نور مقدم کیس تھراپی ورکس کے نمائندے نے ملزم ظاہر جعفر سے متعلق نئے انکشافات کر دئیے

نور مقدم کیس تھراپی ورکس کے نمائندے نے ملزم ظاہر جعفر سے متعلق نئے انکشافات کر دئیے

اسلام آباد ……..   نور مقدم قتل کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ۔ تھراپی ورکس کے ایک اہم عہدیدار کی ساتھیوں سے میٹنگ کی آڈیو بھی سوشل میڈیا پر لیک ہوئی ہے جس میں اعلیٰ عہدیدار نے سنگین انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ لندن میں ملزم ظاہر جعفر کا والدہ سے جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد ظاہر اس قدر اشتعال میں آ گیا تھا کہ پولیس کو طلب کرنا پڑا تھا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 2019 کے آخر اور 2020 کے اوائل میں اسلام آباد میں ظاہر جعفر کے گھر ایک

پارٹی منعقد کی گئی تھی جس میں چار لڑکیوں کا قتل ہوا تھا تاہم پیسے اور طاقت کے بل بوتے پر اس معاملے کو دبا دیا گیا تھا۔تھراپی ورکس کے عہدیدار نے ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر پر بھی سنگین الزامات لگائے اور کہا کہ اپنے بیٹے کا ماضی جاننے کے باوجود بھی جب انہیں کال کی گئی تو ان کا رویہ غیر سنجیدہ تھا اور ان کی غیر سنجیدگی پر میں دنگ رہ گیا۔انہوں نے کہا کہ ذاکر جعفر نے مجھے ایک عجیب بات کہی ، ذاکر جعفر نے کہا کہ ایک لڑکی اندر ہے جسے شاید ظاہر ورغلا رہا ہے جس پر میں نے اس سے کہا کہ تم کیا بات کر رہے ہو؟ جس پر اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہاں کچھ ایسا ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاکر نے اسے بے شک غیر سنجیدہ طور پر لیا لیکن ہم نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں ساڑھے چار بجے بتایا جاتا تو ہم بروقت پہنچتے اور یہ قتل نہ ہوتا لیکن ہمیں بتایا ہی تین گھنٹے بعد گیا تھا جب ملزم نور کو قتل کر کے اس کا سر قلم کر چکا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری ٹیم ساڑھے سات بجے ظاہر کے گھر پہنچی ، وہاں پہنچنے پر ہم نے دیکھا کہ ظاہر کے دوستوں کا ایک ہجوم کھڑا تھا۔ لڑکی نے ساڑھے چار بجے کے قریب بالکنی سے چھلانگ لگائی، جس کے بعد اس کے نامراد ملازمین نے بھی لڑکی کو بچانے کی کوشش نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم جب پہنچے اور دروازہ توڑا تو دیکھا کہ لڑکی کو قتل کر کے اس کا سر قلم کیا جا چکا تھا۔ دوسری جانب سیشن عدالت نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی پولیس کے خلاف حبس بے جا میں رکھنے کی درخواستیں مسترد کردیں۔اسلام آباد کے سیشن جج ویسٹ کامران بشارت مفتی نے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے ریمانڈ کے آرڈر کو کالعدم قرار دینے کی درخواست بھی مسترد کردی۔مرکزی ملزم کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت نے عبوری ضمانت کے باوجود گرفتاری پر پولیس کے خلاف حبس بے جا میں رکھنے کی درخواست دائر کی تھی۔سیشن عدالت نے فیصلہ سنایا کہ 24 جولائی کو ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمان کی ضمانت ہوئی ، لیکن مچلکے جمع ہی نہیں ہوئے تو پولیس کیسے معلوم ہو گا کہ ضمانت ہوچکی، بنک بند ہونے کی صورت میں ملزمان عدالت کے اکاؤنٹنٹ کو رقم جمع کرا سکتے تھے، لہذا حبس بے جا میں رکھنے اور ریمانڈ آرڈر کے خلاف درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *