نظر بد کی علامات کیا ہیں؟

نظر بد کی علامات کیا ہیں؟

Table of Contents

آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر لڑکیوں کے بال قدرتی طور پر بہت پیارے ہوتے ہیں لیکن کچھ عرصے بعد دیکھوں تو بالکل اجڑے ہوئے باغ کی طرح دکھائی دیتے ہیں پوچھو تو جواب آتا ہے کہ فلاں شادی یا فنگشن پر بال کھلے چھوڑ کر گئی تھی نظر لگ گئی اور یہ اکثر لڑکیوں کا مسئلہ ہے ویسے بھی نظربد کے بارے میں کافی احادیث ہیں اور اس کی کافی نشانیاں ہیں جو ہمیں قرآن و حدیث میں بتائی گئی ہیں کچھ نشانیاں انتہائی خطرناک ہیں اگر ان کا بروقت علاج نہ کیاگیا تو فورا موت بھی واقع ہوجاتی ہے اس تحریر میں انہی خطر ناک ترین نشانیوں کا ذکر کیا جائےگا جس کا جاننا ہر مسلمان پر ضرور ی ہے تا کہ وہ اپنا بروقت علاج کر سکیں۔سب سے پہلے تو نظر بد کی حقیقت کیا ہے ؟اسلام میں تو اس کی بہت ساری احادیث اور واقعات کے ساتھ اس کا ذکر ملتا تو ہے

مگر میڈیکل سائنس بھی اس کو تسلیم کرتی ہے میڈیکل سائنس کے مطابق ہر انسان کی آنکھ سے غیر مرئی لہریں نکلتی ہیں جن میں ایموشنل انرجی کی بجلی بھری ہوئی ہوتی ہے یہ بجلی جلدی مسامات میں کے ذریعے جسم میں جذب ہو کر جسم کی تعمیر یا تنزلی کا باعث بنتی ہے اگر ایموشنل انرجی کی بجلی یا لہریں مثبت ہو تو اس سے انسان کو نفع پہنچتا ہے اور اگر یہ لہریں منفی ہوں تومسلسل نقصان ہوتا ہے اب بد نظر شخص کی آنکھ سے نکلنی والی لہریں دراصل منفی ہوتی ہیں اور ان کے اندر اتنی قوت ہوتی ہے کہ وہ جسم کے نظام کو درہم برہم کردیتی ہیں۔ایک بدنظر شخص نے حسین مکھڑے کو دیکھ کر اپنی غیر مرئی لہریں چھوڑیں تو دوسرے شخص کا چہرہ سیاہ ہوگیا تو اس بدنظری کی لہروں نے اس کے خون میں میلانن کو زیادہ کردیا جس سے جلد کی رنگت سیاہ ہوگئی

یہ تو وہ تحقیق ہے جسے آج کی جدید سائنس سے ثابت کیا ہے احادیث مبارکہ میں اس منفی لہروں سے بچاؤ کا طریقہ اور اس سے نجات کے ذریعے کو واضح بیان کی گیا ہے نبی کریم ﷺ کے دور مبارک میں بھی کچھ ایسا ہی مسئلہ درپیش آیا تو آپ ﷺ نے اس مریض کا علاج بہترین انداز سے فرمایا سنن ابی ماجہ میں حدیث ہے سیدنا سہل بن حنیف ؓ نہارہے تھے کہ سیدنا عامر بن ربیعہ ؓ گزرے انہوں نے سہل ؓ کو دیکھ کرفرمایا جیسا خوش رنگ جسم آج دیکھا ہے پہلے کبھی نہیں دیکھا کسی پردہ نشین کی جلد بھی ایسی خوش رنگ نہیں ہوتی وہ فورا ہی زمین پر گر پڑے اچانک تیز بخار ہوا کہ کھڑے نہ رہ سکے۔ انہیں نبی کریمﷺ کے پاس لایا گیا اور کہا گیا کہ سہیل ؓ کی خبر لیجئے وہ تو گرے پڑے ہیں نبی ﷺ نے ارشادفرمایا تمہیں اس کے بارے میں کس پر شک ہے

لوگوں نے کہا عامر بن ربیعہ ؓ کی نظر لگی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا وجہ ہے کہ ایک آدمی اپنے بھائی کو ق تل کرنے والی حرکت کرتا ہے اگر کسی کو اپنے بھائی کی کوئی چیز نظر آئے جو اسے اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ اسے برکت کی دعا دے پھر پانی طلب فرمایا اور عامر ؓ کو حکم دیا کہ وہ وضو کریں چنانچہ انہوں نے اپنا چہرہ کہنیوں تک دونوں ہاتھ تہہ بند کے اندر کا حصہ دھویا آپﷺ نے وہ پانی سہیل ؓ پر ڈالنے کا حکم دیا مندرجہ بالا حدیث سے نظر لگنااور اس کا علاج ہونا ثابت ہوا اگر کوئی چیز اچھی لگے۔ امام علی ؓ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور دست ادب کو جوڑ کر عرض کیا کہ یاعلی ؓ یہ نظر بد کیا ہے ؟ بس یہ کہنا تھا تو امام علی ؓ نے فرمایا اے شخص یا د رکھنا انسان کے جسم سے شعاعیں نکلتی ہیں اور جب انسان اپنے سے زیادہ کسی انسان کے پاس عزت دولت شہرت یا منصب دیکھتا ہے

تو اس سامنے والے انسان میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے اور وہی انسان کے جسم سے نکلی ہوئی شعاعیں اس کامیاب انسان کے وجود پر اثر رکھنے لگتی ہیں اور یوں وہ خوش انسان بیماری پریشانی رزق میں تنگی اور مفلسی کا شکار بن جاتا ہے۔ یاد رکھنا اپنے نعمتوں کو چھپاکرجینا حد سے زیادہ اپنی خوشی کا اظہار نہ کرنا کیونکہ تقدیر کو اگر کچھ بدل سکتا ہے تو وہ نظر بد ہے تووہ کہنے لگا یاعلی ؓ ہم ایسا کیا کریں کہ نظر بد ہم پر اثر نہ کرے بات جب یہاں تک پہنچی تو امام علی ؓ نے فرمایا

اے شخص جوانسا صبح اٹھنے کے بعد چاروں قل اور آیت الکرسی پڑھتا ہے اور سونے سے پہلے چاروں قل اور آیت الکرسی پڑھتا ہے اس پر نظر بد اثر نہیں رکھتی اور جو انسان ایسی جگہ پر جاتا رہتا ہے جہاں درخت ہیں پھول ہیں خوشگوار ماحول ہے۔ تو اس پر بھی نظر بد اثر نہیں رکھتی اور جوانسان دن میں ایک مرتبہ اتنی محنت کرتا ہے کہ جسم سے تھوڑا بہت پسینہ نکلنے لگے تو اس انسان پر بھی نظر بد اثر نہیں کرتی اے شخص یاد رکھنا نظر بد کا اثر اس وقت اور بھی زیادہ ہونے لگتا ہے جب سورج گرہن یا چاند گرہن ہو جب بھی سورج گرہن یا چاند گرہن ہونے والا ہوتو اس سے پہلے حسب توفیق کسی اناج یا گوشت کا صدقہ نکال دو انشاء اللہ تم اللہ کی پناہ میں رہو گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *