں میرے میاں نے ہوٹل کے دو کمرے بک کروا لئے۔ مقرره دن ہم وہاں پہنچ گئے۔ نتھیا گلی ہم کو مری سے زیاده بهایا کیونکہ یہاں مری جیسی ہنگامہ خیزی اور بھیڑ بھاڑ نہ تھی۔ مری میں تو شام کے وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے برف کا طوفان آنے والا ہے اور لوگ اس سے بچنے کو ادهر ادهر بهاگ رہے ہیں حالانکہ یہ برف باری کا بالکل بھی موسم نہ تھا۔ اس عجب قسم کی بھاگ دوڑ اور شور و غوغا میں سیر کا لطف مجھ کو نہ آتا۔ اس کے برعکس نتھیا گلی بڑی پرسکون جگہ تھی۔ ان دنوں جب تیس برس قبل وہاں ہم گئے تھے۔ اکادکا دکانیں تھیں اور ہوٹل کے سامنے بہت ہی خوبصورت باغیچہ تھا۔ حد نظر تک سر سبز اونچے نیچے درخت صبح وشام سماں پیدا کر دیتے تھے۔ ہم کو آئے دو روز ہوئے تھے کہ ایک اور فیملی ہمارے برابر والے کمرے میں آٹھہری۔ صبح کے وقت جب میں اپنے بچوں کے ہمراہ باغیچے میں نکلتی تو برابر والی خاتون جس کا نام سائرہ تھا وہ بھی اپنے چار ننھے منوں کے ساتھ ٹہلتی ہوئی میرے پاس آ جاتیں۔ جلد ہی بچوں میں دوستی ہو گئی۔ وہ آپس میں کھیلتے اور ہم دونوں باتیں کرتیں اور کبھی بچوں کو کھیلتا دیکھ کر خوش ہوتیں۔ سائرہ کے شوہر کی پوسٹنگ پشاور میں ہوئی تھی۔ وہ بھی بچوں کو سیر کرانے کی غرض سے آئے تھے کیونکہ سائرہ کو یہ جگہ بہت پسند تھی، وہ پہلے بھی کئی بار ادهر آچکے تھے۔ مجھ سے کہتی کہ یہاں کا پرسکون اور خوبصورت ماحول مجھ کو بہت اچھا لگتا ہے۔ جب آتی ہوں واپس لوٹ جانے کو جی ہی نہیں کرتا۔ تم سچ کہتی ہو واقعی یہاں سے جانے کو جی نہیں چاہتا۔

جی چاہتا ہے ہمیشہ کے لئے یہیں رہ جائوں۔ بیس روز بعد ہمیں واپس جانے کی فکر ہوئی، آخر کب تک یہاں رہ سکتے تھے۔ اس نے کہا کہ حامد کام سے پشاور چلے گئے ہیں وہ آجائیں تو پھر اکٹھے یہاں سے نکلتے ہیں۔ اگلے روز حامد صاحب آگئے۔ جانے کی ہم نے تیاری شروع کر دی۔ جس صبح جانا تھا، اس سے ایک روز پہلے ہم دونوں باغیچے میں شام کو ملیں۔ مجھے لگا کہ آج سائره کا دل اس خوبصورت جگہ نہیں لگ رہا ہے۔ جیسے کوئی پریشانی اس کو اندر سے ستا رہی ہو. کچھ بے یقینی کی سی کیفیت تھی۔ اس قدر مضطرب میں نے اس کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ وہ بار بار آسمان کی طرف دیکھتی تھی جیسے کسی شے کی تلاش میں ہو رہا نہ گیا اور میں نے پوچھ ہی لیا کہ وہاں کیا دیکھ رہی ہو، کہنے لگی۔ دیکھ رہی ہوں کہ پرندے آسمان پر ایک ہی سمت میں پرواز کر رہے ہیں۔ شام کا وقت ہے نا… تبھی ان پرندوں کو اپنے گھروں کو پہنچنے کی جلدی ہے۔ سوچو سعدیہ اگر یہ خدانخواستہ اپنے گھونسلوں تک نہ پہنچ سکیں۔

اور راستے میں کہیں گم ہو جائیں یا کوئی حادثہ یا شکاری انہیں شکار بنا لے تو کیا ہو؟ کچھ بھی نہیں ایسا تو ہوتا ہی رہتا ہے۔ میں نے جواب دیا۔ نہیں بھئی۔ یہ تو بہت عذاب کی بات ہے۔ دیکھو نا ان کی چھوٹی سی دنیا تو اجڑ کر رہ جائے گی۔ ان کے بھی تو چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں، جو گھونسلوں میں پڑے ان کی راہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ یہ پرندے سلامت اپنے بچوں تک نہ پہنچ سکیں تو وہ چلا چلا کر بھوکے مر جائیں گے۔ میں نے اس سے کہا۔ یہ آج تم کیسی باتیں کر رہی ہو. جو قدرت انہیں پیدا کرتی ہے وہی ان کو زندہ رہنے کے آداب بھی سکھاتی ہے اور وہی ان کی حفاظت بھی کرتی ہے۔ مگر اس نے میری بات سنی ان سنی کردی۔ میں بہت وہمی ہوں مسز امتیاز. میں تو کہتی ہوں کہ ایسا ہونے سے تو اچھا

کہ بچے بھی ساتھ ہی حادثے کا شکار ہوں، تاکہ وہ ماں باپ کے بعد بلکنے کے لئے زندہ نہ رہیں، چھوڑو بھی سائره تم بھی شام کے وقت کیا قصہ لے کر بیٹھ گئیں۔ میں نے بات بدل دی۔ وہ دیکھو ناتوانی سے بوڑھا بے چارہ جھومتا ہوا ادھر ہی دیکھ رہا ہے، اس بھری نظروں سے ائو اس کو کچھ دے دیں۔ پھٹے ہوئے کپڑوں میں ملبوس سردی سے کانپتا بوڑها جس کے جسم پر ناکافی گرم لباس تھا، اپنے کپکپاتے ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے نجانے اپنے خدا سے کیا مانگ رہا تھا۔ میں نے پانچ روپے اس کے ہاتھوں پر رکھ دیئے۔ اس نے بھی بوڑھے کے پھیلے ہوئے ہاتھوں پر کچھ رکھنا چاہا مگر اس کو یاد آیا کہ پرس وہ کمرے میں ہی رکھ آئی ہے۔ وه تاسف کرنے لگی۔

میں نے کہا کہ چلو تمہاری طرف سے بھی میں ہی دیئے دیتی ہوں۔ خیرات اپنے ہی پیسوں سے دینا چاہئے، اس نے مجھے دوباره پرس کھولنے سے روک دیا۔ بوڑھے نے اس کی اس حرکت کو ایک دکھ کے ساتھ دیکھا۔ فقیر کو بالکل نہ بھایا۔ وہ مایوسی سے منہ لٹکائے کھڑا رہا۔ جب ہم اس کے پاس سے گزرے وہ بولے سے منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑایا۔ تب سائرہ کہنے لگی۔ اس کو نہیں معلوم میرے پاس پرس موجود نہیں ہے۔ یہ شاید مجھے بددعا دے رہا ہے۔ ارے نہیں۔ وہم کیوں کر رہی ہو۔ وہ بیچارا نجانے کیا کہہ رہا تھا اور تم نے اس کی دھیمی آواز کو بددعا سمجھ لیا۔ بد دعا بھی دے رہا ہے۔ تو اس کے بد دعا دینے سے کیا ہوتا ہے۔ یہ تو ایسے ہی بے تکی صدائیں لگاتے رہتے ہیں کہ کسی کو دعا تو کسی کو بد دعا… اس بات پر وہ بے اختیار مسکرا دی۔ ایک سہمی ہوئی سی مسکراہٹ جو اس کے لبوں پر پھیل گئی تھی۔

مجھ کو ایک بدشگونی ایسی تکلیف ده لگی۔ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا تو بولی۔ فقیر بابا کی یہ بات تو بس ویسے ہی تھی اصل میں… تم کو بتائوں۔ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ہم اور تم کسی سفر پر رواں دواں ہیں۔ اور بھاری گاڑیاں آگے پیچھے جا رہی ہیں۔ اتنے میں کیا دیکھتی ہوں کہ ہماری گاڑی ہچکولے کھانے لگتی ہے اور پھر لڑھکتی ہوئی کھائی میں جا گرتی ہے۔ تب ہی نیند میں خوف زدہ ہو جانے سے میری آنکھ کھل گئی۔ اس کے بعد رات بهر مجھے نیند نہیں آئی اور جاگتے ہی صبح ہو گئی۔ حامد کو خواب سنایا تو کہنے لگے یہ سب واہمے ہیں تمہارے کن وسوسوں میں پڑی رہتی ہو؟ جانتی ہوں یہ باتیں یونہی ہوتی ہیں وہم نہیں کرنا چاہئے، لیکن سفر پر جانا ہو تو مجھے وسوسے از خود آنے لگتے ہیں۔ اگلی صبح ہم ساتھ ساتھ روانہ ہو گئے۔ انہوں نے راولپنڈی، پشاور روڈ تک جانا تھا اور ہم نے ڈھوک چوہدریاں کی طرف… آج ہی سڑک پر سے گزرتے ہوئے کنارے کنارے چلتا بوڑها پھر نظر آیا۔ ابھی سائرہ نے جلدی سے پرس میں سے نوٹ کھینچ کی کھڑکی سے اس کی طرف باہر نکالا مگر بابا کو ہاتھ نوٹ تک لانے میں ناکامی ہوئی۔ اور وہ ہوا سے کھائی کی طرف اڑتا گیا۔ وہ نوٹ کو دور سے گھورتا ہی رہ گیا۔ شاید کہ سائرہ کی خیرات اس کی قسمت میں ہی نہ تھی۔ جب ہماری کار اس کے نزدیک سے گزری میں نے دیکھا کہ وه زیر لب کچھ بڑبڑا رہا تھا۔

شاید کہ اپنی قسمت کو کوس رہا تھا۔ ہماری گاڑیاں ایک رفتار سے جا رہی تھیں۔ حامد صاحب کی گاڑی آگے تھی اور ہم پیچھے چلے آتے تھے، سائرہ کے بچے پچھلی نشست پر بیٹھے تھے اور رخ ہماری جانب کر لیا تھا۔ وہ اپنے پیارے چہروں پر خوشی کا احساس لئے اپنے ننھے منے ہاتھ ہلا ہلا کر ہم کو اشارے کر رہے تھے۔ سفر کے وقت ہلکی سی دھوپ کہیں کہیں نکلی تھی اور کہیں بادل چھائے تھے۔ دونوں جانب حد نگاه | تک خوبصورت مناظر پھیلے ہوئے تھے۔ ساتھ ہی سڑک کی جانب کہیں کہیں بڑی بهیانک کھائیاں بھی تھیں۔ اس قدر گہری کہ ان کی جانب دیکھتے ہوئے بھی دل ڈر جاتا تھا۔ میرے شوہر بڑے سکون اور احتیاط سے گاڑی چلا رہے تھے۔ کچھ فاصلے سے ہمیں ایک ٹرک آتا دکھائی دیا۔ ٹرک نے پہلے حامد صاحب کی گاڑی کو کراس کیا اور سبک رفتاری سے آگے نکل آیا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے حامد صاحب کی گاڑی ایک ہلکے پھلکے کھلونے کی مانند لڑھکتی ہوئی ہزاروں فٹ گہری میں گرتی دکھائی دی۔ نجانے راستہ دیتے وقت ان سے کیسی لغزش ہوئی تھی کہ پہیہ سڑک کے کنارے سے پھسل گیا تھا۔ ان دنوں سڑکیں اتنی عمده اور چوڑی نہ تھیں۔ مجھ کو تو ایسا دھچکا لگا کہ نیم بے ہوش ہو گئی اور آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ امتیاز نے دھیرے دھیرے سے کچھ دوری پر سنبھل کر گاڑی روکی اور پھر میری طرف نظر ڈالی، میں سیٹ پر ایک سمت جھکی ہوئی تھی۔ انہوں نے بڑی مشکل سے مجھے سنبھالا اور سیدھا کیا، کیونکہ میرا سر گیئر کے اوپر جھک گیا تھا۔ میرے لبوں سے ایک ٹوٹا پھوٹا سا فقره نکلا تھا۔ کاش ہم آج کے دن سفر نہ کرتے۔ پھر نشست سے سر لگا کر ٹیک لگا لی تھی اور بند آنکھیں اور کچھ نہ دیکھ سکی تھیں۔

مجھ میں ایسا بھیانک منظر دیکھنے کی اور ہمت نہ تھی۔ میں نے خود کو سلا دینا چاہا مگر لاشعور جاگ رہا تھا اور تصور کے پردے پر چار ننھے منے مسکراتے بچوں کے معصوم چہرے ابھرتے ڈوبتے نظر آرہے تھے۔ مجھ کو لگا وہ ابھی تک اپنے ننھے منے ہاتھ ہلا ہلا کر ہمیں اشارے کر رہے ہیں۔ میرے شوہر گاڑی سے اتر گئے اور مجھے بلایا کہ ہوش میں رہو، پانی پی لو اور بچوں کا خیال رکھنا۔ گاڑی سے ہرگز نہ اتریں۔ میرے ہاتھ اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ گاڑی کو میں نے لاک کر دیا۔ تاکہ دروازے نہ کھلیں اور بچے اترنے کی سعی بھی نہ کریں۔ میں نے اسی لمحہ دیکھا کہ پہاڑی لوگ گولی کی سی تیزی کے ساتھ اترائی کی طرف جا رہے تھے کہ جہاں سے سائرہ اور حامد کی گاڑی نیچے گئی تھی۔ امتیاز نے میرے دیور کو فون کر دیا۔ وہ اپنی گاڑی لے کر گھنٹہ بھر میں آپہنچے اور مجھ کو بچوں سمیت گاڑی میں بٹھا کر گھر لے آئے۔ جبکہ امتیاز ہمارے ساتھ نہیں آئے۔ انہوں نے فون کرکے حامد صاحب کے یونٹ اطلاع کی اور ان کے گھر فون کیا، جہاں ان کی فیملی کے کچھ لوگ موجود تھے۔ وہ رات گئے گھر لوٹے تھے۔ اگر گم صم بستر پر لیٹ گئے۔ مجھ سے کلام نہ کیا اور نہ مجھ میں ان سے بات کرنے کی ہمت تھی۔ وہ دل پکڑے ہوئے آئے تھے۔ ان چند دنوں سے دونوں ایک دوسرے کے دوست بن گئے تھے۔ حامد صاحب کے ساتھ روز شام کو ٹہلنے نکل جاتے تھے۔ ان کو بھی تفریح کے ان دنوں میں ایک ساتھی مل گیا تھا۔ فون نمبرز کا تبادلہ ہوا تھا۔ اور ایک دوسرے کے گھر آنے کے وعدے بھی ہوئے تھے۔

معلوم نہ تھا کہ یہ سفر حامد اور ان کی فیملی کے لئے سفر آخرت ہو جائے گا۔ معلوم ہوتا تو میں سائرہ کو اور امتیاز حامد کو کبھی دوست نہ بناتے اور یہ دکھی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ جس نے ہمیشہ کے لئے ہمارے دلوں کو مٹھی میں لے کر بهینچتے رہنا تھا۔ اس حادثے کو ہوتے آنکھوں سے دیکھنے کے بعد وہ سفر ہمارا ایسا کتا تھا کہ جیسے ہم ابھی ابھی اپنے ہی کسی عزیز اور اس کی فیملی کا سوگ منا كرة رہے ہوں۔ کافی عرصہ تک ان پیارے سے لوگوں کی پیاری باتوں کو یاد کر کے رونا آ جاتا تھا۔ اس کے بعد میں نے کبھی اس رستے پر سفرنہ کیا لیکن جب بھی کسی بوڑھے فقیر کو سڑک کنارے ہاتھ پھیلائے دیکھتی ہوں، دکھ سے میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ اے کاش! کسی بوڑھے انسان پر ایسا برا وقت نہ آئے کہ کسمپرسی میں کانپتے ہاتھوں اس کو بھیک کے لئے ہاتھ پھیلانے پڑیں۔ ایسے افسرده منظر کی بھیانک حادثے کی یاد دلا دیتے ہیں۔ سوچتی ہوں اگر سائرہ سے نتھیا گلی کے ہوٹل میں ملاقات نہ ہوئی ہوتی تو شاید مجھ کو اس حادثے کا اتنا گہرا صدمہ نہ ہوتا۔ م… پنڈی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *