جاوید چوہدری کے پاکستانی فیصلہ سازوں اور عوام کے لیے 5 مشورے

جاوید چوہدری کے پاکستانی فیصلہ سازوں اور عوام کے لیے 5 مشورے

Table of Contents

لاہور    …..نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میں بقراط یا سقراط نہیں ہوں‘ میں صرف اور صرف ایک عام انسان ہوں‘ اللہ نے کرم کیا اور مجھے پڑھنے اوردنیا دیکھنے کی توفیق دے دی چناں چہ میں اپنے محدود علم کی بنیاد پر ریاست پاکستان سے چند درخواستیں کرنا چاہتا ہوں‘میرا                     خیال ہے ہم اگر یہ کام کر لیں گے تو ہمارا باقی سفر اچھا کٹ جائے گا۔ میری پہلی درخواست‘ آپ یہ یاد رکھیں دنیا کی بڑی سے بڑی ریاست بھی مستقل جھگڑے برداشت نہیں کر سکتی اور ہم نے 73برسوں سے باہر اور اندر دونوں جگہوں پر محاذ کھول رکھے ہیں‘

ہم یہ فیصلہ کر لیں ہم 20 سال تک باہر اور اندر کوئی لڑائی نہیں لڑیں گے‘ چین نے 41برسوں سے کوئی لڑائی نہیں لڑی‘ اس نے تائیوان کے ایشو پر بھی گھوڑے نہیں کھولے۔بھارت اور روس کے ساتھ اس کے اختلاف ہیں لیکن چین کبھی جھڑپوں سے آگے نہیں بڑھا‘ اس نے ملک کے اندر بھی قومیت کو ہوا نہیں لگنے دی چناں چہ یہ آج سپر پاور ہے‘ ہمیں بھی یہ پالیسی اپنا لینی چاہیے۔ دوسری درخواست‘ یہ ملک فوج کے بغیر بچ نہیں سکتا اور جمہوریت کے بغیر چل نہیں سکتا‘ ہمیں یہ حقیقت اب مان لینی چاہیے‘ فوج اس ملک کی بقا کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی چین کے لیے سوشلسٹ پارٹی اگر سوشلسٹ پارٹی ختم ہو جائے گی تو چین ختم ہو جائے گا‘

بالکل اسی طرح جس دن ہم نے فوج ختم کر دی یہ ملک بھی ٹوٹ جائے گا۔سیاست دانوں کو یہ حقیقت ماننا ہو گی اور فوج کو جمہوریت اور سیاست دانوں کا وجود تسلیم کرنا ہو گا‘ سیاست دان دل سے فوج کے خلاف بغض نکال دیں اور فوج ملک میں جمہوریت کو پنپنے دے‘ الیکشن آزاد ہوں اور ان میں اگر کھمبا بھی جیت کر آ جائے تو اسے مان لیں‘ یہ ملک بچ جائے گا۔تیسری درخواست‘ مذہب انسانوں کا ہوتا ہے‘ ملکوں کا نہیں‘حشر کے دن ہم انسانوں نے

حساب دینا ہے ملک نے نہیں چناں چہ ہم مذہب کو پرائیویٹ افیئر (ذاتی معاملہ) مان لیں‘ ملک میں کوئی شخص کسی شخص پر اپنا مسلک تھوپنے کی کوشش نہ کرے۔ملک کی ساری مسجدیں‘ مدارس اور درگاہیں ریاست کی ملکیت ہونی چاہییں‘ سعودی عرب‘ ایران اور امارات کی طرح خطبات بھی ریاست کے پابند ہونے چاہییں‘ ہم بچ جائیں گے ورنہ ہم ایک دوسرے کو مسلمان بناتے بناتے ختم ہو جائیں گے۔چوتھی درخواست ملک میں قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے‘ ملک کا کوئی ادارہ‘ کوئی شخصیت قانون سے بالاتر نہیں ہونی چاہیے‘ ہم چار پانچ قسم کے قوانین کے ہاتھوں بھی مر رہے ہیں۔ پانچویں درخواست‘ دنیا کا کوئی ملک اینٹی پراگریس اور اینٹی بزنس ہو کر نہیں چل سکتا اور ہم 73 برسوں سے اینٹی بزنس بھی ہیں اور اینٹی پراگریس بھی‘ ہم ہر اس شخص کو عبرت کا نشان بنا دیتے ہیں جو موٹرویز‘ انڈر پاسز‘ میٹروز‘ ڈیم یا ایئر پورٹ بنانے کی غلطی کربیٹھتا ہے جب کہ ہم میں سے جو شخص کچھ نہیں کرتا وہ ہمارا ہیرو ہوتا ہے‘ یہ رویہ بھی مزید نہیں چل سکے گا۔ہمیں یہ بھی بدلنا ہو گا اور چھٹی اور آخری درخواست‘ ہم پلیز پلیز اپنے فیصلے خود کریں‘ ہم کب تک دوسروں کے فیصلوں کی فصلیں بوتے اور کاٹتے رہیں گے‘ آج بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات یو اے ای کرا رہا ہے اور میاں شہباز شریف کو کوئی اور ملک باہر دیکھنا چاہتا ہے‘ کیوں؟ ہم یہ کب تک کرتے رہیں گے؟ہمیں اس سے بھی باہر آنا ہوگا‘ ہم آخر کب تک جہانگیر ترین جیسے مہروں سے حکومتیں بدلتے رہیں گے‘ ہمیں عثمان بزدار منظور نہیں تو انھیں سیدھا سادا فارغ کریں‘ یہ کھیل کھیلنے کی کیا ضرورت ہے؟یہ ملک کو مزید کھوکھلا کر دے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *