Aakhri Bar Lay Chaloo | Teen Auratien Teen Kahaniyan

0
2
Aakhri Bar Lay Chaloo | Teen Auratien Teen Kahaniyan
Aakhri Bar Lay Chaloo | Teen Auratien Teen Kahaniyan

Table of Contents

نادر ہمارا محلے دار تھا۔وہ سبزی منڈی میں ایک آڑتھی کے پاس ملازم تھا۔وہاں نجانے کیسے نشے کی لت لگی کہ کام سے جاتا رہا۔رفتہ رفتہ دماغ ماؤف رہنے لگاپیر چھوڑ گھر بیٹھ رہا۔

Aakhri Bar Lay Chaloo | Teen Auratien Teen Kahaniyan

نادر کی بیوی چلتی پرزہ تھی۔جب تک وہ کما رکر لارہا تھا گھر پر اس کا رعب تھا ۔نشے نے بیکار کر دیا تو اس کی عورت نے بھی اس کا رعب ماننے سے انکار کر دیا ۔اب صبا ہی گھر کی سفیدہ کی مالک ہو گئی۔گھر پر غربت پڑاؤ ڈال دے تو عورت کو ہی چولہا گرم رکھنے کو ہاتھ پاؤں مارنے پڑتے ہیں۔جب بیوی کرتا دھرتا ہو گئی۔تو اس نے شوہر کا خیال رکھنا چھوڑدیا۔روپے پیسے کے حصول کیلئے اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔
نادر کا ایک دور کا رشتہ دار جو اس کا دوست بھی تھا ،ان کے حالات سے واقف تھا۔اس کا نام حیات تھا۔ان کے گھر بھی آتا جاتا تھا۔اس نے جو حالات دیگر گوں دیکھے ،نادر کے کنبے کی مدد کی ٹھانی۔وہ اب اکثر سبزی کے ٹوکرے لاکر صباجی کو دیتا اور کہتا کہ اس کو محلے میں فروخت کر کے کچھ رقم کما لیا کرو۔ہمیں تو آڑھتی سے یہ سبزی مل جاتی ہے۔تمہارے لئے روزی کا ذریعہ بن جائے گا۔
صباجی نے ایسا ہی کیا ۔اس کے گھر کے تھڑے پر سبزی کی دکان لگائی۔وہ صبع سویرے چٹائی بچھا کر دروازے کے سامنے سبزی لے کر بیٹھ جاتی اور،دوپہر تک ساری سبزی فروخت ہو جاتی۔اور اس کا بھی چولہا گرم ہو جاتا۔حیات کا بڑا احسان تھا۔تبھی صباجی اور اس کی دونوں بیٹیاں چاچا حیات کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے اور اس کے گن گانے لگیں۔
نادر کو البتہ کسی آنے والے طوفان کا احساس نہ ہوا کہ وہ نشے کیلئے اب انہی کا محتاح ہو چکا تھا۔جب وہ کام کرتا تھا تو،شام کو عیب دار پھلوں کے دوچار ٹوکرے لے آتا تھا۔وہ یہ پھل ہوتے جن کو مالک اچھے پھلوں سے علیحدہ کروا کر ملازمین کو سستے داموں دے دیتا۔تب بھی صباجی یہ پھل محلے کے بچوں کو سستے داموں بیچ دیا کرتی تھی۔اس نے ایک روز حیات سے کہا کہ کچھ عیب دار پھل تم بھی لا دیا کرو تو آمدنی زیادہ ہو سکتی ہے۔یہ غریب آبادی تھی۔یہاں مکینوں کی پہنچ عمدہ پھلوں تک نہ تھی۔ان کیلئےگلے سڑے فروٹ ہی سوغات تھے۔جن کو کھا کر ان کے بچے پھلوں کا شوق پورا کر لیا کرتے تھے۔یوں ان پھلوں سے بھی آمدنی میں اضافہ ہو گیا۔اب حیات کا گھر میں آنا جانا ہو گیا۔جس پر ناز نے کوئی اعتراض نہ کیا۔کیونکہ وہ اپنی حمیت کو نشے کی گولی سمجھ کر نگل چکا تھا۔اسے روز نشہ پورا کرنے کیلئے ایک نوٹ درکار ہوتا تھا۔جو حیات کی جیب سے ہی نکلتا تھا۔صباجی کی بڑی بیٹی اب سترہ سال کی ہو چکی تھی۔حیات کے صلاح مشورے سے اس نے نوری کی شادی اپنے رشتہ دار سے کردی۔دوسری صبیحہ ابھی پندرہ سال کی تھی۔گوری رنگت کی وجہ سے اس کو سب گوری بلاتے تھے۔گھریلو حالات نے گوری کو کافی پریشان کر رکھا تھا،کیونکہ وہ ایک حساس لڑکی تھی۔وہ ماں کے چلن اور باپ کی بے بسی سے شدید ذہنی دباو کا شکار ،رہتی تھی۔مگر ماں کے سامنے زبان کھول سکتی تھی۔لیکن اپنے رویے اور جھنجھلائے ہوئے طرز عمل سے یہ ضرور ظاہر کرتی تھی۔کہ کسی دن جولا مکھی بن کر پھٹ پڑے گی۔
گوری کا رویہ ماں کیلئے اب ایک چیلنج بنتا ،جارہا تھا۔جب بھی وہ ماں کے مقابل آنے کی کوشش کرتی یا اس کی نافرمانی کی مرتکب ہوتی۔گھر کی اشیاء توڑنے پھوڑنے لگتی۔تب ماں اس کو بری طرح دھنک ڈاتی۔صباجی اس وقت اپنی سخت توہین محسوس کرتی جب گوری ماں سے حیات کے بارے میں اُلٹے سیدھے سوالات کرتی۔تب اس کی ماں جواب میں کہتی کہ اس کا دیا ہم کھاتے ہیں۔اگر حیات مدد نہ کرے ہم بھوکے مر جائیں۔تیرا باپ تو نشے کا مارا ہے بے کار پڑا ہے۔یہ چولہا اگر دو،وقت جلتا ہے تو حیات کی مہربانی سے۔۔۔۔
اور تو اس میں کیڑے نکال کر مجھے کیا جتلانے کی کوشش کرتی ہے۔اگر اتنی ہی باغیرت ہے تو جا اور ،جا کر خود کما کر لا۔دیکھتی ہوں کہ کیسے کما کر لاتی ہے۔
ماں کے ایسے فقرے انگارے کی طرح گوری کے دل پر لگتے تھے۔وہ جل بھن کر کباب ہو جاتی تھی۔دانت پیستی روتی دھوتی مگر کچھ بس نہ چلتا ۔اب تو کئی دن سے نادر بھی گھر سے غائب رہنے لگا تھا۔ہوتے ہوتے یہ گمشدگی ہفتوں اور پھر مہینوں تک چلی گئی۔جب بھی وہ گھر آتا کپڑوں سے بدبو اُٹھ رہی ہوتی۔سر کے بال میلے چیکٹ اور ناخن بڑھے ہوتے۔اس کی طرف تو دیکھنے سے ہول آتا تھا۔گوری کو وہ کسی طرح سے بھی اپنا باپ نہیں لگتا تھا۔
انہی دنوں صباجی کو نجانے کیا ہوا کہ وہ بیمارہ پڑگئی۔اور حیات نے اس کو اسپتال میں داخل کرادیا۔دوچار دن تو گوری نے ماں کی غیرموجودگی کو برداشت کیا۔پھر اکیلے رہنے سے اس کو ڈر لگنے لگا۔جب حیات اس کی ماں کیلئے کھانا لینے آتا تو ،گوری کہتی کہ اس نے بھی ماں کو پاس اسپتال جانا ہے۔بالآخر ایک روز وہ ۔اسے بھی اپنے ساتھ صباجی کے پاس لے گیا۔جب اسپتال پہنچی ،ماں کو بستر پر پڑا دیکھ کر اس کے گلے لگ گئی۔اور رونے لگی۔بولی،ماں تم جلدی اچھی ہو جاؤ۔میں تمہارے بن اکیلی گھر میں رہنے سے ڈرتی ہوں۔تمہارے سوا اس دنیا میں میرا ہے کون؟

ماں نے اس کو روتے دیکھا ،دل سے لگا کر پیار کیا بولی۔دیکھا اب آئی ہے نا تجھے میری قدر پہلے تو۔تو کہتی تھی کہ مر جاؤا ،ماں تو اچھا ہو۔اچھا اب یہیں رہ جا میرے پاس اسپتال میں۔گھرنہ جانا۔وہ ماں کے پاس اسپتال میں رہ گئی۔لڑکی بچاری کو سکون ملا۔وہ ٹھیک کہتی تھی۔اس کا ماں کے سوا کون تھا۔بری بھلی جیسی بھی تھی وہ آخر تو اس کی ماں تھی۔خود مارتی تھی مگر کسی کو مارنے نہ دیتی تھی۔حیات روز شام کو اسپتال آتا۔صباجی کو پھل ،دوا             ،دارہ لادیتا۔اب گوری کو اتنا برا نہیں لگتا تھا۔وہ سوچتی ماں بچاری بھی کیا کرے۔ابا تو بیکار ہی ہو گیا نا۔۔۔۔۔اس کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے۔حیات کا دم پھر غنیمت ہے۔اگر یہ بھی نہ ہوتا ماں بچاری تو مر گئی ہوتی۔

ایک دن وہ ،وارہ سے نکل کر برامدے میں کھڑی ہو گئی تھی کہ اس کی ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی۔وہ کسی وارڈ کا پوچھا رہا تھا۔اس نے نام اپنا ابدالی بتایا ۔تھوڑی بہت اس پہلی ملاقات میں باتیں ہوئیں ۔مگر گوری کو لگا جیسے اس کے ساتھ برسوں کی جان پہچان ہے۔اس دن کے بعد وہ روز آنے لگا۔شاید اس کا کوئی واقف حال تھا۔اسی کیلئے آتا تھا۔مگر ملاقات گوری سے ہو جاتی تھی۔وہ بھی اس کی دید کی منتظر تھی۔

ایک دن وہ اسپتال سے باہر بھی چلے گئے۔تب گوری یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئی۔کہ ابدالی تو بہت امیر لڑکا تھا۔اس کی کار بھی بہت شاندار تھی۔ایک روز ہمت کرکے وہ ابدالی کو ماں کے پاس لے آئی۔اس نے صباجی کی عیادت کی وہ گھاگ عورت ایک نظر میں نوجوان کی حیشیت کو پہچان گئی۔تاہم اس نے اس نوجوان کے گوری سے مل جانے کو بیٹی کیلئے نیک شگون خیال کیا۔آخر کہیں نہ کہیں بیٹی کا رشتہ کرنا ہی تھا۔جب وہ ٹھیک ہو کر گھر آگئی تو ابدالی بھی ان کے گھر آنے جانے لگا۔وہ ان کے گھر خاصی چیزیں لے کر آتا تھا۔محلے والوں کی شاندار کار کو صباجی کے دروازے پر کئی بار دیکھا تو ان کا ماتھا ٹھنکا۔حیات کی حد تک تو خاموش تھے۔کہ وہ  نادر کا ساتھی تھا لیکن یہ نیا مہمان تو ان کی برابری کا نہ تھا۔اس کے آنے جانے کا کیا جواز بنتا تھا۔تبھی قریبی پڑوسیوں نے اعتراض کیا کہ یہ اجنبی نوجوان یہاں کیوں آتا ہے؟

یہ میری بیٹی کا منگیتر ہے۔تبھی آتا ہے۔صباجی نے جواب دیا۔ہمارا رشتہ دار ہے۔لیکن یہ تو امیر آدمی ہے گاڑی پرآتا ہے۔تمہارا رشتہ دار کیسے ہوا؟کیوں کیا غریب کا رشتے دار کوئی امیر نہیں ہو سکتا؟ اس جواب پر پڑوسی وقتی طور پر تو حاموش ہو گئے۔لیکن وہ اس انتظار میں تھے کہ دیکھیں کب تک یہ معاملہ چلتا ہے اور،کب صباجی بیٹی کی شادی اس نوجوان سے ہوئی ہے۔انہوں نے سوچ لیا اگر یہ نوجوان اس عورت کا داماد نہ ہوا تو صباجی کا سامان اٹھا کر سڑک پر پھینک دیں گے۔اوراس کو یہ محلہ چھوڑنے پر مجبور کر دیں گے۔ایک سال ہونہی گزر گیا۔صباجی نے بیٹی کی شادی اس لڑکے سے نہ کی البتہ اکثر ماں بیٹی ابدالی کے ساتھ اس کی گاڑی پر جاتیں اور گھوم پھر کر لوٹ آتیں۔اور کبھی گوری بھی الیکی اس کے ساتھ چلی جاتی تھی۔

ایک روز محلہ کے کچھ لوگ جمع ہو کر نادر کے مکان پر آئے۔انہوں نے کہا کہ یہ شریفوں کا محلہ ہے اور ہم بہو ،بیٹیوں والے ہیں ۔بہتر ہے کہ یم لوگ یہ گھر چھوڑ دو۔صباجی اس مطالبے سے گھبراگئی۔اس نے چند دنوں کی مہلت مانگی۔اور جب ابدالی آیا۔اس نے اس کو بتایا کہ محلے والے تمہارے آنے پر اعتراض کرتے ہیں۔تم یہاں مت آیا کرو۔وہ بولا کون کون اعتراض کرتا ہے۔مجھے ان لوگوں کا نام بتاؤ۔میں ان سے نمٹ لیتا ہوں۔میں اب لوگوں سے بگاڑنا نہیں چاہتی۔ہم یہاں عرصہ سے ساتھ رہنے والے ہیں اور یہ ہمارا ،ذاتی مکان ہے۔میں اس کو بیچوں گی اور نہ ہی اس کو چھوڑ کر کہیں جا سکتی ہوں۔تم اسے کرو کہ کچھ دن یہاں نہ آؤ۔۔۔۔ہم خود تمہارے پاس آجایا کریں گے۔

محلے میں ایک نوجوان طارق رہتا تھا،وہ رکشہ چلاتا تھا۔وہ سیدھا سادہ لڑکا تھا۔صباجی نے سوچا اسی کو ڈھب پر لے آتی ہوں۔یہ بیچارہ مسکین سا کسی کو کیا بتائے گا۔اس نے طارق کو بلاکر کہا کہ گوری کو ئی کورس کر رہی ہے۔اس کو روز جانا ہوتا ہے۔بیٹا تم شام کو اس کو جہاں اسے جانا ہوتا پہنچا دیا کرو،میں تم کو کرایہ دے دیا کروں گی۔طارق بولا،ہاں خالہ کیوں نہیں جو ٹائم بتاؤ گی۔اس تائم میں آجاؤں گا۔اور گوری کو اپنے رکشہ پر چھوڑآؤں گا۔اگلے ہی دن گوری صبع صبع تیار ہو گئی۔طارق نے رکشہ نکالا۔ہی تھاکہ صباجی بلانے آگئی۔وہ گوری کو جہاں اس نے بتایا چھوڑآیا۔دوچار دن گزرے پھر صباجی نے طارق کو بلایا اور ،وہ گوری کو اپنے رکشے پر کہیں چھوڑنے چلا گیا۔جلد ہی محلہ والوں کے کان کھڑے ہو گئے،انہوں نے طارق سے پوچھا تم نادرکی بیٹی کو کہاں چھوڑنے جاتے ہو؟وہ سیدھا سا لڑکا تھا۔اس کو خیال نہ آیا کہ محلے والے اس سے کیوں پوچھتے ہیں۔

جب محلے داروں نے اسے اونچ نیچ سمجھائی تو وہ بھی چونکا اور ،پریشان ہو گیا۔اور کہا کہ آپ لوگ فکر نہ کریں۔اب میں ہربات کا دھیان رکھوں گا۔اور سب کھوج لگا کر ہر بات آپ لوگوں کو بتادوں گا۔پھر طارق نے گوری کی نگرانی کی اور اس بات کا پتا لگایا۔کہ وہ ابدالی نامی ایک امیر زادے سے اس کی اوطاق میں ملتی ہے۔لوگوں نے ایک بار پھر صباجی کو جالیا۔اس نے کہا کہ مجھے لڑکی سے پوچھ کچھ کرنے کا موقع دو۔

اگلے دن گوری نے ابدالی سے جاکر طارق کی شکایت کی کہ یہ میری نگرانی کرتا ہے۔اس نے کہا کہ ایک بار اس کے رکشے پر آجاؤ تو میں اس کو سمجھالوں گا۔سمجھی کہ اس سمجھانے کا کیا مطلب ہے۔اگلے روز منت سماجت کی کہ آخری بار لے چلو ،اس کے بعد نہیں جانا ہوگا۔کیونکہ جو پڑھ رہی ہوں۔وہ کورس اب ختم ہونے والا ہے۔یہ میری زندگی کا سوال ہے۔اس کے بعد جو گھر سے نکلوں تو جو میری مرضی کرنا۔طارق باتوں میں آگیا۔اور اس کی بتائی جگہ لے آیا۔

یہ ایک سنسان جگہ تھی ،بے وقوف گوری کو بھی انداز نہ تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہونا والا ہے۔جونہی ابدالی کی بتلائی ہوئی جگہ پر رکشہ رکا اور گوری اُتر گئی۔اس وقت کار سے ابدالی کے لائے ہوئے دو غنڈے باہر آئے۔گوری کو ابدالی کی کار میں بیٹھنے کا کہا اور ،خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔البتہ کئی گولیاں معصوم طارق کے جسم میں پیوست ہو گئیں۔اور ایک غریب گھر کا چراغ چشم زدن میں بجھ گیا۔وہ لوگ تو جائے حادثہ سے فرار ہوگئے،کسی راہ گیر نے تھانے اطلاع دی۔

پولیس نے آکر طارق کی جسد خاکی اور ،رکشہ قبضے میں لیا۔تفتیش کی اور پھر طارق کے گھر والوں کو حادثے کی اطلاع دی۔اس اطلاع پر اس کے گھر میں ہی نہیں محلے میں بھی کہرام مچ گیا۔مقتول کی ماں بیہوش ہو گئی۔چند مال قبل ہی طارق کی شادی ہوئی تھی۔یہ غریب گھرانہ اُجڑ گیا۔محلے والوں نے تھانے دہائی دی لیکن وہ کسی کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ابدالی نے معاملہ روپے کی زور پر رفع دفع کرادیا۔اور صباجی اپنی بیٹی کے ساتھ کسی اور جگہ چلی گئی۔

اس سارے المیہ کا دُکھ طارق کی ماں کا اٹھانا پڑا۔جو آج بھی بیٹے کی یاد میں روتی ہے اور بین کر کے کہتی ہے کہ اے کمبخت صباجی اگر تونے اس محلے سے کوچ ہی کر جانا تھا تو پہلے ہی کیوں نہ چلی گئی۔میرے بچے کی جان لینا کیا ضروری تھا؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here