سردی کے موسم کی آمد کے ساتھ ہی وہ تمام افراد جن کے پھیپھڑے کمزور ہوتے ہیں سانس کی تکلیف ، کھانسی نزلہ زکام بخار میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ جس کے سبب ان کو تقریباً ہر مہینے اینٹی بایوٹک کے کورس کرنے پڑتے ہیں یا پھر گھریلو ٹوٹکوں کے انبار لگے ہوتے ہیں۔ ان تمام ٹوٹکوں میں ایک چیز کامن ہوتی ہے کہ ان کو سردی سے بچنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ جس کے لیے وہ پانی سے دور ہو جاتے ہیں

لیکن آج ہم آپ کو سانس اور پھیپھڑوں کے امراض کی تکلیف سے نجات کے لیے پانی کے ذریعے علاج کے ٹوٹکے بتائيں گے-ویسے تو پانی کا استعمال انسانی صحت کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے لیکن سانس کے مریض یہ سمجھتے ہیں کہ پانی کا استعمال ان کی بیماری کو بڑھا سکتا ہے جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے کیوں کہ جسم میں پانی کی کمی کے سبب پھیپھڑوں میں موجود جما ہوا میوکس گاڑھا ہو جاتا ہے اور جم جاتا ہے جو کہ تکلیف کا سبب بن سکتا ہے ۔ پھیپھڑوں اور سانس کے مریضوں کو البتہ ٹھنڈے پانی سے پرہیز کرنا چاہیے اس کے بجاٰ ان کو نیم گرم پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیے۔ تکلیف کی صورت میں ایک گلاس نیم گرم پانی لے لیں اور اس کو چسکیوں میں آہستہ آہستہ گلے سے نیچے اتاریں اس سے سانس کی نالیوں کی سوزش اور تکلیف میں افاقہ ہوگا اور جما ہوا میوکس بھی پگھل کر نکلنا شروع ہو جائے گا-

دن بھر میں تقریباً تین لیٹر پانی پینے سے جسم میں پانی کی مقدار کا توازن برقرار رہے گا-سانس لینے میں دشواری کی صورت میں بھاپ کا استعمال بھی بہت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے ۔ بھاپ لینے کے لیے کسی برتن میں پانی کو گرم کر کے سر پر تولیہ ڈال کر اس بھاپ میں سانس لینے سے نہ صرف جما ہوا نزلہ بہنا شروع ہو جاتا ہے بلکہ بند ناک بھی کھل جاتا ہے۔ زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے اس پانی میں ایک چمچ وکس یا نمک بھی ڈالا جا سکتا ہے-پھیپھڑوں اور سانس کے مریضوں کو طبیعت خرابی کی صورت میں سینے میں شدید درد کی کیفیت ہوتی ہے اس حالت میں گرم پانی کی بوتل کی ٹکور بہت مفید ثابت ہوتی ہے اور نہ صرف درد میں افاقہ ہوتا ہے بلکہ اس سے سینے پر جمے بلغم کے اخراج میں بھی مدد ملتی ہےسانس لینے میں ہونے والی دشواری اور ناک کا بند ہو جانا سخت تکلیف کا سبب ہوتا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here