جس کو پسینہ نہیں آتا یہ بھی 1 بیماری ہے

جس کو پسینہ نہیں آتا یہ بھی 1 بیماری ہے

Table of Contents

یہ جو پسینہ بہت زیادہ آتا ہے ایک تو بہت اچھی عادت ہے۔ بہت اچھی عادت ہے۔ جتنا پسینہ زیادہ آئے گا۔ آپ کے  جسم کے اندر سے فاسد مادے اتنے زیادہ نکلے گے۔اور جس کو پسینہ نہیں آتا۔ ان کو یہ بیماری ہے۔ایک سو ل کیاگیا   ہے کہ بہت زیادہ آتا ہے؟ اس کا آسان سا علاج ہے پانی بہت زیادہ پیو۔ پانی بہت زیادہ پیو۔ اور  مٹی سے نہا یا کرو۔ جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو نہر وں پر جاتےتھے۔ تو لوگ  جسموں پر کیا ملتےتھے؟چلع وہ تو نہر تھی ۔ یہ پہلوان لوگ جب بھی اکھاڑے میں اتر تے ہیں۔ تو سب سےپہلے کیا کرتے ہیں۔ آج کی ماڈرن سائنس بتاتی ہے کہ سب سے زیادہ طاقت مٹی میں ہے۔ اور ایک مناپلی سے آپ کے گھروں کی مٹی ختم کردی۔ مٹی فطرت ہے۔ مٹی اصل ہے۔

مٹی جبلت ہے۔ یہ بچوں  کے اندریہ  جو ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے بچوں کو  مٹی پر کھیلنے سے منع کردیا۔ آج بھی لوگ  گورے چٹے ہونے کےلیے  مٹی ملتے ہیں۔ اور باقاعدہ شاپ پر بکتی ہے۔ وہاں پر کہتے ہیں کہ ثواب کا کام ہے۔  بہتر تو یہی  ہے کہ آپ مٹی لے کر اس کو پورے جسم پر مارو۔ اگر ایسا نہیں ہوتا۔ تو کم ازکم وہ میرے گھروں  میں ہوتے تھے۔ رگڑنے، کھرچنے، وہ کس سے بنے  ہوتے تھے؟مٹی سے۔ پہلے صابن نہیں ہوا کرتا تھا۔ لوگ کس سے صاف کرتے تھے۔ وہ مٹی پر ہاتھ مارتے تھے۔ اپنےآپ  پاکیزگی کےلیے ، استنجاء کے لیے  کیا استعمال  ہوتا تھا؟ڈلے سے۔ اب جب سوسائٹیاں بن گئی ہیں تو ڈلے کیسے آئیں گے؟ مناپلی یہ فطرت سے دور کررہے ہیں۔

ماشاءاللہ!ہم سمجھ رہے ہیں۔ دیکھ درواغے والا ڈیفنس بن گیا ہے۔ یہ ڈیفنس نہیں بنا۔ آپ کی فطرت بدل دی۔ آپ کی سوچ بدل دی۔ اب وہ کریں گے۔ جو وہ چاہتے ہیں۔ اس کو سمپل سا سمجھو۔ جب سیمنٹ کے اوپر دھوپ پڑے گی۔تواس  میں سے ریڈ ی ایشن نکل کر میرے جسم پرٹکڑائےگی۔ وہ مجھےٹھنڈ ک دے گی۔ یہ سمینٹ کہاں سے بن کر آیا ہے؟ آگ  پر۔ تو اس  کے اندر سے  ریڈی ایشن  آگ ہی نکلے گی۔ پہلے مٹی کے دیواریں  ہوتی تھیں۔ دھوپ اس پر پڑتی تھی وہ کیا نکلتاتھا؟وہ نکلتی تھی میرے اصلیت، میری فطرت ، میری جبلت۔ مٹی کےگھروں کی عادت  بناؤ۔ آپ توجرمنی میں ، چائنہ میں اور لوگ منتیں کررہے ہیں۔

واپس اصل کی طرف آؤ۔ اور یہ صیحح حدیث ہے۔ نبی کریم ﷺنے فرمایاکہ : دین جیسا آیا تھا۔ پلٹ کر اس نے پھر ادھر ہی آنا ہے۔ اورآنا ہی آنا ہے۔ اور یہ ہونا  ہی ہونا ہے۔ خوش نصیب وہ ہے جو اس پر پہل کرے گا۔ اور جوتیاں کےساتھ آپ ساروں نے مان لینا ہے۔ دیکھو  سارے کرونہ وائرس کو مانے یا نہیں مانے ۔   اب کہتا ہے اب مجبوری ہے۔ گورنمنٹ کی ملازمت   لگوائی ہے اب کیا کریں؟ ایک ماننا ہے دل کی چاہت سے  اور ایک ماننا ہے دل کی مجبوری سے۔  دونوں میں سے کیا صیحح ہے؟اس میں بہتر سے کیا ہے؟  دل کی چاہت سے  ماننا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *